مزارات پر حاضری تعلیمات اکابر کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کچھ روز قبل بخارا سمرقند اور تاشقند میں موجود بزرگوں کے مزارات پر حاضر ہوئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آپ کی اپنی کوئی نئی ایجاد ہے انہیں ہر گز نہیں بلکہ ہمارے تمام اکابر محقق علمائے کرام اور مشائخ ان بزرگوں کے مزارات پر جا کر استفادہ باطنی حاصل کرتے تھے۔ حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ علماء دیو بند اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی قبروں اور مزارات پر جانے سے روکتے ہیں اور قبروں پر فاتحہ ودعا کو منع کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے اور افتراء باندھا جاتا ہے۔ علماء دیوبند کا مسلک یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور اہل اللہ کی قبروں پر جانا انتہائی برکت اور فیض حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ دار العلوم کے مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب ہر سال حضرت مجددالف ثانی کے مزار پر عرس کے موقع پر حاضری دیا کرتے تھے اور خود سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دارالعلوم کے پہلے مہتم حضرت مولانا رفیع الدین صاحب نقشبند یہ خاندان میں شاہ عبد الغنی صاحب محدث دہلوی سے بیعت تھے اور ان کا سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہ سے ملتا ہے۔ دیو بند کے بزرگ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ان سب کا چشتی سلسلہ سے تعلق تھا اور یہ سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیر کی اور حضرت صابر کلیری سے ہوتا ہوا حضرت علی سے جاملتا ہے۔ ہمارے اکا بر تقریباً جس قدر اولیاء اللہ اور بزرگان دین گزرے ہیں ان کے مزارات پر حاضری دیتے اور استفادہ کرتے۔ (بحوالہ: خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 5- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان ) محترم قارئین ! اللہ پاک سے یہ دعا سلسل مانگتے رہا کریں کہ اللہ کریم میں اپنے بڑوں پر کامل اعتماد عطا فرمائے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ سمجھدار تھے۔۔۔! اور عبقری کے اکابر پر اعتماد کی خدمات کو قبول فرمائیں۔۔۔ تحریر مولانامحمدنواز صاحب فاضل جامعہ مظاہر العلوم )

تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقین بالکل صحیح احادیث مبارکہ کی روشنی میں

تحریر : مولانا ابوعون محمد غزالی، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد دکھ، دردوں، پریشانیوں اور تکلیفوں سے نکلنے کیلئے فوائد اور فضائل کے ذریعے اعمال کی طرف مائل کرنے کے حوالے سے تسبیح خانہ اور عبقری پوری دنیا میں مشہور ہے یہ ترتیب تسبیح خانہ کی کوئی خود ساختہ ترتیب نہیں بلکہ قرآن سنت سے ماخوذ ہمارے اسلاف واکابر کا طریقہ کا ر ہے چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں جس سے آپ کو تسبیح خانہ کے پیغام کی صداقت بآسانی سمجھ میں آجائے گی۔ اعمال سے بچنے کی پہلی دلیل : حضرت عثمان ابی العاص فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضور صلی,اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں شکایت کی کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میرے جسم میں دردیں رہتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین بار بسم شریف اور سات مرتبہ یہ پڑھا کرو۔ أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِن شَرِ مَا أَجِدُ وَ أُحَاذِرُ (صحیح مسلم، ابواب الطب، حدیث نمبر : 5867) اعمال سے بچنے کی دوسری دلیل : ام المؤمنین اماں سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر ایک بچی کو دیکھا جس کے چہرے پر دھبے پڑے ہوئے تھے تو فرمایا اسے کسی سے دم کرواؤ سے نظر لگی ہے۔ (بحوالہ صحیح بخاری) اعمال سے بچنے کی تیسری دلیل : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دم فرمایا کرتے تھے۔ أُعِيذ كُم بِكَلِمَاتِ الله القامة مِن كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ (صحیح بخارى ) محترم قارئین:عبقری کا پیغام اعمال سے پہنچنے کا یقین سو فیصد توحیدی عقیدہ ہے ہے جس سے جڑنے والا ہر شخص اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہے اللہ کریم میں اکابر پر مکمل اعتماد عطا فرمائے۔ آمین

تسبیح خانہ میں ماہانہ کیا جانے والا دم تعلیمات اکابر کی روشنی میں

ہر مہینے کی آخری اتوار کو تسبیح خانہ لاہور میں اسم اعظم کا دم کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں بیماروں کو شفاء، دکھی لوگوں کو سکھ ، پریشان حال لوگوں کو اللہ کے فضل و کرم سے عافیت ، برکت اور صحت ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دم کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنت مبارکہ، تمام صحابہ کرام اور اولیائے کرام کا روز مرہ کا معمول تھا چند مثالیں پیش خدمت ہیں: (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو اور صحابہ کرام کو دم فرمایا کرتے تھے ( بحوالہ بخاری شریف، ناشر قدیمی کتب خانہ ) (2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اٹھنے کے بعد تین مرتبہ پھونک مار دیا کرے ( بحوالہ صحیح بخاری ) ۔ (3) اماں عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتی تھی۔ بخاری شریف ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر دم فرماتے تو اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے چند کلمات ادا فرماتے (بحوالہ صحیح بخاری )۔ (4) حضرت ابوسعید خدری نے سفر کے دوران ایک بیمار تشخص کو بکریوں کے ریوڑ کے عوض دم کیا تو اللہ کے کرم سے اسے شفاء مل گئی (صحیح بخاری) (5) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو جبریل امین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کلمات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (صحیح مسلم ) وضاحت: حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی صاحب، حضرت مولانا شاہ محمد حفظ الرحمن صاحب حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب، حضرت مولانا یعقوب نانوتوی صاحب اور ان جیسے ہزاروں علمائے کرام دم کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ ( تحریر مولانا خلیل الرحمن فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد) محترم قارئین! آپ حضرات ان چند مثالوں سے بخوبی سمجھ گئے ہونگے کہ تسبیح خانہ لاہور میں ہونے والا ماہانہ دم توکل کے عین مطابق ہی ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری دُکھ تکلیف میں اللہ کے کلام ہی کی طرف نظر جاتی ہے۔ اللہ میں اسلاف پر اعتماد عطا فرمائے ۔ آمین

تسبیح خانہ میں کیا جانے والا اصحاب بدر بین کا مستند عمل ۔۔۔ ہر مشکل کا حل

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ لاہور میں بیشمار لوگوں کے مشاہدات ہیں کہ یہاں پر آنے اور یہاں کے اعمال میں شریک ہونے کی وجہ سے دعائیں قبول ہوتی ہیں ، بندشیں ٹوٹتی ہیں ، جادو جنات سے نجات ملتی ہے ، بیماروں کو شفا ملتی ہے اس کی بنیادی وجہ مسنون اور اولیائے کرام سے منقول مستند اعمال ہیں ان اعمال میں سے ایک عمل اصحاب بدر بین کا عمل ہے جس کی سند محدثین کرام ،علمائے عظام اور بزرگان دین سے تصدیق شدہ ہے۔ (1) شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا اور دیگر اکابرین فرماتے ہیں اس عمل کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے. (بحوالہ اسماء بدر بین سے پریشانیوں کاحل) (2) مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ علماء وصلحاء میں زمانہ دراز سے مصائب، حوادث، امراض و آفات سے نجات حاصل کرنے کیلئے یہ عمل مجرب مانا گیا ہے۔ ( بحوالہ اسماء البدر بین ، ناشر حاجی فرید الدین احمد ) (3) حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری قدس سرہ نے بخاری شریف کے حاشیے پر شرح مشکوہ شیخ عبدالحق دہلوی کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ اسماء البدرین کا ذکر کرنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ (بحوالہ بخاری شریف ج 2 ص 574 ناشر: قدیمی کتب خانہ کراچی) (4) شیخ الحدیث مولانا محمد سالم قاسمی صاحب فرماتے ہیں میں نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے کہ اصحاب بدر بین کا نام لے کر جو دُعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ ( بحوالہ: سیرت حلبیہ اردو تر جمہ ) جی ہاں تسبیح خانہ میں کیا جانے والا ہر عمل ایسا ہی جاندار اور شاندار ہے اللہ پاک تاقیامت اس کی نظر بد سے حفاظت فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ ان طاقت ور ترین اعمال کے فیض کو عام فرمائیں ۔ آمین

بہترین پوسٹ اور اعلیٰ منصب چاہئے تو یہ آیت پڑھیں

مولا نا مفتی محمد قاسم صاحب لکھتے ہیں کہ امام الموحدین، رئیس المفسرین والمحدثین عارف باللہ حضرت مولانا حسین علی واں بھچراں رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیر الدین غورغشتوی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی طالب علم نے لاحول ولاقوۃ الا بالله العلى العظیم پڑھنے کی اجازت مانگی تو ارشاد فرمایا: بالکل اجازت ہے اسے روزانہ دو سومرتبہ پڑھا کرو۔ پھر فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وظیفہ کثرت سے پڑھنے کا حکم دیا تھا کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ اسی طرح ایک مجلس میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے صحیح بخاری کی بعض شروح میں پڑھا ہے کہ اگر کوئی شخص سورۃ الملک کو نیا چاند دیکھتے وقت پڑھ لے تو وہ پورا مہینہ تمام بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا کیونکہ عارفین کاملین نے فرمایا ہے کہ سورۃ یاسین کے اسرار اس کے آخر میں ہیں اور سورۃ الملک کے اسرار اس کے شروع میں ہیں ۔ بعض خواص اہل دل نے سورۃ الملک کی اس آیت اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ کے فوائد میں لکھا ہے کہ اس کا وظیفہ پڑھنے سے بلائیں دور ہوتی ہیں، مشکلات اور تکالیف ختم ہوتی ہیں، مریض کو شفاء ملتی ہے اور حتیٰ کہ اس کو پڑھنے سے بڑے بڑے منصب ملتے ہیں۔اس آیت کو عشاء کی نماز کے بعد دوسو مرتبہ پڑھنا چاہئے (بحوالہ کتاب: مجالس غورغشتوی صفحہ 90 ناشر: مدرسہ فاروقیہ لالہ زار کالونی، پشاور) محترم قارئین! درج بالا مضمون میں غور کریں کہ اتنے بڑے شیخ الحدیث پر جب قرآنی سورتوں اور وظائف کے فوائد کھلے تو ان پر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ پر اس وظیفے اور اس کی مخصوص تعداد کی وحی نازل ہوتی ہے؟ بلکہ شریعت کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے علماء و مشائخ پر اعتماد کرتے ہوئے قرآن وحدیث اور ماثورہ دعاؤں پرمشتمل وظائف کے ذریعے مسائل اور مشکلات حل کروانی چاہئیں۔

تسبیح خانہ میں اربوں مرتبہ پڑھے جانے والے درود کی سندی حیثیت

تسبیح خانہ سے جڑے لاکھوں سے زائد لوگوں میں سے ہر شخص کو یہ تعلیم ہے کہ کم از کم روزانہ صبح و شام 100 مرتبہ اس درود پاک کو پڑھنے کا اہتمام کریں تسبیح خانہ میں بھی اربوں سے زائد مرتبہ یہ درود پڑھا جا چکا ہے آج ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئے اس درود پاک کی سندی حیثیت نقل کی جاتی ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ درود کتنا باکمال ہے۔ ایک شخص حضور انور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انھیں اپنے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درمیان بٹھا لیا۔ اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعجب ہوا کہ یہ کون ذی مرتبہ ہے! جب وہ چلا گیا تو حضور پاک ﷺ نے فرمایا: یہ جب مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے تو یوں پڑھتا ہے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ (القول البدیع، الباب الاول، ص 125) محترم ناظرین! دیکھا آپ نے تسبیح خانہ میں خیر و برکت حاصل ہونے کی اصل وجہ یہی مسنون اعمال ہیں۔۔۔! خانہ میں خیر و برکت حاصل ہونے کی اصل وجہ یہی مسنون اعمال ہیں۔۔۔!

ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ احادیث کی علمی تحقیق

(مولانا صوفی اجمل صاحب، جہلم) ماہنامہ عبقری کا عنوان فضائل اور اعمال کے کمالات ہیں مسائل کیلئے شروع دن ہی سے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اپنے قریب کے علمائے کرام سے یا کسی دارالافتاء سے رجوع کیا جائے۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ماہنامہ عبقری میں ایک روایت جو کہ عاشوراء کے فضائل میں بیان کی گئی تھی اس پر کچھ لوگوں نے سنداً اعتراض کرنے کی کوشش کی جبکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ کس درجہ کا سطحی اعتراض تھا۔۔۔! لیکن ضرورت محسوس ہوئی کہ "اکابر پر اعتماد” پیج کے دوستوں کیلئے یہ تحقیق یقیناً فائدہ مند ہوگی کہ عبقری کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والی کوئی بھی چیز خود ساختہ نہیں۔۔۔! فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ ایک روایت میں وسعتِ رزق کی امید سے اپنے اہل و عیال کے لیے دسترخوان وسیع کرنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اگر کوئی شخص وسعتِ رزق کی امید سے اپنے اہل و عیال کے لیے محرم کی دسویں تاریخ کو دسترخوان وسیع کرتا ہے تو یہ جائز؛ بلکہ مستحسن اور مندوب ہے۔ (2) جی ہاں! بیہقی نے "شعب الایمان” (رقم: 3515) میں طبرانی نے "المعجم الکبیر” (رقم: 1000) میں ان الفاظ کے ساتھ محرم کی دسویں تاریخ کو دسترخوان وسیع کرنے کی فضیلت میں حدیث وارد ہوئی ہے: من وسع علی عیالہ یوم عاشوراء وسع اللہ علیہ فی سائر سنتہ (شعب) لم یزل فی سعۃ سائر سنتہ "جو شخص عاشوراء کے دن اہل و عیال کے لیے وسعت اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے لیے وسعت کرے گا”۔ یہ حدیث فضائل کے باب میں قابلِ عمل ہے، متعدد محدثین اور شارحِ حدیث نے اس کی تصریح کی ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ "المقاصد الحسنہ” میں لکھتے ہیں: حدیث: مَنْ وَسَّعَ عَلٰی عِیَالِہٖ فِیْ یَوْمِ عَاشُوْرَاءَ وَسَّعَ اللہُ عَلَیْہِ السَّنَۃَ کُلَّھَا۔ الطبرانی فی الشعب وفضائل الأوقات، وأبو الشیخ عن ابن مسعود، واﻷولان فقط عن أبي سعید، والثاني فقط في الشعب عن جابر وأبي ھریرة۔ وقال: إن أسانیدہ کلھا ضعیفة، ولکن إذا ضم بعضھا إلی بعض أفاد قوة۔ بل قال العراقی في أمالیہ: لحدیث أبي ھریرة طرق، صحح بعضھا ابن ناصر الحافظ، وأوردہ ابن الجوزي في الموضوعات من طریق سلیمان ابن أبي عبد اللہ عنہ، وقال: سلیمان مجھول، وسلیمان ذکرہ ابن حبان في الثقات، فالحدیث حسن علی رأیہ، قال: ولہ طریق عن جابر علی شرط مسلم، أخرجھا ابن عبد البر من روایة الزبیر عنہ، وھی أصح طرقہ، ورواہ ھو والدارقطني في الأفراد بسند جید، عن عمر موقوفاً والبیھقي فی الشعب من جھۃ محمد بن المنتشر، قال: کان یقال، فذکرہ۔ قال: وقد جمعت طرقہ في جزء، قلت: واستدرک علیہ شیخنا – رحمھ اللہ – کثیرا لم یذکرہ، وتعقب اعتماد ابن الجوزي فی الموضوعات قول العقیلي في ھیثم بن شداخ راوی حدیث ابن مسعود: إنہ مجھول بقولہ: بل ذکرہ ابن حبان في الثقات والضعفاء۔ (المقاصد الحسنہ: 3/ 675، ط: دار الکتاب العربی، ط: بیروت) حافظ بن حجرؒ نے "الأمالي المطلقۃ” میں اس حدیث پر تفصیلی بحث کے ضمن میں فرمایا: ولہ شواھد عن جماعة من الصحابة۔۔ منھم عبد اللہ بن مسعود وعبد اللہ بن عمر وجابر وأبو ھریرة وأشھرھا عبد اللہ بن مسعود إلخ (الأمالي المطلقة 10/ 28، ط: المکتب ال السلامی، بیروت) نیز دیکھیے: الیواقیت الغالية (1/ 207، ط: برطانیہ) وامداد الفتاوی (5/ 289، ط: زکریا) وفتاوی دارالعلوم (18/ 539) واحسن الفتاوی (1/ 395، ط: زکریا)

تسبیح  خانے میں ہونے والی محفل ذکر حسین کا اکابر علماء سے ثبوت

محترم قارئین ! اکابر کی ترتیب کے مطابق حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ گزشتہ بر سے تسبیح خانہ قادری ہجویری میں 9 اور 10 محرم الحرام کو محفل ذکر کا انعقاد کر رہے ہیں۔ جس میں دنیا بھر سے بے شمار عاشقان اہل بیت شامل ہو کر شہدائے کربلا اور اہل بیت اطہار سلام الله ورضوانہ علیہ کی خدمت میں ذکر تسبیح ، درود شریف اور دیگر اعمال کا ایسال ثواب کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اس دو روزہ محفل میں کیے جانے والے اعمال اور اہل بیت عظام کی تو جہات کی برکت سے مخلوق خدا گھر یلو پریشانیاں اور معاشی الجھنیں بہت جلد ختم ہو جاتی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف میں کون کون سے علماء اپنے ہاں ہر سال اس مقدس و بابرکت محفل کا انعقاد کیا کرتے تھے؟ آج تم نے کتنا ایصال ثواب کیا ؟ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مدظلہ فرماتے ہیں : قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلویؒ نے عاشوراء کے روز مدینہ منورہ میں ہم لوگوں سے سوال کیا کہ آج شہدائے کربلا کیلئے تم نے کتنا قرآن مجید پڑھا؟ الحمدللہ میں ن کیلئے مکمل قرآن پڑھ چکا ہوں. (بحوالہ کتاب: کرامات دکمالات اولیا صفحه 20 ناشر: مکتبہ دارالاشاعت، کراچی) مسجد میں ہزاروں لوگوں کا اجتماع : مولانا محمد اسحاق بھٹی مرحوم لکھتے ہیں : اتر پردیش کے شہر سنجل ” میں ایک بہت بڑے بزرگ سائیں عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ بھی رہتے تھے، جو عبادت گاہوں اور رفاہ عامہ کے کاموں میں کافی دلچسپی لیا کرتے۔ انہوں نے ایک بہت بڑی مسجد بھی تعمیر کروائی جس میں ہر سال دس محرم الحرام کو ایک جلسے کا اہتمام کرتے اور سیرت النمی سی ہی نہیں کی مشہور کتاب رحمۃ للعالمین مال کے مصنف علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ریشہ سے شہادت حسین اور واقعہ کربلا کے موضوع پر تقریر کرواتے ۔ ارد گرد کے ہزاروں لوگ اس جلسے میں شریک ہو کر قاضی صاحب کی تقریر سے متاثر ہوتے (حوالہ کتاب: تذکر قاضی محمدسلیمان منصور پوری صفحه 148 ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازارلا ہور) مختلف علاقوں میں ہونیوالی محافل ذکر حسین: حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمتہ اللہ چکوال میں ہر سال 9 اور 10 محرم کو شان حسنین کریمین کے عنوان پر بیان کیا کرتے تھے۔مولاناسید ظہیر احمد ہاشمی ہے یہ شاہ پور، سرگودھا میں سالانہ جلسہ شہدائے کربلا منعقد کیا کرتے تھے۔مولانا عبد الشکور لکھنوی میں یہ لکھنو میں نو اور دس محرم الحرام کو شہدائے کربلا کی خدمت میں ایصال ثواب کیلئے جلسے کا انتظام فرمایا کرتے ۔ جانشین امیر شریعت مولانا سید عطاء احسن بخاری بید یہ مجلس احرار کے زیر انتظام ہر سال مجلس ذکر حسین کا انعقاد کیا کرتے اور اس دوران سرخ رنگ کا لباس پہنتے ۔ حضرت خواجی پیر فضل علی قریشی حمتہ اللہ کی خانقاہ مسکین پور شریف میں بھی اہل بیت اور شہدائے کربلا کے ایصال ثواب کیلئے ہر سال 10 محرم کو پروگرام کا انعقاد کیا جا تا۔ آپ ہری بیعہ کے بعد آپ کے خلیفہ مولانا غلام دستگیر صاحب نے بھی اسی ترتیب کو قائم رکھا اور اب ان کے بھتیجے محترم ڈاکٹر نثار احمد ۲۱، صاحب بھی ہر سال دس محرم الحرام کو پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ کئی نامور اور گمنام اکا بر علمائے کرام ہیں، جو اپنی زندگی میں اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب بیان کرنے اور ان کی خدمت میں ایصال ثواب کی خاطر بڑے پیمانے پر ملے نعقد فرمایا کرتے۔ پھر ان کے جانشین حضرات نے بھی اس ترتیب و قائم رکھا یا کہ گوجرانوالہ کی کی سالوں سے دس محرم الحرام کو ایک بہت بڑی کا نفرنس ہوتی ہے، جس میں مختلف علماء کرام شان اہل بیت کے موضوع پر اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

ایسا تعویذ جس کا ذکر نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔۔۔ لیکن تاثیر باکمال!

عبقری کے تعویذات کو من گھڑت اور افسانہ کہنے والے اس تعویذ کو کیا کہیں گے۔۔۔ عقل کی ترازو میں تولیں گے یا اکابر کی نقل پر اعتماد کریں گے۔۔۔! امروہہ میں ایک ہندو تھا، وہ حضرت عبدالباری رحمتہ اللہ علیہ سے کمال اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے آپ سے عرض کیا کہ میرے کوئی اولاد نہیں ہے تعویذ دیجئے۔ حضرت نے تعویذ دے کر فرمایا کہ ابھی تو اپنی بیوی کے بازو پر باندھ دو بیٹا پیدا ہونے کے بعد بیٹے کے بازو پر باندھ دینا۔ تعویذ کی برکت سے اس کے لڑکا پیدا ہوا۔ جب وہ لڑکا جوانی کی دہلیز پر پہنچا تو اس نے بغض کی بناء پر اس تعویذ کو کھول ڈالا۔ اس میں لکھا تھا: ’’اُڈری بھنبیری ساون آیا‘‘ یہ پڑھ کر اس نے تعویذ پھینک دیا۔ پھینک کر وہ نہانے کو گیا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ (مولانا اشرف علی تھانوی، امداد المشتاق الی اشرف الاخلاق، ص: 118) یاد رکھیں! شیخ الوظائف دامت برکاتہم عملیات و تعویذات بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ہر وقت باوضور ہنے کا کیوں فرماتے ہیں؟

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ شیخ الوظائف روحانیت میں ترقی، کامیابی، پریشانیوں سے نجات، ہر قسم کے جادو جنات اور سفلی عمل کی کاٹ کیلئے باوضو رہنے پر بہت زور دیتے ہیں "اکابر پر اعتماد” کے دوستوں کیلئے آج اس کی وجہ بیان کی جاتی ہے خود بھی عمل کریں اور زیادہ سے زیادہ اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔ (الف) ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم مجھ سے پہلے جنت میں کیسے داخل ہو گئے؟ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی اذان کہتا ہوں تو دو رکعت نماز ضرور پڑھ لیتا ہوں اور ہر وقت باوضو رہتا ہوں۔ (ب) باوضو نماز کیلئے چلنے والا احرام باندھے حاجی کی طرح ہے (ابوداؤد)۔ (ت) نماز کیلئے باوضو چلنے پر فرشتوں کی دعا ملتی ہے (شمائل کبریٰ)۔ (ث) ہر قدم پر دس نیکیاں ملتی ہیں (ابن خزیمہ)۔ (ج) باوضو مسجد کی طرف چلنے والا اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔ (ح) ہر قدم پر ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔ (خ) اللہ پاک اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کوئی بچھڑے ہوئے شخص اچانک گھر لوٹنے پر گھر والے ہوتے ہیں (منتخب احادیث)۔ (د) باوضو روح قبض ہونے پر شہادت کا رتبہ ملتا ہے (کنز العمال)۔ (ذ) وضو پر وضو کرنا زیادتی نور کا ذریعہ ہے اور 10 نیکیاں حاصل ہوتی ہیں (احیاء، ابوداؤد)۔ (ر) باوضو سونے پر خواب سچے آتے ہیں (عمدۃ القاری)۔ (ز) مصیبتوں سے محفوظ رہتا ہے (شعب الایمان)۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026