علمائے اہل حدیث اور شب برات کی عظمت

محترم قارئین! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ہر سال پندرہ شعبان کی رات کو یعنی شبِ برات میں خصوصی اعمال کرواتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں شبِ برات میں کیے جانے والے اعمال کا کیا مقام ہے۔ (1) حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ (اہلِ حدیث) اور شبِ برات کی بزرگی: حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ (ایڈیٹر: ہفت روزہ الاعتصام اہل حدیث وبانی مکتبہ السلفیہ شیش محل لاہور) فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے اہل توحید بندوں پر خصوصی توجہ فرماتا ہے، برکتیں نازل ہوتی ہیں، تجلیاتِ ربانی کا ظہور ہوتا ہے۔ اس رات تلاوتِ قرآن مجید (نفلی نماز میں یا اس کے علاوہ) اور دعا و اذکارِ الہی کی طرف ہمیں بھی مصروف ہونا چاہیے۔ اس رات اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ)۔ رحمت کے طلبگاروں کو رحمتوں سے نوازتا ہے (الترغیب والترہیب)۔ اس رات ہر سائل کی امنگ پوری کر دی جاتی ہے سوائے زانیہ عورت اور مشرک آدمی کے (ابن ماجہ)۔ شبِ برات کی فضیلت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ شبِ برات کی رات کو غفلت سے نہیں گزارنا چاہیے، ذکر الہی میں مشغولیت، الحاح و زاری سے اپنے گناہوں کی مغفرت کی طلب، اپنی جائز ضرورتوں کیلئے بارگاہِ الہی میں دعائیں، نماز میں یا نماز کے علاوہ تلاوتِ قرآن مجید۔ خوش نصیب ہیں وہ سعید روحیں جو اس فیضانِ رحمت سے مستفیض ہوں اور اس رات اپنے گناہوں کی طرف دھیان کریں حسد اور کینہ کو خیر باد کہہ دیں شرک اور کفر کے جراثیم سے اپنے آپ کو پاک و صاف کر لیں۔ (آثارِ حنیف ج 1 ص 173) (2) شیخ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ (اہلِ حدیث) اور شبِ برات کی بزرگی: شیخ عبدالرحمن محدث مبارکپوریؒ فرماتے ہیں کہ شیخ ملا علی القاریؒ کہتے ہیں: اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نصف شعبان کی رات میں فرق (طے شدہ معاملہ کا بٹوارہ) ہوتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)۔ (3) شیخ مبارکپوریؒ (اہلِ حدیث) کہتے ہیں کہ نصف شعبان کی رات کی فضیلت کی بابت کچھ احادیث آئی ہیں جو مجموعی طور پر بتاتی ہیں کہ ان احادیث کی کچھ نہ کچھ اصل ہے۔ (ایضاً)۔ (4) نواب صدیق حسن خان صاحب (اہلِ حدیث) اور شبِ برات کی فضیلت: نواب صدیق حسن خانؒ نے اپنی کتاب ’’السراج الوہاج‘‘ میں لکھا ہے کہ شعبان میں روزے کی کثرت کی تخصیص کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے۔ (5) پندرہ شعبان کا روزہ مستحب اور باعثِ برکات ہے تفصیل کیلئے دیکھیں۔ (اَشِعَّۃُ اللمعات (ص: 588) مطبوعہ نول کشور لکھنؤ، فتاویٰ ہندیہ (1/203)، ماثبت بالسنہ فی ایام السنہ (ص: 80)، تحفۃ الاحوذی (53/2)، الموعظۃ الحسنہ للنواب صدیق حسن خان (ص: 162) مطبوعہ مصر 1300ھ، نصاب اہل خدمات شرعیہ (ص: 382) منظور محکمہ صدارت عالیہ، مطبوعہ: سلطان بک ڈپو، کالی کمان حیدرآباد، دکن، فتاویٰ دارالعلوم (6/500)، بہشتی زیور تیسرا حصہ (ص: 10) تعلیم الاسلام حصہ چہارم (ص: 66) (6) شیخ ابن تیمیہؒ اور شبِ برات کی فضیلت: شیخ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ بہت سارے علماء یا ہمارے بیشتر حنبلی علماء اور ان کے علاوہ دیگر حضرات کی رائے یہی ہے کہ اس رات کی فضیلت ہے۔ امام احمدؒ کی بات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ چونکہ اس رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں، سلف کے آثار سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، مسانید اور سنن میں اس کی بعض فضیلتیں مروی ہیں۔ (اقتضاء الصراط المستقیم)۔ (7) علمائے حنابلہ اور شبِ برات کی بزرگی: امام احمدؒ اور بعض حنابلہ سے منقول ہے کہ نصف شعبان کی رات فضیلت والی ہے (الفروع)۔ علامہ منصور البہوتی الحنبلیؒ فرماتے ہیں کہ نصف شعبان کی رات کو بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنے کے وہی فضائل ہیں جو عیدین کی رات کے ہیں۔ (کشاف القناع عن متن الاقناع ج 1 ص 445) (8) امام شافعیؒ اور شبِ برات کی اہمیت: امام شافعیؒ سے مروی ہے کہ 5 راتوں میں خاص طور پر دعا قبول کی جاتی ہے جن میں نصف شعبان کی رات بھی ہے (السنن الکبریٰ للبیہقی)۔ (9) علامہ ابن رجب حنبلیؒ اور شبِ برات کی بزرگی: علامہ ابن رجب حنبلیؒ شاگردِ رشید علامہ ابن تیمیہؒ تحریر فرماتے ہیں کہ خصوصیت کے ساتھ نصف شعبان کے روزے کے بارے میں حکم وارد ہوا ہے۔ آگے فرماتے ہیں کہ نصف شعبان کی مبارک رات کو نماز میں کھڑے رہو! اس مہینے کی افضل ترین رات اس کی پندرہویں رات ہے۔ کتنے جوان شبِ برات کی رات میں سکون و چین سے سو جاتے ہیں اور ادھر سے ان کی موت کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اور ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا زندگی کے ختم ہونے سے پہلے ہی نیک عمل کی طرف دوڑو۔ اور زندگی کے ختم ہونے سے پہلے لوگوں کی اموات سے ڈرو۔ اور اللہ کیلئے اس دن کا روزہ رکھو اور اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھو تاکہ ان کے لطف و کرم سے موت کے وقت کامیاب رہو۔ (10) محدث عبدالرزاقؒ اور شبِ برات کی فضیلت: شیخ محدث عبدالرزاقؒ نے بیان کیا ہے کہ شیخ زیاد منقریؒ جو ایک قاضی تھے، کہا کرتے تھے کہ نصف شعبان کی رات (کی عبادت) کا اجر شبِ قدر کے اجر کی مانند ہے (المصنف لعبد الرزاق)۔ (11) امام نوویؒ اور شبِ برات کی برکت: امام نوویؒ کی ’’المنہاج‘‘ میں بھی اس طرح کی باتیں ہیں جن سے اس رات کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور یہ کہ اس رات اللہ کے ہاں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے (منہاج الطالبین للنووی)۔ (12) شیخ در دیر مالکیؒ اور شبِ برات کے کمالات: شیخ در دیر مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرہ تاریخ کا روزہ مستحب ہے۔ (شرح الصغیر علی اقرب المسالک، ج 1 ص 692) (13) شیخ بعلیؒ اور شبِ برات کی فضیلت: شیخ بعلیؒ کہتے ہیں کہ جہاں تک نصف شعبان کی رات کی بات ہے تو اس کی
شب برات کی فضیلت علمائے کرام کی نظر میں

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب فرماتے ہیں کہ پندرہویں شب شعبان میں مردوں کیلئے قبرستان میں جا کر دعا و استغفار کرنا مستحب ہے اور حدیث سے ثابت ہے۔ اس شب میں بیداررہ کر عبادت کرنا خواہ خلوت میں ہو یا جلوت میں افضل ہے۔ پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور اسکی بہت فضیلت آئی ہے۔ ( زوال السنتہ یعن اعمال السنہ ص 16) (4) مفتی عزیز الرحمن صاحب اور شب برات کی اہمیت: دار العلوم کے مفتی مولانا عزیز الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ پندرہ شعبان کو بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہو اور پندرہویں تاریخ کا روزہ رکھو، پس پندرہویں شعبان کا روزہ مستحب ہے اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں۔ (فتاوی دار العلوم ج 6 ص 500) (5)۔ پورے سال میں مسنون روزوں کی تعدا د 51 ہے، 33 ہر مہینے ایام بیض کے 3 روزے تو اس اعتبار سے 33 ہو گئے۔ 9 روزے ذی الحجہ کے مہینہ میں پہلی سے 9 تک ، ایک دن عاشورہ کا اور دوسرا اس کے ساتھ والا ، ایک روزہ شعبان المعظم کی پندرہ تاریخ کا ، اور شوال کے 6 روزے۔ ( مظاہر حق ج 2 ص 264) حضرت مولانا اعزاز علی صاحب اور شب برات کے کمالات: حضرت مولانا اعزاز علی صاحب فرماتے ہیں کہ شب برات کو لیلتہ الرحمتہ اور لیلتہ المبارکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رات خداوندی رحمت خاصہ کے نزول اور برکات کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ( فضائل ماہ شعبان المعظم، مصنف مولانا اعزاز علی صاحب) حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب اور شب برات کی بزرگی: حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ اپنے ایک رسالے میں لکھتے ہیں کہ جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایات مروی ہوں، اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے،امت مسلمہ کے جو خیر القرون یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کا دور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ، لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہذا اس کو بدعت کہنا یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے ، اس رات میں عبادت کرنا باعث اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے ۔ (حقیقت شب برات)
شب برات کی فضیلت علمائے کرام کی نظر میں

شبِ برات کی فضیلت میں دارالعلوم کا فتویٰ: (1) پندرہویں شعبان کی رات شبِ برات کہلاتی ہے، اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو گناہوں سے بری اور پاک وصاف کرتا ہے، یعنی مغفرت چاہنے والوں کی بے انتہا مغفرت فرماتا ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں آیا ہے نیز اس رات میں سالانہ فیصلے کی تجدید فرماتا ہے جیسا کہ قرآن میں سورۂ دخان میں موجود ہے: فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ شب برات میں نوافل پڑھنا، تلاوت کرنا، اپنے لیے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرنا چاہیے۔ اور اگلے دن یعنی پندرہویں شعبان میں روزہ رکھنا بہتر ہے، حدیث شریف میں آیا ہے: قوموا لیلھا وصوموا نھارھا (ابن ماجہ) (فتاویٰ دارالعلوم نمبر 7674، تاریخ: 25/10/2008) شبِ برات کی فضیلت میں بنوری ٹاؤن کا فتویٰ: (2) شبِ برات کی رات میں مخلوق کو گناہوں سے بری کر دیا جاتا ہے۔ تقریباً دس صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتا ہے۔ اس سال پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اس رات میں اس سال مرنے والے ہر آدمی کا نام لکھ لیا جاتا ہے، اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اور تمہارا رزق اتارا جاتا ہے۔ سات افراد کی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کر لیں۔ صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دینؒ کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس رات میں تین کام کرنے کے ہیں: 1۔ قبرستان جا کر مردوں کے لئے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کی جائے۔ 2۔ اس رات میں نوافل، تلاوت، ذکر واذکار کا اہتمام کرنا۔ 3۔ دن میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، ایک تو اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور دوسرا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ ایامِ بیض (13، 14، 15) کے روزوں کا اہتمام فرماتے تھے، لہٰذا اس نیت سے روزہ رکھا جائے تو موجب اجر وثواب ہو گا۔ اس رات کی فضیلت بے اصل نہیں ہے اور سلف صالحین نے اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ (ملخصاً فتاویٰ بینات، جلد: اول، صفحہ: 552 تا 555، مطبوعہ: مکتبہ بینات جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی)
شیخ الوظائف ایصال ثواب کا کیوں فرماتے ہیں؟

علامہ عینیؒ نے شرح بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ لِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَہُ الْعَظَمَۃُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ھُوَالْمَلِکُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ۔ اس کے بعد یہ دعا کرے: ’’یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچا دے‘‘ تو اس نے والدین کا حق ادا کر دیا۔ (فضائلِ صدقات) اہلِ قبور کو خوش کر دینے والے اعمال ایصالِ ثواب کرنے سے صاحبِ قبر کو ایصالِ ثواب کرنے والے سے انسیت اور دلی لگاؤ ہو جاتا ہے۔ (1) جو شخص قبرستان میں 30 مرتبہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے اور ان کو ایصالِ ثواب کرے تو صاحبِ مزار یا قبر والے کو 22 لاکھ اسی ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔ 22 لاکھ اسی ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں 22 لاکھ اسی ہزار درجات بلند ہوتے ہیں۔ (فتح القدیر جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 19) اور صاحبِ قبر کی بخشش کر دی جاتی ہے۔ (تفسیر کبیر) (2) اگر قبرستان میں کھڑے ہو کر صرف چند منٹوں میں 30 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی جائے تو دس قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ اہل قبور کی بخشش کی جاتی ہے ان پر رحمت و برکاتِ عافیتوں کی بارش ہوتی ہے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں اہل قبور اس شخص سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ 15300 نیکیاں ملتی ہیں۔ (3) جو شخص مزار یا قبر پر کھڑے ہو کر دس مرتبہ آیت الکرسی پڑھے اس قبر یا مزار پر 40 ہزار رحمتیں اور 40 ہزار عذابِ قبر ہٹا دیئے جاتے ہیں۔ (مکتوباتِ صدی، شیخ شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ) (4) جَزَی اللہُ مُحَمَّدًا عَنَّا مَا ھُوَ اَھْلُہٗ۔ (کنز العمال) اگر 30 مرتبہ پڑھا جائے تو 2100 فرشتے 2100 دن تک اس کا ثواب لکھیں تو نہ لکھ سکیں۔ (5) کم از کم سو مرتبہ کلمہ طیبہ (مکمل) ایصالِ ثواب کریں۔ صاحبِ کشف اور اہل باطن فرماتے ہیں کہ کلمہ طیبہ سے بڑھ کر بخشش (بلندی درجات) کیلئے اور کوئی دوسرا عمل نہیں دیکھا گیا۔
30 سال سے شیخ الوظائف کو جاننے والے عالم دین کا پیغام

مبلغ ختمِ نبوت، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب 13 جنوری 2020 کو دفتر ماہنامہ عبقری میں تشریف لائے علامہ موصوف 30 سال سے حضرت شیخ الوظائف کو جانتے ہیں اور بھرپور جانتے ہیں ان کے تاثرات تو یہ ہیں جو لوگ جانتے نہیں بس سنی سنائی پر عمل کرتے ہیں۔۔۔! "فاعتبرو یا اولی الابصار” ماہنامہ عبقری کے ایڈیٹر اور نامور طبیب جناب حکیم محمد طارق محمود چغتائی سے تیس سال سے قریبی تعلق ہے جب موصوف احمد پور شرقیہ میں ہوتے تھے اور آپ کا مطب مٹی کی دیواروں پر مشتمل تھا۔ آج ان کے لاہور قرطبہ چوک کے قریب پانچ منزلہ پانچ پلازے ہیں، ماہنامہ عبقری ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے، بڑی پیری مریدی ہے سینکڑوں لوگ ان سے دم کراتے ہیں، یہاں ماہانہ مجالس ذکر منعقد کرتے ہیں، 14 جنوری کو جامع مسجد عائشہ کے امام قاری محمد طاہر سلمہ کی معیت میں ان کے انتہائی عالیشان مطب میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے خود کہا میں عالم حافظ قاری کچھ بھی نہیں علماء کا کفش بردار ہوں، میرے بیانات اور تالیفات میں جب غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے میں فوراً غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے رجوع کر لیتا ہوں۔ میرے بیانات میں پانچ علماء کرام موجود ہوتے ہیں جو میرے بیانات کو توجہ سے سنتے ہیں اور جب کوئی غلط بات ہوتی ہے تو وہ چٹ دیتے ہیں فوراً غلطی کو تسلیم کر کے رجوع کر لیتا ہوں۔ انہوں نے راقم کو مشورہ دیا کہ اپنی یادداشتیں لکھا کریں اپنے ساتھ قبر میں نہ لے جائیں جن جن علمائے کرام اور مشائخ عظام سے ملاقات ہو ان کے ملفوظات اور قابل عمل چیز نوٹ کر کے شائع کریں تاکہ احباب استفادہ کر سکیں انہوں نے اہلحدیث کے قدیم بزرگ جو تصوف کے قائل تھے ان کے رسائل پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا بھی عنایت فرمایا ہمارے قابل قدر بزرگ مولانا محمد عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ جو احمد پور شرقیہ کے فاضل ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر رہے صاحب علم و عمل انسان تھے ان کے رسائل کا مجموعہ بھی راقم کو عنایت کیا حکیم صاحب کے مطب اور عبقری کو قبولیت عام حاصل ہے اور خود بھی حکیم صاحب کے سننے ماننے اور جاننے والے کثرت سے پائے جاتے ہیں جب ہم نے اجازت مانگی تو پھر فرمانے لگے میرے لیے دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے اکابر سے جوڑے رکھے آمین۔ (قسط نمبر 433) (ہفت روزہ ختمِ نبوت 2 تا 12 رجب 1441ھ بمطابق 1 تا 7 مارچ شمارہ نمبر 9 سن 2020)
عبقری میں ذکر کیا گیا ایسا تعویذ جو جنت سے آیا تھا

عبقری ص 15 مئی 2013 میں ایک ایسا تعویذ شائع کیا گیا جو کہ جنتی تعویذ کے نام سے مشہور ہے جب سے یہ تعویذ عبقری میں شائع ہوا لوگوں کی پریشانیاں دور ہوئیں، مشکلات حل، ناکامیاں دور ہوئیں۔ آج "اکابر پر اعتماد” کے دوستوں کیلئے اس کی سند لکھی جاتی ہے۔ (قسط نمبر 431) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تعویذ بطور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ کے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم منتقل ہوئے تو حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو خواب میں کچھ فرشتے نظر آئے۔۔۔ انہوں نے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو عرض کیا کہ آپ رضی اللہ عنہا کو ساری کائنات میں افضل ترین ذات گرامی کا حمل ہے۔۔۔ جب آپ ان کو جنیں تو ان کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رکھنا ہے اور سونے کے طباق میں ایک تعویذ رکھا ہوا پیش کیا کہ یہ ان کو ولادت کے بعد پہنا دیں۔۔۔ اس تعویذ کو امام بیہقی نے اور امام ابونعیم اصبہانی نے اپنی اپنی دلائل النبوۃ میں اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اور علامہ سیوطی نے الخصائص الکبریٰ میں ذکر کیا ہے۔ ہم اس خاص تحفہ اور معجزہ کو اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔۔۔ ایک شخص کو نرینہ اولاد کے لیے دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ عورت کو امید ہونے کے بعد بچہ کے اعضاء جسمانی بننے سے پہلے پہلے اس کو کمر میں اس طرح پہنائیں کہ تعویذ ناف پر رہے۔ ۔۔۔ انشاء اللہ بیٹا پیدا ہوگا۔۔۔ چنانچہ اس نے ایک دن آکر بیٹے کی ولادت کی خبر سنائی۔۔۔ یہ تعویذ حضرت مفتی جمیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معمولات میں سے تھا۔۔۔ آپ اس کو ہر مقصد میں استعمال کراتے تھے اور اس مقصد کے مطابق طریقہ استعمال تجویز کرتے تھے۔ وہ مبارک تعویذ یہ ہے:۔ ’’اعيذ بالواحد من شر كل حاسد۔۔۔ وكل خلق رائد۔۔۔ من قائم وقاعد۔۔۔ عن السبيل عاند۔۔۔ على الفساد جاهد۔۔۔ من نافث او عاقد وكل خلق مارد۔۔۔ ياخذ بالمراصد فى طرق الموارد۔۔۔ انھا هم عنه بالله الاعلى واحوطه منهم باليد العليا والكف الذى لا يرى۔۔۔ يد الله فوق ايديهم وحجاب الله دون عاديهم لا يطردوه ولا يضروه فى مقعد ولا منام ولا مسير ولا مقام۔۔۔ اول الليالى وآخر الايام‘‘ (عبقری ص 15 مئی 2013)
تسبیح خانے میں دعائیں کیسے قبول ہوتی ہیں ؟

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے جب سے تسبیح خانہ کی خانقاہ بنی ہے اس وقت سے لے کر آج تک ہفتہ وار درس کے بعد ختم خواجگان کے ساتھ اسماء البدریین پڑھنے کا معمول ہے۔ اس عمل کی مجھے کئی مشائخ اور بزرگان سے اجازت بھی حاصل ہے۔ بڑے بڑے اکابر کی زندگی میں یہ عمل موجود رہا ہے، وہ خود بھی پڑھتے تھے اپنے تعلق والے افراد کو پڑھنے کی تلقین بھی کرتے تھے۔ (1) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ و دیگر اکابرین کا مجرب عمل ہے کہ اہل بدر کے وسیلہ سے جو دعائیں مانگی جائیں وہ قبول ہوتی ہیں۔ (اسماء البدریین سے پریشانیوں کا حل) (2) مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی شرف بخشا ہے، اس میں شریک ہونے والوں کے مخصوص فضائل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں۔ شرکائے بدر کی مقدس ہستیوں کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا مقام ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان حضرات کے نام پڑھ کر جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ علماء و صلحاء میں زمانہ دراز سے مصائب، حوادث امراض و آفات سے نجات حاصل کرنے کیلئے (اسمائے بدریین کا پڑھنا) مجرب مانا گیا ہے۔ (اسماء البدریین، ناشر حاجی حافظ فرید الدین احمد) (3) برصغیر میں حدیث کی خدمت میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے اور بخاری شریف کا حاشیہ لکھنے والی شخصیت محدث کبیر حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری قدس سرہ نے بخاری شریف کے حاشیے پر لمعات شرح مشکوٰۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ اسمائے بدریین کا ذکر کرنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ (بخاری شریف ج 2 ص 574 ناشر: قدیمی کتب خانہ کراچی) (4) شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ (صدر وفاق المدارس) کے نام سے اہل علم بخوبی واقف ہیں اتنی بڑی علمی شخصیت جب بھی بخاری شریف پڑھاتے اور اس میں اصحاب بدریین کے نام آتے تو آپ یہ بات ضرور ہی ارشاد فرماتے کہ ان ناموں کی برکت سے جب جو دعا کی جاتی ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ کشف الباری میں بھی یہ بات لکھی ہے۔ (کشف الباری، کتاب المغازی) (5) فقیہہ العصر حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ اسماء البدریین کو پڑھنے سے حضرات صحابہؓ کی محبت و عظمت سے قلوب لبریز ہوں گے اور اتباع سنت کا جذبہ پیدا ہو کر حصول رضائے الہی کا ذریعہ بنے گا۔ (کتاب روشن ستارے) (6) حضرت مولانا محمد اسحاق ملتانی صاحب مدیر ماہنامہ محاسن اسلام ملتان فرماتے ہیں کہ اصحاب بدر کے نام پڑھنے کی برکت سے بھی دعا کی قبولیت میں تاثیر مشائخ کرام سے منقول چلی آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بخاری شریف میں ان حضرات کے جو چند نام درج ہیں ان کی تلاوت کے بعد اکثر اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ ہر مشکل گھڑی میں ان ناموں کو پڑھ کر دعا کی جائے تو امید قوی ہے کہ اللہ پاک ضرور دعا قبول فرمائیں گے۔ (ایضاً) (7) استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ مولانا محمد کفیل خان صاحب فرماتے ہیں اصحاب بدرؓ کے اسمائے گرامی پڑھنے کی برکات صدیوں سے مجرب اور آزمودہ ہیں۔ اسمائے بدریین جیسے مقدس ناموں کی ایسی برکت ہے کہ اللہ کو اپنے ان پیاروں کی ایسی لاج آتی ہے کہ ان حضرات کے نام لے کر جو بھی جائز دعا کی جائے اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتے ہیں اور بندے کو خالی نہیں لوٹاتے۔ (فضائل و برکات اسماء البدریین) علماء و مشائخ اور اکابرین میں عرصہ دراز سے مصائب، حوادث، امراض، وباء اور آفات سے نجات حاصل کرنے کیلئے اسماء البدریین کا پڑھنا انتہائی مجرب مانا گیا ہے اور جب بھی ایمان و عقیدے سے پڑھا گیا تو پڑھنے والا خالی نہیں لوٹا۔ (ایضاً) (8) استاذ العلماء مولانا محمد اکرم کاشمیری صاحب استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ مدیر ماہنامہ ’’الحسن‘‘ لاہور فرماتے ہیں اسماء بدریین پڑھ کر جو دعا کی جائے وہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔ اکابرین امت کا یہی معمول رہا ہے کہ وہ مصائب اور پریشانیوں میں ان اسماء کا ورد کر کے دعائیں کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اسماء بدریین کا ذکر نہ صرف یہ کہ موجب برکت و سعادت ہے بلکہ ان کے ذکر کے بعد دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ (ایضاً) (9) شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب مدظلہ محدثین کرام اور مشائخ عظام کا تجربہ نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے مشائخ حدیث سے سنا ہے کہ صحیح بخاری میں اسمائے بدریین کے ذکر کے وقت دعا قبول ہوتی ہے اور بارہا اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ (زرقانی، جلد 1 صفحہ 409)۔ نیز بارگاہ الہی میں نیک بندوں اور ان کے اعمال کے ذریعہ دعا کرنے کی کیفیت اور دعا کی قبولیت اس روایت سے بھی واضح ہے جو صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 1883 اور صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 353 میں غار میں جانے والے تین افراد کے متعلق منقول ہے اور اسی بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا رسالہ ’’الادراک والتوصل الی حقیقۃ الاشراک والتوسل‘‘ بھی قابل دید ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اسماء البدریین کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔ (ایضاً) (10) شیخ الحدیث مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے غزوات النبی ﷺ علامہ علی بن برہان الدین حلبی کے اردو ترجمہ میں ایک محدث کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ وہ فرمایاکرتے تھے کہ میں نے مشائخ حدیث سے سنا ہے کہ اصحاب بدرؓ کا نام لے کر جو دعا کی جاتی ہے وہ مقبول ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا تجربہ بھی کیا ہے جو درست ثابت ہوا ہے۔ (سیرت حلبیہ ترجمہ: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سالم قاسمی) (11) مبلغ اسلام حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اسمائے بدریین کے نام پڑھنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے بارہا اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ (بکھرے موتی) (12) حضرت جعفر ابن عبداللہ سے منقول ہے کہ ان کے والد نے ان کو وصیت فرمائی کہ تمام صحابہ کرام سے محبت رکھیں اور خاص کر اسمائے بدر رضی اللہ عنہم کے ناموں
شیخ الوظائف قبرستان میں چیونٹیوں کو لنگر کیوں ڈالتے ہیں؟

حضرت شیخ شبلی رحمتہ اللہ علیہ مشہور ولی اللہ گزرے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ رحمتہ اللہ نے گندم خریدی اور بوری لے کر اپنے گاؤں پہنچ گئے۔ جیسے ہی بوری کھولی تو ایک چیونٹی نظر آئی جو بہت بے چینی سے ادھر ادھر جانے لگی۔ آپ رحمتہ اللہ اس چیونٹی کو پریشان دیکھ کر نہایت افسردہ ہوئے اور رات بھر سو نہ سکے اور صبح ہوتے ہی جہاں سے گندم لائے تھے وہاں اس چیونٹی کو چھوڑ آئے، اور فرمانے لگے کہ انسان سے یہ بات بہت بعید ہے کہ کسی چیونٹی کو بھی گھر سے بے گھر کرے۔ فردوسی شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے میازار مورے کہ دانہ کشست کہ جان دارد و جاں شیریں خوشت ”اس چیونٹی کو نہ ستا جو ایک دانہ کھینچنے والی ہے، اس لئے کہ وہ بھی جان رکھتی ہے اور جان ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔“ سیاہ اندروں باشد و سنگ دل کہ خواہد کہ مورے شود تنگ دل ”وہ شخص بڑا سیاہ باطن اور ظالم ہے جس کے ہاتھ سے کسی چیونٹی کو بھی دکھ پہنچے۔“ آپ ذرا ان واقعات پر غور فرمائیں کہ جانوروں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی پر کتنے لوگوں کو ولایت اور معرفت ملی۔ یہ تو جانوروں کے ساتھ بھلائی کا انجام ہے دکھی انسانیت اور پریشان لوگوں کی جب خیر خواہی اور بھلائی کی جائے جو کہ اشرف المخلوقات ہے اس کی بھلائی اور خیر خواہی پر کیا ملے گا۔۔۔۔۔۔! میں اور آپ سوچ بھی نہ سکیں گے۔ آج کے بعد دکھی انسانیت، پریشان لوگوں کی خیر خواہی اور بھلائی کو ہم سب معاشرے میں بانٹنے والے بن جائیں۔ آمین! ہے نا ”اکابر پر اعتماد“ کا کمال جس سے آپ ہو جائیں مالامال دین و دنیا بھی ہوگی خوشحال اور آخرت بھی پرجمال و باکمال
حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ مزارات کی زیارت کیوں کرتے ہیں؟

کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ میانی صاحب، سندھ، ٹھٹھہ کے مکلی قبرستان اور دیگر مزارات پہ کیوں تشریف لے جاتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے۔۔۔۔ حضرت حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ (شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑپکا، ساتویں امیر تحریک ختم نبوت) جب انڈیا کے سفر (جو 1427ھ میں ہوا) (عیسویں) سے واپس تشریف لائے تو فرمانے لگے جب ہم بزرگوں (خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ وغیرہ) کے مزاروں پر فاتحہ پڑھ کر واپس آکر بیٹھے تو سارے وفد کے علماء متفکر تھے کہ یہ ہم نے کونسی غلطی کر لی وہاں تو شرک ہو رہا تھا، قبروں کی پوجا ہو رہی تھی، ہم وہاں کیوں گئے؟ تو مجھے وہاں ان کو ایک گھنٹہ سمجھانا پڑا جس کا خلاصہ یہ ہے میں نے کہا کہ کیا حضور ﷺ کعبہ کا طواف اور مسجد حرام میں کعبہ کے پاس عبادت نہیں کرتے تھے؟ حالانکہ وہاں 360 بت تھے وہاں صبح و شام شرک ہوتا تھا۔ اس کے باوجود حضور ﷺ نے اپنی عبادت نہیں چھوڑی، مگر بتوں کو چھیڑا تک نہیں۔ پھر عمرۃ القضاء کرنے گئے تو بت موجود تھے انہیں کچھ نہیں کہا صرف عمرہ کر کے واپس آ گئے۔ لیکن جب فتح مکہ کا موقع تھا تو اس وقت تک بیت اللہ میں داخل ہونا گوارا نہ کیا جب تک تمام بتوں کو ختم نہ کر دیا پہلے بتوں سے بیت اللہ و مسجد حرام کو پاک کیا پھر وہاں عبادت کی، طواف کیا۔ کیوں؟ وجہ فرق یہ ہے پہلے حضور ﷺ کو قدرت و طاقت حاصل نہ تھی کہ بتوں کو گراتے اس وقت اپنا کام کرتے رہے مگر ان کو چھیڑا تک نہیں۔ جب فتح مکہ والے سال فاتحانہ انداز میں گئے تو سب سے پہلے کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اسی طرح ہمیں ابھی قدرت نہیں۔ ہم مزاروں پر جائیں گے، شرک کی وجہ سے جانا نہیں چھوڑیں گے، اپنا کام کر کے واپس آجائیں گے ان کو نہیں چھیڑیں گے۔ ہاں جب قدرت ہوگی تو سب سے پہلے ان مزاروں کو شرک سے پاک کریں گے پھر فاتحہ پڑھیں گے۔ (ماہنامہ ”لولاک“ ملتان، ص 58، بیاد: شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ، ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان)
دور حاضر میں امن اور محبت سب سے بڑی ضرورت ۔۔۔!

اسلام ایک پُر ”امن“ اور پُر سکون مذہب ہے، اسلام سلامتی سے ہے یعنی نہ یہ کسی کو دھوکہ دے گا اور نہ تکلیف دے گا، نہ کسی سے دھوکہ کھائے گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا۔ یا یہ ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی ذات سے ہر شخص سلامتی، ”امن“ اور عافیت سے رہے۔ اس لیے اسلام میں سلام کو عام کرنے کا حکم اور اس کے بے شمار فضائل آئے ہیں۔ ایمان ”امن“ سے ہے، مومن وہ شخص ہے جس سے مخلوقِ خدا کو ”امن“ پہنچے۔ یعنی سلامتی، عافیت اور خیر پہنچے۔ اس لیے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی والدہ محترمہ کا نام حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا اور آمنہ ”امن“ سے اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی دائی کا نام حلیمہ تھا حلیمہ بھی حلم اور ”امن“ کی طرف نشان دہی کرتی ہے۔ ولادت کے وقت جس خاتون نے خدمات انجام دیں اس خاتون کا نام شفاء تھا، شفاء بھی رحمت، عافیت، سکون اور ”امن“ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جب ان سارے شواہد کو دیکھا جائے تو ہماری نظر اسلام کو ایک پُر ”امن“ اور پُر سکون مذہب کی طرف نشان دہی کرتی ہے۔ انسانیت کیلئے انوکھا ”امن“، عافیت اور سکون کا پیغام: پیغمبرِ اسلام ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ جو حسنِ سلوک کیا۔ عبقری اور تسبیح خانہ تو ایک ڈاکیہ ہے جو کہ بارگاہِ نبوت ﷺ سے آئی اس ”امن“ اور محبت کی ڈاک کو سارے عالم میں پھیلانے کیلئے کوشاں ہے۔ نفرتوں کے دہکتے الاؤ کو بجھانے کیلئے ”اکابر پر اعتماد“ کی پوسٹوں کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیئر کریں۔