خاوند کی بجائے جن سے حاملہ ہونے والی خاتون کا سچا واقعہ

محترم قارئین ! جیسا کہ اکابر پر اعتماد کی قسط نمبر 279 میں شیخ الحدیث والتفسیر مولانا مفتی محمد زرولی خان صاحب کے ایک بیان سے حوالہ دیا گیا تھا کہ انسانوں اور جنات کا آپس میں نکاح کرنا بھی ممکن ہے اور بعض اوقات جنات نکاح کیے بغیر ز بر دستی انسانوں سے میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیتے ہیں، جوکہ ایک غیر شرعی فعل ہے۔ بہر حال انسانوں پر جنات کے اس طریقے سے اثر انداز ہونے پر ہمارے اکابر و اسلاف کی درج ذیل معتبر کتب میں مستند واقعات موجو دہیں: (۱) لقط المرجان فی احکام الجان ، از : امام جلال الدین سیوطی (۲) مجموعۃ الفتاویٰ ،از : امام ابن تیمیه (۳) نزهة المذاکره ، از : امام زہری (۴) نوادر الاصول، از : امام ترمذی (۵) کمالات شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، از : مولانا محمد یعقوب دہلوی ۔۔۔۔ ان مشہور کتب کے علاوہ بھی درجنوں کتابیں ایسے حیرت انگیز واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔ آئیں آج موجودہ دور کے ایک چونکادینے والے سچے واقعے کی طرف بڑھتے ہیں اور اپنے اور اپنی نسلوں کیلئے ایسی آزمائش سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ کم و بیش 1990ء کی بات ہے کہ میرے ایک دوست جو ریٹائرڈ کرنل ہیں، ان کی والدہ نے میری اہلیہ کو اپنا ذاتی واقعہ سنایا کہ ایک رات میں اپنے کمرے (وہاڑی کے قریب گاؤں) میں لیٹی ہوئی تھی ، میرا خاوند باہر صحن میں تھا۔ اتنے میں کوئی شخص اندر آیا اور آکر لالٹین کی بتی دھیمی کر کے میرے ساتھ چار پائی پر لیٹ گیا۔ میں سمجھی کہ یہ میرا خاوند ہی ہے۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے میرے ساتھ میاں بیوی والے تعلقات قائم کیے لیکن اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ یہ میرا خاوند نہیں کوئی اور ہے۔ میں نے چیخنے چلانے کی بہت کوشش کی مگر میری آواز نہیں نکل رہی تھی۔ بعد میں جب وہ چلا گیا تو میں نے اپنے خاوند کو بتایا، مگر بدنامی سے بچنے کیلئے ہم نے یہ بات کسی اور کے سامنے نہ کھولی کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ شخص کہاں سے آیا اور کہاں غائب ہو گیا۔ کچھ ہی دنوں میں مجھے حمل ہو گیا۔ ابھی تین ماہ گزرے تھے کہ میرا پیٹ 9 ماہ والے حمل سے زیادہ باہر آچکا تھا۔ ہمارا تعلق چونکہ آرمی سے تھا، اس لیے سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی میں جا کر چیک اپ کروایا تو وہاں کی ڈاکٹرز حیران رہ گئیں ۔ انہوں نے الٹرا ساؤنڈ کر کے بتایا کہ پیٹ میں کوئی غیر معمولی چیز ہے، جو دن بدن بڑی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ فی الحال یہ میڈیسن کھائیں اور تین دن بعد آکر آپریشن کروادیں ، ورنہ آپ کی جان خطرے میں ہے ۔ ہم واپس گھر آگئے تو ان تین دنوں میں میرا پیٹ پہلے سے دو گنا بڑھ گیا۔ بالآخر جب آپریشن کروایا تو اندر سے تقریباً45 کلو گرام کی ایسی مخلوق نکلی ، جس کا نہ سر تھا، نہ پاؤں ۔ ہم نے جان بچ جانے پر شکر ادا کیا، ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔ یاد رہے یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب میری عمر چالیس سال تھی اور میں چار بچوں کی ماں تھی. ( سیدط – ن – شاہ ملتان )

جنات کو ماننا، ایمان کی شرط ہے

محترم قارئین! کچھ لوگ اپنی کم علمی کی بناء پر کہتے ہیں کہ کیا جنات کو ماننا ایمان کی شرائط میں شامل ہے؟ عبقری میگزین بار بار جنات کے واقعات بیان کر کے چاہتا کیا ہے؟ قرآن اور حدیث میں تو جنات کو اتنا بیان نہیں کیا گیا، جتنا عبقری بیان کرتا ہے۔ حالانکہ عبقری میگزین کے ہر قاری کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ جنات سے وابستہ مستند واقعات بیان کرنے کا مقصد لوگوں میں احساس اور روحانی شعور کو بیدار کرنا ہے،کہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کی حفاظت کےلئے مسنون اعمال کرنے لگ جائیں۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ بے خبری میں ہم کسی انہونی آزمائش اور مصیبت میں مبتلا ہو جائیں ۔ کیونکہ جنات ایسی ان دیکھی مخلوق ہے ، جس کی ایذاء رسانی کے متعلق اکابر پر اعتماد کی گزشتہ قسطوں میں صحیح احادیث میں حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے درجنوں سچے واقعات گزر چکے ہیں : مثلاً حضرت ام ابان کے دادا کے پیٹ میں ہر وقت تکلیف رہنا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دم کی برکت سے پیٹ میں سے کتے کا پلہ نما چیز نکلنا، حضرت عمار بن یاسر کو کنویں سے پانی لینے پر جنات کا روکنا اور کشتی لڑنا، حضرت زید بن ثابت کے باغ سے روزانہ کھجوروں کا چوری ہونا حضرت ابو ہریرہ کے غلے سے رات کے وقت جنات کی چوری وغیرہ وغیرہجب ہم کائنات کی سب سے سچی ترین کتاب ”قرآن مجید میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف 44 آیات میں جنات کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ سورة نجم 2 آیاتسورۃ الانعام 4 آیاتسورة صافات 1 آیتسورۃ الاعراف 2 آیاتسورة فصلت 2 آیاتسورة تحريم 1 آیتسورة هود 1 آیتسورة حجر 1 آیتسورة اسراء 1آیتسورۃ احقاف 2 آیاتسورة الحاقه1 آیتسورة ذاریات 1 آیتسورة المعارج 1 آیتسورة رحمن 5 آیاتسورة الفجر 1 آیتسورۃ کہف 1 آیتسورة جن 6 آیاتسورۃ الناس1 آیتسورۃ زخرف 3 آیاتسورة نمل 1 آیتسورۃ شوری 1 آیتسورة سجده 1 آیتسورة سبا 3 آیاتسورة محمد صلى اللہ علیہ وسلم 1 آیت ٹوٹل آیات 44

جنات کبھی بھی آپ پر حملہ کر سکتے ہیں ! تیار رہیں!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی ساتویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی چھٹی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جب بھی آپ گھر جاتے اور کھانا کھاتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں آج ساتویں قسط میں آپ پڑھیں گے کہ جنات کس طرح ہر وقت ہماری طاق میں رہتے ہیں ۔ ماہنامہ عبقری میں علامہ لا ہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس دعوی کی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو کہ سہل بن ابو صالح” سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بنو حارثہ کی طرف بھیجا اور میرے ساتھ ہمارا غلام یا دوست تھا تو باغ سے اسے اس کے نام سے آواز دی گئی تو جو میرے ساتھ تھا اس نے دیوار کے اوپر سے جھانکا تو کچھ بھی نظر نہ آیا۔ تو میں نے اس کا اپنے والد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اس کا پتہ ہوتا کہ تیرے ساتھ یہ معاملہ پیش آئے گا تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ (جب نماز کے لئے آذان دی جائے تو شیطان منہ پھیر کر بھاگتا ہے اور اسکی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے) عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات اکابر پر اعتماد کے دوست انگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔ AkabirParAitmad

پچیس سال پرانا خوفناک جن مفتی اعظم ہند کی عدالت میں

اس دور میں علامہ لاہوتی صاحب جنات کے حوالے سے بہت مشہور ہو گئے ہیں ۔۔۔! ہمارے اکابر میں سے بھی بہت سے بزرگ جنات کے ساتھ ملاقاتیں کیا کرتے رہے ذیل میں مفتی اعظم ہند کا جنات کی دنیا میں رعب اور دبدبہ کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے جو علامہ صاحب کی جنات سے ملاقاتوں کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔! مفتی اعظم ہند مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک صاحب کی اہلیہ پر 25 سال سے جن کا اثر تھا میں نے ایک تعویذ بھیجا اور کہا کہ مریضہ کو وضو کرا کر یہ تعویذ اس کے ہاتھ میں رکھ کر مٹھی بند کر دو اس پر وہ جن بولا کہ میں 25 سال سے یہاں پر ہوں میرا نام ختم المرسلین ہے مجھے کچھ نہ کہنا ۔۔! میں نے تین تعویذ اور بھجوا دیئے کہ ایک سر میں ، ایک بازو پر اور ایک گلے میں ڈال دو تو وہ جن کہنے لگا ہرگز ہر گز نہیں ۔۔۔! یہ تعویذ مت باندھنا، میں نہیں جاؤں گا۔ جب وہ تعویذ باندھ دیئے گئے تو وہ جن بہت چلایا اور مریضہ بالکل مردہ کی طرح ہوگئی، اس میں جان ہی نہیں رہی ، مجھ سے کہا یہ تو مرگئی ۔ میں نے کہا کہ ابھی زندہ ہو جائے گی ، پانی دم کر کے اس پر ڈالا تو بیٹھ گئی اور کہنے لگی کہ 25 سال سے میرے کندھے بھاری تھے آج ہلکے ہو گئے ہیں ایک سال تک اس جن کا کوئی اثر نہیں ہوا ایک سال بعد وہ جن دوبارہ حاضر ہوا اور اپنا تعارف کرایا تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ ابھی حضرت مفتی صاحب کو خط کے ذریعے اطلاع دیتا ہوں تو اتنا سنتے ہی وہ جن وہاں سے چلا گیا اور پھر کبھی نہیں آیا ( ملفوظات فقیہہ الامت قسط 2 / 101 ، بحوالہ : اکابر کے واقعات و کرامات ، مصنف : حافظ مومن خان عثمانی ، ناشر : المیز ان لاہور ) محترم قارئین! اس واقعہ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ جس طرح آج علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم کا جنات کی دنیا میں احترام کیا جاتا ہے اس طرح ہمارے اکابر کا بھی جنات کی دنیا میں احترام کیا جاتا تھا۔

موتی مسجد میں برکات ۔۔۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں

( مولانا محمد عمر فاروق صاحب، فاضل : جامعہ مدرسہ احیاء العلوم بجکر )  سبیح خانہ لاہور ) ، موتی مسجد ( شاہی قلعہ، لاہور ) ، روحانی منزل (مری) اور گوشہ درود وسلام ( کراچی ) میں برکات، انوارات اور قبولیت دعا واقعی ایک سچی حقیقت ہے اور کیوں نہ ہو۔۔۔؟ جس جگہ کروڑوں اربوں مرتبہ اللہ تبارک و تعالی کا ذکر اور درود پاک کی محافل ہوں اللہ والوں کی کی نشست و برخاست ہو تو  ایسی جگہ قبولیت نہیں ہوگی تو اور کہاں ہوگی۔۔۔ !ہمارے بڑوں کی زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جہاں وہ کسی خاص جگہ سے تبرک اور برکت حاصل کیا کرتے تھے ۔ (1) ۔ حضرت شاہ نفیس الحسینی شاہ صاحب نے فرمایا : حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کا انتقال شملہ پہاڑی کے قریب حاجی عبد المتین صاحب کی کوٹھی میں ہوا میں حضرت کے وصال کے بعد وہاں گیا تو وہی روحانیت محسوس ہوتی تھی اب بھی جی چاہتا ہے کہ وہ جگہ جا کر دیکھوں کچھ وقت وہاں گزاروں وہاں انوارات محسوس ہوتے ہیں۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ بزرگوں کے انوارات قائم رہتے ہیں ختم نہیں ہوتے، چنانچہ دہلی میں ایک جگہ گوالوں کا ڈیرہ ہے وہاں گوہ موت ( پاخانہ وغیرہ) سے جگہ بھری ہوئی ہے کچھ اللہ والے وہاں گئے تو انہیں وہاں انوارات محسوس ہوئے وہ حیران تھے کہ ایسی جگہ میں انوارات۔۔۔؟ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہاں حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی درس حدیث دیا کرتے تھے۔ کتاب: بیا به مجلس نفیس ، صفحہ 170 ، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور ) امام شافعی فرماتے ہیں حضرت امام موسی کاظم کی قبرتریاق مجرب ہے۔ ابن حجر کی کئی قلائد میں امام شافعی سے نقل کیا کہ میں امام ابوحنیفہ کی قبر سے برکت حاصل کرتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو امام ابوحنیفہ کی قبر پر دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ واقدی نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسولاللہ سنی شمالی تم سے روایت کیا ہے کہ میں شہداء احد کی قبروں پر جا کر دعا کرتی ہوں۔ ( کتاب : المہند اور اعتراضات کا علمی جائزہ، صفحہ 66 تالیف : مولانا محمد الیاس گھمن ، ناشر : دارالایمان ) سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر کی فرماتے ہیں کہ جس جگہ اولیائے کرام رہتے ہیں اس جگہ ایک خاص برکت ہوتی ہے۔ حضرت مولانا شیخ محمد تھانوی فرماتے ہیں کہ جب حضرت حاجی صاحب حج پر تشریف لے گئے تو میں ان کی جگہ بیٹھ کر ذکر کرتابہت انوارات محسوس ہوتے یہ بات دوسری جگہ نصیب نہ ہوتی یہ میرا مشاہدہ ہے۔ الا فازات الیومیہ، حصہ 1 ص 110 بحوالہ میر کارواں ص 184 ناشر : تالیفات اشرفیہ ) محترم قارئین ! ان چند مثالوں سے تسبیح خانہ اور اس کی شاخوں میں برکات کا فلسفہ آپ کو سمجھ میں آ گیا ہوگا۔ اللہ کریم اکابر کی برکات ہم سب کو ساری زندگی کیلئے عطا فرمائے۔ اور یہ اس وقت مل سکتی ہیں جب ہمیں اکابر پر اعتماد ہوگا۔۔۔!

علامہ لاہوتی صاحب کے جنات کے خواہشمند حضرات ضرور پڑھیں

عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب جنات اور انسانوں کی جس طرح خدمت کر رہے ہیں اللہ پاک ہی انھیں جزائے خیر عطا فرمائے تبلیغی جماعت میں جنات کی آمد و رفت بہت ہی زیادہ ہے اور وہاں کے بزرگ علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح ان کی تربیت بھی فرماتے رہتے ہیں ان بزرگوں کے واقعات سے چند پیش خدمت ہیں جنہوں نے جنات کو دیکھا ان کو ڈانٹا اور ان کی تربیت بھی فرمائی۔ اجتماع بیتا ( منعقدہ ۷ ارجب ۱۳۸۷ ھ ۲۲ اکتوبر ۱۹۶۷ء) میں جنات کی آمد بہت بڑی تعداد میں ہوئی اور وہ جماعتوں میں بھی نکلے۔ چنانچہ حضرت مولانا حضرت انعام الحسن صاحب شیخ الحدیث کو لکھتے ہیں کہ جنات 700 کی تعداد میں شریک جلسہ ہوئے ۔ جس میں سے 216 جنات تو تین چلوں کیلئے ، ایک 109 جنات ایک سال کیلئے اور 110 جنات چلہ کی جماعت میں گئے ہیں ۔ ( بحوالہ دعوت و تبلیغ کے حضرت جی ثالث حضرت انعام الحسن ج 3 ص 231) اجتماع سنبھل ضلع مراد آباد ( منعقده ۴ ذی قعدہ ۱۳۸۷ ) کے موقع پر بھی جنات کی آمد ورفت کثیر تعداد ہوئی اور وہ بیعت بھی ہوئے 40 جنات جماعت میں تین چلہ کیلئے گئے ، ایک جن بدر الدجی نامی نے بندہ مولانا انعام الحسن صاحب ) سے بیعت ہونے کا اصرار کیا تو بندہ نے اس جو جناب والا ( شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا) کا حوالہ دے دیا کہ ہمارے سب سے کے بزرگ یہ ہیں ۔ لیکن وہ جن کہنے لگا کہ میں مرکز آؤں گا اور دو دن وہاں رہوں گا۔ (بحوالہ : اکابر کے واقعات و کرامات ، مصنف: حافظ مومن خان عثمانی ، ناشر: المیزان لاہور ) محترم قارئین! آئیں عبقری کی سچائی کو سارے عالم میں پھیلانے کا عزم کریں۔

درختوں کو چیر دینے والےصحابی جن سے صحابہ کرام کی ملاقات

( محمد صہیب رومی قادری) علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات میں افریقہ کے پر اسرارہ ہیبت ناک جنگلات میں خوفناک جنات کا تذکرہ ملتا ہے، یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے تاریخ کے مستند جھر کوں سے ایک واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے: حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسلمانوں کی ایک جماعت مکہ معظمہ جانے کی نیت سے نکلی اور اتفاقاً راستہ بھول گئی ، اس لق و دق میدان میں زندگی کا کوئی سہارا نہ تھا ، موت کیلئے تیار ہو کر کفن پہن لیے اور لیٹ گئے ، اسی دوران ایک جن درختوں کو چیرتا ہوا سامنے آیا اور کہا میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی ا کی یتیم سے احادیث سنی ہیں، میں نے خود آنحضرت صلی ا یہ تم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”من كان يعمل بالله واليوم الآخر فليحب المسلمين ما يحب لنفسه ويكره للمسلمين ما يكره لنفسه” ترجمه: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ سب مسلمانوں کیلئے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اس چیز کو نا پسند کرے جسے اپنے لیے نا پسند کرتا ہے“ یہ حدیث سنا کر اس جن نے قافلے والوں کو راستے کی راہنمائی بھی کی اور پانی کا پتا بھی بتا دیا۔۔۔! ( بحوالہ ثمرات الا واراق ص 249 بحوالہ آکام المرجان فی احکام الجان) محترم قارئین ! علامہ لا ہوتی صاحب کی زندگی کا ہر ہر گوشہ ا کا بڑ“ کے واقعات میں موجود ہےضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے اکابر کے دامن سے اپنا رابطہ مضبوط کریں۔۔۔!

علامہ لاہوتی صاحب کے خوشی غم میں شریک ہونے والے جنات کی حقیقت

موجودہ صدی میں جہاں انسانی دماغ ترقی کرتا جارہا ہے اسی رفتار سے ہماری روح بھی تنزل کی طرف جاتی جارہی ہے، آج ہم آنکھ سے نظر نہ آنے والی ہر چیز کو سائنسی ریسرچ اور تحقیق کہہ کر تو قبول کر لیتے ہیں۔۔۔ لیکن اللہ معاف کرے قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے واقعات کو اپنی عقل کے ترازو پر تولتے رہتے ہیں۔۔۔ علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتیں ، ان کے ساتھ خوشی غمی میں شریک ہونا کوئی ایسی ناممکن بات نہیں تاریخ میں ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی جو کہ علامہ صاحب کے ہر ہر واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کا شمیری ( جنہوں نے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں خلافت عطا فرمائی ۔ تفصیل کیلئے دیکھیں ماہنامہ الحسن لاہور، بمطابق اگست 2009 ) اپنے والد محترم حضرت علامہ انورشاہ کا شمیری کے انتقال پر ملال پر جنات کے غم کا اظہار کچھ اس طرح فرماتے ہیں: عصر اور مغرب کے درمیان بیائی کی شدت بڑھتی رہی بلکہ مغرب کے بعد سے نزع کی کیفیات طاری ہو گئیں ہوش و حواس کی سلامتی جاتی رہی ، وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی بے چینی بڑھتی جاتی ہشتگی کا یہ عالم تھا کہ چند سیکنڈ کے وقفہ سے پانی کی ضرورت محسوس کرتے پانی پینے کے ساتھ حسبنا اللہ پڑھتے اور لیٹ جاتے خالہ زاد بھائی محمد سعید کی والدہ کا بیان ہے میں نے جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا تو گھر کا پورا صحن سفید پوش لوگوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے لبریز ہو گیا، مجھے بھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی کیا یہ دار العلوم کے طلبہ ہیں؟ لیکن آج تو اندر آنے کی کسی کو اجازت نہیں، کیا یہ بلند پایہ علماء کا گروہ ہے؟ جنہیں ان کی خصوصیت کی بناء پر آنے کی اجازت ملی ہے۔ وہ مقدس ہجوم (فرشتوں و جنات ) جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا کلمہ طیبہ کے ورد کے ساتھ کوئی چیز ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر جارہا تھا۔ میں نے جب شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اس وقت ساکت وصامت لیٹے ہوئے تھے علم وکمال جنات کی پر درد آواز : ” ایک بھیانک پر درد آوازسنی گئی لو گوتم سور ہے ہو امام الحدیث کی وفات ہوگئی یہ ایسی سوز گوار اور درد بھری آواز تھی کہ دار العلوم میں سوئے ہوئے سب طالبعلم جاگ گئے ۔ تیسری جانب حضرت مدنی کے خادم ان کے سر کی مالش کر کے ابھی جا کر لیٹے ہی تھے فلک شگاف نعرہ کانوں میں گونج میں گھبرا کر اٹھا دیکھا کہ حضرت مدنی باہر تشریف لے آئے فرمایا یہ بلند اور آہنگ آواز جنات کی تھی جو کہ حضرت شاہ صاحب کی وفات پر ماتم کناں ہیں کچھ طلبہ نے جنات کے گروہ کو بھی جاگتی آنکھوں سے دیکھا ، جہاں سے یہ درد والم اور یہ خوفناک آواز میں نکل رہی تھیں“۔ (بحوالہ کتاب حیات محدث کشمیری ، مصنف حضرت مولانا محمد انظر شاہ مسعودی ص58 محترم قارئین ! کیا ہم اس واقعہ کو بھی من گھڑت ، خود ساختہ، یاد یو مالائی کہانی کہ کر ھلادیں گے نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ انہیں اکابر پر اعتماد تھا۔۔ ہے۔۔ اور انشاء اللہ رہے گا۔9 (ناشر: اداره تالیفات اشرفیه )

حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کی جن سے پر اسرار ملاقات

علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقات کو کہانی اور افسانہ کہنے والے لوگ دراصل تعلیمات اکابر سے نا آشنا ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے اکابر کی زندگی کو پڑھنے کیلئے کچھ نہ کچھ وقت ضرور فارغ کریں۔۔۔! ذیل میں تاریخ کی ایک بہت بڑی علمی ہستی کی ” جن سے ملاقات کا حیرت انگیز واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ایک ”جن“ سے قندھاریہ میں ملاقات ہوئی ، وہاں کسی شخص کے اوپر جن کا اثر تا اور وہ شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود قرآن شریف پڑھتا اور مسائل وعلوم معارف بیان کرتا، اور جب جن کا ارختم ہو جاتا تو وہ شخص اسی طرح جاہل ہو جا تا تھا۔ ایک مرتبہ جب میں صبح کی نماز کے بعد اس شخص سے ملا تو اسکی ایسی حرکات تمھیں جو ہوش والے انسان کی نہیں ہوتیں جیسے مدہوش ہو، جب و شخص بیٹھا تو اس کی آنکھیں اوپر کی جانب چڑھ گئیں، پتلیاں بالکل غائب ہو کر سفیدی رہ گئی ، اس کی آنکھیں دیکھ کر ڈر محسوس ہوتا تھا، کچھ دیر میں اس کا سانس چلا اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گیا، جب وہ اٹھا تو اس کا سانس ٹھکانے نہیں تھا، پھر وہ بولنا شروع ہوا، اس کی آواز میں ایک ڈراؤ نا پن تھا، اس جن نے مجھے سلام کیا، میں نے وعلیکم السلام کہا۔ اس ” جن“ نے معانقہ کرنا چاہا میں نے کہا اناللہ وانا الیہ راجعون ، میں جن سے کیا معانقہ کروں؟ لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس’ جن سے معانقہ کیا، وہ جن بیٹھ گیا۔ اس جن کا نام پوچھا تو اس نے عباس سے ملتا جلتا کوئی نام بتایا۔ میں نے کہا آپ کہاں رہتے ہو؟ تو اس ” جن نے بمبئی کے قریب ایک جزیرہ کا نام بتایا۔ میں نے کہا آپ اس شخص کو کیوں ستاتے ہو؟ وہ جن“ کہنے لگا اس شخص کو مجھ سے اور مجھے اس سے تعلق ہے جب میں اس کے پاس نہیں آتا تو یہ مجھے ڈھونڈتا ہے۔ میں نے ” جن سے کہا آپ ہمیں کیا نفع پہنچا سکتے ہو؟ کہ ہم نے آپ ” جنات کو بہت نفع پہنچایا ہے ۔ وہ جن کہنے لگا : وہ کس طرح؟ میں نے اس ” جن“ سے کہا : آپ لوگ ہمارے شاگرد ہو، دار العلوم میں ہمارے بزرگوں سے ”جنات“ نے علم حاصل کیا ہے، اور مولانا یعقوب صاحب کے زمانے میں ” جنات ظاہر بھی ہوئے تھے، آپ ” جنات“ ہمارے استاذ اور شاگر د بھی ہیں شاگرد اس طرح کہ دار العلوم میں پڑھا ہے اور استاذ اس طرح کہ شاہ ولی اللہ ” نے ” حدیث الجن“ کونے قاضی جنات سے نقل کیا ہے ۔ پھر میں نے اس ” جن سے کہا تم دار العلوم کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہو؟ وہ جن خاموش رہا ہوکر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے اس ” جن سے پوچھا کہ تو خاموش کیوں ہو گیا تھا۔ وہ ”جن“ کہنے لگا: مجھے اس وقت کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ ( خطبات حکیم الاسلام ج 7 ص 258 حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ناشر: مکتبہ امدادیہ ملتان ) محترم قارئین! ایک بات یاد رکھیں اکابر کی زندگی علم اور عقل سے نہیں ادب سے سمجھ میں آتی ہے جو چیز ہماری سمجھ میں نہ آئے ہم اس پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتوں کا انکار کر کے نشانہ تو سارا کا سارا ہمارے اکا بر پرہی پڑتا ہے۔۔۔!

علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح در بار رسالت صلى الله عليه وسلم سے فیض پانے والے اولیائے کرام

( مولانا قاری حافظ عطاء اللہ صاحب، جامعہ اشرفیہ، لاہور ) اکابر پر اعتماد آپ سلام کی حدیث مبارکہ ہے جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارت النبی صلى الله عليه وآله وسلم نصیب ہو جائے ۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالت بیداری میں زیارت با سعادت بار ہا نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں:حضرت عبد اللہ بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن صالح ” کے انتقال کے بعد میں ان کے بھائی شیخ حسن بن صالح ” کے پاس تعزیت کیلئے آیا تو مجھے وہاں رونا آ گیا وہ کہنے لگے کہ رونے سے پہلے ان کے انتقال کی کیفیت سن لو، کیسے لطف کی بات ہے کہ جب ان پر نزع کی تکلیف شروع ہوئی مجھ سے پانی مانگا جیسے ہی میں پانی لے کر آیا تو فرمانے لگے میں نے تو پانی پی لیا میں نے دریافت کیا کہ کس نے پلایا ؟ تو فرمانے لگے حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم فرشتوں کی بہت سی صفوں کے ساتھ تشریف لائے تھے ، انہوں نے مجھے پانی پلا دیا۔ مجھے خیال ہوا کہ کہیں غفلت میں نہ کہ رہے ہوں اس لئے پوچھا کہ فرشتوں کی صفیں کس طرح تھیں؟ بولے اس طرح اوپر نیچے تھیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کے اوپر کر کے بتایا۔ (فضائل صدقات حصہ 2 ص 128 ، مصنف شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا، کتب خانہ فیضی)۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بالمشافہ حالت بیداری میں اور خواب میں آپ سالی یا ایلیم سے بہت سی احادیث سنیں اور بعض کی اصلاح بھی فرمائی جنہیں آپ نے ایک کتاب در ثمین“ کے نام سے شائع کیا۔ (ماہنامہ الفرقان ولی اللہ نمبر ) شیخ محمد بن ابی الحمائل کثرت سے بیداری میں حضور این بینم کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ میں اسے حضور می یا یتیم کی خدمت میں پیش کرلوں اس کے بعد اپنا سر گریبان میں لے جاتے اور پھر فرماتے کہ حضور صلی شیا کی تم نے اس بارے میں یہ فرمایا ہے پھر ویسا ہی ہوتا جیسا فر ماتے بھی اس کے خلاف نہ ہوتا تھا۔ (سعادت دارین حصہ 2 ص 438) محترم قارئین ! بطور برکت یہ چند واقعات لکھے گئے جس سے آپ کو علامہ صاحب کے کمالات کا یقین ہو گیا ہوگا، اللہ کریم ہم سب کو زیادہ سے زیادہ عبقری کے فیض کو بانٹنے والا بنائے اور ا کا بر پر اعتماد نصیب فرمائے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025