درود تاج تعلیمات اکابر کی روشنی میں ہر پریشانی کا حل

ہر شخص کی اپنی فیلڈ ہوتی ہے اور اسی میں وہ ماہر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ ہر بندے کو ہر ہر علم میں مہارت ہو ”عبقری“ کا موضوع بذریعہ اعمال لوگوں کو سکھ پہنچانا ہے اور ”عبقری“ کے ہر عمل کے پیچھے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بر کی مہر لگی ہوتی ہے۔۔۔! ابھی کچھ دنوں پہلے ”عبقری رسالے میں درود تاج کاذکر آیا تواکابر کی تعلیمات سے نا آشنا دوستوں کیلئے مناسب معلوم ہوا کہ کچھ اکابرکی تعلیمات کی روشنی میں لکھ دیا جائے: حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے درود تاج کی اجازت: (2) ۔ ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میری والدہ درود تاج بڑے شوق سے پڑھتی تھیں کسی نے ان سے کہا کہ امام اولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ تو اس کے قائل نہیں ہیں میری والدہ نے حضرت لاہوری سے عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ ذوق و شوق اور محبت میں پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ دافع البلاء والوباء کو اس معنی میں پڑھا جائے کہ حضور صلی صلی اللہ علیہ وسلم بالا و باکے دور رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں فائل حقیقی اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم وسیلہ اور واسطہ ہیں ۔ تائید میں پھر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے دلائل الخیرات شریف کا حوالہ دیا کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء صفاتی میں کاشف الکرب“ موجود ہے اور تمام اکابر اس کے پڑھنے کی با قاعدہ اجازت دیتے ہیں جب وہاں با تاویل جائز ہے تو یہاں بھی با تاویل جائز ہی ہے۔ (ہفت روزہ خدام الدین، امام الاولیاء حضرت لاہوری نمبرص 324 ، اشاعت 1979)حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (1) مولانا حکیم محمد یسین خواجہ صاحب رحمہ اللہ موضع کرم علی والا ملتان نے اپنی کتاب بیاض مدنی ضمیمه شمس المعارف جو کہ دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں آپ نے درودتاج کی بڑی برکات لکھی ہیں اور اپنے مشائخ کی پوری سند بھی لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ صبح و شام سات سات بار درود تاج کا پڑھنا بلندی درجات کیلئے مجرب ہے، اسی طرح بیمار حضرات کیلئے پانی وغیرہ پر دم کر کے پلانا شفاء دیتا ہے۔ بہت لوگوں کو اس کا تجربہ ہے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور وہ زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے ہیں۔ اکابر کے یہاں درود تاج کی سند : نقل از کتاب محاسبة الاعمال ص 5 ، 6 مؤلف : مفسر قرآن پیر طریقت مولانا محمد عبد اللہ صاحب بہلوی رحمہ اللہ کو 29 جمادی الاول 1390ھ بروز پیر 3/8/1970 مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم نے دورہ حدیث پاک کے وقت طالب علمی کے زمانے میں عطیہ دیا تھا اور ان کو اس درود پاک کی اجازت حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دار العلوم سے با واسطہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب سے ملی۔ (بحوالہ کتاب بیاض مدنی ضمیمه شمس المعارف ص 627، مرتب مولانا حکیم محمد یسین خواجہ صاحب موضع کرم علی والا ملتان، ناشر : دارالاشاعت کراچی) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (3) محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں اگر کسی کا ذوق و شوق اس ( درود تاج) کے پڑھنے کا ہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن وہ جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال ہیں ان کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال مجاز آدرست ہے، آپ سلیم کو وسیلہ و واسط سمجھ کر تو گنجائش نکل سکتی ہے، اگر حقیقتا ان کے معانی مراد نہ ہوں، بلکہ مجاز امراد ہوں تو شرک نہ ہوگا ۔ ( فتاوی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر :143908200078) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دارالافتاء کی طرف سے درود تاج کی اجازت: (4) – مفتی سیف اللہ جمیل صاحب رئیس دارالافتاء جامعہ بنوریہ اور مفتی نادر جان صاحب نائب رئیس دارالافتاء جامعه بورسیه، درود تاج ، درود ماهی، درود مستجاب ، درود اکبر، درود تنجینا ، درد دکھی ، دعائے گنج العرش ان تمام درودوں تفصیل کیلئے دیکھیں فتوی نمبر 19558، تاریخ 20/6/2013 دار الافتاء جامعہ عالمیہ بنوریہ سائٹ کراچی)اور دعاؤں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے۔محترم قارئین! عبقری کے وطائف خود ساختہ نہیں۔۔۔ بلکہ ہمیں اپنے اکا بر کے دامن سے جڑنے کی ضرورت ہے۔(تحریر : مولانا ابوعون محمد جبلی صاحب ، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) !
میت کو خیر پہنچانے میں جلدی کریں

شیخ الوظائف دامت بر کاتہم کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مخلوق تکلیف پریشانی ، مصیبت سے بچ جائے اور اسے راحت ،سکون اور عافیت نصیب ہو یہی وجہ ہے کہ آپ اکثر اپنے دروس میں اسی خیر خواہی کو بیان کرتے ہیں کچھ عرصہ قبل آپ نے لوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک میت کو غسل کفن نہ دے دیا جائے تو اس وقت تک میت کو ایصال ثواب کرنا یا اس کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرنا غلط ہے ۔۔۔! آپ نے فرما یا ایصال ثواب میں دیر نہیں کرنی چاہیے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اب سب سے زیادہ ضرورت اسے اعمال کی ہے۔۔ افادہ عام کیلئے اہل علم حضرات کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں : بنوری ٹاؤن کا فتوی: میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآن مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے زبانی تلاوت کی جائے ، اور اگر میت کو کپڑے سے ڈھانکا نہ گیا ہو تو پھر غسل دینے سےپہلے میت کے قریب تلاوت کرنا مکروہ ہے، البتہ تسبیح وغیرہ پڑھی جاسکتی ہے۔ اور میت کو غسل دینے کے بعد خواہ میت کے قریب تلاوت کی جائے یا دور ، بہر صورت جائز ہے، نیز میت جس کمرے میں ہو اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں بیٹھ کر تلاوت کرنا بھی بلا کراہت جائز ہے۔ (فتاوی شامی 193/2، کتاب الصلوۃ ، باب صلاة الجنازة ، ط ؛ سعید ) فقط واللہ اعلم ۔ ( فتوی نمبر : 144012201302 علامہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کا فتویٰ: میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآن مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے محض زبانی تلاوت کی جائے۔( بحوالہ آپ کے مسائل اور انکاحل )دار العلوم کا فتوی: میت کو غسل دینے سے پہلے اُس کے پاس آہستہ قرآن پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ (فتوى نمبر 146655)محترم قارئین تسبیح خانہ کا پیغام سراسر محبت اور خیر خواہی کا ہے جسے تسبیح خانہ سے جڑا ہر شخص جانتا ہے اور اس کے ہر ہر پیغام کے پیچھے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بر کی مہر ثبت ہے۔ ( مولانا محمد عمر صاحب بھکر)
اکابر پر اعتماد نہیں تو کچھ نہیں

اس پرفتن دور میں ابنائے زمانہ کو دو حرف کی شناسائی حاصل ہونے لگے تو اپنے آپ کو عقل کل سمجھ کر مسلم اور طے شدہ مسائل پر طبع آزمائی کرنے لگتے ہیں اور خودی کے ک خول میں بند ہو کر اکابر پر بد گمانی کو جدید تحقیقات کا حصہ سمجھتے ہیں۔۔۔ ! خود میری ذات بھی اسی خول میں بند تھی اکا بر پر اعتماد بیج نے میرے اندر سے اس بے اعتمادی کے زنگ کو کھرچ کر ایسی بے حسی سے بچایا ہے جس کا احساس شاید مجھے آخری دم تک نہ ہوتا۔۔۔! اور میں اکابر کے فیوض و برکات سے مستفید نہ ہوسکتا۔ میں بطور ایم فل اسکالراکابر پر اعتماد بیج کے ذریعے اکابر سے جڑنے کے بعد اپنے من میں اکابرکیلئے محبت کے جو چشمے پھوٹتے دیکھتا ہوں اس کو الفاظ کا پیرا ہن نہیں دے سکتا۔ اس پیج کو دیکھنے سے پہلے جو قول واقوال دل اثر نہیں کرتے تھے یعنی ضعیف معلوم ہوتے تھے اب وہ صرف جسم پر ہی نہیں بلکہ روح کو بھی ہر پل جھنجوڑ رہے ہیں اور آج مجھے آپ صلى الله عليه وسلم کے اس ارشاد پاک کی حقیقت سمجھ میں آئى که برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہےمیرے مشاہدے کے مطابق آج ہماری زبوں حالی کی وجہ میرے جیسے غافل لوگ ہیں جو کہ اپنے اکا بر سے بیزار ہیں ۔۔۔! ایسے دوستوں سے میں نہایت ہی اداب کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ اکا بر پر اعتماد بیج کے ذریعے اپنے اندر سے بدگمانی ، شک جیسی بیماریوں کا علاج کریں۔ یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے جو کہ انھوں سے شاید اسی کرب و الم سے لکھا ہے کہ اے مسلمان تیری بر بادی، تیری غلامی کا نتیجہ اکابر سے ہٹنا، اور فرقوں میں بنٹنا ہے۔۔۔!ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں اپنے اسلاف کی کوئی ادا یاد نہیں ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں. آخری بات : سوشل میڈیا پر موجود اپنے تمام دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اپنے اکابر پر اعتماد کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اشد ضرورت ہے وگر نہ قدم قدم پر گمراہی کے اڈے ہیں کسی بھی جگہ انسان پھسل سکتا ہے خود بھی ا کا بر پر اعتماد کا دامن تھامے رکھیں اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں ۔ اکابر کی تحقیقات و تعلیمات سے کبھی انکار و انحراف نہ کریں اور نہ کبھی ان کے دامن کو چھوڑیں کیونکہ ہمارے علم وفن، دیانت وامانت کی انتہا بھی ان کے علم و حکمت کی ابجد کو نہیں چھو سکتی، اکا بر پر اعتماد میں ہی ہماری نجات ہے اور اسی میں ہمارے لیے خیر و برکت ہے . (محمد قاسم متین ایم فل ، اسکالر، پنجاب یونیورسٹی)۔۔
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کی جن سے پر اسرار ملاقات سے

علامہ لاہوتی صاحب کی جنات سے ملاقات کو کہانی اور افسانہ کہنے والے لوگ دراصل تعلیمات اکابر سے نا آشنا ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے اکا بر کی زندگی کو پڑھنے کیلئے کچھ نہ کچھ وقت ضرور فارغ کریں۔۔۔! ذیل میں تاریخ کی ایک بہت بڑی علمی ہستی کی ”جن“ سے ملاقات کا حیرت انگیز واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ایک ”جن“ سے قندھاریہ میں ملاقات ہوئی ، وہاں کسی شخص کے اوپر جن کا اثر تھا اور وہ شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود قرآن شریف پڑھتا اور مسائل و علوم معارف بیان کرتا، اور جب ” جن کا ارختم ہوجاتا تو وہ شخص اسی طرح جاہل ہو جا تا تھا۔ ایک مرتبہ جب میں صبح کی نماز کے بعد اس شخص سے ملا تو اسکی ایسی حرکات تھیں جو ہوش والے انسان کی نہیں ہوتیں جیسے مدہوش ہو، جب وہ شخص بیٹھا تو اس کی آنکھیں اوپر کی جانب چڑھ گئیں ، پتلیاں بالکل غائب ہوکر سفیدی رہ گئی ، اس کی آنکھیں دیکھ کر ڈر محسوس ہوتا تھا، کچھ دیر میں اس کا سانس چلا اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گیا، جب وہ اٹھا تو اس کا سانس ٹھکانے نہیں تھا، پھر وہ بولنا شروع ہوا، اس کی آواز میں ایک ڈراؤنا پن تھا، اس جن نے مجھے سلام کیا ، میں نے وعلیکم السلام کہا۔ اس ”جن“ نے معانقہ کرنا چاہا۔ میں نے کہا اناللہ وانا الیہ راجعون ، میں ”جن” سے کیا معانقہ کروں؟ لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس جن سے معانقہ کیا ، وہ جن بیٹھ گیا۔ اس جن کا نام پوچھا تو اس نے عباس سے ملتا جلتا کوئی نام بتایا۔ میں نے کہا آپ کہاں رہتے ہو؟ تو اس ”جن“ نے بمبئی کے قریب ایک جزیرہ کا نام بتایا۔ میں نے کہا آپ اس شخص کو کیوں ستاتے ہو؟ وہ جن“ کہنے لگا اس شخص کو مجھ سے اور مجھے اس سے تعلق ہے جب میں اس کے پاس نہیں آتا تو یہ مجھے ڈھونڈتا ہے۔ میں نےجن“ سے کہا آپ ہمیں کیا نفع پہنچا سکتے ہو؟ کہ ہم نے آپ جنات کو بہت نفع پہنچایا ہے ۔ وہ جن کہنے لگا : وہ کس طرح؟ میں نے اس جن سے کہا : آپ لوگ ہمارے شاگرد ہو، دار العلوم میں ہمارے بزرگوں سے ”جنات“ نے علم حاصل کیا ہے ، اور مولانا یعقوب صاحب کے زمانے میں جنات ظاہر بھی ہوئے تھے، آپ جنات“ ہمارے استاذ اور شاگرد بھی ہیں شاگرد اس طرح کہ دار العلوم میں پڑھا ہے اور استاذ اس طرح کہ شاہ ولی اللہ نے حدیث الجن کو نے قاضی جنات سے نقل کیا ہے ۔ پھر میں نے اس جن سے کہا تم دار العلوم کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہو؟ وہ ”جن“ خاموش رہا ہو کر بیٹھ گیا ۔ لوگوں نے اس جن سے پوچھا کہ تو خاموش کیوں ہو گیا تھا۔ وہ ”جن“ کہنے لگا: مجھے اس وقت کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ ( خطبات حکیم الاسلام ج 7 ص 258، حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ناشر: مکتبہ امدادیہ ملتان ) محترم قارئین! ایک بات یادرکھیں اکابر کی زندگی علم اور عقل سے نہیں ادب سے سمجھ میں آتی ہے جو چیز ہماری سمجھ میں نہ آئے ہم اس پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتوں کا انکار کر کے نشانہ تو سارا کا سارا ہمارے اکابر پر ہی پڑتا ہے۔۔۔!
بغیر شملہ کے عمامہ ۔۔۔ تعلیمات اکا بر کی روشنی میں

میں نے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی زندگی کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے اللہ کے فضل وکرم سے آپ کی زندگی کا ایک ایک پہلو شریعت کے سانچے اور تعلیمات اکابر کی طرز زندگی میں ڈھلا ہوا ہے ۔ میں نے جہاں تک دیکھا آپ کی زندگی میں کوئی ایک پہلو بھی اکابر کی زندگی سے ہٹ کر نہیں پایا۔ عمامہ کے بارے میں موجود روایت پر تفصیلی نگاہ کرنے کے بعد علمائے کرام اور فقہائے عظام نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عمامہ کا شملہ سن زوائد میں سے ہے یعنی شملہ کا رکھنا اور نہ رکھنا دونوں طرح ٹھیک اور جائز ہے ذیل کی تفصیل سے یہ بات آپ کو با آسانی سمجھ میں آجائے گی : علمائے کرام فرماتے ہیں کہ شملہ چھوڑنے کی کوئی پابندی نہیں ہے اور شملہ ضروری نہیں ہے ۔ (1)۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ : دار الافتاء بنوری ٹاؤن کے مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ شملہ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے دونوں کے بارے میں کوئی پابندی نہیں، دونوں ہی طرز درست ہیں ۔ عمامے کے کپڑے کے بارے میں کسی قسم کی تعیین احادیث میں وارد نہیں، جو کپڑا میسر ہو، عمامہ باندھا جا سکتا ہے۔(فتوی نمبر :143610200037)(2)۔ امام نووی کا فتوی: شارح صحیح مسلم امام ابوز کر یا محی الدین کو وی رحمہ اللہ اپنی کتاب ” المجموع شرح المھذب میں عمامے کے شملے کے متعلق لکھتے ہیں کہ عمامہ شریف کا شملہ لٹکانا اورنہ لٹکانا دونوں برابر ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرنا مکروہ نہیں ہے ( یعنی نہ عمامہ کا شملہ لڑکانے میں کوئی کراہت ہے اور نہ ہی ترک کرنے میں کوئی کراہت ہے ) ( الجموع شرح المھذب، ۴۵۷/۴) (3)۔ دارالعلوم کا فتوی (انڈیا): آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمامہ کے دو شملے چھوڑنا ، ایک شملہ چھوڑنا اور بغیر شملہ چھوڑے عمامہ باندھنا ہر طرح ثابت ہے، پس تینوں طریقوں پر عمامہ باندھنا مسنون ہوگا : وقد ثبت فى السير بروايات صحيحة أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم كان يرخى علامته أحيانا بين كتفيه وأحيانا يلبس العمامة من غير علامة فعلم أن الإتيان بكل واحد من تلك الأمور سنة(مرقاة: ۲۵۰/۸ بحوالہ فتوی نمبر 9848) (4) ۔ شیخ علامہ عبدالحق دہلوی کا فتوی: حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شملہ لڑکا نا مستحب اور سنن زوائد( یعنی سنت غیر مؤکدہ) میں سے ہے۔ اسے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر شملہ ص ۳۹ ملخصا) (5)۔ حضرت مولانا احمد رضا خان رحمہ اللہ کا فتویٰ: حضرت مولانا احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: عمامہ کا شملہ رکھنا سنت عمامہ کی فرع اور سنت غیر مؤکدہ ہے۔ ( یعنی ضروری نہیں ہے اگر کوئی شملہ نہ رکھے تو گناہ گار نہیں ہوتا ) یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا : قد ثبت في السير برِوایاتِ صَحِيحَةٍ أَنَّ النَّبِي صَلَّى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّم كَان يَرخى علامته أحيانا بَينَ كَتِفَيهِ وَأحيانا يَلبَسُ العِمَامَةَ مِن غَيرِ عَلامَةٍ فَعُلِم أَنَّ الإِنيَانَ بِكُلِ وَاحِدٍ مِّن تِلكَ الأُمُورِ سُنَّة ( يعنى ) كتب سیر میں روایات صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے بھی بغیر شملہ کے باندھتے ۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہرایک کو بجالا نا سنت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب اللباس، الفصل الثانی ۱۴۶/۸، تحت الحدیث :۴۳۳۹) (6)۔ ادارہ منہاج القرآن کا فتوی: عمامہ کی لمبائی ضرورت کے مطابق رکھ سکتے ہیں کوئی شرعی قید نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ باندھنے کا کوئی طریقہ مختص نہیں فرمایا، لہذا جو مناسب ہو وہ طریقہ اپنا سکتے۔ (فتوی نمبر 4120) محترم قارئین! ان گزارشات کے بعد یہ بات آپ بخوبی جان چکے ہوں گے شیخ الوظائف لباس تک کے معاملے میں اپنے اکا بر کی تعلیمات پر سو فیصد کار بند ہیں تو دوسری چیزوں میں کیسے ان کی تعلیمات کو فراموش کر سکتے ہیں۔ شملہ کے ساتھ یا بغیر شملہ کے عمامہ پہننا دونوں طرح سے جائز ہے اور تعلیمات شرعیت اور تعلیمات اکابر کے عین مطابق ہے (مفتی محمد فرقان محمود متخصص جامعہ بنوریہ، کراچی)۔
ناخن کاٹیں مالدار بنیں اور بیماری بھگائیں ۔۔۔!

حضرت جابر سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ناخن تراشو ناخن اور اور گوشت کے درمیان شیطان دوڑتا ہے۔خطیب فی الجامع ، اتحاف ج 2 ص 411، شمائل کبری ، سنت حبیب صلی اللہ علیہ وسلم)امام غزالی احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ بڑھے ہوئے ناخن پر شیطان بیٹھتا ہے(احیاء العلوم الدین ج 2 ص 411)ملاعلی قاری نے لکھا ہے کہ ناخن نہ کاٹنا اور بڑھے ہوئے رکھناتنگی رزق کا باعث ہے(مرقات ج 4 ص 457 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 404)حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب بن مفتی احمد الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ دوران درس مسلم شریف حضرت مفتی نظام الدین شامزئی ( شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن ) نے فرمایا کہ کہ امام نووی نے لکھا ہے کہ جمعرات کے دن ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹنے سے مالداری آتی ہے اور غربت وافلاس کا خاتمہہوتا ہے۔حضرت مفتی نظام الدین شامزی صاحب کے اس فرمان کے بعد میں نے اس عمل کو بار ہا آزمایا میرے بعض دوستوں نے میرے بتانے پر اس پر عمل کر کے مجھے بتایا کہ جب سے اس نسخے پر عمل کیا ہے جیب کبھی بھی خالی نہیں ہوئی آپ بھی کریں انشاء اللہ آپ کو بھی فائدہ ہوگا۔ (شفاءورحمت ،ص325، مصنف مولانا صاحبزادہ عزیز الرحمن صاحب، ناشر: حاشر پبلشرز )محترم قارئین ! عبقری اگر چھوٹے چھوٹے اعمال پر بڑے بڑے فائدوں کا ذکر کرتا ہے تو وہ فائدے اپنی طرف سے خود ساختہ نہیں ہوتے ۔۔۔ ! بلکہ قرآن وسنت اور اکابر سے منقول ہوتے ہیں اور میں ایک بات جانتا ہوں کہ ہمارے اکابر ہم سے زیادہ سمجھ دار، ذی شعور اور باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی مشاہداتی زندگی میں بھی با کمال تھے ( مولانا ابوعون محمد غزالی ، جہلم ، فاضل جامعہ امدادیہ )۔
اکابر پر اعتماد ایک نورانی نور ۔۔۔ جس سے ہر گمراہی دور

البركة مع اکابر هم الحمد للہ آپ حضرات نے اکابر پر اعتماد کے نام سے جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ بہت ہی لائق تعریف و تحسین ہے کیونکہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنے استاذ امام الصرف والنحو حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب چشتی دامت برکاتہم کی وہ نصیحتیں یاد آتی ہیں جو وہ مدرسہ کی چاردیواری میں ہم کو نہایت مخلص ہو کر کیا کرتے تھے اور وہ ساری نصیحتیں اکابر پر اعتماد سے متعلق ہوتی تھیں انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ جو کام استاذ محترم جامعہ مدنیہ جدید کی چار دیواری میں بیٹھ کر کیا کرتے تھے وہی کام عبقری سارے عالم میں پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ "أكابر پر اعتماد ” کیسے بنے گا؟ اس حوالہ سے میں استاد جی کے چند سنہری ملفوظات ذکر کرتا ہوں فرمایا اگر تمہارے پاس اکابر پر اعتماد اور انکی محبت موجود ہے تو پھر اگر علم تمہارے پاس قطرہ ہوگا اللہ اس کو سمندر بنادے گا اور اگر اکابر پر اعتماد اور ان سے محبت نہیں تو پھر اگر علم سمندر ہوا وہ بھی قطرہ بن جائے گا ۔ فرمایا کرتے تھے میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے طلبا اور علمائے کرام کو اکابر پر اعتماد سے جوڑوں ان کے دلوں میں اکا بر سے محبت اور اعتماد کو پختہ کروں کیونکہ اکابر پر اعتماد و محبت کی وجہ سے فتنوں سے اللہ حفاظت فرماتے ہے۔ فرمایا ایک مرتبہ میں امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صاحب نقشبندی کے ہاں گیا تو انہوں مجھے خلافت سے نوازا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ طلبا کو اکابر پر اعتماد سے جوڑتے ہو یہ بہت اچھی بات ہے۔ اکثر فرماتے ہیں کہ ہم دوسروں کے طرف مائل کیوں ہوں ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسے اکابرین سے جوڑا ہوا ہے جن کا جنتی ہونا اللہ نے دنیا میں دیکھا دیا۔۔۔۔! جن کی قبروں سے جنت کی خوشبوں آئی ۔ فرمایا کہ اکا بر سب بڑے تھے اور ہر بڑے پر کسی نہ کسی بڑے کا سایہ ضرور ہوتا تھا فرمایا ” اکابر پر اعتماد ” کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سارا بوجھ ا کا برین پر چلا جاتا ہے ہم چھوٹوں کا کام یہ ہے کہ اپنے بڑوں سے رہنمائی لے لیں اور بھاگتے ہوئے جنت میں پہنچ جائیں۔ فرما یا اپنے بڑوں کی مجلس میں آنے جانے سے دل بھی بڑا ہو جاتا ہے اور اگر بڑوں کی مجلس میں آنا جانا نہ ہو تو پھر ہر بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہوا کیسے ہوا۔۔۔!قارئین محترم ! آپ حضرات کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہمیں اس وقت ” اکابر پر اعتماد” اور ان سے محبت کی شدید ضرورت ہے۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے ! میرے پیارےمرشد حضرت اقدس شیخ الوظائف حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب کو جنہوں نے اکابر پر اعتماد” کے نام سے یہ سلسلہ شروع کروا کر ہم سب پر احسان عظیم کیا۔ (مولانا محمد نیاز ، فاضل : جامعه مظاهر العلوم، آراے بازار، لاہور )۔!
تسبیح خانہ کا ماہانہ دم۔۔۔ تعلیمات اکابر کے سنگ

تسبیح خانہ لاہور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہر ماہ اسم اعظم کا روحانی دم فرماتے ہیں جس سے بلا مبالغہ لاکھوں سے زیادہ لوگ فیض یاب ہورہے ہیں ۔ یہ ترتیب شیخ الوظائف کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے اکا بر کی زندگی میں ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں جس میں وہ مخلوق خدا (خواتین و حضرات) کو دم فرما کر ان کو راحت اور سکون دیتے اور اللہ کے نام کے ذریعے ان کے دکھوں کا مداواکرتے تھے اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی رہنمائی کیلئے ایک واقعہ پیش خدمت ہے: مولا نا اعجاز احمد صاحب اعظمی لکھتے ہیں کہ ایک غیر مسلم عورت شیخ حماد اللہ ہالیجوی کے پاس آئی وہ پنو عاقل کے قریب سے آئی تھی۔ ہند تھی اور چند ایک آدمی اس کیساتھ تھے نہایت روتی چلاتی ہوئی آئی کہ ہائے میں مرگئی ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا ہے؟ ساتھ آدمیوں نے بتایا کہ اس کے سینے پر پھوڑا ہے جس کی وجہ سے نہایت درد ہے اور کئی دن سے بے تاب ہے، نیند نہیں آتی ۔ حضرت نے مسجد سے باہر بیٹھنے کا حکم دیا وہ لوگ بیٹھ گئے اور حضرت نے مسجد کے اندر سے ہی دم کرنا شروع کر دیا اور اپنی داہنی انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے رہے، فوراً اس عورت کو آرام آگیا اور اس کو وہیں نیند آگئی۔ پھر حضرت نے مٹی کے ایک پاک ڈھیلے پر دم کر دیا اور فرمایا کہ اس کو پھوڑے پر پھیرتے رہو ان شاء اللہ شفاء ہوگی۔ تو وہ ہندو برادری کے لوگ دُعائیں دیتے ہوئے واپس چلے گئے۔ (تجلیات ص, 140 حوالہ: تذکرۃ الشیخ ہالیجوی "ص – 225- تالیف : حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی، ناشر: مکتبہ حمادیہ کراچی) محترم قارئین! میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں کرتسبیح خانہ لاہور کا ایک عمل بھی اکابر کی زندگی سے ہٹ کر نہیں ۔۔۔ صبح سے لیکر شام اور شام سے صبح تک ہر عمل نہایت ہی مستند ، جاندار اور شاندار ہے آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی ضرور ان بابرکت نورانی اعمال میں شریک ہو کر مسنون اعمال اور اکابر پر اعتماد والی زندگی گزاریں اور حیرت انگیز برکات کا مشاہدہ کریں۔( پروفیسر محمد زبیر صاحب، لاہور)
ایمان کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کا ذریعہ

(محمد قاسم متین، ایم فل اسکالر پنجاب یونیورسٹی ) میں اکابر پر اعتماد کے قارئین سے عرض گزار ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اس پیج کو گروپوں میں شیئر کریں تا کہ مجھ جیسے بہت سے غافل اور اکابر سے بیزار اور ان پر زبان درازی اور ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے اکابر کے فیوض و برکات سے محروم نہ ہو جائیں۔۔۔! میری دلی دعا ہے اللہ پاک عبقری والوں کو جتنی خیر ملی ہے اس کے ذریعے سے قیامت تک اُمت کے ہر طبقے کو ہر فتنے سے محروم رکھیں ( آمین ) کیونکہ جس زمانے سے ہم گزر ہے ہیں یہ بڑا ہی پر آشوب اور فتنوں سے بھرا زمانہ ہے ، ہر طرف سے دلوں کو موہ لینے والی صدائیں ہیں ، آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ منزل کہاں ہے؟ ایسے وقت میں ہماری نجات کا بہترین راستہ یا طرز عمل یہی ہے کہ ہم جو کام بھی کریں اپنے اکابر کے سائے میں رہ کریں اور ا کا بر کی رہنمائی سے کریں خود رائی اور ا کا بر سے ہٹ کر جو کام بھی کریں گے وہ ہمیں اندھیری غار میں گرا دے گا۔۔۔! اگر ہم نے اکابر پر اعتماد نہ کیا تو جو حالت اب ہے اس سے بھی ابتر ہوتی جائے گی۔۔! میں ایک بات واضح طور پر آپ دوستوں سے عرض کر دوں کہ اگر ہماری صورتحال کو دیکھ کر کوئی مؤرخ لکھنا چاہے تو وہ ہماری حالت زار پر زیادہ الفاظ ضائع نہیں کرے گا بس اتنا لکھ دے گا دد گھر جل رہا تھا اور مکین ۔۔۔ آپس میں کافر کا فرکھیل رہے تھے اپنے آپ کو بچانے کا راستہ اکابر پر اعتماد ہی بڑی خوشی ہے یہ بیج دنیا بھر میں اکابر پر اعتماد پھیلانے کا سبب بن رہا ہے ۔ اللہ کریم آپ کی محنت کو قبول فرمائیں اور اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائیں ( آمین )
مزارات پر حاضری تعلیمات اکابر کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کچھ روز قبل بخارا سمرقند اور تاشقند میں موجود بزرگوں کے مزارات پر حاضر ہوئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آپ کی اپنی کوئی نئی ایجاد ہے انہیں ہر گز نہیں بلکہ ہمارے تمام اکابر محقق علمائے کرام اور مشائخ ان بزرگوں کے مزارات پر جا کر استفادہ باطنی حاصل کرتے تھے۔ حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ علماء دیو بند اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی قبروں اور مزارات پر جانے سے روکتے ہیں اور قبروں پر فاتحہ ودعا کو منع کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے اور افتراء باندھا جاتا ہے۔ علماء دیوبند کا مسلک یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور اہل اللہ کی قبروں پر جانا انتہائی برکت اور فیض حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ دار العلوم کے مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب ہر سال حضرت مجددالف ثانی کے مزار پر عرس کے موقع پر حاضری دیا کرتے تھے اور خود سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دارالعلوم کے پہلے مہتم حضرت مولانا رفیع الدین صاحب نقشبند یہ خاندان میں شاہ عبد الغنی صاحب محدث دہلوی سے بیعت تھے اور ان کا سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہ سے ملتا ہے۔ دیو بند کے بزرگ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ان سب کا چشتی سلسلہ سے تعلق تھا اور یہ سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیر کی اور حضرت صابر کلیری سے ہوتا ہوا حضرت علی سے جاملتا ہے۔ ہمارے اکا بر تقریباً جس قدر اولیاء اللہ اور بزرگان دین گزرے ہیں ان کے مزارات پر حاضری دیتے اور استفادہ کرتے۔ (بحوالہ: خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 5- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان ) محترم قارئین ! اللہ پاک سے یہ دعا سلسل مانگتے رہا کریں کہ اللہ کریم میں اپنے بڑوں پر کامل اعتماد عطا فرمائے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ سمجھدار تھے۔۔۔! اور عبقری کے اکابر پر اعتماد کی خدمات کو قبول فرمائیں۔۔۔ تحریر مولانامحمدنواز صاحب فاضل جامعہ مظاہر العلوم )