بارش ہو رہی ہے دعائیں قبول کروالیں

محترم قارئین! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ عبقری میگزین اور تسبیح خانے میں شبِ جمعہ کو ہونے والے درس کے ذریعے سالہا سال سے اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ بارش کے دوران دعائیں قبول ہوتی ہیں، لہذا اس وقت کو قیمتی بنائیں اور اللہ پاک جل شانہ سے اپنی فیملی اور نسلوں کیلئے رزق، دولت، عزت، صحت، برکت، عافیت، کفالت، حمایت، نصرت اور قدم قدم پر حفاظت کے فیصلے کروائیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کے بتائے جانے والے اس عمل کے احادیثِ مبارکہ میں کیا دلائل ہیں؟ فضیلۃ الشیخ محمد صالح المنجد (مکتبہ الحدیث) فرماتے ہیں کہ: بارش نازل ہونے کا وقت دراصل لوگوں پر فضلِ الٰہی اور رحمتِ الٰہی نازل ہونے کا وقت ہے۔ اس دوران خیر و بھلائی کے اسباب بڑھ جایا کرتے ہیں۔ اس لیے بارش نازل ہونے کا وقت دعائیں قبول کروانے کی گھڑی ہے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دو قسم کی دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے دوران مانگی جانے والی دعا۔ (بحوالہ: مستدرک حاکم 2534، المعجم الکبیر للطبرانی 5756، صحیح الجامع للالبانی 3078) محدثِ کبیر علامہ ناصر الدین البانیؒ لکھتے ہیں: امام مکحول رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دعا کی قبولیت کو ان تین موقعوں پر تلاش کرو (1) جہاد کے موقع پر، جب فوجیں باہم ملتی ہیں (2) اقامتِ نماز کے وقت (3) اور بارش نازل ہونے کے وقت (بحوالہ: صحیح الجامع 1026) اسی طرح فضیلۃ الشیخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ نے بھی بارش کے دوران دعاؤں کی قبولیت کو یقینی قرار دیا ہے اور اس کی دلیل میں ترمذی شریف کی حدیث 3259 سے سند پیش کی ہے۔ (بحوالہ: مجلس التحقیق الاسلامی، فتاویٰ اصحاب الحدیث، جلد 2 صفحہ 182 ناشر: مکتبہ اسلامیہ، اردو بازار لاہور) فتنوں سے بچنے اور اکابرینِ امت کیساتھ جڑنے کرنے کیلئے ”اکابر پر اعتماد“ کی پوسٹیں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلائیں۔

صبح و شام ایک مرتبہ یہ مسنون دعا پڑھیں اور ہر دشمن سے حفاظت پائیں !

تسبیح خانہ جو پیغام ساری دنیا میں پھیلانے کیلئے کوشاں ہے وہ ہے اعمال سے پلنے کا یقین، اعمال سے بننے کا یقین، اعمال سے بچنے کا یقین یہی وہ یقین تھا جو کہ صحابہ کرامؓ اور اولیائے کرامؓ کی زندگی کا خاصہ تھا ”اکابر پر اعتماد“ کے دوستوں کیلئے صحابی رسول ﷺ کی زندگی کا ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے جو کہ ہمیں تسبیح خانہ کے اس پیغام کو سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ کس طرح سر پر منڈلاتی موت کے مقابلے میں بھی انھیں اعمال کا یقین کس درجہ تھا۔۔۔! اللہ کریم ہمیں بھی یہ یقین عطا فرمائے۔۔۔! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف سے کہا کہ تو مجھے قتل نہیں کر سکتا، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ دعا سکھائی ہے جسے میں پڑھتا ہوں، اس کے پڑھنے کے بعد نہ مجھے کسی شیطان کا ڈر ہوتا ہے نہ بادشاہ کا اور نہ کسی درندے کا (عمل الیوم واللیلۃ)۔ اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ، بِسْمِ اللہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَدِیْنِیْ، بِسْمِ اللہِ عَلٰی اَھْلِیْ وَمَالِیْ، بِسْمِ اللہِ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ اَعْطَانِیْ رَبِّیْ، بِسْمِ اللہِ خَیْرِ الْاَسْمَاءِ، بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ دَاءٌ، بِسْمِ اللہِ افْتَتَحْتُ، وَعَلَی اللہِ تَوَکَّلْتُ، اَللہُ اَللہُ رَبِّیْ، لَا اُشْرِکُ بِہٖ اَحَدًا اَسْاَلُکَ اللّٰھُمَّ بِخَیْرِکَ مِنْ خَیْرِکَ، الَّذِیْ لَا یُعْطِیْہِ اَحَدٌ غَیْرُکَ، عَزَّ جَارُکَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ، وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اِجْعَلْنِیْ فِیْ عِیَاذِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ سُلْطَانٍ، وَمِنْ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ، وَمِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، اِنَّ وَلِیِّیَ اللہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ، وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَجِیْرُکَ مِنْ شَرِّ جَمِیْعِ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ خَلَقْتَہٗ، وَاَحْتَرِزُ بِکَ مِنْھُمْ، وَاُقَدِّمُ بَیْنَ یَدَیَّ: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ، اَللہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ، وَمِنْ خَلْفِیْ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَمِیْنِیْ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَسَارِیْ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمِنْ فَوْقِیْ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمِنْ تَحْتِیْ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَصَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔ (صبح وشام ایک مرتبہ) ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے اپنی جان اور اپنی اولاد اور اپنے اہل وعیال اور مال کے بارے میں خوف و ضرر رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبح و شام یہ پڑھ لیا کرے (بسم اللہ علی دینی نفسی وولدی واہلی و مالی) چند دن کے بعد یہ شخص آئے تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیا حال ہے؟ عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا، میرا سب خوف غائب ہو گیا (کنز العمال ج 2 ص 236)

ہندؤں و دیگر غیر مسلموں سے ملاقات کے آداب ہر مسلمان کی ضرورت ۔۔۔!

تسبیح خانہ کا پیغام ہے امن بولو، امن لکھو، اور امن پھیلاؤ۔ آج کے سلگتے معاشرے میں اس بات کی بہت ضرورت ہے۔ (1) حلم، بردباری و برداشت کی وجہ سے تہجد گزار اور روزہ دار کا درجہ ملتا ہے (ترغیب)۔ (2) ظلم پر صبر اور برداشت کرنے والا بغیر حساب جنت میں جائے گا (ترغیب)۔ (3) غصہ کی بات پر برداشت کرنے والے کیلئے اللہ تعالیٰ کی محبت واجب ہے (ترغیب)۔ (4) دو خصلتیں اللہ پاک کو محبوب ہیں بردباری اور وقار (بیہقی فی الشعب) غیر مسلموں کے آداب محض انسان ہونے کی بناء پر گو وہ مسلمان نہ ہوں یہ حقوق و آداب ہیں: (1) بے گناہ کسی کو جانی یا مالی تکلیف نہ دی جائے (2) بلاوجہ کسی کے ساتھ بدزبانی نہ کی جائے (3) اگر وہ کسی مصیبت، دکھ درد، فاقہ بیماری میں مبتلا ہو تو ان کی مدد کی جائے (4) (5) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اے جوان! جب تو گوشت بنالے تو سب سے پہلے ہمارے یہودی پڑوسی کو پہنچانا۔ (ابوداؤد، ترمذی) شیخ الوظائف دراصل اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ آج اسلام کے پیغامِ امن کو ساری دنیا میں عام کیا جائے جس دین میں ایک لوٹا پانی کا زائد بہانا اسراف میں آتا ہو، جس دین میں جانوروں کو تکلیف دینے پر دنیا و آخرت کا نقصان ہوتا ہو تو وہ دین آج اگر ہماری زندگی میں ہو تو تمام دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔۔۔!

سلام کرنے کی سنتیں ۔۔۔ جھگڑوں کے خاتمہ کا ذریعہ

شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے اپنے بیش بہا دروس کے اندر سلام کو عام کرنے پر دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ذکر فرمایا ہے آئیے اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے قرآن وحدیث کے دلائل پیشِ خدمت ہیں جس پر دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ذکر ملتا ہے۔ (1) سلام میں پہل کریں۔ فائدہ: جو پہل کرتا ہے وہ تکبر سے بری ہے (بیہقی)۔ (2) پہل کرنے والوں پر نو رحمتیں ہوتی ہیں (مجمع الزوائد)۔ (3) دس نیکیاں زائد ملتی ہیں (ابن السنی)۔ (4) آپس میں محبت کا ذریعہ ہے (ادب مفرد) (5) دعائیں قبول ہوتی ہیں اور دشمنی دور ہوتی ہے۔ (6) سلام پہلے کرے اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ بعد میں۔ فائدہ: مصافحہ سے گناہ جھڑتے ہیں (ترغیب)۔ (7) 70 مغفرت دونوں میں تقسیم ہوتی ہیں، 69 اس کیلئے جو بشاشت اور مسکراتے چہرے سے ملتا ہے (مکارم الخرائطی)۔ (8) چلنے والا بیٹھے کو، سوار پیدل کو، تھوڑے افراد زیادہ کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے (بخاری و مسلم)۔ (9) بلند جگہ والا نیچے جگہ والے کو سلام کرے۔ (10) مکمل ملاقات مصافحہ کرنا ہے (11) رخصت ہوتے وقت بھی سلام کریں (ترمذی)۔ (12) سلام کو عام کریں۔ فائدہ: جو خوش کلامی کرے، سلام پھیلائے، کھانا کھلائے جنت اس کیلئے واجب ہے (ترغیب) (13) بچوں کو سلام کرنا (بخاری)۔ (14) تھوڑی جدائی کے بعد بھی سلام کرنا چاہیے (مشکوۃ)۔ (15) رات میں گھر آنے پر ہلکی آواز سے سلام کرنا چاہیے۔ (16) کسی کے گھر جائیں تو دروازے پر ہی بلند آواز سے سلام کریں۔ (17) اگر کہیں بیان، تعلیم یا ذکر ہو رہا ہو تو خاموشی سے بیٹھ جائیں فراغت کے بعد سلام کریں۔ (18) اگر مجلس میں ہو تو با آواز بلند سب کو سلام کرلے اور مصافحہ صرف صدرِ مجلس سے کرلے۔ (19) گھر میں جب بھی آئیں یا جائیں سلام کریں (مشکوۃ)۔ (20) مصافحہ کے وقت دونوں ہتھیلیاں خالی ہونی چاہئیں۔ فائدہ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ پر 10 نیکیاں، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ پر 20 نیکیاں، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ پر 30 نیکیاں لکھی جاتی ہیں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ وَ مَغْفِرَتُہٗ پر 40 نیکیاں لکھی جاتی ہیں (مشکوۃ)۔ سلام کا طریقہ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ سلام کا جواب: وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ۔ فائدہ: سلام کرنے والا جتنے الفاظ کہے کم از کم اتنے الفاظ میں اس کا جواب دے اور اگر الفاظ سے زیادہ دعا کا اضافہ کردے تو بہت ہی بہتر ہے۔ مسلمان سلام بھیجے تو جواب میں یوں کہے: عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ (حصن)۔ یا۔ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ

شیخ الوظائف جانوروں کی خدمت کا کیوں فرماتے ہیں؟

جانوروں کی خدمت۔۔۔ رب سے ملانے کا ذریعہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے اکثر دروس میں جانوروں کی خدمت کا تذکرہ فرماتے ہیں آج اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے اس راز سے پردہ ہٹاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خدمت ایک بہت بڑی سعادت ہے جس کے ذریعے دنیا اور آخرت کی پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ (قسط نمبر 419) اسلام کی تعلیمات امن و سلامتی پر مبنی ہیں یہاں تک کہ اسلام جانوروں تک کے حقوق بتلاتا ہے۔ (1) ایک بدچلن عورت کی محض اس عمل پر مغفرت ہوگئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو جو مرنے کے قریب تھا پانی پلایا تھا (بخاری)۔ (2) ایک محدث کی اس بات پر مغفرت ہوگئی کہ انہوں نے ایک پیاسی مکھی کی خاطر اپنا قلم روک لیا تھا اور مکھی نے وہ سیاہی چوس لی۔ (3) ایک عورت کو ایک بلی کے سبب عذاب ہوا تھا کہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ بلی بھوک سے مرگئی (مسلم)۔ (4) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ ابرار کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ ابرار وہ ہوتے ہیں جو چیونٹی تک کو بھی تکلیف نہیں پہنچاتے۔ (5) ایک اونٹ نے آپ ﷺ کے پاس زیادہ کام اور زیادہ وزن اٹھانے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اس کے مالک سے فرمایا کہ اسے کھانا بھی پورا کھلایا کرو اور کام بھی اتنا کراؤ جتنا یہ کر سکے۔ ایک چڑیا پر رحم کی وجہ سے قیامت کے دن اس کے ساتھ رحم کا معاملہ کیا جائے گا (مطالب عالیہ)۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ ہر جاندار کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا کھانا پینا دینا باعثِ ثواب ہے۔ صالح بن کیسانؒ بلی اور کبوتروں کی خدمت کرتے، عدی بن حاتمؒ چیونٹیوں کیلئے باریک روٹی رکھا کرتے تھے (بیہقی)۔ (6) گھوڑے وغیرہ پر اگر سفر کرو تو اگر سرسبز علاقہ ہو تو پھر درمیان میں وقتاً فوقتاً وقفہ کرلو تاکہ جانور اپنی خوراک کھالے اگر خشک سالی ہو تو پھر تیز چلو تاکہ منزل پر پہنچ کر جانور کو آرام کا موقع ملے اور پھر جب منزل پر پہنچو تو پہلے جانوروں کے کھانے پینے کا انتظام کرو، پھر اپنا کام کرو۔ شیخ احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ کو ایک بلی کی خدمت کرنے پر اونچا مقام ملا۔ بلی کے بچے کی دعا سے ایک بزرگ کی مغفرت ہوگئی۔

جنات کو منہ کے بل زمین پر گرا دینے والی دعائیں

تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقین، اللہ معاف کرے کوئی قصے کہانیاں نہیں بلکہ ایک سچی حقیقت ہے جو قرآن و حدیث کے ہزاروں دلائل سے مزین ہے، اللہ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ اگر آپ ”اکابر پر اعتماد“ کی قسط نمبر 418 میں ذکر کردہ یہ دو مسنون دعائیں پڑھنے کی عادت ڈال لیں تو اڑیل قسم کے جنات بھی ان کی وجہ سے منہ کے بل زمین پر گر پڑیں اور آپ سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔۔۔! اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللہِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ شَیْءٌ اَعْظَمَ مِنْہُ، وَبِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُھُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ، وَبِاَسْمَآءِ اللہِ الْحُسْنٰی کُلِّھَا، مَا عَلِمْتُ مِنْھَا وَمَا لَمْ اَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَاَ وَذَرَاَ فائدہ: حضرت کعب بن احبارؓ فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ دعا نہ پڑھتا تو یہودی مجھے (جادو کے زور سے) گدھا بنا دیتے (موطا امام مالک)۔ اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللہِ الْکَرِیْمِ وَبِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُھُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ مِّنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمِنْ شَرِّ مَا یَعْرُجُ فِیْھَا وَشَرِّ مَا ذَرَاَ فِی الْاَرْضِ وَشَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْھَا وَمِنْ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ، اِلَّا طَارِقًا یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَّا رَحْمٰنُ (صبح وشام 1 مرتبہ) فائدہ: اس دعا کی برکت سے حضور پاک ﷺ کو تکلیف پہنچانے کی نیت سے آنے والا جن منہ کے بل گر پڑا (موطا امام مالک)۔ آپ کے آگے پھیلانے کی وجہ سے ایک شخص کے بھی دکھ درد دور ہو گئے تو آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے درس میں ہنساتے کیوں ہیں۔۔۔!

ہنسنے کی سنتیں۔۔۔ ٹینشن سے حفاظت کا ذریعہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم تسبیح خانہ لاہور میں جو درس بیان فرماتے ہیں اس کو بے پناہ قبولیت حاصل ہے۔ 216 ملکوں میں یہ درس براہِ راست سنا جاتا ہے آپ اپنے درس میں بعض اوقات کوئی ایسے چٹکلے یا پُرمزاح واقعات بیان فرماتے ہیں جس سے مجمع بہت محظوظ ہوتا ہے اور ہنستا ہے۔ یہ ہنسنا بھی تعلیماتِ نبوی ﷺ کا آئینہ دار اور صحابہ کرام و اولیائے عظام کا شعار ہے۔۔۔! (1) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ سے زیادہ کسی اور شخص کو مسکراتے نہیں دیکھا (ترمذی)۔ (2) مورق العجلیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو نرمی، مسکراتا چہرہ اور خندہ پیشانی بہت پسند ہے (بیہقی)۔ (3) چہرے کی بشاشت اور حسنِ اخلاق مالداروں پر سبقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے (بیہقی)۔ (4) حضرت محمد ابن سیرینؒ دن میں خوب ہنستے آپ کی مجلس میں ہنسنے کی آوازیں اور رات کے وقت رونے کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ (5) خوشی کے وقت یہ دعا پڑھیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ وَ جَلَالِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ۔ (6) کسی کو ہنستا ہوا دیکھئے تو یہ دعا دے: اَضْحَکَ اللہُ سِنَّکَ۔ (بخاری ومسلم)

شیخ الوظائف نے دیا۔۔۔ ! کرونا وائرس کا سو فیصد یقینی علاج

(1) ہر شخص اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے۔ (2) جب بھی کسی بیمار شخص کو دیکھیں یا کسی بیمار کے بارے میں سنیں تو یہ دعا پڑھ لیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَ فَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا (مشکوۃ) فائدہ: حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو دکھ بیماری میں دیکھ کر مذکورہ بالا دعا پڑھ لے گا وہ زندگی بھر اس دکھ تکلیف سے محفوظ رہے گا (مشکوۃ)۔ (3) اس بیماری سے حفاظت کیلئے آخری کی پانچ سورتیں اور چھ بسم اللہ صبح و شام 3 مرتبہ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ سورہ کافرون، سورہ نصر، سورہ اخلاص، سورہ فلق، اور سورہ ناس۔ (4) زیتون کے دانے کھانے میں اور زیتون کا تیل مسلسل اپنے استعمال میں رکھیں، اپنی ناک میں مستقل ڈالیں، بدن کی مالش کریں، آنکھ میں سلائی میں لگا کر ڈالیں، ناف میں لگائیں، کان میں ڈالیں اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں میں استعمال کریں۔ (5) انجیر مسلسل کھانے کی عادت ڈالیں اور ہر کھانے کے بعد تین دانے ضرور کھائیں اللہ کے فضل و کرم سے یہ پانچ کام کرنے والا کرونا وائرس اور اس قسم کے موذی امراض سے محفوظ رہے گا۔ اکابر پر اعتماد کی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ اپنے دوستوں میں شیئر کریں اور ساری دنیا میں مسنون زندگی کا یہ پیغام پہنچا دیں جو کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے تسبیح خانہ لاہور میں دیا ہے

سوتے وقت یہ کام کریں اور تسبیح خانہ کو دعائیں دیں ۔۔۔!

آج ہماری زندگی میں پریشانی، بلائیں اور مصیبت آنے کی اصل وجہ سنت کی زندگی سے دوری ہے ”تسبیح خانہ“ کی کوشش یہی ہے کہ ہم پورے کے پورے اس زندگی میں داخل ہو جائیں تو ہم پر آئی ہوئی ہر مصیبت دور ہو جائے گی۔۔۔! عبقری پڑھنے والے ہر دوست کیلئے ایسے جاندار اعمال جو آپ کی زندگی کو شاندار اور خوشحال کر دیں گے۔۔۔! کیا صرف آپ اپنے لیے ہی خوشحالی چاہتے ہیں۔۔۔؟ نہیں ہرگز نہیں تو پھر دیر کیسی ابھی ”اکابر پر اعتماد“ کی پوسٹیں اپنے تمام دوستوں کو سینڈ کریں اور لاکھوں نیکیوں سے اپنے آخرت کے اکاؤنٹ کو بھر لیں۔۔۔! سوتے وقت یہ کام کریں اور اپنے لیے دنیا و آخرت کو آسان کریں۔ (1) سوتے وقت ذکر کرنے سے دعا قبول ہوتی ہے (مسند احمد)۔ فرشتے نگرانی کرتے ہیں (طبرانی)۔ پوری رات ذکر، نماز پڑھنے والے کی طرح ہوتا ہے (فتح الباری)۔ (2) آخری تین قل 3 مرتبہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک مارنا اور تمام جسم پر پھیرتے وقت سر، چہرہ اور سامنے کے حصہ سے شروع کرنا (بخاری و مسلم)۔ (3) آیۃ الکرسی پڑھنا۔ فائدہ: رات بھر ایک فرشتہ حفاظت کرتا ہے اور شیطان کو دور کر دیا جاتا ہے (بخاری)۔ (4) آپ ﷺ سورہ ملک اور سورہ سجدہ پڑھے بغیر نہ سوتے تھے (ترمذی)۔ (5) سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھنا۔ فائدہ: موت کے علاوہ ہر چیز سے بے خوف رہے گا (حصن حصین)۔ (6) سبحان اللہ 33 مرتبہ، الحمد للہ 33 مرتبہ، اللہ اکبر 34 مرتبہ پڑھنا۔ (7) سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھنا۔ فائدہ: ہر نقصان پہنچانے والی چیز سے حفاظت ہو جاتی ہے (مسلم و بخاری)۔ (8) سورہ کافرون پڑھنا۔ (9) 3 مرتبہ استغفار پڑھنا: اَسْتَغْفِرُاللہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ فائدہ: سمندر کے جھاگ، درختوں کے پتے، ریت کے ذرات یا ایام دنیا کے برابر گناہ ہوں تب بھی معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (کنز العمال، ترمذی) داہنی کروٹ لیٹ کر سرِ یار خسار کے نیچے داہنا ہاتھ رکھ کر یہ دعائیں بار پڑھنا (مشکوۃ) (10) اَللّٰھُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (11) بِاسْمِکَ رَبِّیْ وَ ضَعْتُ جَنْبِیْ وَ بِکَ اَرْفَعُہٗ اِنْ اَمْسَکْتَ نَفْسِیْ فَارْحَمْھَا وَ اِنْ اَرْسَلْتَھَا فَاحْفَظْھَا بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصَّالِحِیْنَ (بخاری، ترمذی)۔ (12) اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی۔ (بخاری، مسلم) (13)۔ بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَ وَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَاْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ اِلَّآ اِلَیْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ ”ہے ناں اکابر پر اعتماد کا کمال۔۔۔ جس سے آپ دین و دنیا اور آخرت میں ہو جائیں گے مالا مال“

شیخ الوظائف جمعہ کے دن درود کی تاکید کیوں فرماتے ہیں؟

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی خود بھی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جمعۃ المبارک کے دن خود بھی درود پاک کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی تلقین کی جائے۔ آج میں ”اکابر پر اعتماد“ کے دوستوں کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا یہ عمل احادیث مبارکہ کی پیروی پر مشتمل ہے۔ چند احادیث آپ دوستوں کی خدمت میں پیش خدمت ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد آپ بھی انشاء اللہ ضرور درود پاک کا اہتمام کریں گے۔۔۔! (1) جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے 80 مرتبہ یہ درود پڑھنا: ”اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا“۔ فائدہ: 80 سال کے گناہ معاف اور 80 سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا (فضائلِ درود)۔ (2) جمعہ کے دن 100 مرتبہ درود پڑھنے والے کو قیامت کے دن اتنا نور دیا جائے گا اگر وہ تمام مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو سب کو کافی ہو جائے (کنز العمال)۔ جمعہ کے دن اور رات میں 100 مرتبہ درود پڑھنے والے کی 70 آخرت اور 30 دنیا کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں، اس کا یہ درود آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں اس کے اور اس کے قبیلہ کے نام سے پیش کیا جاتا ہے اور وہاں ایک سفید کتاب میں محفوظ کر لیا جاتا ہے (شعب الایمان)۔ 100 مرتبہ پڑھنے پر قیامت کے دن چہرہ حسن و نور سے چمکتا ہوگا۔ شبِ جمعہ میں 100 مرتبہ پڑھنے پر 200 سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں (شفاء الاسقام)۔ (3) جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے والا آپ ﷺ کے نہایت قریب ہوگا (بیہقی)۔ جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے والے کیلئے آپ ﷺ دعا و استغفار فرماتے ہیں (سبل الہدیٰ)۔ خوشی اور خوشحالی عطا ہوتی ہے (شفاء الاسقام)۔ (4) 200 مرتبہ پڑھنے پر 200 سال کے گناہ (صغیرہ) معاف ہونگے (کنز العمال)۔ (5) 1000 مرتبہ پڑھنے والے کو اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک جنت میں اپنا محل نہ دیکھ لے (سبل الہدیٰ)۔ ایک ہزار درجات اس کے بلند کیے جاتے ہیں (شفاء الاسقام) کیا معلوم آپ ”اکابر پر اعتماد“ کی یہ پوسٹ جس کو سینڈ کریں اور وہ درود پڑھنے والا بن جائے تو کیا یہ آپ کیلئے صدقہ جاریہ نہیں ہوگا؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026