مدرسہ کبیر والا میں علامہ لاہوتی صاحب کی طرح جنات کا دوست

علامہ لاہوتی صاحب سے’’ جنات ‘‘کی ملاقاتوںکی کہانی کوئی نئی نہیں بلکہ ہر دور میں بیش بہاایسی شخصیات گزری ہیں جنکا اوڑ نا بچھونا جنات کے ساتھ تھا آئیے ایک ایسے ہی’’ جنات‘‘ کے پیدائشی دوست سےسفیر ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کی زبانی ملتے ہیں وہ مولانا محمدیوسف بہاولپوری صاحب ؒ کےبارے میں لکھتےہیں کہ مولانا موصوف دارالعلوم کبیر والا کے فاضل اور ہمارے استا دجی حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کےچہیتے شاگردوں میں سے تھے۔ دارالعلوم کبیر والا کےزمانہ طالب علمی میں ’’یوسف جن ‘‘ کےنا سےمشہور تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا کرتا اتار کرسونے کاپروگرام بنارہے تھےکہ کسی طالب علم نے دیکھ کر کہا کہ’’ جنوں‘‘ سے دوستی ہے اوربنیا ن پھٹی پڑی ہوئی ہے ۔ چند منٹوں کے بعد گلے میں نئی بنیان تھی۔ دارالعلوم کبیر والا کے بانی مولانا عبدالخالق ؒ (جو امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کےمایہ ناز شاگردوں میں سے تھے )انھوں نے مولانا محمد یوسف ؒ کو طلب فرمایا ، کچھ پڑھ کردم کیاتو’’ جن‘‘ حاضر ہوگیا ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بنیان کہاں سےلائےہو؟تو وہ جن کہنے لگاکہ ملتان چوک گھنٹہ گھر سے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کےپیسےبھی دیئے یا چوری کرکےلائے ہو؟ تو ’’جن ‘‘کہنے لگاکہ پیسے نہیں دیئے ۔ حضرت والا نے’’ جن ‘‘کو ڈانٹااور فرمایا کہ بنیان واپس رکھ کر آئو، چنانچہ بنیان واپس چلی گئی ۔ (ہفت روزہ ختم نبوۃج38، 15 تا22محرم الحرام ھ مطابق16 تا22 ستمبر2019ء ،شمارہ )
خبردار! جنات آپ کی گھا ت میں ہیں ۔۔۔!

جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوںکیلئےتیسری دلیل میں آپ نے پڑھا کہ خبیث جنات تو انسان کے خون کےساتھ پورے جسم میں گردش کرتا رہتا ہےآج آپ پڑھیں گے کہ جنات کی بھر پور کوشش یہ ہے کہ وہ آپ کو مومنین کی جماعت سے علیحدہ کردے۔ ماہنامہ عبقری میں ذکرکردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ترمذی اور مسند احمد کی وہ دلیل ہے جس میں حضرت اسامۃ بن شریک فرماتےہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ (1)’’اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت (مومنین )کےساتھ ہے ۔ جب کوئی شخص ان میں سے اکیلا نکلتا ہے تو شیاطین اسے اسی طرح اچک لیتے ہیں جس طرح بھڑیا ریوڑ کی بکری کو اچک لیتا ہے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطا ب ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایاجو شخص جنت کے درمیان میں گھر چاہتا ہے وہ جماعت کو لاز م پکڑے رکھے کیونکہ شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ ہوتا اور وہ دو آدمیوں سے بہت دور ہوتا ہے عبقری میں ذکر کردہ جنات کے انسانوں پرحملوں کے یہ تو بھی چند حوالہ جات ہیں ’’اکابر پر اعتماد ‘‘کے دوستوں کے استفادہ کیلئے ابھی حیرت انگیز مستند حوالہ جات آئندہ اقساط میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔!
جنات کے نظر آنے میں دار العلوم کا فتویٰ

پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی لکھتے ہیں کہ : دارالعلوم کے اول شیخ الحدیث حضرت مولانا سید احمد حسن امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک طالب علم جنات سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات لے کر حاضر ہوا تو آپ نے میرے سوالوں کے جواب میں فرمایا کہ: نامور فقیہ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ان کے شاگر د علامہ جندی ” پڑھنے کیلئے مسجد پہنچے تو دیکھا کہ استاد محترم کچھ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں مصروف ہیں ۔ لہذا وہ خاموشی سے ایک طرف رک گئے ۔ فرمانے لگے کہ جب مجھے باتوں کی آواز آنا ختم ہو گئی تو میں ذرا سا کھانسا ، تا کہ استاد محترم متوجہ ہو جائیں ۔ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے کھانسنے کی آواز سن کر پوچھا: کون ؟ تو میں نے عرض کی کہ میں ہوں۔ آپ نے اندر آنے کی اجازت عنایت فرمائی لیکن میں نے اندر جا کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ میں نے عرض کی: حضور ! ابھی ابھی تو میں آپ کے پاس کئی لوگوں کی آواز میں سن رہا تھا مگر اب یہاں کوئی بھی موجود نہیں ؟ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: وہ ہمارے جن بھائی تھے جو مجھ سے مختلف مسائل دریافت کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے. (بحوالہ کتاب: دار العلوم کے اول شیخ الحدیث کے احوال و آثار صفحہ ۱۵۵ مصنف: پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی، ناشر: مکتبہ رشید یہ کراچی) دینی مدارس میں عمران سیریز کی جھوٹی کہانیوں کا رواج محترم قارئین ! درج بالا واقعے میں عبقری میگزین میں بیان کردہ حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ کے جناتی واقعات جیسی ہی باتیں ہیں کہ سب کی موجودگی میں صرف ایک شخص کو جنات نظر آئیں مگر ان کے علاوہ کسی کو نظر نہ آئیں ۔ کیا اب عقل پرست لوگ اس واقعے کو بھی دیو مالائی کہانی یا من گھڑت قصے کہیں گے؟ حالانکہ دار العلوم کے شیخ الحدیث کی علمی عظمت اور وقار سب کے سامنے ہے۔ کیا وہ بھی دارالعلوم جیسے عظیم مدرسے میں بیٹھ کر عمران سیریز کی خود ساختہ کہانیاں بیان کرتے تھے؟
جنات کا استاد بننے پر مولانا محمد قاسم نانوتوی کی طرف سےمبارکباد

قارئین ! عبقری میگزین میں جنات کے واقعات شائع ہونے پر کچھ لوگوں کی طبیعت میں گرانی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ ہمارے اکابر واسلاف کا یہ مزاج تھا کہ جنات سے تعلقات کو مبارک خیال کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ دارالعلوم کے اولین شیخ الحدیث سید احمد حسن امروہوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق ان کے پوتے مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی لکھتے ہیں : میرے دادا حضرت مولانا سید احمد حسن امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق امروہہ شہر میں یہ بات عام طور پر مشہور تھی کہ جب وہ درس حدیث ارشاد فرماتے تو اس میں جنات بھی شریک ہوتے تھے۔ اس بات کی تصدیق میرے والد مولانا حافظ سید محمد رضوی اور خود میرے دادا مولانا سید احمد حسن رحمہما اللہ کی ہے۔ چنانچہ جب میرے دادا نے اپنے استاد قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مبارک ہو میر احمد حسن ! تمہارے درس میں جنات شریک ہوتے ہیں۔ لہذا علمائے دیوبند میں میرے دادا کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ ان کے درس حدیث میں جنات بھی شریک ہوتے تھے. (بحوالہ کتاب: شیخ الحدیث اول دار العلوم ، سید العلماء حضرت مولانا احمد حسن محدث امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے احوال و آثار ، صفحہ 386 ناشر : مکتبہ رشید یه نزد مقدس مسجد اردو بازار، کراچی) قارئین ! درج بالا واقعے پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جنات سے ملاقاتیں اور تعلقات ایسی لازوال حقیقت ہے ، جس کا تذکرہ سامنے آتے ہی بڑے بڑے اکابر علماء سر تسلیم خم کر دیتے تھے مگر افسوس ! آج ہم قرآن و سنت اور اپنے اکابر کی ترتیب سے اتنا دور ہو گئے کہ خود صراط مستقیم پر چلنے والوں ہی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
عرب میں وہ کون سا آدمی ہے جو جادو کے ذریعے لوگوں کو غلام بنا لیتا تھا؟

دار العلوم رانڈیا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب لکھتے ہیں : عرب کے شہر تریم میں ایک پردیسی عامل آیا جو جنات سے کام لیا کرتا تھا۔ جو لوگ اس کی باتون کو اہمیت نہ دیتے وہ انہیں اپنے جنات کے ذریعے تکلیف پہنچایا کرتا۔ اس لیے دنیا دار لوگ اس کے ہاں آنے جانے لگے۔ مدینہ منورہ میں حضرت سید علوی رحمتہ اللہ علیہ نامی ایک بزرگ تھے جن کی شہرت کا چرچہ کالے جادو گر تک پہنچا تو اس نے انہیں اپنے ہاں طلب کرنے کے سو جتن کیے مگر ناکام رہا۔ ایک دن اس نے کئی لوگوں کی موجودگی میں حضرت شیخ کو برا بھلا کہا ، تو اس مجلس میں موجود ایک شخص عیسی بن حرم نے اٹھ کر اس جادوگر کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور کہا: ہم جن کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کر سکتے ، تجھ جیسا خبیث آدمی ان کو گالی دیتا ہے؟ چنانچہ بعد میں عیسی بن حرم کو خوف محسوس ہوا کہ میں نے جو کالے جادوگر کو تھپڑ مارا ہے، کہیں اس کا بدلہ وہ جنات کے ذریعے نہ لے۔ لہذا وہ حضرت شیخ سید علوی کی خدمت میں مدینہ منورہ جا پہنچا، جو اس وقت مسجد نبوی شریف میں نوافل ادا کر رہے تھے۔ اس نے ساری بات ان کے گوش گزار کی تو انہوں نے فرمایا: ان شاء اللہ وہ جادو گر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ تم آزادی سے زندگی بسر کرو لیکن عیسی بن حرم کا دل مطمئن نہ ہوا تو اس کے دل کا خوف بھانپتے ہوئے شیخ علوی اٹھے اور ایک دروازے کی طرف گئے ۔ اسے ہلایا تو وہاں سے پرندے جیسی ا ایک آواز آئی۔ پھر دوسرے دروازے کی طرف گئے، وہاں سے بھی یہی آواز آئی۔ واپس آکر فرمانے لگے : وہ جادو گر اپنے دو جنات کے ذریعے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا تھا، میں نے انہیں قتل کر دیا ہے۔ لہذا اب مطمئن ہو جاؤ۔ یہ سن کر عیسی بن عمر کا دل خوش ہو گیا اور اس نے باقی لوگوں کو بھی جا کر یہ واقعہ سنایا۔ کالے جادوگر کو جب اپنے جنات کی ہلاکت کا پتہ چلا تو وہ شہر چھوڑ کر ہی بھاگ گیا. ( بحوالہ کتاب : مبارک تذکرے ، صفحہ 170 ناشر محبوب بک ڈپو، یوپی انڈیا )
حضرت بہلوی اپنے مہمان کو جنات کے ذریعے بلواتے

قارئین ! عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے واقعات اگر خود ساختہ اور من گھڑت کہانیاں ہیں تو پھر ہمارے اکابر و اسلاف کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کیا تھے؟ حضرت مفتی حسین احمد بہلوی مدظله ( خانقاہ پہلو یہ نقشبندیہ مجددیہ ، شجاع آباد) فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد اللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ جب بستی بہلی شریف میں موجود تھے، اس وقت وہاں زیادہ سواریاں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ لوگ زیادہ تر پیدل ہی آیا جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضرت کے عقیدت مند ایک اللہ والے آندھی اور بارش کے باوجود پیدل سفر کرتے ہوئے خانقاہ کی طرف جارہے تھے۔ راستہ بھی کچا تھا۔ اچانک ایک مخلوق (جنات) سامنے آگئی تو وہ ڈر گئے اس مخلوق نے کہا: ڈرو نہیں ! ہم حضرت بہلوی کے خادم ہیں اور آپ کو لینے آئے ہیں ، آئیں ہمارے ساتھ چلیں ( قارئین ! غور فرمائیں! یہ کیفیت بالکل وہی کی وہی ہے جو عبقری کے ہر دلعزیز کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” میں بیان کی جاتی ہے ) وہ صاحب بعد میں بتانے لگے کہ جب میں ان کے ساتھ جارہا تھا تو مجھ پر بارش اور آندھی کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ جب خانقاہ میں پہنچا تو حضرت بہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسجد کے صحن میں موجود تھے اور اپنے ہاتھ مبارک میں گڑ لیے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے: سردی ہے یہ کھالو، میرے فقیروں نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا ؟ پھر حکم فرمایا کہ جا کر سو جاؤ اور خود نماز تہجد میں مشغول ہو گئے۔ بندہ (مفتی حسین احمد بہلوی ) نے یہ واقعہ مسجد نبوی شریف میں ایک بزرگ سے سنا اور حضرت والد ماجد مدظلہ سے بھی یہی واقعہ کئی مرتبہ سن چکا ہوں (منجانب: شعبہ نشر و اشاعت خانقاه بہلو یہ نقشبندیہ مجددیہ، شجاع آباد )
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے 7 خوش نصیب جنات

عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے متعلق واقعات کا ہمارے اکابر کی زندگی میں کیا ثبوت ہے، آئیے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج ایک اور واقعہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب (سابق مدرس دار العلوم ، انڈیا) لکھتے ہیں کہ شیخ ابوالفضل جو ہری رحمتہ اللہ علیہ مصر کے بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ ایک شخص ان کی شہرت کا چرچہ سن کر ان کی خدمت میں حاضر ہو تو ان کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگا: دنیاوی شان وشوکت رکھنے والا شخص اللہ کا ولی کیسے ہوسکتا ہے؟ اور مایوس ہوکر واپس چل پڑا۔ راستے میں ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا تو ازراہِ ہمدردی اس سے رونے کی وجہ پوچھی۔ کہنے لگی : بیٹا میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی ہے ، جس کی دو دن کے بعد شادی ہے، مگر اس پر کوئی ظالم جن مسلط ہو گیا ہے۔ سوچتی ہوں کہ بیٹی کو اس سے نجات کیسے ملے گی؟ ( قارئین ! اب جو لوگ عبقری میگزین میں ایسے واقعات پڑھ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بھلا انسانوں کو جنات کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ ان کیلئے یہ واقعہ ایک روشن مثال ہے ) بہر حال وہ شخص کچھ دم درود جانتا تھا تو کہنے لگا: اماں جی ! آپ پریشان نہ ہوں ، میں آپ کی بیٹی کا علاج کروں گا۔ چنانچہ جب وہ اس عورت کے ساتھ گھر پہنچا تو اس کی بیٹی عجیب و غریب حرکتیں کر رہی تھی۔ اس شخص نے اس پر دم کیا تو جن حاضر ہو گیا اور کہنے لگا: میں ان 7 جنات میں سے ہوں جنہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آج ہم ساتوں جنات حضرت شیخ ابوالفضل” کے پیچھے نماز پڑھنے حاضر ہوئے ہیں، جن سے تم بدگمان ہو کر واپس جارہے ہو۔ ہم جب یہاں سے گزر رہے تھے تو اس لڑکی نے گندگی پھینکی جو مجھ پر گری اور میں گندگی میں لتھڑ گیا۔ میرے باقی 6 ساتھی تو نماز میں شریک ہونے چلے گئے مگر میں محروم رہ گیا، اس لیے مجھے اس پر غصہ آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ اب مجھے تم پر بھی غصہ ہے کہ تم اس ولی اللہ کے بارے بدگمانی کرتے ہو؟ جن کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے ہم اتنی دور سے آئے ہیں؟ وہ شخص کہنے لگا: میں تو بہ کرتا ہوں کہ آئندہ ان کے متعلق دل میں برا خیال نہیں لاؤں گا مگر تم بھی اس لڑکی پر شفقت کرتے ہوئے اسے معاف کردو۔ چنانچہ وہ جن چلا گیا اور لڑ کی صحت یاب ہوگئی ۔ پس جب وہ شخص حضرت ابوالفضل رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں واپس پہنچا تو انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا: سبحان اللہ تمہیں جب تک ایک جن سے گواہی نہ مل گئی ، ہمارے متعلق یقین ہی نہ آیا؟ (بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے ، صفحہ 178 ناشر: محبوب بک ڈپو، یوپی انڈیا)
علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کی طرف سے دعوت عام

قارئین! آج ہم آپ کو مولانا قمر عثمانی صاحب کی زبانی ایک ایسی ہستی کا واقعہ سناتے ہیں، جو اپنے وقت کے علامہ لاہوتی پراسراری تھے اور جنات کے ساتھ معاملات کیا کرتے تھے ۔ مولانا قمر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ منادی رحمتہ اللہ علیہ اپنے پیر ومرشد شیخ ولی العراقی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح جنات کو کھلے میدان میں پڑھایا کرتے تھے۔ وہ ایسی بارعب جگہ تھی ، جہاں کسی کو بھی جانے کی ہمت نہ پڑتی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شادی بھی قوم جنات ہی میں کروائی ہوئی تھی۔ چنانچہ ہر سال میں ایک مرتبہ جب اپنی فصل کاٹتے تو قوم جنات کیلئے مہمان نوازی کا انتظام فرماتے ۔ جس میں جنات کی بہت بڑی تعداد شریک ہوتی۔ یہ سارا انتظام اسی کھلے میدان کے پاس موجود ایک بڑے گھر میں ہوتا لیکن صبح ہونے پر وہاں کسی قسم کی دعوت کا کوئی نام ونشان نہ ملتا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر والے قوم جنات کے ساتھ آپ کی گفتگو اور ان کے سوال و جواب سنتے ۔ اہل خانہ میں سبھی حضرات ان باتوں سے واقف تھے. (بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے صفحہ 172 ناشر : محبوب بک ڈپو، اتر پردیش انڈیا )
جنات نے ایک بزرگ ہستی کی جان لے لی ۔۔۔۔!

دارالعلوم کے مایہ نازمدرس ، شیخ الہند کے شاگرد، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے خلیفہ حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحب ، جوکہ علمی دنیامیں باکمال ہونےکے ساتھ ساتھ ’’تعویذات اور عملیات ‘‘میں بے مثال ہستی تھے ،ہندو ومسلم بلاامتیاز آپ کے ’’تعویذات‘‘ سے فیض یاب ہوتے ،جناب احسان دانش صاحب آپ کے جنات کے ساتھ وابستگی کے واقعات کو کچھ اس اندا ز سے بیان کرتے ہیں جسے پڑھ کر آپ کو ’’ماہنامہ عبقری میںعلامہ لاہوتی صاحب ؒ کےبیان کردہ’’ جناتی‘‘ واقعات کی حقیقت واضح ہوجائےگی۔۔۔ جناب احسان دانش صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے معتبر حضرات سے سنا ہےکہ زندگی کے آخری ایام میں ایک صاحب حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحب کو گجرات سے راندیر لے گئے ، جہاں ان کی حویلی میں جنات نے قبضہ کرلیا تھا۔ میاںصاحب جب وہاںپہنچےتوان کےپاس ایک’’ جن‘‘ بصورت انسان آیا جس کےہاتھ میں بہت بڑا پنجرا تھا جس میں سیکڑوںنہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے جانور تھے ، اس نےکہامیاںصاحب ؒ، اس حویلی میں ہم اتنےرہتے ہیں آپ ہمیں یہاںسے نہ نکالیں ، لیکن میاں صاحب پہلے اس حویلی کے مالک سے وعدہ کرچکےتھے اس لیے انہوں نے اس’’ جن‘‘ سے اپنی معذرت ظاہر کردی ۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ میاں صاحب کی موت کا سبب یہی ’’جنات‘‘ بنے تھے (گجرات جاتے وقت بعض قریبی دوستوں سے میاں صاحب ؒاپنی موت کی طرف اشارہ کرگئے تھے)واللہ اعلم ۔ (بحوالہ کتاب جہان دگر ، مصنف جناب احسان دانش صاحب ، ص 271، ناشر خزینہ علم وادب لاہور) یادر کھیں ! ’’ماہنامہ عبقری جنات ‘‘کےواقعات کو بناتا نہیں بلکہ بتا تا ہے ۔۔۔جوکہ ہمارےاکابر ؒ کی کتابوں میں ہزاروں کی تعد اد میں بکھر ے پڑے ہیں۔۔۔۔!
حضرت شیخ التفسیر کی ناراضگی پر جنات کا پورا قبیلہ معافی مانگنے آگیا ہے

زمانے میں کہیں علوم و فنون کے ماہرین گزرے اور کہیں روحانیت و ولایت کے سرتاج لیکن ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو بیک وقت علم و عرفان، رموز قرآن و حدیث سے آگاہی کے ساتھ علم وفضل ، اخلاق و اخلاص، تقوی و پرہیز گاری میں بھی بے مثال تھی۔ ان کا اسم گرامی سید العارفین، امام المفسرین حجتہ اللہ فی الارض الشیخ مولانامحمد عبد اللہ بہلوی مجددی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔ آپ کے علم وفضل سے سے جہاں انسان سیراب ہوئے ، وہاں وہ مخلوق بھی بھر پور نفع اٹھاتی رہی جو عام انسانی نگاہوں سے اوجھل ہے اور اسے” جنات” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں جنات سے متعلق بے شمار واقعات رونما ہوتے رہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ایک مرتبہ بارشوں کے موسم میں بادلوں کی گہرائی نے آسمان کو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بدل دیا۔ پہلی شریف جو حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کا مسکن تھا ، وہاں کے لوگ ضرورت کی اشیاء خریدنے کیلئے قریبی قصبے غازی پور میں جاتے۔ اس وقت بھی انہیں دیا جلانے کیلئے تیل کی ضرورت تھی۔ موسم ناہموار، ہر طرف ویرانہ اور بادلوں کی کڑک ، رات کا وقت، پریشانی تھی کہ کس طرح تیل لا کر دیا جلایا جا سکے اور معمولات کا نقطل دور ہو۔ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے حکم دیا کہ کوئی ہمت کر کے قصبہ غازی پور جائے اور مٹی کا تیل لائے۔ یہ حکم فرما کر شیخ رحمہ اللہ علیہ تو گھر کی طرف چل پڑے لیکن ایک طالب علم اٹھا، لمحے بھر میں تیل کا پورا کنستر اٹھایا اور مدرسہ میں پہنچادیا۔ یہ طالب دراصل جناتی مخلوق میں سے تھا۔ جب اس بات کی اطلاع شیخ رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچی توضیح ” اسی وقت جلالی تمتماہٹ سے تشریف لائے اور فرمایا : تم نے عہد دیا تھا کہ تم کوئی ایسا کام نہیں کرو گے جس سے تمھاری اصلیت افشاں ہو جائے اور دیگر طالبان علم و معرفت خوف زدہ ہوں۔ تم نے عہد توڑ دیا ہے، لہذا اب مدرسے میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ بے چارہ بہت منت سماجت کرتا رہا اور حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کے مسلسل انکار پر جنات کے پورے قبیلے اور سردار کو لے آیا۔ چنانچہ معافی ملنے کے بعد مدرسہ کا داخلہ تو مل گیا، مگر اسے دیگر طلباء سے اوجھل کر دیا گیا ۔جس کا قلق اس کو ہمیشہ رہا۔ اسکے قبیلے کے تمام جنات شیخ بہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اورہمیشہ کیلئے دیگر طلباء وسالکین سے اوجھل رہنا کا پکا عہد دیا۔ (منجانب مفتی حسین احمد بہلوی مدظله شعبہ نشر و اشاعت خانقاہ پہلو یہ نقشبندیہ مجددیہ شجاع آباد)