قمر اور زہرہ ستارے کی شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے گفتگو

بارھویں صدی کے مجدد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے فرمایا کہ ایک بار مجھے شرف زہرہ اور شرف قمر کے اوقات میں دو انگوٹھیاں بنوانے کا اتفاق ہوا اور وہ دونوں انگوٹھیاں دو عورتوں کو دی گئیں۔ تھوڑے دنوں بعد وہ دونوں سخت تکلیف میں مبتلا ہوئیں۔ بہت علاج کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ روز بروز تکلیف بڑھتی گئی اور اس کا سبب معلوم نہ ہو سکا۔ آخر ایک روز مراقبے کے دوران یعنی حالت کشف میں ان دونوں انگوٹھیوںنے ہمارے سامنے شکایت کرنا شروع کی اور حد سے زائد گلے شکوے کیے کہ ہم کو بغیر طہارت استعمال کیا جاتا ہے اور ہماری حرمت ( پاکیزگی) کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جس کی وجہ سے ہم بہت اذیت میں ہیں‘ اور ان عورتوں کی بیماری کا بھی یہی سبب ہے۔ پس میں نے ان عورتوں کو انگوٹھیاں اتارنے کا حکم دیا اور جب ان سے لے کر احتیاط سے پاک و صاف جگہ پر رکھ دیا تب ان دونوں نے شفا پائی۔ پھر میں نے بہت تاکید اور سختی سے کہہ دیا کہ ان کو بغیر طہارت ہر گز نہ پہنا جائے۔ شرائط کی ادائیگی کے بعد ان انگوٹھیوں میں سے ایک نےجو شرف قمر سے متعلق تھی مصالحت کر لی لیکن جو شرف زہرہ سے متعلق تھی اس کو بمقابلہ اول شکایت زائد تھی وہ مصالحت کے لئے تیار نہ ہوئی چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد وہ گھر سے گم ہو گئی اور چند روز بعد اصحاب میں سے ایک کی جیب سے برآمد ہو ئی گویا وہ زنانخانہ میں رہنے پر راضی نہ تھی۔ لہٰذا وہ ضروتاً اپنے پاس رکھ لی گئی اور اس طرح ایک دوسرے شخص نے بھی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے استعمال کی احتیاط نہ برتی اس انگوٹھی نے بھی ہم سے شکایت کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جس روحانی ساعت میں وہ انگوٹھی بنائی جاتی ہے اس کی روحانیت ،کمال اور برکت اس انگوٹھی میں شامل کر دی جاتی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ ان تمام ستاروں کی روحانی طاقتیں فطری طور پر طہارت کی طرف مائل ہیں۔ یعنی جو شخص جتنا زیادہ پاک صاف رہے گا ، خوشبو کا اہتمام کرے گا، اسے ان ساعتوں کی اتنی ہی زیادہ تاثیر حاصل ہو گی۔ ( بحوالہ: حالات و واقعات و ملفوظات حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ــ ’’ القول الجلی‘‘ فی ذکر آثار الولی۔ صفحہ 213، 187۔ مئولف : حضرت مولانا محمد عاشق پھلتیؒ۔ شاکر پبلی کیشنزلاہور) 7 ستارے اور 12 برج پر اکابرینؒ کی تحقیق: حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ نے اپنی کتاب شمس المعارف میں لکھا ہےکہ برج 12 اور چاند کی منازل 28 ہیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَقَدْجَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجاًوَّزَیَّنّٰھَالِلنّٰظِرِیْنَ O ترجمہ : ’’ بالاشبہ ہم نے آسمان میں بروج بنائے اور دیکھنے والوں کے لئےانہیں خوبصورت بنایا( الحجر:16)۔ لفظ ’’بروج‘‘ برج کی جمع ہے جس کے معنی قلعہ کے بھی ہیں۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں: برج آسمان میں محل ہیں جیسے زمین میں محل ہوتے ہیں۔ اور علماء نے اس آیت تَبَارَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَاءِبُرُوْجاًO( الفرقان:61) کی تفسیر میں فرمایاہے کہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے والےستاروں کی تعداد سات اور ان کے مقام یعنی برج مہینوں کی تعداد کے برابر یعنی بارہ ہے۔ حمل۔ثور۔ جوزا۔ سرطان۔ا سد۔ سنبلہ۔ میزان۔ عقرب۔ قوس۔ جدی۔دلو۔ حوت۔ ان بارہ برجوں میں ستاروں کے مقام ہیں جو اس ترتیب سے ہیں۔ حمل اور عقرب ’’ مریخ‘‘ کے گھر۔ ثور ’’ زہرہ‘‘ کا گھر ہے۔ جوزا اور سنبلہ ’’ عطارد‘‘ کے گھر ہیں۔ اور سرطان ’’ قمر‘‘ کا گھر ہے۔ اسد ’’ شمس‘‘ کا اور حوت ’’ مشتری‘‘ کا اور جدی اور دلو ’’زحل‘‘ کے گھر ہیں۔ ( کتاب: شمس المعارف، حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بونی ؒ۔ صفحہ 59 ناشر: کتاب خانہ جمہوری اسلامی ایران)
علم نجوم کے بارے میں ایک مستند دارالافتاء کا فتویٰ

ایک مستند ادارے سے جب علم نجوم سیکھنے اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے بارےمیں سوال کیا گیا ‘انہوں نے اس سوال سے متعلق جو جواب دیا اس کالب لباب ملاحظہ کیجئے۔ علمِ نجوم (یعنی ستاروں اور ان کی گردش نیز اس کے نتیجے میں کائنات کے نظام میں رونما ہونے والے واقعات کا علم) سے دو کاموں میں مدد لی جاتی ہے، ایک حساب میں اور دوسرا استدلال میں۔علمِ نجوم سے شرعی اَحکام میں مدد لینا مطلوب و مستحسن ہے، مثلاً نماز کے اوقات معلوم کرنا، قبلہ کا رخ معلوم کرنا وغیرہ۔ علمِ نجوم سے ضروریات پوری کرنے کے لیے یا سہولت پیدا کرنے کے لیے مختلف تجربہ کرنا اور ان تجربوں کی روشنی میں استدلال کرنا بھی ایسے ہی جائز ہے، جیسے ایک طبیب کا صحت و مرض کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے انسانی نبض سے تجربہ کرکے استدلال کرنا جائز ہے۔البتہ علمِ نجوم کو دنیوی چیزوں یا واقعات میں مؤثرِ حقیقی سمجھنا یا اس طور پر استعمال کرنا جس سے لوگوں کے عقیدے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، یہ ناجائز ہے۔حاصل یہ ہے کہ علمِ نجوم کو شرعی اَحکام کی حد تک سیکھنا مطلوب و مستحسن ہے، دنیوی کاموں کے لیے سیکھنا مباح و جائز ہے، بشرطیکہ عقیدہ کی خرابی کا اندیشہ نہ ہو ۔ (حوالہ:دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ‘علامہ محمد یوسف بنوری ٹائون کراچی‘فتوی نمبر : 144012201279۔) اب قارئین آپ خود فیصلہ کریں کہ عبقری ان ستاروں اور ساعتوں کے ذریعے لوگوں کو کس کام پر لگا رہا ہے۔ عبقری خاص ساعتوں میں لوگوں کو شرک و بدعت کی بجائے قرآنی اور مسنون اعمال دے رہا ہے نہ کہ امت کو ایسے کاموں پر لگایا جا رہا ہے جس سے لوگ شرک و بدعت کی طرف جائیں جس کا خدشہ فتویٰ کے آخر میں بیان کیا گیا اورمنع کیا گیا ہے۔
یا حسیب سے امتحانات میں یقینی کامیابی

کچھ عرصہ پہلے ما ہنا مہ عبقری میں امتحان میں کا میا بی حا صل کر نے کا ایک وظیفہ شا ئع ہو ا ‘ جسے ہزاروں سٹوڈنٹس نے آزمایا اور اس کی بر کت سے امتحان میں بہترین نمبر حا صل کیے ۔جو لو گ عبقری وظا ئف پر اعترا ض کر تے ہیںکہ یہ خود سا ختہ ہو تے ہیں انہیں دیکھنا چا ہئے کہ یہ وظیفہ کہاں سے آیا ۔ حضر ت مولا نا مفتی دین محمد صا حب ؒفرما تے ہیں کہ اگر کسی طا لب علم کو نتیجہ امتحا ن کے با رے میں تشویش ہو تو وہ تین دن تک روزا نہ با وضو قبلہ کی طر ف منہ کر کے بیٹھے اور ایک ہی نسشت میں گیا رہ ہزا ر مر تبہ’’ یا حسیب ‘‘پڑھےتو ان شا ء اللہ نتیجہ حسبِ مرا د نکلے گا۔ (بحوالہ کتا ب : خز ینۃ الا سرا ر ‘صفحہ 35مصنف : مولا نا احمد علی بن شا ہ دوست پنجگوری ؒ نا شر : کتب خا نہ مجید ‘بو ہڑ گیٹ ‘ملتا ن ) قا رئین ! ہر سنی سنا ئی با ت پر یقین کر نا کہاںکی دا نش مند ی ہے ؟ہمیں چا یئے کہ اپنے اکا بر و اسلا ف سے بذاتِ خود آشنا ئی حا صل کر یں ۔ ان کے وظا ئف پڑھیں ‘ان کے عملیا ت آزما ئیں اور ما ہنا مہ عبقر ی کی طر ح پو رے معا شرے میں خیر وبر کت پھیلا نے کا ذریعہ بن جا ئیں۔ ہما رے اکا بر ین نے انہی وظا ئف کے ذریعے ہی زندگی کے قد م قدم پر اللہ جل شا نہ کی مد د حاصل کی تھی اور تو اور ۔۔ خود حضور سر ور کو نین ﷺ سے بھی قدم قد م پر جو دعائیں اور مسنو ن اعمال ثا بت ہیں ‘ان کا یہی مطلب ہے کہ انہوں نے بھی اسبا ب کی دنیا میں رہتے ہوئے مسبب ا لاسبا ب کی طر ف نگا ہ جما ئے رکھی ۔ یہی عبقری کا پیغا م ہے کہ اعمال سے بننے‘ اعما ل سےپلنے اور اعما ل کے ذریعے بچنے کا یقین ہما رے دلو ں میں پختہ ہو جا ئے۔
کیا سورۃ قریش صرف تلاوت کے لئے نازل ہوئی تھی؟

کچھ عرصہ پہلے ما ہنا مہ عبقری میں ایک عمل دیاگیا کہ ’’ہر کھا نے کے بعد تین مرتبہ سورہ قریش پڑ ھنے سے ان شا ء اللہ اس کھا نے سے سائیڈ ایفیکٹ (فوڈ پوائزن )نہیں ہو گا ‘ 7نسلوں میں رزق کی فراوا نی رہے گی اور انسان پر کبھی فا قہ نہیں آئے گا ۔ جو لو گ کہتے ہیں کہ عبقری میں خود سا ختہ وظیفے شا ئع ہو تے ہیں ‘ان کی خدمت میں گزا رش ہے کہ خدا را تھو ڑاسا وقت نکا ل کر اپنے ان اکا بر و اسلا ف کے متعلق شناسا ئی حاصل جرکریں ‘جن کے ذریعے دین منتقل ہو تے ہو تے ہم تک پہنچا ۔ان سب حضرا ت ِ ذی وقا ر رحمہم اللہ اجمعین نے دین کے ہر پہلو اور ہر شعبے کو نہایت دیانت دا ری سے ہم تک پہنچا یا اور اعما ل سے بننے ‘ اعمال سے پلنے اور اعما ل کے ذریعے بچنے کایقین ہمیں سکھایا ،صحا بہ کرا م رضی اللہ عنہم کے متعلق احا دیث میں آتا ہے کہ اعما ل کے ذریعے کا م بننے کا یقین ان کے دلو ں میں اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ اگر جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جا تا تو وہ پہلے اللہ جل شا نہ کی طرف رجو ع کر تے بعد میں با ز ار جا تے ۔ شیخ الوظائف رزق کی فراوانی ‘برکت و وسعت کے لئے جو سورۃ قریش پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں یہ عمل بھی ان کا خود ساختہ نہیں بلکہ اکابرینؒ سے ہی ثابت ہے۔سو رۃ قریش کا درج ذیل ایک خا ص الخا ص وظیفہ شیخ التفسیر مو لا نا احمد علی لاہو ری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مخلصین کو دیا کر تے تھے ‘جس پر نہ ہی تعدا د کے خود سا تخہ ہو نے کا فتو یٰ لگایا جا تا ہے اور نہ ہی یہ اعترا ض کیا جا تا ہے کہ سورۃ قریش تو تلا وت کیلئے نا زل ہو ئی تھی‘اس کا وظیفہ پڑھنا کہا ں ثا بت ہے ؟ حضرت مو لا نا احمد علی پنجگور ی صاحب فرماتے ہیں کہ : مرشد عا لم حضر ت الشیخ مو لا نا غلا م حبیب صا حب حمۃ اللہ علیہ کو حضر ت لا ہو ری رحمۃ اللہ علیہ نے تیر بہد ف وظیفہ عطا کیا۔ جس کے بارے میں شیخ ؒ فرمایا کرتے تھے کہ یہ وظیفہ درحقیقت ایک چیک تھا جو کیش کی صورت میں مجھے ملا۔اس کی برکت سے میں جو چاہتا مجھے مل جاتا اور حج کے موقع پر میں لاکھوں روپے راہ خدا میں خرچ کر تا۔وظیفہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد اول اخر ایک ایک مرتبہ درود شریف اور درمیان میں سات مرتبہ سورۃ قریش پڑھیں۔ (بحوالہ کتاب:خزینہ الاسرار ص59‘مصنف:مولانا احمد علی بن شاہ دوست محمد پنچگوریؒ‘ ناشر:کتب خانہ مجیدیہ‘ بوہڑ بازار‘ملتان)
مزارات سے فیض اور ہمارے اکابرؒ

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی رائے جانیے! شیخ الوظائف دامت برکاتہم اکثر فرماتے ہیں کہ ہم اولیاءؒ کے بعد از وصال فیض کے قائل ہیں اور تسبیح خانہ کے منبر سےاس بات کی ترغیب بھی دیتے ہیں کہ اولیاء کرام ؒکو اعمال کا ہدیہ بھیج کر ان سے فیض لیا جائے۔ بعض مخلصین علم کی کمی کی وجہ سے شیخ الوظائف کی اس بات پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔آئیے اس بات کی حقیقت ایک بڑے اور مایہ ناز عالم دین سےجانتے ہیںکہ بعداز وصال اولیاء سے فیض لینا حق اور سچ ہے یا یہ ایک مفروضہ اور دین متین سےگمراہی ہے۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے اپنے بھائی مفتی اعظم پاکستان رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے موقع پر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ چشمہ فیض، جس سے ہم نہال تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر بند کر دیا ہے۔ لیکن خوب سمجھ لیجئے کہ بزرگوںنے یہ کہا ہے اور اگر کوئی اسے کوئی غلط بناناچاہے تو بنائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی حیات میں فیض کا ذریعہ بناتا ہے ان کا فیض ان کی وفات کے بعد بڑھ جاتا ہے اور یہ بات میں نے سب سے پہلے اپنے حضرت والد ماجدؒ کی وفات کے موقع پر سنی۔ جب ہم غم سے نڈھال تھے اس وقت حضرت گنگوہی ؒ کے ایک مرید نے مجھ سےیہ جملہ فرمایا کہ’’ تم صدمہ نہ کرو ان بزرگوں کا فیض موت کے بعد بڑھ جاتا ہے‘‘۔میںنے یہ بات سنی تو فوری طور سے تو مجھے اچنبا ہوا کہ انہوں نے یہ کیا بات کہہ دی اور انہوں نےمزید فرمایا کہ یہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ ان اللہ والوں کا فیض انتقال کے بعد مزید بڑھ جاتا ہے ۔میں نےبعد میں جب غور کیا اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی یہ بات بزرگوں سے منقول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دینے والی ذات تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔کوئی مخلوق کسی دوسری مخلوق کو کوئی چیز عطا نہیں کر سکتی ۔استاد ‘ شیخ یا کوئی بڑا ہو وہ کسی کو خود سے اپنے اختیار سے کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اصل میں عطا کون کرتا ہے ؟وہ ایک اللہ جل جلالہ کی ذات ہے ‘ البتہ عطا کرنےکے لئے کسی کو واسطہ بنا دیتا ہے کہ عطا تو ہم کریں گے لیکن تمہارے استاد یا شیخ کو واسطہ بنا دیا ۔ اصل میںدینے والا تو اللہ ہی ہے لیکن ان کو واسطہ اور ذریعہ بنا دیا ہے۔ اگر زندگی میں انہیں فیض دینے کا ذریعہ بنایا ہے تواللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت اور رحمت سے کیا بعید ہے کہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کو فیض دینے کاواسطہ بنائے رکھے ۔بے شک کوئی انسان نہ زندہ کسی کو دے سکتا ہے اور نہ مردہ کسی کو دے سکتا ہے لیکن اللہ جس کو چاہے واسطہ بنا دے اور اس کے ذریعے مخلوق کو عطا کر دے۔ خاص طور پر ایسے بزرگ جیسے حضرت والا نور اللہ مرقدہ تھے کہ ان کی کتابیں ان کی تالیفات ان کی تصنیفات ان کے مواعظ دنیا میںپھیلے ہوئے ہیں۔ الحمد للہ وفات سے پہلے ہی سے پھیلے ہوئے تھے‘ ان کا فیض تو جاری تھا اور ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔اس واسطے یہ بات نہیں سوچنی چاہیےکہ ہم اس سر چشمہ فیض سے محروم ہو گئے ۔ بلکہ یہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جیسے انہیںزندگی میں واسطہ بنایا تھا اس طرح وفات کے بعد بھی ان کو واسطہ بنائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ’’ جب کوئی بندہ اپنے مرحوم کے لئےایصال ثواب کرتا ہے تو فرشتے ایک پیکٹ کی شکل میں اسے ان مرحومین تک لے کر جاتے ہیںاور انہیں بتاتے ہیں کہ یہ فلاں نے آپ کے لئے تحفہ بھیجا ہے تو اس سے ان مرحومین کو مسرت اور خوشی حاصل ہو تی ہے ۔اس لئے ایصال ثواب کے ذریعے مرحومین سے را بطہ رکھنا برحق ہے ۔ انہیں اعمال کے ہدیے بھیجنے سےاللہ تبارک و تعالیٰ انسان کو اجر بھی عطا فرماتے ہیں اور جس ہستی کو ایصال ثواب کیا جائے اس کے فیوض و برکات کو بھی ہدیہ بھیجنے والے کی طرف منتقل فرماتے ہیں ۔ قارئین !بعد از وصال فیض کے بارے میںایک با اعتماد عالم اسلام کی بہت بڑی علمی شخصیت کی رائے پڑھ کر فیصلہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف نے مخلوق خدا کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ اوراس کے حبیب ﷺ ‘ آل رسول و اصحابِ رسولﷺ ‘ اولیاء ؒاور اکابرینؒ کی دی ہوئی سچی راہوں سے روشناس کروایا ہے نہ کہ شرک اور بدعت کی ۔بعد از وصال اکابرؒ کے فیض کےمزید واقعات جاننے کے لئے شیخ الوظائف کی تصنیف ’’مزارات سے فیض اور ہمارے اکابر‘ؒ‘ کا مطالعہ کریں۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی اس ضمن میں مکمل گفتگو کی تفصیلات جاننےکے لئے اس لنک کو سرچ کیجئے۔
شیخ الوظائف ہر مکتبہ فکر کے علماء سے کیوں ملتے ہیں؟ آئیے حقائق جانتے ہیں!

مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت اجتماعیت میںہے۔ جب بھی اسلام کے خلاف کسی فتنے نے سر اٹھایا تو تمام مسالک کے دانا اور حکمت و بصیرت رکھنے والے علماء اور مشائخ نے اپنے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے یکجان ہو کر اس فتنے کا مقابلہ کیا ہے۔ تسبیح خانہ نے جہاں پوری دنیا میں لوگوں کو ا یمان ‘ اعمال والی زندگی کا راستہ دیا وہاں امت کو جوڑنے‘ ا مت میں رواداری کا مزاج بنانے اور دلوں کو ملانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خانقاہ تسبیح خانہ میںہر فرقہ ہر مسلک نہایت اطمینان کے ساتھ آتا ہے اور تسبیح خانہ ان کے دلوں میں توحید اور عشق مصطفیٰ ﷺکی شمع روشن کررہاہے۔ اسی سلسلے میںشیخ الوظائف ہر فرقے کے علماء کا احترام بھی کرتے ہیں اور ان سے وقتاً فوقتاً ملاقات بھی کرتے ہیں۔ اس چیز کو بعض لوگوں نے تنگ نظری کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس تنگ نظری کا سبب صرف اکابر سے دوری ہے، ذیل میں دیا گیا واقعہ پڑھئے اور اکابر پر اعتماد کیجئے تا کہ ہم سمجھ سکیں کہ دین کے کام کے لئے حکمتِ دین کتنی ضروری ہے۔ حضرت شاہ نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ختم نبوت سے متعلق یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ’’ایک بار حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کوملنے کے لیے حضرت شاہ صاحب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تو شیعہ رہنماء سید مظفرعلی شمسی رحمۃ اللہ علیہ بھی آگئے۔ بس مجلس لگ گئی۔ خوب بھرپور گفتگو جاری رہی۔ میں بھی جاکر ایک کونہ میں بیٹھ گیا۔ ان حضرات کی گفتگو سنتا رہا۔ شمسی صاحب چلے گئے تو شاہ صاحبؒ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر میرے ملنے سے، میرے ہاں آنے سے، حضرت رائے پوریؒ کی زیارت سے یہ لوگ امہات المومنین کو گالیاں نہ دیں تو میرا کیا نقصان ہے؟ اس کا نام حکمت ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ حضرت شاہ نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ شیعہ رہنماء سید مظفرعلی شمسی رحمۃ اللہ علیہ تقریر کررہے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے جاکر تھپکی دی۔ بس وہ شاہ صاحبؒ کی تھپکی سے شیر ہوگئے۔ جو شاہ صاحب ؒ کہناچاہتے تھے وہ شمسی صاحب نے کہہ دیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے ان کے منہ میں گویا اپنی زبان رکھ دی ۔ جوکہلواناچاہتےتھے ان مسالک کے رہنمائوں سے امیر شریعتؒ کہلوالیتے تھے۔یہ بڑی خوبی تھی آپ کی۔‘‘ (بحوالہ: لولاک ذیقعدہ ۱۴۲۳ھ)۔(ہفت روزہ ختم نبوت : یکم تا ۷ دسمبر 2022جلد ۴۱۔شمارہ نمبر:۴۵ ،صفحہ نمبر 24 )
یا رسول اللہﷺ اپنی امت کو ہڈیو ں کا ادب کر نے کا حکم جا ری فرما ئیں !

شیخ الوظائف روحانی محافل میں اونٹ اور دوسرے جانوروں کی ہڈیوں کو پھینکنے کی بجائے انہیں کسی صاف جگہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ یہ جنات کی غذا ہے۔ ایسے بے شمار لوگ جو فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے تھے انہوں نے جب یہ عمل کیا تو رب تعالیٰ نے ان کے رزق میں ایسی بے بہا برکت عطا فرمائی کہ وہ مالا مال ہو گئے اور انہوں نے بار ہا اپنے یہ مشاہدات تسبیح خانہ میں ہونے والی روحانی محافل میں بتائے۔ اس عمل کے بارے میں محد ثِ زما نہ ‘مفسر یگانہ ‘امام جلا ل الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتا ب میں حضور سرور کو نین ﷺکی احا دیث اور اکا بر ین ِ امت رحمہم اللہ کے چند اقوال پیش کیے ہیں ۔ملا خطہ فرمائیں ! حضر ت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : (مفہوم ) میرے لیے پتھر تلا ش کر کے لا ؤ تا کہ میں ان سے استنجا ء کروں اور فرما یا : میر ے پا س ہڈی اور لید وغیر ہ نہ لانا ۔میں نے عر ض کی : یا رسول اللہ ﷺ!ہڈی اورلید سے استنجا ء کیو ں نہیں ہوتا ؟ آپﷺ نے فرما یا :یہ دونو ں چیز یں (ہڈی اور گوبر ) جنا ت کی غذا ہیں ۔ میر ے پاس نصیبین کے ایسے جنا ت کا وفد آیا جو نیک تھے ‘ انہوں نے مجھ سے زادِرا ہ طلب کیا تو میں نے ان کیلئے اللہ تعالیٰ سےدعا ما نگی کہ جنا ت کسی ہڈی اور لید کے پا س سے جب بھی گزریں تو اس پر اپنی غذا مو جو د پا ئیں ۔(صحیح بخا ری ،با ب منا قب الانصا ر ) حضر ت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنا ت سے ملا قا ت وا لی را ت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ۔ آپ ﷺ نے جنو ں سے کہا : ہر وہ ہڈی تمہا ری غذا ہے ‘ جس پر اللہ تعالیٰ کا نا م لیا گیا ہو ‘(یعنی حلا ل ذبیحہ اور قربا نی کے گوشت کی تما م ہڈیا ں اس میں شا مل ہیں)(بحوالہ ؛مسند احمد ‘صحیح مسلم ‘ ترمذی ) حضر ت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے رو ایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جنات کا ایک وفد آیا اور کہنے لگا :یا رسول اللہﷺ !اپنی امت کو حکم دے دیجئے کہ ہڈی ‘لید اور کو ئلے سے استنجا ءنہ کریں ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں ہما را رزق مقررکیا ہو ا ہے (سنن ابو داؤد۔کتا ب الطہا رۃ) اما م بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں کہ جنا ت جب گوبر کا ٹکڑا اٹھا تے ہیں تو وہ ان کیلئے چھوہا رہ بن جا تا ہے اور جب کو ئی ہڈی اٹھا تے ہیں تووہ گوشت سے بھر جا تی ہے (بحوالہ :دلا ئل النبو ۃ) بحوالہ کتا ب :لقط المر جا ن فی احکا م الجا ن ‘صفحہ 65مصنف :علا مہ جلا ل الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نا شر : مکتبہ بر کا ت المدینہ ‘کرا چی ۔دوسرا حوالہ :جنو ں کے حا لا ت ‘نا شر:مکتبہ حنفیہ ‘گنج بخش رو ڑ لاہور۔
مجرمانہ حاضری اور بندش توڑ لاہوتی عمل کی خاص ہیبت کہاں سے ثابت ہے؟

محترم قارئین! کچھ عمل ایسے ہیں جن کیسا تھ خاص ہیئت اور انداز کو اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت پہلے تین چکروں میں مرد کیلئے رمل کرنا یعنی شانے ہلاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں چلنا یہ ہیئت طواف کا حصہ ہے۔ جب دعا مانگی جاتی ہے تو ہاتھوں کو اٹھا کر مانگنے کی کیفیت بنائی جاتی ہے اس انداز سے مقصود اللہ کے سامنے سوالی بننا ہوتا ہے۔اسی طرح کچھ وظائف جو اولیا ءصالحین سے منقول ہوتے ہیں ان میں بھی ایک خاص انداز اور ہیئت کا ہونا اس عمل کی تکمیل کیلئے ضروری ہوتا ہے تا کہ عمل کی مکمل تاثیر پاسکیں ۔ عمل کے دوران خاص ہیئت کو اختیار کرنے کی دلیل میں اکابرین کے چند حوالے پیش کیے جارہے ہیں۔عمل کے دوران شہادت کی انگلی سر کے گرد گھمانا اور پھر تالی بجاناتو اپنی انگشت شہادت کو اپنے سر کے چہار جانب گھماتے ہوئے 7 مرتبہ سورۂ والضحیٰ پڑھے پھر ایک مرتبہ ” أَصْبَحْتُ فِي آمَانِ اللهِ وأَمْسَيْتُ فِي جَوَارِ الله . أَمْسَيْتُ فِي آمَانِ اللهِ أَصْبَحْتُ في جوار الله” پڑھ کر 3 مرتبہ تالی بجائے ۔ اس عمل کے دوران گھوئی ہوئی چیز کا تصور ذہن میں رکھے ان شاء اللہ بہت جلد وہ چیز مل جائے گی ۔ نہایت مجرب عمل ہے۔ (بحوالہ: تالیف: گنجینه اسرار، بیاض: حضرت مولاناسید محمد انور شاہ کشمیری، ناشر : بیت الحکمت یوپی، انڈیا صفحہ نمبر :۶۰) پیٹ پر انگلی سے دائرہ بنائیں اور عمل کریں: اولادنرینہ کیلئے جمل ٹھہرنے کے بعد عورت کے پیٹ پر انگلی سے ۷۰ مرتبہ گول دائرہ لگائیں اور ہر دائرہ کیسا تھ یا متین پڑھیں۔(فتوی نمبر 29195، دار الافتاء جامعہ بنوریہ) عمل کے دوران مٹھی بند کرنا اگر کسی ایسے شخص یا حاکم کے پاس جارہا ہو جس سے کسی شر کا اندیشہ ہو تو جاتے وقت کھیعص حمعسق اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر حرف پر اپنی انگلیاں بند کرتا جائے۔ ابتدا اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے سے کرے اور ختم اپنے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر کرے۔ دونوں لفظ ملا کر 10 حرف ہوئے۔ جب اپنی دسوں انگلیاں بند کر چکے تو اپنے دل میں سورہ فیل پڑھے اور جب لفظ ” ترمیم پر پہنچے تو اسے 10 مرتبہ پڑھے اور ہر مرتبہ اپنی بندانگلیاں کھولتا جائے۔ ان شا اللہ اس عمل کے بعد اس شخص کے شر سے محفوظ رہے گا، مجرب ہے۔ (بحوالہ: تالیف: گنجینه اسرار، بیاض: حضرت مولاناسیدمحمد انور شاہ کشمیری، ناشر: بیت الحکمت یوپی، انڈیا صفحہ نمبر ۸۲) پیشانی کے بال پکڑ کر عمل اگر کوئی غلام سرکش ہو تو اسکے پیشانی کے بال پکڑ کر اس آیت کو 3 مرتبہ پڑھ کر اس پر دم کرے انشا اللہ فرمانبردار ہو جائیگا۔ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ – مَا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ اخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ( تالیف: گنجینه اسرار، بیاض: حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، ناشر: بیت الحکمت یوپی، انڈیا، صفہ نمبر : ۸۸)نیز درج ذیل دعا پڑھ کر بیوی کی پیشانی کے بال پکڑ کر برکت کی دعا کرے: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِهَا وَشَرِ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ” (سنن لابی داؤد، باب فی جامع النکاح، رقم الحدیث 2160) سورہ یس کا عمل اور ہاتھوں کو خاص انداز سے بند کرنا اور کھولنا سورۃ یس مع بسم اللہ کے اس ترکیب سے پڑھے کہ جب پہلے مبین پر پہنچے تو داہنے ہاتھ کی چھنگلی بند کر لے۔ پھر شروع سے سورہ یس پڑھے اور دوسرے مبین پر پہنچے تو اسکے برابر والی انگلی بند کر لے۔ پھر سورہ یس شروع سے پڑھے اور جب تیسرے مبین پر پہنچے تو درمیان کی انگلی بند کرلے۔ پھر شروع سے پڑھے اور جب چوتھے مبین پر پہنچے تو شہادت کی انگلی بند کر لے۔ پھر شروع سے پڑھے اور جب پانچویں مبین پر پہنچ تو انگو ٹھے کو زور سے بند کر لے جیسے کہ گھونسہ بند کرتے ہیں۔ پھر سورہ یس ابتدا سے پڑھنا شروع کرے اور جب چھے مین پر پہنچے تو بائیں ہاتھ کی چھنگی بند کر لے۔ پھر شروع سے پڑھے جب ساتویں مبین پر پہنچے تو اس سے برابر والی انگلی بند کر لے۔ جب ساتویں مبین ختم کرلے تو پھر سورہ یس پڑھنا شروع کرے اور پہلے مبین پر بائیں ہاتھ کی چھنگلی کے برابر والی انگلی کھولے۔ دوسرے مبین پر بائیں ہاتھ کی چھنگلی کھولے۔ اور تیسرے مبین پر داہنے ہاتھ کا انگوٹھا اور چوتھے مبین پر شہادت کی انگلی کھولے اور پانچویں مبین پر درمیان کی انگلی کھولے اور چھٹے مبین پر اس سے برابر کی انگلی کھولے۔ اور ساتویں مبین پر چھنگلی کھول کر پوری سورہ یس پھر پڑھے اور جب بھی سورہ یس پڑھنا شروع کرے تو اس طرح پڑھے یسین صلی اللہ علیہ وسلم والقرآن الحکیم الخ ۔ پھر اپنے مقصد کیلئے دعا کرے انشا اللہ اس عمل کی برکت سے تمام مقاصد پورے ہو جا ئینگے ۔ ( تالیف: گنجینه اسرار، بیاض: حضرت مولانا سید محمد انورشاہ کشمیری، ناشر : بیت الحکمت یوپی، انڈیا صفحہ نمبر ۴۲، ۴۳) عمل کے دوران انگشت شہادت سے ضرب لگانا بعد نماز ظہر اوّل و آخر 3 بار درود شریف پڑھ کر سورہ قریش مکمل پڑھے اور آمنهم من خوف درمیانی انگشت شہادت کی اس یقین کیسا تھ کہ دشمن کے قلب پر ضرب لگا رہا ہوں، انگشت شہادت کو زور سے حرکت دے، بیل اکسیر و تیر بہدف ہے۔اسی صفحہ پر چوروں سے حفاظت کا ایک عمل لکھا گیا ہے جس میں عمل کر کے چہار جانب تالی بجائی جائے۔ ( تالیف: گنجینه اسرار، بیاض : حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، ناشر : بیت الحکمت یوپی، انڈیا، صفحہ نمبر : ۲۷،۲۶) قارئین شیخ الوظائف اپنے اکابر کی ترتیب پر چلتے ہوئے ان اعمال کے ذریعے مخلوق کے اللہ سے مانگنا اور اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور جھکنا سکھا رہے ہیں تا کہ جب بھی کوئی مشکل پریشانی آئے تو ہماری پہلی نظر اللہ تعالیٰ پر جائے۔
رجال الغیب فوراً آپ کی مدد کو پہنچیں بس یہ مسنون دُعا پڑھ لیں

محترم قارئین اتسبیح خانہ میں ایک نہایت پر تاثیر عمل بیان کیا گیا جسکی سند اور فضیلت درج ذیل ہے ۔ احادیث میں اس عمل کا ثبوت عتبہ بن غزوان نبی پاک سلام سے نقل کرتے ہیں کہ جب تمہارا کچھ گم ہو جائے (سواری یا زادِ راہ) یا تم کو ایسے مقام میں جہاں کوئی مددگار نہ ہو اور تم کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو کہو۔يَا عِباد الله اعینونی ۔ ترجمہ : اے اللہ کے بندے میری اعانت کرو۔ سو اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے اور وہ مدد کرتے ہیں اور یہ مجرب ہے۔ (مجمع الزوائد : ۱۰ / ۱۳۲) طبرانی نے عتبہ بن غزوان کی حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے کہ جب تمہارا کچھ کم ہو جائے یا تم کو مدد کی ضرورت پڑ جائے اور وہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہو تو تین مرتبہ آواز دو يَا عِبَادَ اللهِ آعِینُونی ۔ ترجمہ : ” اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جن کو تم دیکھتے نہیں ہو“۔ (الفتوحات : ۱۵۰/۵،حصن: ۲۸۳)بزرگان دین کا اس عمل کی تائید کرنا اس کے بعد بندے نے عرضداشت کی کہ یہ دعا کس طرح ہے جو لوگ مانگا کرتے ہیں کہ اعینونی یا عباد الله محکم اللہ ”اے اللہ کے بندو میری مددکر و خدا تم پر رحم کرے۔ بندے کا مقصد اس سے یہ تھا کہ غیر خدا سے مدد مانگنا کیسا ہے؟ ارشاد ہوا کہ یہ دعا مانگی جاتی ہے اور اس میں عبا والله المسلمین و المخلصین اللہ کے مسلمان اور مخلص بندے مضمر ہے۔ اور جائز ہے کہ یہ دعا پڑھیں اور بزرگوں نے بھی پڑھی ہے۔ فرمایا کہ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اللہ علیہ بھی یہ دعا پڑھتے تھے۔ تصنیف: فوائد الفواد، ملفوظات: حضرت نظام الدین اولیاء مرتب: خواجہ امیر علاسنجری، ناشر: منظور بک ڈپو، دہلی ،صفحہ نمبر: ۳۴۹) چنانچہ ابن حجر ہیثمی نے نقل کرنے کے بعد اسے مجرب کہا، ابن حجر نے ایضاح المناسک کے حاشیہ میں طبرانی کی اسی حدیث کو نقل کرنے کے بعد اسے مجرب کہا، ابن علان مکی نے الفتوحات میں اسے مجرب کہا اور اپنے شیخ ابوالبر سے مجرب ہونا نقل کیا ہے، محدث قنوجی نے نزل الابرار میں اسے مجرب کہا اور اور خود اپنا واقعہ نقل کیا کہ مجھے بھی مرزا پور جیل پور کے درمیان ایسی مصیبت پیش آئی کہ دریائی طوفان میں گھر گیا سو اللہ پاک نے اس کی برکت سے نجات دی۔ خیال رہے کہ یہ عمل کتب معتبرہ سے ثابت ہے۔ طبرانی، بزار، مجمع الزوائد، این سن، اذکار نویسی، نزل الا برار، حصن حصین کے مؤلفین نے ذکر کیا ہے۔ عتبہ، ابن عباس اور ابن مسعودؓ سے یہ روایتیں ثابت ہیں۔ صاحب مجمع الزوائد نے رواۃ کو ثقات اور بعض روای کو ضعیف قرار دیا ہے، ابن علان نے الفتوحات میں اسے حسن کہا ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے اسے مجرب نقل کیا ہے۔ لہذا اگرکسی مقام پر نا گہانی مصیبت یا حادثہ میں پھنس جائے یا کسی مد دو تعاون کی ضرورت ہو یا منزل بالکل بھول جائے اور اس پریشانی کا سوائے ہلاکت کے کوئی علاج نظر نہ آرہا ہو تو یہ عمل اختیار کرے، مشائخ اور محدثین کا مجرب عمل ہے۔
مخصوص ساعت میں ناراضگی ختم کرنے کا خاص عمل

اعمال سے بنے ، اعمال سے پلنے، اعمال سے بچنے کا یقینیعنی ہماری دنیا و آخرت اعمال ہی کی برکت سے سنورے گی عبقری کے اس آفاقی پیغام پر بعض نا سمجھ لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا وظائف کے سہارے بھی کبھی زندگی گزری ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد دلیل یہ نے اپنے دور میں اعمال سے بنے کا یقین کس طرح عام کیا۔ ناراضگی ختم کرنے کیلئے خاص وقت میں خاص عمل :جس عورت کا خاوند اس سے ناراض ہو یا اس پر توجہ نہ کرتا ہو مولانا رشید احمد رحمة الله علیہ اس عورت کیلئے 100 مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنے کا عمل بتا یا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ عمل ٹھنڈے وقت میں کیا جائے، یعنی بعد نماز فجر یا بعد نماز عشاء۔ ( بحوالہ کتاب: عملیات اکابر ،صفحہ 14 مصنف: سید نفیس الحسینی شاہ صاحب ایملی ) ناشر: مکتبہ سلطان عالمگیر ۵ لوئر مال اردو بازار لاہور ) قارئین ! غور کریں کہ مولانا رشید احمد رحمة الله علیہ نے اس چھوٹے سے عمل کی تعداد بھی مقرر کی ہے اور ساعت یعنی ایک خاص وقت کی پابندی بھی لگائی ہے۔ یہی عمل جب ماہنامہ عبقری سے مخلوق خدا کی خیر خواہی کے جذبے سے شائع ہوتا ہے تو اعتراض کرنے والے یہ بتائیں کہ حضرت طلایی لالہ جیسی فخر المحدثین ہستی کی بات مانی جائے گی یا اسلاف واکابر سے بیزار بے بنیاد اعتراض کرنے والے لا علم لوگوں کی؟