مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے بھائی جان کیلئے حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ کا تعویذ

قسط نمبر 72مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے بھائی جان کیلئے حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ کا تعویذاکابر پر اعتمادمیرے بھائی جان جناب محمد رحمت اللہ نے بچپن میں جب لکھنا سیکھا تو حضرت والد (مفتی محمد شفیع ) صاحب رحمت اللہ علیہ نے ان سے سب سے پہلا خط حضرت حکیم الامت ( مولانا اشرف علی تھانوی رحمت اللہ علیہ کے نام لکھوایا۔ حضرت نے اس خط ) کا جو جواب عنایت فرمایا وہ بھائی جان کیلئے ایک عظیم سعادت تھی ۔ حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ نے لکھا: برخوردار ! السلام علیکم : تمہارے حروف دیکھ کر دل خوش ہوا تمہاری علمی اور عملی ترقی کی دعا کرتا ہوں، خط (لکھائی ) ذرا مزید صاف کر لو اس سے تحریرپڑھنے والے کو راحت ہوتی ہے اور اس نیت سے ثواب بھی ملتا ہے۔ دیکھو! میں تمہیں بچپن سے ہی صوفی بنا رہا ہوں ۔ یہ تعویذ ( بھیج رہا ہوں ) دردسر کیلئے سر میں باندھ لو سب گھر والوں کو سلام و دعا ( فقط ) اشرف علی تھانوی رحمت اللہ علیہ )(بحوالہ کتاب: نقوش رفتگان صفحه ۴۶ مصنف: مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ، ناشر: مکتبه معارف القرآن کراچی نمبر ۱۴) محترم قارئین ! الحمدللہ میں اپنے اکابر و اسلاف پر فخر ہے جو تعویذات و عملیات کو اسباب ضعیفہ کہنے کی بجائے اپنی زندگی میں خاص اہمیت دیتے رہے حتی کہ چھوٹے سے مسئلے (سردرد) کیلئے بھی تعویذ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے شفاء طلب کرتے۔ موجودہ دور میں ہمارا پیغام بھی یہی ہے کہ انسان کو جو نہی کوئی ضرورت پیش آئے تو اپنے اکابر کی طرح سب سے پہلی نظر اللہ جل شانہ کی طرف اٹھے۔ اعمال سے بننے اعمال سے پلنے اور اعمال کے ذریعے پکنے کا یہی معنی ہے۔

صحیح بخاری کو وظیفے کی نیت سے پڑھنے والے محدثین

قسط نمبر 68صحیح بخاری کو وظیفے کی نیت سے پڑھنے والے محدثینمحترم قارئین ! ماہنامہ عبقری کے وظائف کے متعلق اکثر کہا جاتا ہے کہ کیا عبقری والوں پر اس وظیفے کے فوائد کی وحی نازل ہوئی تھی؟ ہم نے تو آج تک فلاں آیت کا فلاں کمال نہیں سنا تھا۔ ان سب حضرات کی خدمت میں احادیث کی مشہور کتاب ”صحیح بخاری کے متعلق جلیل القدر محدثین کے مشاہدات درج ہیں۔تمام پریشانیوں سے نجات: امام ابومحمد بن ابی حمزہ کا فرمان ہے کہ صحیح بخاری جس حادثے اور جس تکلیف کے خاتمے کیلئے بھی پڑھی جائے گئی بے شک وہ حادثہ اور وہ تکلیف ضرور ختم ہوگی (حوالہ کتاب : نیچے دی گئی امیج پر مو جود ہے قحط سالی سے نجات: عالم اسلام کے عظیم مفسر امام ابن کثیر فرماتے ہیں : بخاری شریف کو پڑھنے سے قحط سالی سے نجات ملتی ہے اور بارشوں کا نزول ہوتا ہے حوالہ کتاب : ایچے دی گئی امیج پر مو جود ہے) خمشکلات سے چھٹکارے کی چابی: استاذ المحدثین امام سخاوی رای علیہ فرماتے ہیں : مشکلات اور مصائب سے چھٹکارہ پانے کیلئے سلف صالحین سے ”صحیح بخاری“ کو ختم کرنے کے بکثرت واقعات ملتے ہیں (حوالہ کتاب نیچے دی گئی امیج پر مو جود ہے188)قضائے حاجات اور دفع بلیات: شیخ عبدالحق محدث دہلوی رایا یہ لکھتے ہیں : مشائخ دین رحمہم اللہ اجمعین سے صحیح بخاری کو دفع بلیات اور قضائے حاجات کیلئے پڑھنا ثابت ہے اور ان مقاصد میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی، حتی کہ بیماریوں سے صحت کیلئے بھی ثقہ علماء نے بخاری شریف کو پڑھا اور اپنے مقصود کو حاصل کیا (حوالہ کتاب : نیچے دی گئی امیج پر مو جود ہے )جنگ میں فتح کا پروانہ: شیخ تقی الدین ابن دقیق العید کے زمانے میں جب تاتاریوں کا حملہ ہوا تو شام کے حکمران نے انہیں پیغام بھیجا کہ مدر سے کے علماء سے بخاری شریف کا ختم کروائیں۔ چنانچہ ختم ہونے سے ایک روز پہلے ہی فتح ملی اور تا تاری فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔ والہ کتاب : نیچے دی گئی امیج پر مو جود ہے (301)محترم قارئین! کیا نعوذ باللہ عبقری والوں کی طرح ان تمام شیوخ الحدیث پر بھی وحی نازل ہوئی تھی کہ بخاری شریف میں یہ یہ فوائد ہیں۔ آج تک صحیح بخاری سے روایت لینا تو سب نے سنا تھا، مگر بخاری شریف سے مسائل حل کروانے کا عبقری طریقہ کس کی ایجاد ہے؟

مفتی محمد شفیع صاحب کے ایسے وظائف جن کا قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں

ماہنامہ عبقری کے وظائف اور روحانی عملیات پر اندھا دھند اعتراضات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے کہ اس میں خود ساختہ اور من گھڑت اعمال دیے جاتے ہیں۔ یہاں مفتی، حضرت مولانا محمد شفیع صاحب پیشیمیہ کے ایسے عملیات پیش کیے جارہے ہیں، جو ان کے یا اُن کے مشائخ عظام رحمہم اللہ کے تجربات سے تو ثابت ہیں، مگر ان وظائف کے بیان کردہ فوائد کا نہ قرآن میں کہیں ہے نہ ہی احادیث میں ۔ یہ وظائف سالہا سال سے سینکڑوں لوگوں کے معمولات میں ہیں، مگر ان وظائف پر آج تک کسی شخص نے نہ تو خود ساختہ ہونے کا اعتراض کیا نہ ہی من گھڑت ہونے کا فتویٰ لگا یا: حافظہ تیز کرنے کیلئے: 786مرتبہ بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھ کر پانی پر دم کریں اور طلوع آفتاب کے وقت پی جائیں، تو ذہن کھل جائے گا اور حافظہ قوی ہو جائے گا۔ اولاد کی حفاظت کیلئے: جس عورت کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں وہ 61 مرتبہ بسم اللہ الرحمان الرحیم لکھ کر تعویز بنا کے اپنے پاس رکھے ان شاء اللہ بچے محفوظ رہیں گے۔ کھیتی کی حفاظت کیلئے: 100 مرتبہ مکمل بسم اللہ لکھ کر کھیت میں دفن کر دیں تو کھیتی تمام آفات سے محفوظ رہے گی اور اس میں برکت ہو گی ان شاء اللہ ۔ (بحوالہ کتاب خزینۃ الاسرار صفحہ 32 مصنف: مولانا احد علی پنجگوری ناشر: کتب خانہ مجید یہ بوہر گیٹ ملتان) قارئین ! کیا ان اعمال کو بھی عبقری والے ترازو میں ہی تو لا جائے گا ؟؟؟

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا فرمان مجذوب کی دعااور بدعا سے ضرور بچیں ۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے حلقہ کشف المحجوب میں ایک بات فرماتے ہیں کہ مجاذیب اولیائے کرامؒ کی دُعائوں اور بدعائوں سے بچاکرو کیونکہ ان کی دعائیں زندگی کو سنوار بھی دیتی ہیں اور بدعائیں زندگی کو اجیرن بھی کردیتی ہیں اور دوسری بات یہ کے ان کی توجہات اگر مل جائیں تو زندگی بھر ساتھ رہتی ہیں۔ شیخ الوظائف کے اس فرمان کا ’’اکابرؒ‘‘کی زندگی سے حوالہ پیش خدمت ہے آئیے ’’اکابرؒ پر اعتماد‘‘ پیج کے ذریعے اس پیغام کو عام کرتے ہیں : حضرت حکیم الامت مجدددین وملت حضرت مولانا اشرف علی صاحب ؒ کا تاریخی نام کرم عظیم اور دادھیال کا مقرر کردہ نام عبدالغنی اور ننھیال کی طرف سے حافظ غلام مرتضیٰ صاحب مجذوبؒ کا تجویز کردہ نام اشرف علی ہے۔ آپ مجذوب ممدوح کی برکت دعا سے پیدا ہوئے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’یہ جو میں کبھی کبھی اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگتا ہوں ان ہی مجذوب صاحب کی روحانی توجہ کا اثر ہے جن کی دعا سے میں پیدا ہوا ہوں کیونکہ طبیعت مجذوبوں کی طرح آزاد ہے الجھی ہوئی باتوں کی متحمل نہیںہے۔ ( بحوالہ کتاب :اشرف السوانح، ج1، ص 17بحوالہ کتاب:دس اکابر دیوبند کا تذکرہ ص218،تالیف:ابوہشام عبدالباری، ناشر:فاروقی کتب خانہ اکوڑہ خٹک) تسبیـح خانہ ساری انسانیت کی خیر خواہی کا علمبردار ہے ۔

اللہ کے سچے مجذوب کسی حال میں ہوں ان پر انگلی نہ اٹھائیں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم ایک بات فرماتے ہیںکہ کہ اللہ کے سچے مجذوب کسی بھی حال میں ہوں ان پر اعتراض نہ کریں ، انگلی نہ اٹھائیں ، نکتہ چینی نہ کریں انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیں کیونکہ یہ مرفوع القلم ہوتے ہیں اور اللہ کی محبت میں فنا ہوچکے ہوتے ہیں ۔آپ کا یہ فرمان ہمارے بڑوں ہی کی تعلیمات کا نتیجہ ہے حوالہ پیش خدمت ہے: حضرت مولانا عبدالواحد صاحب مدظلہ خلیفہ مجاز حضرت مولانا شیخ حما د اللہ ہالیجوی ؒفرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی ننگے پائوں آیا۔ اس کے پائوں میں کیچڑ لگی ہوئی تھی اس نے مسجد میں داخل ہونے کے لئے جلدی جلدی پائوں دھویا، کچھ مٹی صاف ہوئی اور کچھ پائوں میںلگی رہ گئی۔ اسی حالت میں وہ حضرت صاحبؒ کے پاس آیا۔ حضرت صاحب مصلے پر تشریف فرما تھے، وہ دوسری طرف سے آیا اور حضرت کے قریب ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس کا وہ پائوں جس پر مٹی لگی ہوئی تھی، ٹھیک اس جگہ پڑا جہاں سجدے میں حضرت صاحب کی پیشانی پڑتی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت اُلجھن ہوئی۔ حضرت صاحب کے سامنے اسے ٹوکنا بے ادبی تھی۔ میں منتظر رہا کہ حضرت صاحب دوسری طرف متوجہ ہوں تو اسے تنبیہ کروں۔ حضرت صاحب نے دوسری طرف توجہ کی اور میں نے انگلی سے اس کو ایک ٹھوکا دیا، زبان سے کچھ نہ کہا، حضرت صاحب نے فوراً فرمایا ’’نہیں بیٹا کچھ نہ کہو،اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہے۔ (کتاب:تذکرۃ الشیخ ہالیجویؒ ص 164،تالیف:مولانا اعجاز احمد، ناشر:مکتبہ حمادیہ کراچی)

شیخ الوظائف بڑی عمر کے بزرگوں سے دعا کروانے کا کیوں فرماتے ہیں۔۔۔ وجہ جان لیں ۔۔۔!

شیخ الوظائف اپنے دروس میں ایک پیکیج بیان فرماتے ہیں کہ بوڑھے حضرات ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا احترام کریں اور انھیں اپنے لیے دعا کا عرض کریں آج آپ ’’اکابر ؒپر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئے اس کی وجہ عرض کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ مومن جب 40سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان فرما دیتے ہیں اور جب 60 سال کی عمر کو پہنچے تو اس کو اپنی طرف رجوع و انابت نصیب فرما دیتے ہیں اور 70سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو قائم فرما دیتے ہیں اور اس کی برائی کو مٹا دیتے ہیں اور جب 90سال کی عمر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتے ہیں اور اس کو اپنے اہل بیتؓ کے متعلق شفاعت کرنے کا حق دیدتے ہیں اور آسمان میں اس کے نام کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اسیر اللہ فی الارض ہے یعنی زمین میں اللہ کی طرف سے قید ی ہے ۔ ( تفسیر ابن کثیر عن ابی یعلیٰ و مسند احمد وغیرہ بحوالہ ماہنامہ القاسم زیر سرپرستی: مولانا عبد القیوم حقانی صاحب صفحہ نمبر 9نومبر 2020) آج کے دور میں بوڑھے حضرات کو کس نگاہ سے اور بے توجہی کےساتھ دیکھا جارہا ہے ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔ تسبیح خانہ کی کوشش یہی ہے کہ بڑوں کااحترام ہماری زندگی میں آجائے ۔۔۔!

اصحاب کہف کے ناموں کے(9)حیرت انگیز کرشمات

سالہاسال سے تسبیح خانہ لاہور میں اصحاب کہف کے ناموں کے اثرات اور برکات بیان کیے جارہے ہیں یہ تسبیح خانہ کے خو دساختہ نہیں بلکہ صدیوں سے اکابرین امت نے ان کے فوائد اور کمالات کو تسلیم کیا ہے ذیل میں چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ اعمال بناتانہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے : قطب عالم میاں جی نور محمد صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ سید الطائفہ حضرت حاجی امدا د اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کے پیر بھائی،شیخ محمد محدث تھانوی رحمہ اللہ نے اصحاب کہف کے ناموں کو بہت ہی مجرب پایا ہے آپ نے اپنی کتاب بیاض محمدی میں ان ناموں درج ذیل فوائد بیان کیے ہیں (1) زمین جگہ اور پلاٹ کے حصول کیلئےسیلاب سے محفوظ رہنےکیلئےاصحاب کہف کے نام زمین میں اوردریا کے کنارے دفن کریں بہت مجرب ہے۔ (2) مال اور زمین قبضہ اور چوری سے محفوظ رہے گی۔ (3 )زمین میں موجود خزانہ غیر کی نظر سے محفوظ رہے گا۔ (4) حاملہ کے پیٹ پر باندھنے سے حمل محفوظ رہے گا۔ (5)جن خواتین کا حمل باربار ضائع ہوجاتا ہواس کا نقش مشک و زعفران سے لکھ کر باندھنے سے حفاظت رہتی ہے ۔ (6) وضع حمل کے وقت بائیں ران میں باندھنے سے نارمل ڈیلیوری بہت آسانی سے ہوتی ہے ۔ (7) اگر کہیں آگ لگ گئی ہوتو آگ میں ڈالنےسے آگ بجھ جاتی ہے ۔ (8) وبا کےزمانے میں ان ناموں کی برکت سے محفوط رہیں گے ۔ (بیاض محمدی، صفحہ نمبر 60،شیخ محمد محدث تھانوی ،ترجمہ :مولانا ظہیر احمد صاحب استاددارالعلوم انڈیا،دارالاشا عت کراچی)۔ (اصحاب کہف کا مستند حوالہ نمبر 1) حاشیہ جلالی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حوالے سے اسمائے کہف کے ناموں کے فوائد مذکور ہیں۔بزرگوں سے ان اسماء کے فوائد کی تاثیر منقول ہے۔( واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء،دارالعلوم فتویٰ نمبر11272)

اصحاب کہف کے نام21 الجھے مسائل کا حل

سالہاسال سے تسبیح خانہ لاہور میں اصحاب کہف کے ناموں کے اثرات اور برکات بیان کیے جارہے ہیں یہ تسبیح خانہ کے خو دساختہ نہیں بلکہ صدیوں سے اکابرین امت ؒنے ان کے فوائد اور کمالات کو تسلیم کیا ہے ذیل میں چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ اعمال بناتانہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے : (1)اصحاب کہف کے نام لکھ کراپنے پاس رکھےتو آفات وبلیات سے محفوظ رہے ۔ (2)لکھ کر کھیت میں لٹکایا جائے تو کھیت ٹڈی دل کے نقصان سے محفوظ رہے ۔ (3)گھر میں پڑھا جائے تو گھر جلنے سے محفوط رہے ۔ (4)لکھ کر مال میں رکھے تو مال چوروں سے محفوظ رہے گا ۔ (5)کوری ٹھکری پر لکھ کر سات روز تک کسی کنوئیں یا نہر میں ڈالیں تو باران رحمت ہوگی ۔ (6)کاغذ پر لکھ کر اس کے پیچھے بھاگے ہوئے شخص کا نام لکھ دیں اور اس کو بھاری پتھر کے نیچے رکھ دیں ۔ تو بھاگا ہو ا واپس آجائیگا۔ بھاگے کی واپسی پر پتھر کے وزن کے برابر کوئی جنس خیرات کرکے اس کا ثواب اصحاب کہف کوکریں ۔ (7)ان ناموں کو لکھ کر آسیب زدہ مکان میں لگائیں گے توجنا ت مکان چھوڑ جائیں گے ۔ (8)جس عورت کے بچہ پید ا ہونے والا ہواس کے دائیں بازو کے ساتھ باندھیں ۔ ولادت بآسانی ہوگی۔ (9)اگر بچہ بہت روتاہو تو لکھ کر ا سکے گلے میں ڈالیں ۔ (10)اگر کسی جگہ آگ لگ جائے تو ان اسماء کو لکھ کر وہاںپھینک دیں ، آگ بجھ جائے گی ۔ (11)ان ناموں کو لکھ کر اپنے پاس رکھیں تو دوران سفر آفات سے محفوظ رہیں گے ۔ (12)باری کے بخا ر کیلئے لکھ کر گلے میں ڈالیں بخار سے شفا ہوگی ۔ (13)مرگی کیلئے ان اسماء کو چاندی کے تختی پر کندہ کرکے مریض کے گلےمیں ڈالیں ، مرگی سے نجات ہوگی۔ (14)درد سر کیلئے اکیس ان ناموں کو پڑھ کر دم کریں ۔ آرام ہوگا۔ (15)ام الصبیاں کیلئے لکھ کر بچے کے گلے میں ڈالیں بچہ کو شفا ہوگی ۔ (16)حافظہ کی کمزوری کیلئے لکھ کر اپنے پاس رکھیں حافظہ تیز ہوگا۔ (17)اگر قیدی بے گناہ ہوتو ان ناموں کے پڑھنے کی برکت سے آزاد ہوگا۔ (18)پیٹ کے درد کیلئے پانی پر دم کرکے مریض کو پلائیں ، تو درد سے شفا ہوگی ۔ (19)لکھ کر جادو زدہ کے گلے میں ڈالیں تو جادو دور ہوگا اور جادو ٹوٹ جائے گا۔ (20)اگر کوئی ضرورت و حاجت درپیش ہوتو ان ناموں کو دورکعت نماز پڑھ کر 101 مرتبہ پڑھ کر دعا کریں بفضل خدا دعا قبول ہوگی۔ (21)ان ناموں کو لکھ کر اپنے پاس رکھیں گے تو دشمن کے شر سے حفاظت میں رہیں گے ۔ (تحفہ قلندری یعنی خزینہ عملیات حصہ2 ص89،تالیف :پیر خواجہ دلاور حسین چشتی قادری ،ناشر:جہانگیر بک ڈپو، لاہور)

اصحاب کہف کا تعویذ 12دکھڑوں کا علاج

سالہاسال سے تسبیح خانہ لاہور میں اصحاب کہف کے ناموں کے اثرات اور برکات بیان کیے جارہے ہیں یہ تسبیح خانہ کے خو دساختہ نہیں بلکہ صدیوں سے اکابرین امت ؒنے ان کے فوائد اور کمالات کو تسلیم کیا ہے ذیل میں چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ اعمال بناتانہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے : (1)یہ نام لکھ کردروازے پر لگا دیئے جائیں تو مکان جلنے سے محفوظ رہتا ہے ،(2) مال و سرمایہ پر رکھ دیئے جائیں تو چوری نہیںہوتا، (3) کشتی یا جہاز ان کی برکت سے نہیں ڈوبتا ،(4) بھاگا ہو اشخص انکی برکت سے واپس آجاتا ہے ، (5) آگ لگی ہو تویہ نام کپڑے میں لکھ کر ڈال دیئے جائیں تو ہ بجھ جاتی ہے ،(6) بچے کے رونے ، (7)باری کے بخار ،(8)درد سر،(9) ام الصبیان،(10) خشکی و تری کے سفر میںجان ومال کی حفاظت، (11) عقل کی تیزی ، (12)قیدیوں کی آزادی کیلئے یہ نام لکھ کر بطریق تعویذ بازومیں باندھے جائیں ۔ بحوالہ کتاب :حاشیہ الجمل علی الجلالین ج3 ص6 مصنف:مولانا جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ،ناشر:قدیمی کتب خانہ کراچی۔(2)ترجمہ کنز الایمان تفسیر خزائن العرفان ص557 ترجمہ: حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب رحمہ اللہ،تفسیرحضرت مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب مراد آبادی رحمہ اللہ،ناشر: ضیا ء القرآن لاہور۔ ()۔ جو ان اسماء مبارک کولکھ کر مکان کی چھت میں چھپا دے یا کسی بھی چیز میں رکھے ،وہ آگ سے نہ جلے اور اگر کسی جگہ آگ لگ گئی ہو تو ایک سفید کپڑے میں یہ اسماء لکھ کر اور اس میں دو تین سنگریز ے باندھ کر آگ میں ڈالدیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے آگ بجھ جائے گی۔ (تحقیق وترتیب : قیصر احمد بی ۔ اے۔ کراچی )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025