اولاد کی نعمت سے پریشان لوگ اصحاب کہف کے ناموں کی برکات اپنی آنکھوں سے دیکھیں

سالہاسال سے تسبیح خانہ لاہور میں اصحاب کہف کے ناموں کے اثرات اور برکات بیان کیے جارہے ہیں یہ تسبیح خانہ کے خو دساختہ نہیں بلکہ صدیوں سے اکابرین امت ؒنے ان کے فوائد اور کمالات کو تسلیم کیا ہے ذیل میں چند حوالہ جات پیش کیےجاتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ اعمال بناتانہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے : بانجھ خواتین اولاد کی تیاری کریں مرشد عالم پیر غلام حبیب صاحب رحمۃ اللہ کے خلیفہ خاص حضرت مولانا پیر احمد علی پنجگوری رحمہ اللہ اپنے مرشد کا ایک خاص عمل حمل قائم کرنے کیلئے اصحاب کہف کا دیا کرتے تھے جوکہ یہ ہے: چھوہارے کے 9 دانے لیکران میں سے تین عد د اپنے داہنے ہاتھ میں لے لیں اور اول وآخر پانچ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ کرپانچ مرتبہ اصحاب کہف کے نام پڑھیں اور ان پر دم کریں ، اور تین راتیں یہ چھوہارے کھائیں اس طرح کے روزانہ آدھا آدھا میاں بیوی کھالیں اور حقوق زوجیت ادا کریںاور ایک مہینہ انتظار کے بعداگر حمل قائم ہے تو باقی چھوہارے کھانےکی ضرورت نہیں اگر حمل نہ ٹہرے تو دوسرے مہینہ میں ابتدائی تاریخ میں بھی اسی طرح چھوہارے کھائے جیسے پہلے کھائےتھےاگر دوسرے مرتبہ بھی حمل نہ ٹہرے تو یہ اصحاب کہف کے ناموں کے دم شدہ چھوہارے تیسرے مہینے بھی کھالے ان شاء اللہ حمل ضرور ٹہرے گابس یہ 9چھوہاروں کا کورس صرف تین ماہ میں ہی کرنا ہے ۔ جنات سے چھٹکارے کیلئے قطب عالم مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحاب کہف کے ناموں کو کاغذ پر لکھ کر جس مکان میں مریض یا مریضہ ہواسکی دیوراوں پر جگہ جگہ چسپاں کردیا جائے اس کی برکت سے آسیب سے نجات ملتی ہے ۔ (خزینۃ الا سرار ، صفحہ نمبر 239+56مولانا محمد علی پنجگوریؒ،ادارہ مجید یہ کراچی۔مجربات اکابر، صفحہ نمبر229،تاثرات حضرت مولانا محمد ازہر صاحب استاد الحدیث جامعہ خیرالمدارس ملتان، ترتیب : مولانا محمد اسحاق ملتانی ، ناشر:ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان) اصحاب کہف کے 4 فائدے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ سے ضرور لیں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیٹا اصحاب کہف کے نام امان دینے والے ہیں ڈوبنے سے جلنے سےڈکیتی اور چوری سے ۔ جنات سے چھٹکارے کے واسطے اصحاب کہف کے نام گھر کی دیواروں پر لکھیں جنات سے نجات ملتی ہے ۔ (کمالات عزیزی ، صفحہ نمبر 70،135شاہ عبدالعزیز محدث دھلویؒدارالاشا عت) جنات آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے مولانا صوفی محمد عزیز الرحمن پانی پتی رحمہ اللہ جوکہ عملیات میں بہت ماہر تھے اور مولانا اصغر حسین صاحب ،حضرت مولانا حکیم الامت مولانا اشر ف علی صاحب رحمہ اللہ،شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ اور دیگر بزرگوں کے صحبت یافتہ تھے وہ فرماتے ہیں: (1) جس مکان میں جن وشیاطین و آسیب کا اثر ہواس کو چاہیے کہ اصحاب کہف کے نام لکھ کر مکان کی دیواروں اور دروازوں پر چسپاں کرے کم از کم تین چار کاغذوں پر لکھیں اورچار جگہ لکڑی کے پٹھوں پرچپکادےیا لٹکادے انشاء اللہ کسی قسم کا اثراس مکان میں نہیں رہےگا ، اور اگر رہےگا تو پریشان نہ کرے گا ،(2)جس مقام پر آگ لگی ہوان اصحاب کہف کےناموں کو کاغذ پر لکھ کر آگ میں ڈالدے انشاء اللہ آگ ٹھنڈی ہوجائےگی۔ (آئینہ عملیات / خزینہ عملیات صفحہ نمبر 180 ، مولاناصوفی محمد عزیز الرحمن پانی پتی ؒ،دارالاشا عت کراچی

جائز محبت میں تڑپادینے کیلئے اصحاب کہف کے ناموں کی برکات

سالہاسال سے تسبیح خانہ لاہور میں اصحاب کہف کے ناموں کے اثرات اور برکات بیان کیے جارہے ہیں یہ تسبیح خانہ کے خو دساختہ نہیں بلکہ صدیوں سے اکابرین امت ؒنے ان کے فوائد اور کمالات کو تسلیم کیا ہے ذیل میں چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ اعمال بناتانہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے : اصحاب کہف کے نام بہت مجرب ہیں شیخ ابوالعباس احمد علی بونی رحمہ اللہ 520 ہجری میں الجزائر کے شہر بونہ (اب عنابہ) میں پیدا ہوئے اور 622 ہجری کو وفات پائی، انہوں نے تونس میں قرآنِ مجید تمام قراتوں کے ساتھ پڑھا، کئی علوم پر دسترس تھی،انھوں نے کوئی چالیس سے زائد کتابیں لکھی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کہ اصحاب کہف کے نام کے اثرات بہت ہی مجرب ہیں ۔ (کتاب شمس المعارف،مصنف:شیخ ابوالعباس احمد علی بونی ؒ،ناشر:دارالاشاعت کراچی) جائز محبت میں تڑپا دینے کیلئے اصحاب کہف کا نقش دوستوں، بھائیوں، عزیزوں، بہن بھائیوں، میاں بیوی، والدین اور اولاد، ملازم مالک، افسران اور ماتحت غرض ان تمام افراد کے درمیان محبت کیلئے اسمائے اصحاب کہف بے نظیر نقش محبت ہے، اصحاب کہف کے نام سات بار پڑھ کرے شربت چائےیا کسی میٹھی چیز پر دم کرکے مطلوب کو کھلائیں بہت جلدی تاثیر کا عمل ہے ۔ (شمع شبستان رضا صفحہ450حصہ 4، مصنف:، ناشر:قادری رضوی کتب خانہ لاہور) اصحاب کہف کے چونکا دینے والے فائدے اگر اصحاب کہف کے ناموں کو لکھ کر کتاب میں رکھےتو دیمک سے حفاظت رہے گی مجرب عمل ہے۔ (2)بانس کی پونگی میں لکھ کر کھیت میں دفن کرے انشاء اللہ تعالیٰ خوب فصل ہوگی۔ (3)نارمل ڈیلیوری کیلئے اگر حاملہ کی داہنی ران پر باندھیں تو ولادت میں سہولت ہوگی۔ (4) اگر سینہ پر باندھیں تو بچہ پیدا نہیں ہوگا جب تک کےنقش کھو ل نہ لیا جائے۔ (مجموعہ اعمال رضا صفحہ 111، ترتیب قاضی محمد عبدالرحیم بستوی رحمہ اللہ، ناشر: قادری رضوی کتب خانہ لاہور) محبوب کو تڑپا دینے کیلئے اصحاب کہف کا کمال عامل کامل مولانا محمد زوار خان صاحب فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ کسی شخص کو اپنی طرف رجوع کروں (مقصد جائز ہو) تو اصحاب کہف کے نام لکھے اور نیچے آخیر میں الحب فلاں بن فلاں علی حب فلاں بن فلاں لکھے اور مطلوب کے دائیں بازو پر باندھے۔ (نافع الخلائق صفحہ 220، مصنف: مولانا محمد زوار خان صاحب، ناشر: دارالاشاعت کراچی) (دیگر حوالہ جات: آسان عملیات و تعویذات، صفحہ نمبر 59+159، اعجاز احمد خاں سنگھانویؒ،کتب خانہ انور شاہ کراچی۔ شرح حزب البحر، صفحہ نمبر 167، تالیف مولانا محمد ابوبکر صاحب، ناشر:مکتبہ قاسمیہ ملتان ) اصحاب کہف کے نام کی برکات جادو شدہ گھر ہمیشہ کیلئے محفوظ علامہ نواب صدیق حسن خان صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحاب کہف کے نام اگر دیواروں پر لکھے جائیں تو جادو شدہ گھر سے جادو ختم ہوجا تا ہے اور اس بات کو واحدی نے اپنی تفسیر میں بھی لکھا ہے اور اس کو شرجی نےذکر کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب قول جمیل میں اصحاب کہف کے ناموں کو چوری، ڈکیتی، کشتی کے سمندر میں غرق ہونے اور ناگہانی آفات سے حفاظت کا ذریعہ بیان فرمایا گیا ہے۔ (بحوالہ کتاب التعویذات المعروف الدعاء والدواء صفحہ 104،تالیف:علامہ نواب صدیق حسن خان صاحب رحمہ اللہ اہلحدیث،ناشر:اسلامی کتب خانہ لاہور) (اصحاب کہف کا مستند حوالہ نمبر5) (تسبیح خانہ کا ایک ایک وظیفہ اور عمل باحوالہ اور مستند ہے )

عملیات میں ایک حیرت انگیز طلسم کے کمالات

جس طرح طب اور دیگر علاج کرنے والوں کے اپنے تجربات اور مشاہدات ہیں اسی طرح عملیات کی دُنیا بہت وسیع ہے ،اس دُنیا میں ہزاروں لوگوں کے ہزاروں تجربات ہیں ان تجربا ت میں بہت سے ایسے طلسم ہیں جو کہ ہمارے اکابرینؒ کی کتابوں میں ملتے ہیں اور ان میں سے دو حروف اسٹار( ٭) اور ہیش(#) بھی ہیں جو کہ سالہا سال سے علاج اور معالجہ کیلئے عملیات میں ہمارے اکابرینؒ استعمال کرتے آئے ہیں چند کتابوں کی طرف نشاندہی کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائیں: شیخ ابوالعباس احمد علی بونی رحمہ اللہ کا شمار پراسرار علوم‘ اسرار اسماء الحسنی اور حروف کے اسرارو رموز وغیرہ کے اہم ترین عرب مصنفین میں ہوتا ہے۔ مشرق اور مغرب کے بڑے بڑے علماء نے آپ کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے، آپ نے اس فن پر 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں، آپ نے اپنی کتاب میں اسٹار(٭) اور ہیش(#) کو لاعلاج بیماریوں سے علاج کیلئے، اندرونی امراض سے شفایابی کیلئے، دل،جگر جیسے حساس اعضاء کو سنگین بیماریوں سے بچانے کیلئے استعمال کیا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں: کتاب: شمس المعارف صفحہ 32 ،131،132،مصنف:شیخ ابوالعباس احمد علی بونی ؒ، ترجمہ: مولانا اقبال الدین احمد صاحب ،ناشر: دارالاشاعت کراچی) امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تفسیر جلالین اور تفسیر درمنثور کے علاوہ 500 کتابوں کے مصنف ہیں مایہ ناز محدث ہیں جن کے علمی فیضان سے ہر عالم استفادہ کرتا ہے آپ نے اپنی کتاب میں اسٹار (٭) ، ہیش(#) اور دیگر طلسمات سے بنے نقش کو بیماریوں، دکھوں، سے نجات، اور سلجن و سکھ حاصل ہونے کیلئے نہایت ہی مجرب مانا ہے تفصیل کیلئے دیکھیں: (مجربات سیوطی ص236، مصنف:امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، ناشر: دارالاشاعت کراچی۔) عامل کامل اعجاز احمد خاں سنگھانویؒ صاحب نے اپنی کتاب میں اسٹار(٭) اور ہیش(#) کے ساتھ دیگر طلسمات کو کسی جگہ نوکری کیلئے دیے جانے والے انٹرویو میں کامیابی، مقدمات میں فتح یابی، روزگار کی ترقی، لوگوں میں عزت کیلئے مجرب مانا ہے ۔ (آسان عملیات و تعویذات، صفحہ نمبر 59+159،اعجاز احمد خاں سنگھانویؒ،کتب خانہ انور شاہ کراچی۔ شرح حزب البحر ) عامل کامل اقبال احمد نوری صاحب رحمہ اللہ نےاپنی کتاب میں اسٹار(٭) کے نشان کے تعویذ کو تلی کے تمام امراض سے حفاظت کیلئے نہایت آزمودہ قرار دیا ہے۔ (شمع شبستان رضا صفحہ نمبر41۔653۔713۔714، مصنف: عامل کامل اقبال احمد نوری صاحب رحمہ اللہ، ناشر: قادری رضوی کتب خانہ لاہور) خواجہ اشرف علی صاحب نے اپنی کتاب میں اسٹار(٭) کے نشان کے خاص نقش کو حصول برکت، دشمنوں کی قید سے خلاصی کیلئے بہت ہی آزمودہ مانا ہے۔ (نقش سلیمانی صفحہ261، مصنف : خواجہ اشرف علی صاحبؒ ،ناشر: دارالاشاعت کراچی) تسبیح خانہ کی کوشش یہ ہے امت کے دُکھوں کا مداوا ،غموں کا حل کیا جائے ہر اس چیز سے جوکہ شریعت کے مخالف نہ ہو اور ہمارے اکابرینؒ سے منقول ہو آئیے’’ اکابرؒ پر اعتماد ‘‘ کے پلیٹ فارم سے اس سکھ کے پیغام کو عام کرتے ہیں۔

27 رجب کو شب معراج اکابرینؒ کی نظر میں

معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر پہلے پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا حکم ملا پھر تخفیف کرکے پانچ کردی گئیںآپ ﷺ معراج سے واپسی پر بیت المقدس میں اترےاور ان تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ نماز ادا فرمائی جو رخصت کرنے کے لیے بیت المقدس تک ساتھ آئے تھے، پھر وہاں سے براق پر سوار ہوکر اندھیرے میں مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ نوٹ :شب معراج کی رات ہمیں نمازوں کے اس انعام کی یاد دہانی کرواتی ہے جسے آج ہم بھول بیٹھے ہیں تسبیح خانہ کا منبر آج کی رات معراج میں کیے گئے عہد کو پھر سے یا د کرانے کی کوشش میں ہے آئیے بغیر کسی پابندی اور تخصیص کے معراج کی رات میں کیے گئے عہد وفا کو ساری دنیا میں پھیلانے کا عزم کرتے ہیں ۔ 27 رجب کو شب معراج ہوئی یانہ ہوئی۔۔۔! اس بارے میں علمائے کرام رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں، ان میں سے بہت سے علمائے کرام رحمہم اللہ نےرجب کے مہینے اور 27 رجب کو راجح قول قرار دیا ہے ۔ علامہ ابن قتیبہ رحمہ اللہ اور علامہ دینوری رحمہ اللہ(المتوفیٰ267)اور علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ (المتوفی463ٰ)نے معراج کی رات کیلئےماہ رجب کی تعین کی ہے۔ امام رافعی اور امام نووی رحمہمااللہ نے اپنی کتاب میں رجب میں شب معراج کو یقین کےساتھ ظاہر کیا ہے ۔ محدث شیخ عبدالغنی مقدسی رحمہ اللہ نے 27 رجب کی تاریخ کی وضاحت کی ہے کہ اس تاریخ کوہی شب معراج ہوئی تھی۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ 27 رجب کی تاریخ پر ہی لوگوں کاعمل ہے اور بعض علمائے کرام رحمہم اللہ کی رائے یہ ہے کہ یہی قوی ترین روایت ہے ۔ کیونکہ اصول یہ ہےکہ جب کسی بات میں سلف کا اختلاف ہو اور کسی رائے کی ترجیح پر کوئی دلیل قائم نہ ہوتو بظن غالب وہ قول صحیح ہو جس پر عمل درآمد ہو اور جو لوگوں میں مقبول ہو۔(بحوالہ سیرۃ النبی ﷺ صفحہ 360 جلد3 تالیف:علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ، ناشر: دارلاشاعت کراچی۔ضیاالنبی ﷺ صفحہ 482 جلد2، مصنف:پیرمحمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ،ناشر: ضیاء القرآن کراچی) علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رحمہ اللہ کی رائے واقعہ معراج کی تاریخ اور سال کے متعلق مؤرخین اور اہل سیر کی آراء مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے 12ویں سال 27 رجب کو51سال 5 مہینہ کی عمر میں نبی اکرم ﷺکو معراج ہوئی مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں اس سے پہلے دو نمازیں فجر اور عصر کی پڑھی جاتیں تھیں جیساکہ علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رحمۃا للہ علیہ نے اپنی کتاب "مہر نبوت”میں تحریر فرمایا ہے۔ (مہرنبوت ،تالیف: علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رحمہ اللہ ،ناشر:ادارہ اوقاف صالح عبدالعزیز مکۃ المکرمہ) ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی اپنی کتاب ماہ رجب اورواقعہ معراج النبیﷺ میں بیان فرماتے ہیںکہ اس واقعہ کی تاریخ اور سال کے متعلق ‘ مؤرخین اور اہل سیر کی رائے مختلف ہیں، ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے بارہویں سال ۲۷ رجب کو ۵۱ سال ۵ مہینہ کی عمر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہو۔( کتاب :ماہ رجب اورواقعہ معراج النبیﷺ: تالیف :ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی صاحب) دارالافتاء انڈیا کےفتویٰ نمبر: 66007 کے مطابق شب معراج کی تاریخ اور ماہ کے سلسلے میں روایات مختلف ہیںان روایات میں سے زیادہ مشہور /۲۷ رجب ہے۔ ملا فتح الله کاشانی صاحب فرماتے ہیں کہ 27 رجب کی رات کو معراج ہوئی اس نظریے کو شہرت حاصل ہے۔ ( بحوالہ کتاب کاشانی، منہج‌الصالحین، ۱۳۳۶ش، ج۵، ص۲۳۶) تسبیح خانہ اس معراج کی رات میں دیے گئے انعام کو ساری دنیا میں پھیلانے کا عظم رکھتا ہے ۔

یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ہڈیوں کا ادب !کرنے کا حکم جاری فرمائیں

!یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ہڈیوں کا ادب کرنے کا حکم جاری فرمائیں !شیخ الوظائف روحانی محافل میں اونٹ اور دوسرے جانوروں کی ہڈیوں کو پھینکنے کی بجائے انہیں کسی صاف جگہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ یہ جنات کی غذا ہے۔ ایسے بے شمار لوگ جو فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے تھے انہوں نے جب یہ عمل کیا تو رب تعالیٰ نے ان کے رزق میں ایسی بے بہا برکت عطافرمائی کہ وہ مالا مال ہو گئے اور انہوں نے بار ہا اپنے یہ مشاہدات تسبیح خانہ میں ہونے والی روحانی محافل میں بتائے۔ اس عمل کے بارے میں محدث زمانہ مفسر امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اکابرین امت رحمہم اللہ کے چند اقوال پیش کیے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں!حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفہوم) میرے لیے پتھر تلاش کر کے لاؤ تا کہ میں ان سے استنجاء کروں اور فرمایا : میرے پاس بڑی اور لید وغیرہ نہ لانا۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی ا یہ تم اہڈی اور لید سے استنجاء کیوں نہیں ہوتا ؟آپ مسلم نے فرمایا : یہ دونوں چیزیں (ہڈی اور گوبر ) جنات کی غذا ہیں ۔ میرے پاس نصیبین کے ایسے جنات کا وفد آیا جو نیک تھے انہوں نے مجھ سے زاد راہ طلب کیا تو میں نے ان کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ جنات کسی بڑیاور لید کے پاس سے جب بھی گزریں تو اس پر اپنی غذا موجود پائیں ۔ ( صحیح بخاری، باب مناقب الانصار)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنات سے ملاقات والی رات میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم !کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں سے کہا: وہ بڑی تمہاری غذا ہے جس پر اللہ تعالی کا نام یا گیا ہو (یعنی حلال ذبیحہ اور قربانی کے گوشت کی تمام ہڈیاں اس میں شامل ہیں) ( بحوالہ مسند احمد صحیح مسلم تر مذی)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انی ایم کی خدمت میں جنات کا ایک وفد آیا اور کہنے لگا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کو حکم دے دیجئے کہ ہڈی لید اور کوئلے سے استنجاء نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں ہمارا رزق مقرر کیا ہوا ہے (سنن ابو داؤد ۔ کتاب الطہارۃ) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنات جب گو بر کا ٹکڑا اٹھاتے ہیں بحوالہ کتاب : لقط المرجان فی احکام الجان صفحہ 65مصنف علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ تو وہ ان کیلئے چھوہارہ بن جاتا ہے اور جب کوئی ہڈی اٹھاتے ہیں تو وہ گوشت سے بھر جاتی ہے ناشر: مکتبہ برکات المدینہ کراچی۔ دوسرا حوالہ :(بحوالہ : دلائل النبوۃ)جنوں کے حالات ناشر: مکتبہ حنفیہ

خود ساختہ وظائف کے من گھڑت فوائد

63 قسط نمبر خود ساختہ وظائف کے من گھڑت فوائداکابر پر اعتمادماہنامہ عبقری پر اکثر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں تمام وظائف خود ساختہ اور ہر عمل کے فوائد من گھڑت بتائے جاتے ہیں ایسا کہنے والوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ خدارا اپنے اکابر واسلاف کی کتابوں میں بکھرے ہوئے موتی سمیٹیں اور یہ دیکھیں کہ انہوں نے وظائف کو کس طرح اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ مثلاً زیر نظر زبدة المتقین مولانا محمد موسی خان روحانی بازی پیدہ کی ایک کتاب کا عکس دیا گیا ہے کیا اس کے متعلق بھی یہی کہا جائے گا کہ (نعوذ باللہ) انہوں نے اپنی دکانداری چمکانے کیلئے خود ساختہ وظیفے کے من گھڑت فوائد شائع کیے تھے؟

یرقان ،بلڈپریشر، پتھری اور کینسر کا علاج یہ درود شریف پڑھیں

کیا عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں دیا جانے والا درود شریف من گھڑت ہے ۔۔۔؟؟؟ اللہ مہربان کے فضل و کرم سے شیخ الوظائف کی بھرپور کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہمارے منبر سے کوئی بھی چیز ایسی شائع نہ ہو جوکہ ہماری خود ساختہ ہو۔ ابھی کچھ دن قبل تسبیح خانہ لاہور کی شاخ عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں ہزاروں لوگوں نے کروڑوں مرتبہ یہ درود پاک پڑھا جوکہ تمام مکاتب فکرکے اکابرؒ کی زندگی میں معمول ہے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں : اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ کُلِّ دَاءٍ وَ دَوَاءٍ وَبَارِک وَسَلِّم (1) یرقان ،بلڈپریشر، پتھری اور کینسر کا علاج شیخ المشائخ مولانا سید محمود صندل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانی پر دم کر کے اس پانی سے غسل کریں، یہ 71 امراض کا مجرب علاج ہے، ان امراض میں شوگر، یرقان کی تمام اقسام، بلڈپریشر، پتھری یہاں تک کہ کینسر بھی شامل ہے۔ زکوۃ:شب جمعہ 1400 مرتبہ پڑھیں۔ ( تحفہ صندلیہ ص38 افادات: شیخ المشائخ مولانا سید محمود صندل باباجی رحمہ اللہ،ناشر:مکتبہ عرفان لاہور) (2) موذی امراض سے فوری شفاءس مولانا اقبال قریشی صاحب فرماتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے درد اور مرض کیلئے مریض پر یہ درود شریف اس طرح دم کرے کہ اول آخر تین بار یہ درود پڑھے اور درمیان میں سات بار سورۃ فاتحہ مع بسم اللہ اور 3 بار سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب حضرت علامہ مخدوم محمد ہاشم سندھی رحمہ اللہ کو بخش دے اور مریض پر دم کرے تو انشاء اللہ العزیز فوراً شفا ہوجائے گی۔ نیز اگر مریض لاعلاج قرار دے دیا گیا ہو یا بیماری سخت ہو تو یہ درود شریف اول و آخر 100 بار پڑھے۔ شوگر اور کینسر جیسے موذی امراض میں نہایت اکسیر پایا ہے۔ (مستند حوالہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں) (وظائف الصالیحین ص96تالیف مولانا اقبال قریشی، پسند فرمودہ :شیخ عبدالرحمٰن الشیبی حفظہ اللہ، داماد شیخ الحدیث مولانا محمد سلمان الحسنی، مولانا محمد مکی الحجازی ؒ، مولانا ابو القاسم نعمانی صاحب مہتمم دار العلوم انڈیا، ناشر:مکتبہ شھید اسلام، اسلام آباد ) (3) جامعہ بنوری ٹائون کا فتویٰ جامعہ بنوری ٹائون کا فتویٰ ہے کہ وبائی امراض سے نجات کیلئے اس درود شریف کا کثرت سے ورد کیا جائےاس کیلئے انھوں نے درج ذیل کتابوں کے حوالے دیے ہیں : (شفاء القلوب ، ص:223 ، ط: مکتبہ نبویہ ،روح البیان۔7/234، ط: دارالکتب العلمیہ) اس کے اہتمام سے ان شاء اللہ تعالیٰ کرونا وائرس اور تمام وبائی، روحانی اور جسمانی امراض سے حفاظت ہوگی۔ (فقط واللہ اعلم فتوی نمبر : 144107201120،دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) (4) علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمہ اللہ کا خاص عمل علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمہ اللہ نے اس درود پاک کو اپنی کتاب ذریعۃ الوصول الیٰ جناب الرسول میں بھی ذکر کیا ہے ۔ ( ذریعۃ الوصول الیٰ جناب الرسول ص81،مصنف: علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمہ اللہ ترجمہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ ناشر مکتبہ لدھیانوی کراچی) یاد رکھیں!!! تسبیح خانہ وظائف بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے۔

اپنے مقدر سنوارنا چاہتے ہیں تو اس رات کی قدر کرلیں

یہ فتنوں کا دور ہے آزمائشوں کا دور ہے گناہوں کے اسباب آسان سے آسان ہوتے جارہے ہمیں چاہیے کہ نیکی کے معاملےکو بھی آسانی کے ساتھ پیش کریں جہاںتک شریعت مبارکہ نے آسانی دی ہو۔۔۔شب برأ ت کی مبارک رات جو مقدر سنوارنے والی رات ہے کس طرح ہماری بے توجہی یا خرافات کی نظر ہوتی جارہی تھی تمام مکاتب فکر کے اہل علم بخوبی جانتے ہیں ۔آئیے قرآن وسنت کی پاسداری کے ساتھ تسبیح خانہ میں شب برأت گزاریںاور برکات اپنی اور اپنی نسلوں میں منتقل کریں ۔۔۔! پندرہ شعبان کی رات کوشب برأت اس لیے کہاجاتا ہےکہ شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے کےہیں‘چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے بری ہوجاتےہیںاوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں، اس لئے اس رات کوشب برأت یالیلتہ المبارکہ بھی کہاجاتاہے۔ تسبیح خانہ میں شب برأت کیسےگزاری جاتی ہے ؟ اس رات مبارکہ میں ان اعمال صالحہ کا خاص اہتمام کرنا چاہیے : (1) عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت ادا کریں۔ (2) بقدر توفیق نفل نمازیں خاص کر نماز ِتہجد اد ا کریں۔ (3) اگر ممکن ہو تو صلاة التسبیح پڑھیں۔ (4) قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ (5) کثرت سے اللہ کا ذکرکریں۔ (6) اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں مانگیں، خاص کر اپنے تمام زندگی کے گناہوں کی مغفرت خوب روروہ کرطلب کریں ۔ (7) اس مبار ک رات میں قبرستا ن جانا اور مسلمان مرد و عورتوں کیلئےایصال ثواب کرنا مستحب ہے ۔ (8)شعبان کی پندرہ تاریخ کا روزہ رکھیں۔ (9)جن گناہوں کی نحوست اس مبارک رات کی بر کت سےمحروم کردیتی ہیں ان سے مکمل پرہیز اور صد ق دل سےتوبہ کریں۔ (بحوالہ ماہ رجب و شعبان ص32 ، نظر ثانی: مفتی نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم ،استاد جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور،ناشر:الصبغہ سکول سمن آباد لاہور) تسبیحـ خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے

شب برأت کے فضائل تسبیح خانہ نے بنائے نہیں بتائے ہیں

سال بعد شب برأ ت کی رات آنی ہے نہ جانے ہم میں سے کون زندہ ہو یا نہ ہو۔۔۔۔!اس رات میں اگر برکتیں پانا چاہتے ہیں تو اس رات کی ضرور قدر کریں اس رات کے حیرت انگیز کرشمات جاننا چاہتے ہیں تو29 مارچ کو تسبیح خانہ لاہور میں ضرور تشریف لائیں ۔ شب برأت کی برکات اور فضائل تسبیح خانہ کے خود ساختہ نہیں بلکہ احادیث مبارکہ میں بیان فرمودہ ہیں چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں : (1)۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ آپ فرمائیے۔ ارشادہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے۔(مشکوۃ‘جلد 1صفحہ277) (2)۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس اللہ تعا لیٰ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور کے۔‘‘ (صحیح الترغیب و الترھیب: ۲۷۶۷‘علامہ البانی ؒ) (3)۔شب برأت میں حضور ﷺ نےخود بھی شب بیداری کی اور دوسروں کو بھی شب بیداری کا حکم دیا اور نہ صرف حکم دیا بلکہ جاگنے کی فضیلت بھی بیان فرمائی آپ ﷺ نےفرمایا کہ جس شخص نےپانچ راتوں کو زندہ رکھا اس کیلئے جنت واجب ہوگئی (۱)آٹھویں ذوالحجہ کی رات (۲)نویں ذوالحجہ کی رات(۳)عیدالاضحی کی رات(۴)عید الفطر کی رات(۵)پندرہویں شعبان کی رات۔(ترغیب و ترھیب) (4)۔جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور فرماتا ہے: کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کون مجھ سے رزق طلب کرتا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کون مبتلائے مصیبت ہے کہ میں اسے عافیت دوں؟ اسی طرح صبح تک ارشاد ہوتا رہتا ہے‘‘۔(سنن ابن ماجه) شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیںکہ اس رات کی خصوصیت یہ ہےکہ شروع رات سےہی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتےہیں۔اور صبح فجر تک یہ نزول اجلال رہتاہے۔(ماثبت بالسنۃ)

کیا تسبیح خانہ کی طرف سے شب برأت کے روزہ کی ترغیب بدعت ہے ایک علمی جواب

بعض لوگوں کی طبیعت میں ضرورت سے زیادہ سختی ہوتی ہے وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ناجائز اور حلال چیزوں کو بھی حرام کہہ جاتے ہیں اور ماڈرن معاشرے کے اس دور میں بھی یہ وبا بڑھتی جارہی جسے اعتراض بے جا کا نام دینا بالکل درست لگتا ہے یہی سب کچھ شب برأ ت کے روزے کے معاملے میں بھی ہوا کہ بعض دوستوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تسبیح خانہ شب برات کے دن جو روزہ رکھنے کی ترغیب دیتا ہے یہ تو روایت ہی ثابت نہیں ۔۔۔! ایسے کم علموں کی خدمت میں حضرت مولانا ابوجندل قاسمی صاحب (مدرسہ قاسم العلوم تیوڑہ، مظفرنگر، یوپی)کاعلمی جواب پیش کرتے ہیں اللہ کریم ہمیں دین کی صحیح فہم عطا فرمائے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرو؛ اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟، کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتے رہتے ہیں؛ یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔(ابن ماجہ ص۹۹، شعب الایمان ۳/۳۷۸، حدیث ۳۸۲۲) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث شریف پر عمل کرتے ہوئے امت میں پندرہویں تاریخ کے روزہ رکھنے کا معمول رہا ہے۔ اگرچہ وہ حدیث باتفاقِ محدثین انتہائی ضعیف ہے؛ کیونکہ اس کے ایک راوی ”ابوبکر بن عبد اللہ بن محمد بن ابی سبرہ“ پر حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔ تاہم اس حدیث شریف کو موضوع نہیں کہا جاسکتا؛ کیوں کہ ابوبکر بن عبد اللہ پر حدیثیں گھڑنے کے الزام سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حدیث بھی اس کی بنائی ہوئی ہے، جس کی تین وجوہات ہیں: (۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ اصولِ حدیث وغیرہ کی مختلف کتابوں میں صراحت ہے کہ کسی حدیث کی سند میں کوئی راوی متّہم بالکذب یا متّہم بالوضع پایا جائے تو محض اتنے سے وہ حدیث موضوع نہیں ہوجاتی، جب تک کہ کوئی دوسری دلیل اس کے موضوع ہونے پر دلالت نہ کرے؛ چناں چہ امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہٰذا مَعَ اَنّ مُجَرّدَ تَفَرُّدِ الْکَذّابِ بَلِ الْوَضّاعِ ولو کان بعدَ الاسْتِقْصَاءِ والتَّفْتِیْشِ منْ حافِظٍ مُتَبَحِّرٍ تَامِّ الاسْتِقْرَاءِ غَیْرُ مُسْتَلْزِمٍ لِذٰلِکَ بل لابُدّ مَعَہ من انضِمَامِ شَیْءٍ مِمّا سَیَأتِیْ“ ترجمہ: محض کسی جھوٹے بلکہ وضَّاعِ حدیث کا کسی حدیث میں متفرد ہونا اس کو (یعنی حدیث کے موضوع ہونے کو) مستلزم نہیں، اگرچہ اس کا ثبوت کسی متبحر اور دیدہ ور حافظِ حدیث کی تحقیق سے ہوا ہو؛ بلکہ اس کے ساتھ کسی اور دلیل کا ملنا بھی ضروری ہے، جس کا ذکر آئندہ آرہا ہے۔ (فتح المغیث ۲/۶۸، باب تحمل الاجازة) مثلاً: حدیث: ”لا تقولوا سورة البقرة الخ“ کو امام احمد رحمہ اللہ نے منکر اور اس کے راوی ”عُبیس“ کو منکر الحدیث کہا ہے، جس کی وجہ سے علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث شریف کو موضوعات میں داخل کردیا، تو علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس پر سخت اعتراض نقل کیا ہے، فرماتے ہیں: ”قال ابنُ حجر فی اَمالِیْہ اَفْرَطَ ابنُ الجوزی فی اِیْرادِ ہٰذا الحدیثِ فی الْمَوْضُوْعاتِ ولَمْ یَذْکُرْ مُسْتَنَدَہ اِلَّا قولَ احمد وتضْعِیْفَ عُبَیْسَ وہٰذا لاَ یَقْتَضِیْ وَضْعَ الْحَدِیْثِ“ یعنی ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث شریف کو موضوعات میں شمار کرکے تشدد سے کام لیاہے اور دلیل میں حضرت امام احمد رحمہ اللہ کے قول اور عبیس کی تضعیف کے علاوہ کچھ اور ذکر نہیں کیا؛ لیکن یہ بات اس حدیث کے موضوع ہونے کا تقاضہ نہیں کرتی۔ (اللآلی المصنوعہ ۱/۲۱۸) لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ پندرہویں شعبان کے روزے کی فضیلت والی حدیث کو محض اس وجہ سے موضوع کہنا کہ اس کے ایک راوی ”ابوبکر بن عبد اللہ“ پر وضعِ حدیث کا الزام ہے، بالکل غلط ہے، خود مشہور اہل حدیث عالم مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ اس حدیث کو شب براء ت کی فضیلت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور اس شخص پر حجت قائم کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت ثابت نہیں، جیساکہ ان کی عبارت اوپر گزرگئی، اگر یہ حدیث موضوع ہوتی تو ہرگز وہ یہ بات نہ فرماتے۔ (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث شریف سنن ابن ماجہ کی ہے اور بعض حضرات نے سنن ابن ماجہ کی موضوع احادیث کی نشان دہی کی ہے اور اس سلسلے میں ایک رسالہ ”مَا تَمَسُّ اِلَیْہِ الْحَاجة“ لکھا ہے، جس میں ان تمام موضوع احادیث کو ذکر کردیاگیا ہے؛ لیکن ان میں اس حدیث شریف کا ذکر نہیں ملتا۔ (۳) درج بالا سطور میں تفصیل کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث موضوع نہیں، اس کو موضوع قرار دینا محدثین کے اصول کے خلاف نیز کم علمی کی دلیل ہے، ہاں یہ حدیث شریف ضعیف ضرور ہے؛ مگر اس کا ضعف اس پر عمل کرنے سے مانع نہیں؛ کیوں کہ محدثین نے اس کی بھی صراحت کی ہے کہ ”باب الفضائل“ میں ضعیف حدیث قابل قبول ہوتی ہے؛ چناں چہ امام احمد، عبدالرحمن بن مہدی اور عبداللہ بن المبارک رحمہم اللہ تعالیٰ کا قول منقول ہے: ”اذا رَوَیْنَا فی الحلالِ والحرامِ شَدَّدْنَا واِذَا رَوَیْنَا فی الفضائِلِ ونَحْوِہَا تَسَاہَلْنَا“ جب ہم حلال وحرام کے باب میں حدیث نقل کرتے ہیں تو مکمل احتیاط اور سختی سے کام لیتے ہیں اور جب فضائل وغیرہ کے باب میں روایت کرتے ہیں تو نرمی برتتے ہیں۔ (اللآلی المصنوعہ ۱/۹۹) اسی طرح علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یَجُوْزُ عِنْدَ اَہْلِ الْحَدِیْثِ وغَیْرِہِمْ التّسَاہُلُ فی الاَسَانِیْدِ الضَّعِیْفَةِ وَرِوَایَةِ مَا سِوَی الْمَوْضُوعِ من الضّعِیْفِ والعَمَلِ بِہ من غیرِ بَیَانِ

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025