جنات کو تعلیم دینے اور مشورہ کرنے والے تبلیغی علامہ لاہوتی پراسراری

اکابر پر اعتماد پیج دیکھ کرادارہ عبقری کیلئے بڑی دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ موجودہ دور میں علمی اور فکری گمراہیوں سے بچنے کیلئے عبقری کیخدمات نہایت قابل تحسین ہیں اس دور میں اسلاف پر بے اعتمادی ۔۔۔۔ ہزار گمراہیوں کی ایک گمراہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگ جو کہ اپنے وقت کے علامہ لاہوتی صاحب ہی تھے ان کی جناتوں سے ملاقاتوں کے واقعات بہت کثرت سے ملتے ہیں ان میں سے چند آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں. (1) مفتی محمد شاکر خان قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا محمد یونس صاحب ( جو کہ پونہ کے رہائشی اور علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات سے ملاقات کرنے اور ان کو تعلیم دینے والے باکمال بزرگ تھے ) ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلیم تالاب صاحب نے کہا کہ مولانا یونس صاحب آخری سفر سے پہلے جامعہ انعام الحسن کونڈ وا تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ بھئی مجھے جلدی واپس جانا ہے کیونکہ میرا جنات کے ساتھ مشورہ ہے۔ (2) ایک مرتبہ اجتماع میں خدمت کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم نے مجمع کے لحاظ سے خوب کھانا پکا یا لیکن کھانے کے وقت آدھا مجمع بھی نہیں آیا اورکھانا بہت بیچ گیا ہم مولانا یونس صاحب کے پاس گئے اورساری صورتحال عرض کر دی ۔ مولا نا فرمانے لگے کے مجمع میں بیٹھے لوگ جنات تھے جو بیان میں زیادہ نظر آرہے تھے وہ تمہارا کھانا نہیں کھاتے بلکہ ان کا الگ انتظام ہے اس لیے وہ وہاں سے چلے گئے۔ (3) مولانا یونس صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میرا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا میں ہڑ بڑا کر اٹھا، دروازہ کھولا تو چھوٹے چھوٹے ڈھیر سارے بچے ہاتھوں میں قرآن ، قاعدے اور بقول حافظ محبوب صاحب اپنے قد کے برابر بخاری و مسلم شریف) لیئے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کو قرآن پڑھائیے میں نے کہا اتنی رات ( تین بجے ) کو پڑھنے آئے ہو تم کون ہوتو وہ کہنے لگے ہمجنات کے بچے ہیں۔ (4) مولانا یونس صاحب کے کمرے میں جنات بہت تھے اور یہ بات بہت مشہور تھی کہ آپ کے کمرے میں جو کوئی سوتا ہے جنات اسے سونے نہیں دیتے اور وہاں سے اٹھا دیتے ہیں ، مولانا فاروق صاحب بھی کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں جنات صرف انہی کو سونے دیتے تھے آپ کے علاوہ کسی کو نہیں سونے دیتے تھے۔ (5) حافظ محبوب صاحب انگلینڈ والے فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مولانا کے ساتھ سفر میں مد بہال پہنچا تو آپ سے عرض کی کہ یہاں جنات بھی آئے ہیں تو مولانا نے فرمایا کہ یہاں جنات کی پوری بستی آباد ہے۔ ( بحوالہ سوانح مولانا محمد یونس (پونہ) ص 212 ، مصنف : مفتی محمد شاکر خان قاسمی ، ناشر: فرید بک ڈپو، دہلی) محترم قارئین ! عبقری کے ایک ایک واقعہ اورتحریر کی سند کا بڑکی کتابوں میں بکھری پڑی ہے اگر ہم اس پیج کو خود پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں تک پہنچا ئیں یہ ہماری دنیا اور آخرت میں بہت بڑی خیر کا ذریعہ ہے۔
قاسم العلوم کی حضرت صابر کلیری کے مزار پربا ادب حاضری اور فیض کا حصول

علامہ لا ہوتی صاحب اور شیخ الخائف دامت برکاتہم کے واقعات میں مزارات کی حاضری کا کر بار بار ملتا ہے اس سفر کو تعلیمات اکابر کی روشنی تلاش کیا جائے تو کتابوں کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ ذیل میں اکابری پر اعتماد کے دوستوں کیلئے جمہ الاسلام کی مزارات پر با ادب حاضری کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری کا کوئی ایک عمل بھی قرآن وسنت و تعلیمات اکا بڑ سے ہٹ کر نہیں۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب بانی دار العلوم اکثر سال میں کلیر شریف حاضر ہوتے اور اس انداز سے کہ میرے خیال میں آج بھی کوئی بزرگوں کا معتقد شاید (مزارات پر ) اس انداز سے نہ جاتا ہو، رڑ کی ( جگہ کا نام) سے چھ میل کے فاصلے پر حضرت صابر کلیری کا مزار ہے اور نہر کے کنارے کنارے راستہ جاتا ہے ۔ تو آپ نہر کے کنارے پٹری پر پہنچ کر جوتے اتار لیتے تھے۔ چھ میل ننگے پیر طے کرتے وہاں پہنچ کر عشاء کی نماز کے بعد روضہ میں داخل ہوتے ۔ پوری رات مزار پر گزارتے تھے اس میں ریاضتیں ، مجاہدہ ، استفاضہ اور فیض حاصل کرتے اور صبح کی نماز کیلئے وہاں سے نکلتے ۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ مزارات پر جانے کو نا جائز سمجھتے تو خود ننگے پیراد با مزارات کیلئے کیوں پیدل جاتے ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ” بھی ہندوستان میں جس قدر سلسلے کے اکابر ہیں سفر کر کے ان کے مزارات پر حاضر ہوئے ۔ حضرت شاہ محب اللہ صاحب الہ آبادی کا مزار الہ آباد میں ہے تو وہاں گئے ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت خواجہ صابر کلیری کے مزار پر بھی آپ نے حاضری دی۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ آداب زیارت میں سے ہے کہ قبلہ کی طرف پشت اور میت کی طرف چہرہ ہو اس لیے کہ وہ (مردہ) تمہاری بات سنے گا اور تمہیں دیکھتا ہے جب یہ تفصیل موجود ہے تو اولیاء اور صلحاء کے مزارات پر بے ادبی اور گستاخی کسی طرح سے جائز نہیں اور اولیاء اللہ ” تو بڑی چیز ہیں صلحا مومنین کی قبروں کے ساتھ بھی گستاخی جائز نہیں ہے۔ قبر کو تکیہ لگانا ، پھلانگ کر جانا قبر کی بے حرمتی ہے۔ جس شریعت نے اولیاء اللہ کی اتنی تو قیر کی ہو کہ ان کی زندگی میں بھی تہذیب سے پیش آؤ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں سے تو قیر و بھی ان کی قبروا تعظیم کا معاملہ کرو تو کون ہے جو ان کی قبروں کی بے ادبی کو جائز رکھے گا۔ (بحوالہ : خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 10, 16- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان) محترم قارئین ! پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اسلاف اور ا کا بڑ کے ساتھ اپنے دامن کو جوڑ لیا جائے۔۔! اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں عبقری اور تسی خانہ کی کوشش یہی کرے ہے کہ مرتے دم تم ہمارا دامن اپنے اکابر سے جدا نہ ہو۔ آمین
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اورعلامہ لا ہوتی صاحب تابعی کیسے بنے؟

مفتی محمد فرقان محمود مخص : جامعہ بنوریہ کراچی جب سے اکابر پر اعتماد کی پوسٹیں پڑھ رہا ہوں دل سے آپ حضرات کیلئے دعائیں نکلتی ہیں کہ اس پرفتن دور میں آپ اپنے اکابر کا دفاع کر رہے اور سچ بات یہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں بلکہ ہر وقت ہر جگہ ا کا بڑا کے طرز عمل کو تلاش کریں اسی میں ہمارے لیے عافیت اور ایمان کی سلامتی ہے۔ دوستوں کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا تابعی بنے کا واقعہ پیش خدمت ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ علامہ لا ہوتی دامت برکاتہم بھی اس دور کے تابعی ہیں جنہوں نے صحابی جن کی باہ با زیارت کی۔ حضرت مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ کا ہے کہ ایک رات وہ مطالعہ میں مصروف تھے، ایک کتاب اٹھائی تو دیکھا کہ اُس کے نیچے سانپ ہے، آپ نے لاٹھی اُٹھائی اور اُس کو مارا وہ مر گیا، اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ کسی نے ان کو اُٹھا لیا ، اُٹھانے والی چیز نظر نہیں آرہی تھی ۔ وہ انھیں گھر سے باہر لائے اور جنگل میں لے گئے ۔ وہاں لے جا کر ایک جگہ سے پتھر ہٹایا اور نیچے تہہ خانہ کی طرح راستہ تھا اُدھر لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ نیچے تو ایک پورا جہان آباد تھا، ایک زبر دست شاہی محل کی طرح اور تمام انتظامات تھے- مجھے وہ ایک دربار میں لے گئے ، وہاں ایک تخت موجود تھا، ان کے بادشاہ سلامت بیٹھے ہوئے تھے، مجلس لگی ہوئی تھی۔ ایک صاحب نے اپنی زبان میں ایک درخواست بادشاہ کو پیش کی ، پھر وہ حضرت شاہ ولی اللہ سے مخاطب ہوئے اور کہا کیا تم نے ان کے بھائی کو قتل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ پھر انہوں نے سوال کیا کیا تم نے کسی سانپ کو مارا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! پھر وہ جنات آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ جن جو کہ صحابی تھے انہوں نے پڑھنا شروع کیا کہ "سَمِعْتُ النَّبِي صَلى الله | عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَزَيَّا بِزِقَ غَيْرِهِ فَقُتِلَ فَدَ مُهُ هَدَر “ ترجمہ: ”جو اپنی موجودہ شکل کے علاوہ میں اور دوسری کوئی شکل اختیار کرے اور اُس میں اُسے قتل کیا جائے، تو اسکا خون معاف ہے اور اُس کا نہ قصاص ہے،نہ دیت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے میں بہت خوفزدہ تھا، پھر سمجھ گیا کہ یہ جنات کی دُنیا ہے۔ میں نے أن ( صحابی جن) سے پوچھا کہ کیا آپ نے خود آپ مالی یا ہی تم سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد میرا سارا خوف خوشی میں بدل گیا کہ آج میں تابعی بن گیا۔ کیوں کہ میں نے صحابی جن سے براہ راست حدیث مبارکہ ان کی زبان مبارک سے سنی۔ (بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء ، ج 1 ص 45، مجموعه ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مد ظله، ناشر: از ہر اکیڈمی لندن)
اکابر پر اعتماد بہت بڑے علامہ لاہوتی پراسراری

تحریر محمد سجاد بہاولنگر، درجہ خامسہ، جامعہ حمدیہ ماہنامہ عبقری میں چھپنے والے ہر دلعزیز کالم ” جنات کے پیدائشی دوست“ کے عنوان سے لکھنے والے علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جتنی بھی باتیں اور واقعات ہیں وہ تمام کے تمام ہمارے اکا برگی کتابوں میں موجود ہیں اگر علامہ نیہانی کی کتاب ” جامع کرامات ہی دیکھ لی جائے تو وہ بھی اس موضوع بہت ہی جامع کتاب ہے ذیل میں علامہ شعرانی ” کے لاہوتی واقعات کی ایک جھلک سے آپ علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔ حضرت علامہ شعرانی فرماتے ہیں کہ میں نے جب حضرت شیخ امین الدین عمری کے پیچھے نماز مغرب ادا کی تو میرے دل کے تمام حجاب دور ہو گئے اور میں اللہ جل شانہ کی تمام مخلوق کی تسبیح سنتا تھا کہ کس کس طرح چرند، پرند، مچھلیاں اور دوسری تمام مخلوق اللہ جل شانہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اللہ جل شانہ نے ان سب کی زبان سمجھنے کی مجھے طاقت اور قدت عطا فرمادی تھی۔ اسی طرح جناتوں سے بھی آپ کی ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ آپ ان کی زبانیں مجھے اور وہ آپ سے اپنے مسائل پوچھتے اور اپنی ضرورتیں بتاتے ۔ آپ کو جنات کیلئے مستقل ایک کتاب جس کا نام ” کشف القِنَاعِ وَالزَّانِ عَنْ وَجْهِ أَسْئِلَةِ الْجَان تصنیف کرنی پڑی۔ جس میں آپ نے جنات کے پچھتر (75) سوالات کا ذکر کیا ہے ، جس میں جنات نے پچھتر (75) چیزیں پوچھیں اور آپ نے ایک ایک چیز کا تفصیلاً جواب لکھا ہے اور وہ پوری ایک کتاب کئی اجزاء پر مشتمل ہے اُن کو لکھ کر دی۔ یہ صرف ایک نماز اللہ والے کے پیچھے پڑھنے سے ملا۔ (بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء، ج 1، ص 39 مجموعه ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، ناشر: از ہر اکیڈمی لندن ) محترم قارئین! جنات پیدائشی دوست میں ذکر کی جانے والی محیر العقول باتیں کوئی دیو مالائی کہانیاں نہیں بلکہ روز روشن کی طرح واضح ہیں جس کی تصدیق اکا بڑ کے ہزاروں واقعات کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ہماری زندگی سے اسلاف بیزاری ختم فرما ئیں اور کا بڑ کی زندگی پر اعتماد کی تو فیق عطا فرمائیں۔
علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات کو تعلیم دینے والی علمی

علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات کو تعلیم دینے والی علمی ہستی علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم کے شب روز جس طرح جنات کے ساتھ گزر رہے ہیں تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جنات سے ملاقاتوں کے یہ واقعات صرف علامہ صاحب ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہزاروں سے زائد علماء اور مشائخ کی زندگی میں ان ملاقاتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ذیل میں حدیث کنز العمال جیسی کتاب لکھنے والی علمی ہستی کی جنات سے نشست و برخاست کا واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے جس سے علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات کی حقانیت ہمارے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ علامہ شیخ علی متقی بہت زاہد و تقی عالم تھے۔ آپ کے وصال سے دو ماہ قبل جناتوں کے دو گروہ آپ کی خدمت میں آنے جانے لگے۔ ایک گروہ اعتقاد ومحبت ، ارادت و الفت میں آپ کی خدمت میں حاضری دیتا تھا جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا جو آپ سے بغض و عداوت رکھتا تھا ، یہ گروہ کبھی عیسائیوں ، فاسقوں اور کبھی بدکار لوگوں کی شکل میں آتے تھے اور گفتگو نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ پیر و مرشدان کے نام خط لکھ کر دے دیا کرتے تھے۔ شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ جنات کے ان خطوط میں سے دو خط اس فقیر کے پاس بھی موجود ہیں۔ (بحوالہ مشائخ احمد آبادص ، مصنف مولا نا محمد یوسف متالا صاحب 376 ناشر: کتب خانه انورشاہ ) محترم قارئین! عبقری میں ذکر کردہ جنات کا پیدائشی دوست اپنی علمی مصروفیات کے ساتھ سالہا سال سے پڑھنے کا معمول ہے یقین جانیے! علامہ صاحب کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے کہ ان کی ہر بات اور ہر واقعہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بچھڑے بندوں کو رب سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اللہ ان کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین ( مولا نادانش رضا فاضل جامعہ رحمانیہ کراچی)
اگر گمراہی سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں ۔۔۔!

زیر سر پرستی : مفتی سعید احمد صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد یحیمی صاحب) کیا ہزاروں کی تعداد میں جنات سے اکا بڑ کی ملاقاتوں کا انکار اور لاکھوں کی تعداد میں اکابر سے منقول وظائف کا انکارا کا بر” پر عدم اعتمادی نہیں ۔۔۔! جدید دور جو بہت سے مسائل و خطرات لے کر آیا ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ اور فتنہ اکابرپر عدم اعتماد ہے۔ اکابر سے عدم اعتماد ظاہر میں تو ایک معمولی چیز لگتی ہے لیکن اس میں غور کیا جائے تو یہی چیز دین کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے۔ دین اصل میں نام اکابر پر اعتماد کا ہے۔ آج تک کا تجربہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اکابر پر ہے اعتمادی کی وہ کسی نہ کسی گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ اکابر پر اعتماد در اصل اپنے عجز کا اظہار ہے جو تحقیق انہوں نے محنت سے کی اور اپنی زندگیاں جس میں صرف کیں اس کو حق سمجھنا اور ان پر بھروسہ کرنا ہے۔ بخلاف اکابر پر ہے اعتمادی کہ اس میں اپنی بڑائی کا اظہار اپنے آپ کو خیر کل اور اپنی سوچ کو صیح سمجھنا ہے۔ امت میں جتنے فتنے ہیں اگر غور کیا جائے تو سب میں سلف بیزاری ہے۔ آج تک جتنے بھی فتنے برپا ہوئے سب میں یہی چیز قدر مشترک ہے۔ بعض لوگ صحابہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض صحابہ کے فیصلوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر کے بعض فیصلوں کو عمر کا مارشل لاء کہہ دیتے ہیں۔ بعض لوگ نئی نئی چیزوں کو دین میں لا کر سمجھتے ہیں کہ ہم صحابہ سے بھی محبت میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک سلف سے بیزاری اور اکابر پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس لیے قرآن نے بھی ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے { ویتبع غیر سبیل المؤمنین نوله ما تولی ونصلہ جھنم وساءت مصیر } ” جو مؤمنوں کا راستہ چھوڑ کر ( یعنی سلف صالحین کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کر لے گا ہم اس کو اسی کے حوالے کریں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ اللہ ہمیں اس گمراہی سے محفوظ فرمائے اور سلف پر اعتماد عطا فرمائے کہ ان پر اعتماد میں ہی نجات اور ہر گمراہی سے حفاظت ہے۔ آج ہر فارغ التحصیل ہونے والا نوجوان اپنی سوچ کو زیادہ اہمیت دیتا ہے بنسبت اکابر کے فہم اور سوچ کے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم طرح طرح کے مصائب میں گھرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں ملتی ۔ ہماری ایسی سوچیں لوگوں کے لیے دین سے بیزاری کا بھی ذریعہ بن رہی ہیں۔ اللہ ہم سب کو سلف کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ( انتخاب : طالبعلم محمد سجاد، درجہ خامسہ ) محترم قارئین! یہی آواز شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی ہے تسبیح خانہ کی ہے ، اور ماہنامہ عبقری کی ہے ۔ ۔ ۔ اللہ کریم ہمیشہ کبھی بھی ہمیں اکابر پر بے اعتمادی نہ دے آمین۔
کائنات کے عجیب راز کس صحابی پر کھلے؟

عبقری میگزین میں بعض اوقات حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایسی عمارتوں کا ذکر فرماتے ہیں جو عام انسان کی رسائی سے دور ہوتی ہیں ، صرف خواص اولیائے کرام یا جنات ہی ان عمارتوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ جیسے شاہی قلعہ لاہور میں موجود سفید محل، اہرام مصر میں چھپے کا ئناتی اسرار وغیرہ وغیرہ ۔۔ بعض لوگ ایسے واقعات پڑھ کر کچھ سوچے سمجھے بغیر فوراً بے یقینی میں مبتلاء ہو جاتے ہیں کہ بھلا ایسا کس طرح ممکن؟علامہ لاہوتی صاحب سے پہلے تو کسی شخص نے ایسے دعوے نہیں کیے۔ حالانکہ اگر ہم مطالعے کا ذوق بڑھا ئیں اور اپنے اکابر واسلاف کے واقعات پڑھیں تو ایسے بے کاذوق بڑھائیں تو ایسے بے شمار حقائق ہماری معلومات میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً مولانا ارسلان بن اختر میمن لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن قلا بہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے اونٹ کو تلاش کرتے کرتے یمن کے علاقے عدن کے جنگل میں پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے ایک عالی شان قلعہ دیکھا، جس کا دروازہ بہت بڑا تھا اور اس پرقیمتی پتھروں سے بینا کاری کی گئی تھی۔ اس عظیم الشان دروازے کو دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئے کہ کہیں یہ شداد کی وہی جنت تو نہیں ، جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ پھر ذرا ہمت کر کے اندر داخل ہو گئے تو دیکھا کہ وہاں تمام محلات ، نہریں اور درخت ایسی خوبصورتی سے بنائے گئے ہیں کہ دنیا میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ واقعی کسی نے اپنے لیے جنت بنوانے کی پوری محنت کی ہوئی تھی ۔ ہر چیز اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی لیکن حیرت کی بات یہ کہ وہاں کوئی ذی روح بسنے والا نہیں تھا۔ لہٰذا انہوں نے وہاں سے کچھ یا قوت اور زعفرانی مٹی لی اور اپنے علاقے میں واپس پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو اس عجیب سفر کی روداد سنائی۔ یہ قصہ یمن سے شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو انہوں نے خط لکھ کر ان صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلوالیا۔ پھر ان سے اس واقعے کی تفصیل پوچھتے ہوئے فرمایا: کیا یہ سب کچھ آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا تھا ؟ حضرت عبداللہ بن قلابہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے نہیں! اور پھر انہوں نے وہاں کے یا قوت اور زعفرانی مٹی ان کے سامنے پیش کر دی۔ یہ دیکھنے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا: کیا دنیا میں سونے چاندی کی کوئی عمارت موجود ہے؟ وہ فرمانے لگے : ہاں ! وہ محلات جو شداد نے اپنے لیے جنت کے طور پر 300 سال میں بنوائے تھے اور پھر انہیں پوشیدہ کر دیا گیا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا انہیں کوئی شخص دیکھ سکتا ہے؟ حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں بالکل ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ میری امت کا ایک شخص اپنے اونٹ کو ڈھونڈتے ہوئے اس کو دیکھے گا، جس کا قد چھوٹا ، رنگ سرخ اور گردن اور ابر و پر تل ہوگا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ تمام نشانیاں حضرت عبد اللہ بن قلا بہ رضی اللہ عنہ میں دیکھ کر فرمایا : خدا کی قسم ! یہی وہ شخص ہے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی (بحوالہ کتاب: واقعات کا خزانہ صفحہ نمبر 90 ناشر: مکتبہ ارسلان کراچی)
دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی کی خدمت میں تہجد کے وقت جنات کی حاضری

حضرت مولانا محمد ظفر الحق حقانی صاحب لکھتے ہیں کہ : ایک متعلم کا شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ پانچ سال تک خادمانہ تعلق رہا۔ وہ خادم کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک رات آپ تہجد کے لئے اٹھے لیکن مجھے نہ جگایا، میں خود ہی جاگ گیا اور عرض کی : شیخ آپ نے مجھے کیوں نہ جگایا؟ فرمایا: بیٹا آپ سمجھے نہیں ہمارے کمرے میں بے شمار جنات آگئے تھے۔ کمرہ بھرا ہوا تھا، اس لئے آپ کو میرے جگانے کا پتہ نہیں چل سکا (بحوالہ : ماہنامہ الحق خصوصی اشاعت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمتہ اللہ علیہ بانی دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، ایڈیٹر : حضرت مولانا سمیع الحق شہید )
انڈیا کا ایسا علاقہ جہاں کسی شریر جن کو داخل ہونے کی اجازت نہیں

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدوں کے ساتھ کسی علاقے میں گئے اور مریدوں سے کہا رات گزارنے کے لیے کوئی کرائے کا مکان تلاش کرو۔ کافی تلاش بسیار کے باوجود بھی مکان نہ مل سکا۔ البتہ ایک ایسا مکان ملا جس پر عرصہ دراز سے جنات کا قبضہ تھا اور یہ بات مشہور تھی کہ جو شخص اس میں رات گزارتا ہے، وفات پا جاتا ہے۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے وہی مکان کرائے پہ لے لیا۔ تمام مریدوں اور علاقے کے لوگوں نے بہت منع کیا لیکن حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی رائے پہ قائم رہے۔ بالآ خرتن تنہا سونے کے لیے اس مکان میں تشریف لے گئے۔ تمام لوگوں نے اس انداز سے انہیں رخصت کیا جیسے انہیں حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کا یقین ہو گیا ہو۔ بہر حال حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس گھر میں جاتے ہی عشاء کی نماز پڑھی اور اپنے معمول کے ذکر واذکار کرتے ہوئے لیٹ گئے ۔ کچھ دیر بعد یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ان کے پاؤں دبا رہا ہے تو انہوں نے فرمایا: مجھے اپنے پاؤں دبوانے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم میری رضا چاہتے ہو تو یہ مقبوضہ علاقہ فوراً خالی کر دو۔ یہ سن کر وہ جن اپنے بورے کنبے سمیت وہ گھر چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا اور یہ وصیت کر گیا کہ آئندہ کوئی بھی جن یہاں نہ آئے ۔ چنانچہ آج تک اس علاقے میں کوئی شریر جن نظر نہیں آیا۔ بعد میں وہ علاقہ کے نام سے مشہور ہوا، جہاں آج تک دارالعلوم دیو بند قائم ہے. ( بحوالہ کتاب: نا قابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ نمبر : 193 ، مؤلف: محمد انور بن اختر ، ناشر: مکتبہ ارسلان، کراچی )
دار العلوم میں جن موجود تھا لیکن نظر کسی کو نہ آیا

محترم قارئین ! عبقری کا ہر دل عزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست میں جنات کے واقعات یا شاہی قلعے میں موجود موتی مسجد میں جنات کا موجود ہونا بعض لوگ اسے بے یقینی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اکابر و اسلاف کی جنات سے دوستی یا انکی خدمت میں جنات کا شاگرد بننا، وقت گزارنا اور صرف انہی کو اپنے اس شاگرد جن کا پتہ ہونا اور ان کے علاوہ کسی کو جنات کے وجود کا وہم و گمان نہ گزرنا ، جیسے واقعات بکثرت ملتے ہیں ۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں لاکھوں علماء کے محسن محبوب حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ سے بھی ثبوت مل رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد فاروق بجنوری صاحب فرماتے ہیں کہ دار العلوم میں میرے کمرے میں عمر مونگیری نامی ایک طالب علم ساتھ رہتا تھا اس کے جن ہونے کا انکشاف اس طرح ہوا کہ ایک دن میں اسے طاق میں رکھی ہوئی ماچس اٹھانے کا کہا : تو اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ لمبا کر کے اٹھادی جس سے میں ڈر گیا اور بھاگ کر حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کیا حضرت رحمتہ اللہ نے فرمایا کہ : اچھا آج اس نے خود کو ظاہر کر دیا خیر گھبرانے کی بات نہیں وہ بھی تم جیسا طالب علم ہی ہے اس کے بعد میں کمرے میں واپس آیا تو وہ موجود نہ تھا اور پھر اس کے بعد کبھی بھی نظر نہ آیا. ( بحوالہ کتاب: اکیسویں اور بیسویں صدی کے ناقابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ نمبر : 192 ، ناشر: مکتبہ الارسلان، کراچی )