شبِ جمعہ جمعرات کو سورج غروب سے شروع ہو کر جمعہ صبح صادق کے طلوع تک کے وقت کو کہتے ہیں۔ شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے اکثر بیانات میں اس رات کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں اور آپ وہی چیز بیان کرتے ہیں جو کہ قرآن و حدیث اور اسلاف سے ثابت ہو، احادیث کے یہ دلائل پڑھکر آپ کو یقیناً اندازہ ہو جائے گا کہ شیخ الوظائف فضائل بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔۔۔۔!
(1) حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جمعہ کے دن یا شبِ جمعہ کو وفات پانے والا مسلمان منکر نکیر کے سوال و جواب سے محفوظ رہتا ہے۔ (درمختار مع الشامی ج 1 ص 798) اور دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنے یعنی عذابِ قبر سے بچا لیتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، مشکوٰۃ ص 121)
(2) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص شبِ جمعہ میں سورۃ الکہف کی تلاوت کرے گا تو اس شخص کے لیے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور روشن ہوگا۔ (سنن دارمی، حدیث نمبر 3470)
(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو شبِ جمعہ میں سورۃ یٰس کی تلاوت کرے۔“ (الترغیب والترھیب، حدیث نمبر 948)
(4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو شبِ جمعہ میں سورۃ حم الدخان کی تلاوت کرے۔“ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2814)
(5) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورہ دخان کو شبِ جمعہ میں یا جمعۃ المبارک والے دن تلاوت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک محل بناتے ہیں۔“ (مجمع الزوائد، حدیث نمبر 3017)
(6) ایک روایت میں ہے کہ جمعہ کی رات میں سورۃ الدخان کی تلاوت کرنے والے کے لئے ستر (70) ہزار فرشتے دعاۓ مغفرت کرتے ہیں (ترمذی)
(7) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ والے دن اور شبِ جمعہ مجھ پر درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی 100 ضرورتیں ان میں سے 70 آخرت میں جبکہ 30 دنیا میں پوری فرماتا ہے۔“ (فضائل الاوقات للبیہقی، حدیث نمبر 276)
(8) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں مانگی جانے والی دعاؤں کو مسترد نہیں کیا جاتا۔ شبِ جمعہ، رجب کی پہلی رات، شبِ برات (پندرہویں شعبان کی رات) اور عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی راتیں۔ (فضائل الاوقات للبیہقی، حدیث نمبر 149)
(10) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان جمعۃ المبارک کے دن یا شبِ جمعہ کو فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنے (عذاب) سے محفوظ فرما لیتے ہیں۔“ (مسند احمد، جامع الترمذی، حدیث نمبر 994)
(11) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے دُرود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا (بیہقی)۔
(12) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جمعہ والے دن اور شبِ جمعہ کثرت کے ساتھ درود بھیجا کرو، جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتے ہیں۔“ (سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6207)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں ایک مسلمان جو نماز کا پابند ہو اللہ سے جو کچھ مانگتا ہے اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتے ہیں۔ (مسلم شریف)
(13) حدیث شریف کے مطابق جمعرات اور جمعہ میں 24 ساعتیں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ ہر ساعت میں 6 لاکھ کافروں کو اسلام کی توفیق دے کر جہنم سے آزادی دیتے ہیں۔ (فیض القدیر ج 5 ص 395)
