دارالعلوم کے ایسے مفتی جن کا نام سنتے ہی جنات بھاگ جاتے تھے۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ’’ دم اور تعویذ‘‘بھی ایک مستند علاج ہےجسکا ثبوت صحابہ کرامؓ ، اہل بیت عظام ؓاوراولیائے کرام ؒکےبارہا مشاہدات سے ثابت ہے ۔ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک صاحب کی اہلیہ پر’’ جن‘‘ کا اثر تھا اور تقریباًپچیس سال سے تھا ۔ میں نے جانچ کے لیے ایک ’’تعویذ‘‘ بھیجا اور کہا کہ مریضہ کو وضو کرا کر یہ’’ تعویذ‘‘ اس کے ہا تھ میں رکھ کر مٹھی بند کر دو۔ ایسا ہی کیا گیا ، اس پر وہ بولا کہ میں پچیس سال سے یہاں رہتا ہوں ،میرا نام ختم المرسلین ہے ،مجھے کچھ نہ کہنا ۔میں نے تین تعویذاور بھجوائے کہ ایک سر میں با ند ھ دو ،ایک بازو پر اورایک گلے میں ۔تو اس جن نے کہا کہ ہر گز نہیں ہرگز نہیں ،یہ’’ تعویذ‘‘ مت باندھنا میں نہیں جائو ںگا ۔مگر تعویز باندھ دیے گئے جس پر وہ’’ جن‘‘ بہت چلایا اورمریضہ بالکل مردہ کی طرح ہو گئ ،اس میں جان نہیں رہی ۔مجھ سے کہا گیاکہ وہ تو مر گئ ۔میں نے کہا کہ ابھی زندہ ہو جائے گی ۔ پانی دم کر کے بھیجا ،وہ اس پر ڈالا تو اٹھ کر بیٹھ گئ اور کہا کہ پچیس سال سے میرے پر کندھوں پر بھاری بوجھ رہتا تھا ،آج یہ ہلکے ہوئےہیں ۔ایک سال تک کوئی اثر نہیں ہوا ۔پورا ایک سال ہونے پر پھر آیا اور اپنا تعارف کرایا کہ میں وہی’’ جن‘‘ ہوں جو اب سے پہلے پچیس سال تک رہا تھا ۔ ان صاحب نے کہا کہ ابھی حضرت مفتی صاحب کو خط کے ذریعے مطلع کر رہا ہوں ۔بس اتنا سنتے ہی وہ ’’جن‘‘ چلا گیا ،پھر کبھی نہیں آیا ۔ (ملفوظات فقیہہ الامت قسط ۲/۱۰۱۔بحوالہ کتاب :اکابردیوبند کے واقعات و کرامات ،مصنف :حافظ مومن خان عثمانی ،ناشر:المیزان ،ص۴۴۳) ماہنامہ عبقری تو سو فیصد تعلیمات قرآن و حدیث کا ترجمان اور اکابرین امت کی سوچ کا علمبردار ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ جو لوگ تعویذات کو شرک کہتے ہیں وہ اس عمل کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ فَاعْتَبِـرُوْا يَآ اُولِى الْاَبْصَارِ

خبردار جنات کے خوابوں سے ہوشیار رہیں ۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پانچویں دلیل جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات کے سلسلہ کی چوتھی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جماعت سے ٹوٹنا بھی جنات کی وجہ سےہوتا ہے آج آپ پڑھیں گے کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنےکی کوشش کرتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری‘‘ میں ذکر کردہ اس دعوی کی دلیل حضرت انسؓ، حضرت ابوبکرہؓ،حضرت ام العلاءؓ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت ابوموسیٰؓ، حضرت جابرؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ، حضرت ابن عباسؓ اورحضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سےمنقول روایات ہیں ان میں سےایک روایت پیش خدمت ہے : حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان (جنات)کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے، آپﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی (جمے رہنا) ہے“، آپﷺ فرمایا کرتے تھے: ”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے“، آپ ﷺفرمایا کرتے تھے: ”خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملے کےمستند حوالہ جات ’’اکابر پرا عتماد‘‘ کے دوست آئندہ اقساط میں ملاحظہ فرمائیں ۔

گھر جانے سے پہلے دیکھ لیں جنات تو آپ کےساتھ نہیں چمٹ گئے۔۔۔!

جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات کے سلسلہ کی پانچویںدلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنےکی کوشش کرتے ہیں کہ آج آپ پڑھیں گے کہ جب بھی آپ گھر جاتے اور کھانا کھاتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس دعویٰ کی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا نا م لیتا ہے تو شیطان (جنات ساتھی جناتوں سے)کہتا ہے ,کہ تمہارے لئے یہاں شب بسر کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ کھانا ہےاور جب گھر میں داخل ہوتے وقت آدمی اللہ کا نام نہیں لیتاتو شیطان (جن اپنے ساتھی جناتوں سے )کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنےکی جگہ پالی , اور جب کھانا کھاتے ہوئے بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان(جن) کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے اور کھانا کھانے کی جگہ پالی ۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوںکے انسانوں پر حملوں کےمستند حوالہ جات ’’اکابر پرا عتماد‘‘ کے دوست اگلی ملاحظہ فرمائیں ۔

اسکول پر جنات کا حملہ والدین محتاط ہوجائیں۔۔۔!

ماہنامہ عبقری میںذکر کردہ جناتی واقعات کو من گھڑت کہانیاں کہنے والے دور حاضر میں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بننے والے ان واقعات کو کیا کہیں گے ۔۔۔! عمان(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے جن بھوتوں اور چڑیلوں کے انسانوں پر حملوں کے قصے کہانیاں اور افسانے تو بہت پڑھ اور سن رکھے ہوں گے مگر اس کی حقیقت اردن کے ان طالب علموں سے پوچھی جائے جنہوں نے عملی طور پر نہ صرف جنوں کو دیکھا بلکہ ان کے حملے کا شکار ہو کر زخمی بھی ہوئے۔ اردن کے واقع لڑکیوں کے ایک اسکول میں اس وقت کہرام مچ گیا جب جنوں کے ایک شیطانی گروہ نے اچانک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 4 طالبات زخمی ہو گئیں۔ اس حملے کے بعد بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسکول پر شیطان جنوں کا قبضہ ہے کیونکہ اسکول کے ارد گرد آسیب زدہ درخت موجود ہیں اور عموماً ایسی عمارتیں بھی جنات اور شیاطین سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک دفعہ اردن ہی کے ایک اسکول میں جنوں نے حملہ کر دیا تھا جس میں ایک خاتون ٹیچر اور 17 طالبات نے بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئیں تھیں۔ (ایکسپریس نیوز ہفتہ 8 نومبر 2014) اللہ کریم کے فضل و کرم سے عبقری کی کو شش یہی ہے کہ انسانیت زیادہ سے زیادہ جناتی حملوں سے مسنون اعمال کے ذریعے بچنے والی بن جائے ۔۔۔!

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی” کو ڈرانے والا جن

حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں : رات کا پچھلا پہرتھا ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ اچانک انہیں مسجد کے ستون پر کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسی دوران ایک بڑا سانپ ان کے سامنے پھن لہرانے لگا۔ انہوں نے بلاکسی خوف کے سانپ کو ہاتھ سے ہٹا دیا اور سجدے میں چلے گئے۔ پھر جب التحیات میں بیٹھے تو سانپ ان کی ران سے ہوتا ہوا گردن سے لپٹ گیا۔ مگر جب انہوں نے سلام پھیرا تو سانپ وہاں موجود ہی نہ ۔تھا اگلے دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو ایک اور انوکھا واقعہ پیش آیا۔ وہ مسجد کے ایک قریبی میدان سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایسا شخص نظر آیا، جس کی آنکھیں بلی سے ملتی جلتی تھیں۔ البتہ غیر معمولی طور پر اس کا قد بہت لمبا تھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ یہ واقعی کوئی جن ہے۔ چنانچہ وہ شخص کہنے لگا: میں سچ سچ ایک جن ہوں، کل آپ نے مجھے سانپ کے روپ میں دیکھا تھا۔ میں نے آج تک متعدد بزرگ کو آزمایا مگر آپ کی طرح کوئی بھی ثابت قدم نہ نکلا۔ کچھ بزرگ تو مجھے دیکھ کر سخت گھبرا گئے اور بعض دلی طور پر خوف زدہ ہوئے ، مگر آپ واحد ہستی ہیں، جن کا ظاہر و باطن ایک جیسا رہا۔ اس کے بعد اس جن نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ سے درخواست کی کہ مجھے توبہ کرا دیں تو انہوں نے اس کی بات مانتے ہوئے توبہ کر ادی. (بحوالہ کتاب: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بحیثیت پیران پیر، صفحہ نمبر216 ناشر: محبوب بک ڈپو، اتر پردیش انڈیا )

ایسا پہلوان ، جس کے ہاتھ کتے جیسے تھے

محترم قارئین! آج کچھ لوگ جنات کے وجود میں شک اور انسانی زندگی پر جنات کے اثرات کا انکار کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ہمارے پیج ” اکابر پر اعتماد” میں ایسے درجنوں اکابرین امت سے ثبوت پیش کیا جا چکا ہے کہ انسانی زندگی میں جہاں دیگر مخلوقات بیکٹیریا، وائرس ، حشرات الارض ، ہوا، پانی ، موسم اور فرشتے وغیرہ) اثر انداز ہوتے ہیں، وہاں جنات کا بھی سو فیصد عمل دخل ہوتا ہے۔ ذیل میں ایک جلیل القدر محدث اور ایک عظیم صحابی رسول صلى الله عليه وسلم کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ مولا نا مفتی محمد صاحب میرٹھی نے لکھا ہے: حضرت یزید رقاشی فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان مارز نی جب تہجد کیلئے کھڑے ہوتے تو ان کے ساتھ ان کے گھر میں رہنے والے جنات بھی کھڑے ہوتے تھے۔ وہ ان کے ساتھ نماز پڑھتے اور قرآن سنتے ۔ لوگوں نے سوال کیا کہ آپ کو کیسے خبر ہوئی ؟ کہنے لگے کہ ایک دن حضرت صفوان نے ایک شور سنا ، جس سے انہیں گھبراہٹ ہوئی ۔ پس ان کو آواز آئی کہ اے صفوان ! ڈ رو مت ، ہم تو تیرے جن بھائی ہیں۔ تیرے ساتھ اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد اس حرکت سے وہ مانوسn ہو گئے اور ان کی گھبراہٹ جاتی رہی ( بحوالہ کتاب: جنات کے حالات و احکام) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کسی جن کے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: آپ مجھ سے کشتی لڑیں گے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کشتی میں پچھاڑ دیا اور فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں بہت کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے ہاتھ کتے جیسے ہیں۔ کیا تم جنات میں سے ہو؟ جن بولا : ہاں۔۔ لیکن کیا آپ رضی اللہ عنہ آیۃ الکرسی پڑھتے ہیں؟ جو شخص بھی گھر میں داخل ہوتے وقت آیتہ الکرسی پڑھ لے تو شیطان وہاں سے گدھے کی طرح گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے. ( بحوالہ کتاب: مصائب الانسان من مكائد الشيطان صفحه 142 مصنف: شیخ ابن مفلح )

ارے ! تم سب کے سروں پر مٹی پڑی ہوئی ہے

ہمارے اکابر و اسلاف کا یہ معمول تھا کہ وہ قرآن وحدیث سے مسائل کا استنباط کر کے مخلوق خدا کی خیر خواہی کے لیے وظائف اخذ کرتے تھے۔ مثلاً قرآن مجید کی سورۃ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھے تو اسی وقت استنباط کرتے ہوئے سوچا کہ جو رب اس با عصمت خاتون کو بے موسم پھل دے سکتا ہے، کیا وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد نہیں دے سکتا ؟ لہذا اسی وقت دعا مانگنے پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں صالح بیٹا مل گیا۔ ماہنامہ عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے مضمون میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں، جن میں وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر دور دراز کا سفر فرماتے ہیں۔ اس پر کچھ لوگ اپنے اکابر واسلاف کی ترتیب زندگی سے غفلت کی بناء پر کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی کو نظر ہی نہ آئیں؟ حالانکہ جب ہم صحیح احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہجرت مدینہ کا واقعہ سامنے آتا ہے کہ جب حضور سرور کونین صلی السلام نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی الہ السلام کے گھر کے باہر مشرکین کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ لیکن آپ صلى الله عليه وسلم سورہ یاسین اور خاص طور پر یہ آیت ( وَجَعَلْنَا مِن بَين أَيْدِيهِم سَدًّا وَمِن خَلْفِهِم سَدًّا فَأَعْشَينُهُم فَهُم لَا يُبْصِرُونَ) پڑھتے ہوئے پہرہ دینے والے مشرکین کے سروں پر خاک ڈال کر تشریف لے گئے اور کسی کو نظر بھی نہ آئے ۔ بعد میں کسی نے کہا کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم تو ابھی ابھی تمہارے سروں پر مٹی ڈال کر یہاں سے رخصت ہوئے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا تو واقعی ان سب کے سر خاک آلود تھے۔ اسی واقعے سے استنباط کرتے ہوئے ہمارے اکابر نے خطرے کی حالت میں حجاب الابصار کا عمل اپنے معمولات میں شامل رکھا اور انہی اکابر واسلاف کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بوقت ضرورت اس عمل کو مخصوص تعداد اور مخصوص طریقے کے ذریعے اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔

بات ابھی دل میں ہی تھی کہ درویش چل پڑا

محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی کشفی کیفیات سمجھ سے بالا تر ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کائنات صرف ہماری محدود عقل کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہوئی ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اکابر واسلاف ” میں حضرت علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم جیسا کشف کس کس کو حاصل تھا؟ شیخ الحدیث مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : مشہور عارف باللہ شیخ عبد اللہ دینوری نے فرمایا: ایک دن میرے پاس ایک خستہ حال درویش آکر بیٹھ گیا۔ میں نے دل ہی دل میں ارادہ کیا کہ اپنے جوتے کسی کے پاس رہن رکھ کر اس درویش کے کھانے کی کوئی چیز لے آؤں، لیکن پھر دل میں خیال آیا کہ ننگے پاؤں رہ کر صفائی کس طرح برقرار رکھ سکو گے؟ پھر سوچا کہ اپنی چادر گروی رکھ دوں، لیکن خیال آیا کہ پھر ننگے سر رہ جاؤ گے۔ ابھی اسی تردد میں تھا کہ وہ درویش اٹھ کر چل پڑا اور کہنے لگا: اسے کم ہمت ! اپنی چادر اپنے پاس ہی رکھ! میں جارہا ہوں ۔ مولانا محمد موسیٰ خان روحانی بازی مزید لکھتے ہیں : معلوم ہوتا ہے کہ وہ درویش صاحب کشف و الہام تھے ، اسی لیے انہیں شیخ عبداللہ دینوری کے قلبی ارادوں کا کشف ہو گیا ( بحوالہ کتاب: رزق اولیاء کے غیبی اسباب ، صفحہ 134 ناشر : ادارہ تصنیف وادب ، جامعہ محمد موسیٰ روحانی البازی ، نزداجتماع گاہ ، رائے ونڈ لاہور ) مولا نا حکیم محمد عبد اللہ صاحب ( بانی ادارہ مطبوعات سلیمانی ) فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں کسی شخص (بزرگ) سے ملنے کا خیال پیدا ہوا اور میں نے چاہا کہ ان کے پاس جا کر کچھ دن قیام کر کے فیض حاصل کروں۔ ابھی یہ بات میرے جی میں ہی تھی کہ میرے والد مولانا صوفی محمد سلیمان صاحب فرمانے لگے : ذرا سوچ سمجھ کر جانا، آج کل اللہ والے کم ہیں اور دکاندار یاں بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ وہ شخص واقعی دکاندار تھے (بحوالہ کتاب: بسوانح عمری، صفحہ 73 مصنف : مولانا احمد الدین حنیف، ناشر: محمدی اکیڈمی، محلہ تو حید گنج، منڈی بہاؤالدین) قارئین ! اگر آپ کے پاس اس جیسے مزید حوالہ جات ہوں، تو ہمیں ضرور بھیجیں۔ تا کہ جولوگ مخلوق خدا کے عقائد میں وساوس پیدا کر رہے ہیں، ان کی اصلاح کیلئے محنت اور دعا کی جاسکے۔

اولیاء کو علم لد نی کیسے حاصل ہوتا ہے؟

محترم قارئین ! بعض خاص الخاص اولیائے کرام کے دلوں پر انوارات الہیہ کا نزول ہر وقت ہوتا رہتا ہے، جس کی برکت سے ان پر کائنات کے ایسے علوم کھلتے ہیں ، جن تک عام انسان کی رسائی نہیں ہوتی۔ ماضی میں ایسے علوم کی حامل کئی ہستیاں گزری ہیں مثلا شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی ، حضرت پیر علی ہجویری ، شیخ عبد القادر جیلانی ، شاه نعمت الله المعروف شاہ مینا لکھنوی، حضرت سلطان باہو، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ اسماعیل شہید اور حضرت خواجہ سید محمد عبد اللہ مجذوب وغیرہ۔ ہم ان ہستیوں کی کتابوں میں ابھی تک کائنات کے سربستہ راز اور غیبی علوم بکھرے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں انہی لدنی اور وہبی علوم و اسرار کی حامل جلیل القدر ہستی حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ جن کا سلسلہ وار مضمون ” جنات کا پیدائشی دوست” کے عنوان سے ماہنامہ عبقری میں شائع ہوتا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر واسلاف کے ہاں ان غیبی علوم کی کیا حقیقت تھی ؟ حجتہ الاسلام حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : انسان کے علمی ذرائع تین ہیں محسوسات سے معلومات کا اخذ کرنا، یہ پہلا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں ان چیزوں کا علم ان معلومات سے حاصل کیا جاتا ہے، جو مجہول اور نا معلوم ہیں۔ اور تیسرا طریقہ وہ ہے جسے علم بالغیب کہتے ہیں، یعنی غیب سے یہ علم پایا جاتا ہے۔ غیب سے علم پانے کا جو طریقہ ہے، اس کے ذیل میں وحی تحدیث، تفهیم، ذوق ، معرفت ، علم لدنی ، مشاہدہ ، وجدان ، تجلیات ، کشف ، عالم مثال کے ساتھ اتصال وربط صوری تجلیات جیسی چیزیں داخل ہیں ۔ ذوق سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں، انہی کی تفصیل کا نام حکمت ہے اور معرفت کی راہ سے حاصل شدہ امور کی تفصیل کا نام فن حقائق ہے۔ جن اصطلاحات کا تذکرہ غیبی علوم کے سلسلے میں کیا گیا ہے ان کے معانی اور مطالب کا تذکرہ عنقریب آئندہ کیا جائے گا، ابھی اس کا انتظار کرو بعض دفعہ وحی کے سوا سارے علوم جو غیب سے حاصل کیے جاتے ہیں ، ان سب کی تعبیر کشف اور الہام سے لوگ کرتے ہیں۔ معصوم کے خبر دینے سے جو علم حاصل ہوتا ہے۔ یعنی عموماً جسے علوم نقلیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، دراصل علم کی یہ قسم نظریات ہی کے سلسلے میں داخل ہے۔ کیونکہ معلومات جو معصوم کے ذریعے سے حاصل ہوتے ہیں، ان پر اعتماد کرنے اور ان کو ماننے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ آدمی کی عقل اپنے اندر مقدمات کو گویا اس طریقے سے مرتب کرتی ہے۔ یعنی یوں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ ایسی بات ہے، جس کی خبر معصوم نے دی ہے. ( بحوالہ کتاب: العبقات صفحہ 7 ناشر: ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور )

ایک دن میں دس کتابیں پڑھنا اور سینکڑوں صفحات لکھنا کیسے ممکن ہے؟

ماہنامہ عبقری کے سر پرست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے کالم جنات کا پیدائشی دوست” میں یہ بات عام طور پر ملتی ہے کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں، یا چندلمحات میں لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ ان کے متعلق جولوگ ایسی باتوں کو صرف عقل کے معیار پر تولتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں ۔ اور کرامت تو کہتے ہی اُسے ہیں ، جو عام انسان کے بس سے باہر اور عقل سے ماوراء ہو ۔ جیسا کہ: امام ابن قیم علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ میں نے خود شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ( مکتبہ اہل حدیث ) کے کاموں میں عجیب و غریب برکت دیکھی ۔ آپ صرف ایک دن میں اتنی زیادہ تحریر کر لیتے تھے، جتنی ایک کا تب پورے ہفتے میں بھی نہیں کر سکتا۔ صرف تحریر و تصنیف میں ہی نہیں ، بلکہ آپ میدان جنگ میں بھی کامل تھے۔ چنانچہ تاتاریوں کے خلاف جہاد میں آپ نے وہ کمالات دکھائے ، کہ بڑے بڑے بہادروں کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں ( بحوالہ کتاب: ذکر الہی صفحہ 203 ناشر : دار السلفیہ، حفیظ الدین روڈ بمبئی نمبر 8) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ امام غزائی کی لکھی ہوئی کتابوں کو اگر ان کی پوری زندگی پر تقسیم کیا جائے ، تو روزانہ سولہ جز کی تصنیف بنتی ہے، جو کسی طرح سمجھ نہیں آتی ۔ اسی طرح امام عبدالوہاب شعرانی نے اپنی کتاب” الیواقیت والجواہر” کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کتب کے 300 باب ہیں اور یہ مکمل کتاب کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ہر باب کو لکھنے سے پہلے میں نے شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی کتاب ” فتوحات مکیہ” کا مکمل مطالعہ کیا ہے ۔ یعنی 300 باب لکھنے سے پہلے 300 مرتبہ فتوحات مکیہ کا مطالعہ کیا۔ پھر سب سے حیرت انگیز بات دیکھی کہ میں نے یہ کتاب صرف 30 دن کے اندر لکھی ہے۔ لہذا روزانہ فتوحات مکیہ کا مطالعہ بھی دس دفعہ بنتا ہے اور کتاب کے لکھے جانے والے باب بھی روزانہ دس بنتے ہیں. (بحوالہ کتاب: حضرت تھانوئی کے پسندیدہ واقعات، صفحہ 204 مرتب: مولانا ابوالسن اعظمی ، ناشر: مکتب مدنی، اردو بازار لاہور ) مولانا سید محمد ذاکر شاہ چشتی سیالوی ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ بن علی ایک دفعہ محرقہ نامی جگہ میں اپنے شاگرد عبد اللہ بن محمد کے ساتھ تھے۔ شاگرد نے کہا کہ ہم یہاں مغرب کی نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ ہم تو مغرب کی نماز تریم میں جا کر پڑھیں گے۔ حالانکہ محرقہ اور تریم کا فاصلہ 3 کوس کا تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچنا ناممکن تھا۔ چنانچہ آپ کے شاگرد نے کہا: ایسا ہونا تو بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا: ذرا اپنی آنکھیں بند کرو۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو فرمایا: اب کھول لو۔ جب دیکھا تو وہ تریم میں کھڑے تھے اور سورج ابھی ویسے کا ویسا تھا۔ (بحوالہ کتاب: جامع کرامات الاولیاء، صفحہ 235 ناشر : ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026