ایسی آیت جو جنات کو جلا کر مالدار بنادے

مولانا مفتی محمد عاصم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار کچھ لوگ کشتی پر سوار ہو کر بحری سفر لئے روانہ ہوئے ۔ ان کی نظر پانی کی ایک سطح پر ایک شخص پر پڑی اور وہ یہ کہ کہتا تھا کہ میرے پاس ایک کلمہ ہے جس کو میں ہزار درہم کے عوض بیچتا ہوں : ان میں سے ایک شخص نے کہا اچھا! لو یہ ہزار درہم ہیں اس پر وہ بولا دریا میں پھینک دو چنانچہ اس نے ہزار درہم دریا میں پھینک دیے۔ اس وقت اس نے کہا اچھا پڑھو ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و من حيث لا يحتسب “ جب اس نے پڑھا تو وہ بولا اسے خوب یاد کر لو اس کا یاد کرنا تھا کہ ادھر جہاز ٹوٹ گیا اور وہ شخص جس نے یہ آیت یاد کی تھی ایک تختہ پر رہ گیا اور وہ برابر اس آیت کی تلاوت کیے جاتا تھا۔ اسی ثناء میں ایک موج نے اس کو کسی جزیرہ میں میں جا پھینکا ، جہاں اس کو ایک نہایت خوبصورت عورت ملی۔ اس سے اس کے حالات دریافت کیے تو اس نے بیان دیا کہ میں فلاں شہر کی رہنے والی ہوں ۔ روزانہ سمندر سے ایک جن نکلتا ہے اور وہ مجھے پھسلایا کرتا ہے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ میں اس سے بچ جاتی ہوں ۔ اس شخص نے کہا اچھا! تو مجھے ایسی جگہ بتلا دے جہاں سے میں اسے دیکھ لوں اور وہ مجھے نہ دیکھ سکے ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ سمندر سے نکلا تو اس شخص نے یہ آیت پڑھنا شروع کر دی اور وہ جن اس آیت کے پڑھنے سے جل کر مر گیا۔ اس کے بعد اس شخص نے اس عورت کو باحفاظت اس کے ہیرے، جواہرات سمیت اسے اس کے گھر پہنچا دیا اس کہ بعد اس عورت کے والد نے اس عورت کا نکاح اسی شخص سے کر دیا. ( بحوالہ کتاب سنہری حکایات ، صفحہ نمبر : 121 ، ناشر: مکتبہ حمادیہ، شاہ فیصل کالونی کراچی )

اكابرپر اعتماد عبقری میں شائع کردہ جنات کے واقعات کا انکار کرنے والے اس حدیث کے متعلق کیا کہیں گے؟

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حجاج سلمی رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ وہ اپنی قوم کے کچھ سواروں کے ساتھ مکہ کے ارادے سے نکلے۔ رات کو یہ لوگ ایک وحشت ناک وادی میں پہنچے تو گھبرا گئے ۔ ان کے ساتھیوں نے کہا: اٹھو اور اپنے لیے اور ہمارے لیے اس وادی کے سردار جن سے امن مانگو۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر یہ الفاظ پڑھے : میں اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ہر اُس جن سے پناہ دیتا ہوں ، جو اس پہاڑی رستے میں موجود ہے، تاکہ میں اور میرے ساتھی صحیح سالم اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے کسی نظر نہ آنے والے ( جن ) کو سورۃ رحمن کی آیات پڑھتے ہوئے سنا۔ کی پس جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے قریش کی ایک مجلس میں یہ بات سنائی تو قریش بولے : اے حجاج آپ نے ٹھیک کہا: یہ کلام بھی اسی کلام میں سے ہے جس کے متعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان پر یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اتنے میں عاص بن وائل آیا تو کہنے لگا ؛ جس جن نے ان لوگوں کو یہ کلام سنایا ہے ، وہی جن تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلام جاری کرتا ہے۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عاص کی یہ بات سن کر میرے بعض ساتھی اسلام لانے سے رک گئے مگر میری بصیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ پھر میں اونٹنی پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے حق بات سنی ہے، اللہ کی قسم ! یہ اسی کلام میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ لہذا میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے اسلام سکھا دیجئے ۔ بحوالہ: ابن ابی الدنیافی ھواتف الجان، بحوالہ کتاب: صحابہ کے 313 واقعات صفحہ 145 مصنف: محمد اسحاق ملتانی صاحب، مدیر ماہنامه محاسن اسلام، ناشر : اداره تالیفات اشرفیہ فوارہ چوک ملتان

دار العلوم میں پہلی تین صفیں خالی کیوں رہتی تھیں؟

قارئین ! جو لوگ کہتے ہیں کہ صرف علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی کو جنات کیوں نظر آتے ہیں؟ اگر واقعی جنات کا وجود ہے تو علامہ صاحب کے اس پاس موجود دوسرے لوگوں کی نظر سے جنات کیسے اوجھل رہ سکتے ہیں؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ کیا حضرت علامہ صاحب سے پہلے بھی کسی ہستی پر جنات کا اظہار ہوا تھا ؟ مولانا عماد الدین محمود صاحب ( خطیب جامع مسجد زکریا چودہوان ) لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ان کے تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ درس حدیث کے دوران طلباء کو آزادی ہوتی کہ وہ اپنے شبہات و اعتراضات اپنی اپنی پرچیوں پر لکھ کر پیش کر دیا کریں۔ آپ ہر پرچی کو کشادہ دلی سے پڑھتے اور جواب عنایت فرما کر طلباء کو مطمئن کر دیتے ۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی دارالعلوم کے دارالحدیث میں صحیح بخاری شریف پڑھانے کیلئے تشریف فرما ہوئے تو سامنے کی تین صفوں کے طلباء کو پچھلی صفوں میں بیٹھنے کا حکم دے دیا۔ جب وہ پچھلی صفوں میں چلے گئے تو حضرت مدنی نے حدیث پڑھانا شروع کردی طلباء نے سوالیہ پر چیاں بھیجنا شروع کر دیں اور اعتراض کیا کہ ہمیں پچھلی صفوں میں کیوں بٹھایا گیا۔ بار بار یہی سوال آتا اور حضرت مدنی اونچی آواز میں پڑھ کر خاموش ہو جاتے ۔ جب طلباء کا اصرار بڑھ گیا تو حضرت مدنی نے ارشاد فرمایا: آج قاہرہ مصر سے تین سو جنات طالب علم بن کر یہاں دارالعلوم پہنچے ہیں اور مجھ سے حدیث پڑھنے کی نسبت قائم کر کے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کا اکرام کرتے ہوئے پہلی تین صفیں خالی کروادی ہیں. ( بحوالہ کتاب: حقانی کے دیس میں صفحہ 80 ناشر : القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ خالق آباد نو شہرہ )

گھروں سے سانپ نکلنے کے پیچھے چھپا انوکھا راز

محترم قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں، جن میں سانپوں کی صورت میں جنات کا ظاہر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس جدید سائنسی دور میں بھلا ان تو ہمات کا کیا تعلق ؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں ان ماوراء العقل واقعات کی کیا حیثیت تھی ؟ حضرت مولانا محمد عبد المعبود صاحب لکھتے ہیں : طالب علمی کے زمانے میں ہمشیرہ خورشید کے گھر ڈھوک شاہو میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں انہیں ملنے گیا۔ نماز مغرب کے بعد ہمشیرہ نے بتایا کہ ہماری گلی کی جانب سے روزانہ اس وقت ایک سانپ نکل کر ہمارے مکان میں چلا جاتا ہے۔ جب سانپ نکلتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہے۔ میں نے پوچھا کوئی ڈنڈا ہے؟ تو ہمشیرہ جلدی سے ایک ڈنڈا پکڑ لائی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا۔ ہمشیرہ کہنے لگیں : شاید سانپ نکل آیا ہے۔ دیکھا تو سانپ ان کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ میں ڈنڈے کی طرف بڑھا تو وہ خود بخود ٹوٹا ہوا تھا۔ ہمشیرہ لالٹین لے کر آئیں تو وہ بھی اپنے آپ بجھ گئی۔ مجھے سانپ تو نظر نہ آیا، ویسے ہی ڈنڈے کا وار کر دیا۔ جب ڈنڈا زمین پر لگا تو سانپ کھڑا ہو گیا اور واضح نظر آنے لگا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا تو سانپ کمرے میں چلا گیا۔ فی الفور مجھے خیال آیا کہ در حقیقت یہ سانپ کی صورت میں ایک جن ہے، لہذا میں نے سورۃ یاسین اور چند دیگر سورتیں پڑھ کر پانی پر دم کیا اور تمام کمروں میں چھڑک دیا۔ الحمد للہ اس دن کے بعد کبھی وہ سانپ نظر نہ آیا. ( بحوالہ کتاب: نقوش زندگی ، صفحہ 100 ناشر : القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ ، خالق آباد نوشہرہ)

جنات کا انکار کرنے والے اس حقیقت کو کیا کہیں گے

مولانا مفتی عاصم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم! میں آپ کو چند باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ ایک بات میرے لئے ، ایک تیرے لئے ، ایک تیرے میرے درمیان اور ایک تیرے اور لوگوں کے درمیان ہے۔ جو میرے لئے وہ یہ کہ میری عبادت کرنا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ۔ جو بات تیرے لیے وہ یہ کہ جو عمل تم کروگے میں اس کا پورا پورا اجر دوں گا۔ جو تیرے اور میرے درمیان وہ یہ کہ دعاتم کرو گے قبول میں کروں گا۔ اور جو تیرے اور لوگوں کے درمیان وہ یہ کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہی ان کے لئے پسند کرو۔ حضرت آدم نے عرض کیا آپ کا ہر جنات کا انکار کرنے والے اس حقیقت کو کیا کہیں گے. مولانا مفتی عاصم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم! میں آپ کو چند باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ ایک بات میرے لئے ، ایک تیرے لئے ، ایک تیرے میرے درمیان اور ایک تیرے اور لوگوں کے درمیان ہے۔ جو میرے لئے وہ یہ کہ میری عبادت کرنا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ۔ جو بات تیرے لیے وہ یہ کہ جو عمل تم کروگے میں اس کا پورا پورا اجر دوں گا۔ جو تیرے اور میرے درمیان وہ یہ کہ دعاتم کرو گے قبول میں کروں گا۔ اور جو تیرے اور لوگوں کے درمیان وہ یہ کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہی ان کے لئے پسند کرو۔ حضرت آدم نے عرض کیا آپ کا ہر فیصلہ عدل ہے۔ میں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ہے مجھے آپ اپنے ہاں ٹھکانہ نہ دیں۔ آپ مجھے قبول فرمالیں، اللہ نے فرمایا : اے آدم ! میں نے قبول کیا۔ پھر حضرت جبرائیل نے ان دونوں کو جمع کر دیا تو حضرت آدم نے فرمایا : اے حوا مجھے بھوک لگی ہے۔ حضرت حوا نے کیا یہاں کھانا کہاں ہے کھانا تو جنت میں ہے پھر دیکھا کہ جنات روٹیاں پکا رہے ہیں اور کھا رہے ہیں۔ حضرت حوا نے ایسا ہی کیا جیسا کہ جنات نے کیا چنانچہ دونوں حضرات نے کھانا کھایا اور پانی پیا پھر ان کے پیٹ میں مرور ہوا تو بول براز کیا ۔ اللہ تعالی نے حضرت آدم سے فرمایا اے آدم! میں چاہتا ہوں کہ تیری نسل سے اپنے شہروں کو آباد کروں تب حضرت آدم حضرت حوا کے پاس صبح کے وقت جاتے تھے اور حضرت حوا شام کو دو جڑواں بچے جنتی تھیں. ( بحوالہ کتاب: سنہرے اوراق، صفحہ نمبر 20، ناشر: مکتبہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی، کراچی)

کو ہاٹ کے پہاڑوں پر بسنے والے مکینک جنات

محترم قارئین! جو لوگ عبقری میگزین میں آنے والے جنات کے واقعات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب قصے کہانیاں ہیں ۔ حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ کا کوئی وجود نہیں، اگر وجود ہے تو ان کی بیان کردہ سب باتیں غلط ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف کے ہاں جنات سے متعلق ماوراء العقل واقعات کس نوعیت کے تھے مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ، نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مرد قلند ر حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سرگودھا سے کو ہاٹ تشریف لا رہے تھے۔ قاضی عبد القادر صاحب نے مجھے کہا کہ دو پہر کے وقت کالا چٹا پہاڑ پہ سفر کرنا خطرے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ گاڑی بہت گرم ہو جاتی ہے مگر حضرت درخواستی” کے حکم پر میں چل پڑا۔ جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اچانک گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔ میں چونکہ نیا نیا ڈرائیور تھا، اور مجھے ٹائر بدلنا نہیں آتا تھا، اس لیے کافی پریشان ہو گیا۔ اسی دوران اچانک ایک سائیکل سوار ہمارے قریب آیا تو مرد قلندر حضرت درخواستی نے فرمایا : گاڑی کا سارا کام یہ شخص کرے گا۔ پس اسی آدمی نے آکر میری مدد کی اور گاڑی کا ٹائر بدل دیا۔ جب ہم دوبارہ چل پڑے تو میں نے عرض کی : حضرت! یہ جن تھا یا انسان ؟ اتنی شدید گرمی میں کوئی شخص سائیکل پر سوار ہو کر پہاڑ کی چوٹی پر تو نہیں آسکتا ! حضرت درخواستی ” نے فرمایا: آپ خاموشی سے گاڑی چلاتے رہیں ۔ میں نے پھر پوچھا : حضرت کہیں سے ٹائر مرمت کروالوں ؟ فرمایا: نہیں ! اللہ مدد فرمائے گا ، کو ہاٹ پہنچ کر مرمت کروالینا۔ لہذا جب کو ہاٹ پہنچ کر دیکھا تو ٹائر ٹکڑے ٹکڑے ہوا پڑا تھا لیکن اس کے باوجود گاڑی صحیح سلامت چلتی رہی. (بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 232 ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ خالق آباد، نوشہرہ)

ہوشیار! کہیں جنات کی نظر بد آپ کو برباد نہ کردے ۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے کچھ عرصہ قبل نظر بد پر بہت سے بیانات ہوئے ان بیانات میں آپ نے جنات کی نظر بد کے بھی کئی واقعات ارشاد فرمائے تاریخ میں بکھرے مستند واقعات میں سے چند واقعات’’ اکابر پر اعتما د‘‘ کے دوستوں کی خدمت میں پیش خدمت ہیں تاکہ ہم انسانوں کی طرح جنات کی نظر بد سےبھی ہشیار رہیں ۔۔! امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒنے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر میں ایک بچی کو دیکھا جس کو جن کی نظر بد لگی ہوئی تھی تو حضورﷺنے ارشاد فرمایا اس کو فلاں سے جھاڑ پھونک کرالو اسکو(جنات کی ) نظر بد لگ گئی ہے۔ وضاحت :اس حدیث میں’’النظرۃ ‘‘نظربد کی جگہ عربی میں’’ سفعۃ‘‘ہے جس کے متعلق حضرت حسین بن مسعود فراء(بغوی محی السنۃ ،قامع البدعۃ محدث صاحب مصابیح السنۃ و معالم التنزیل وغیرہ) فرماتے ہیںکہ’’ سفعۃ‘‘ کے معنی جن کی نظر بد لگنے کے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس بچی کو جن کی نظر بد لگ گئی تھی۔ ’’ آکام المرجان فی احکام الجنان ‘‘کے مصنف فرماتے ہیں کہ آنکھ دو قسم کی ہے ایک انسان کی آنکھ ،دوسری جن کی آنکھ یعنی ایک انسان کی نظر لگنا دوسری جن کی۔سورۃ فلق و ناس انسان اور جنات کی نظر بد سے پناہ دیتی ہے:۔ امام ترمذی ؒ نے ابو نظیرہ بن مسعود اور حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی اور امام ترمذی ؒ نے اسے حسن قرار دیا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے یہاں تک کے معوذ تین (سورۃ فلق ،سورۃ ناس ) نازل ہوگئیں تو انہیں اختیار فرمالیا(انہیں کے ذریعے پناہ لینے لگے) (جنوں کی دنیا ،مصنف امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ۔ناشر، مکتبہ برکات المدینہ کراچی)

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پہلی دلیل

ماہنامہ عبقری کے ہر شمارے میں جنات کے انسانی زندگی پر اثرات اور ان کی وجہ سے ہونے والی مشکلات کا تذکرہ ہوتا ہے اس قسم کے واقعات کو سطحی علم رکھنے والے لوگ اپنی عقل کی ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہوئےجھوٹے افسانے قرار دیتے ہیں جبکہ قرآن سنت میں جابجاان کی اس کارستانی کا تذکرہ ہےاحادیث مبارکہ کے چند واقعات پڑھیےاور اپنی عقل پر ماتم کیجئے۔۔۔۔! بچے کی پیدائش کے وقت جنات کا حملہ انسانی دشمنی جنات کے رگ و ریشے میں اس طرح پیوست ہوچکی ہے کہ وہ ہر انسان پر اس کی پیدائش کے وقت بھی حملہ آور ہوجاتا ہے جوکہ ابھی بولنے چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے۔ آپ ﷺ نےفرمایا کہ جب بچہ پید اہوتے تو شیطان اس کے دونوں پہلوئوں پر اپنی دونوں انگلیاں چبھوتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم کے وہ ان کو چبھونے کیلئے آیامگر( اللہ تعالیٰ نے آگے پردہ کردیا اس لیے )انگلیاں پردے میں چبھیں (بخاری) اور دوسری روایت میں ہے کہ شیطان کے انگلی چبھونے کی وجہ سے بچہ چیخ مارتا ہے۔ (فتح الباری ) جب پیدا ہوتے ہیں جنات ہمارے پیچھے پڑ جاتےہیں تو زندگی کے کون سے لمحہ میں سکھ کا سانس لینےدیتےہوں اسی لیے عبقری کا مشن یہ ہے زیادہ سے زیادہ ان کی کارستانیوں کو بیان کیاجائے اور ان سے بچنے کیلئے اللہ کے نام کا سہارا لیا جائے ۔

کہیں جنات آپ کےدل پر قبضہ نہ کرلیں !

جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوںکیلئےپہلی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ انسان کی پیدائش سے ہی جنات ہمارے پیچھے لگ جاتے ہیں تو بڑا ہونےکے بعد وہ ہمیں کیوں معاف کریں گے۔۔۔۔! ماہنامہ عبقری میں جو جنات سے بچنےکیلئے جومسنون و اولیائے کرامؒ سے منقول وظائف دیئے جاتے ہیں آ ج میں آپ دوستوں کو حدیث مبارکہ کی روشنی میں اس کی وجہ بتا تا ہوں ۔۔۔۔! حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شیطان نے اپنی سونڈھ انسان کے دل پر رکھی ہوتی ہے ۔ جب وہ اللہ کا زکر کرتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب وہ اللہ کو بھو ل جاتا ہے تو یہ اس کے دل کو لقمہ بنا لیتا ہے (تلبیس ابلیس 126 احیاء العلوم الدین،مصنف امام غزالی ۔ الدر المنثور ۔ شعب الایمان) یاد رکھیں ! ماہنامہ عبقری کا ہرواقعہ قرآن وسنت اکابرین امت کی تعلیمات کا ترجمان ہے ۔

جی ہاں ! جنات آپ کے خون میں بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔۔۔!

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔ اور مجھے یہ اندیشہ ہےکہ وہ ان کے دلوں میں کوئی چیز نہ ڈال دے ۔ ماہنامہ عبقری کا دعویٰ صرف یہی نہیں کہ وہ انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے بلکہ وہ جنات تو قدم قدم پر انسان کو بہکانے ، ایمان سے پھسلانے ، کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں کو شش کرتے رہتے ہیں آئندہ اقساط میں عبقری کے اس دعویٰ کو دلائل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔! جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئےدوسری دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات انسانی دل پر بھی قبضہ کرلیتا ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہ خبیث جنات تو آپ کے خون کےساتھ پورے جسم میں گردش کرتا رہتا ہے ’’مسند احمد ، بخاری شریف اور ابن ماجہ کی روایات عبقری میں ذکر کردہ اس جناتی حملے کاماخذ اور بنیاد ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔ اور مجھے یہ اندیشہ ہےکہ وہ ان کے دلوں میں کوئی چیز نہ ڈال دے ۔ ماہنامہ عبقری کا دعویٰ صرف یہی نہیں کہ وہ انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے بلکہ وہ جنات تو قدم قدم پر انسان کو بہکانے ، ایمان سے پھسلانے ، کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں کو شش کرتے رہتے ہیں آئندہ اقساط میں عبقری کے اس دعویٰ کو دلائل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025