عبقری ہجویری محل کے آستانہ منت مراد کا شفائیہ تحفہ اسمِ اعظم کا دم شدہ شفائیہ دھاگا

لا علاج کمر، جوڑوں کا درد اور جملہ تمام امراض کے لیے عبقری ہجویری محل کے آستانہ منت میں دُکھی مخلوقِ خدا کے لیے اسمِ اعظم کا دم شدہ شفائیہ دھاگا دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کم علمی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ دم شدہ دھاگا باندھنا شرک اور بدعت ہے۔ حالانکہ با امرِ مجبوری شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔ آئیے! صحابہ کرامؓ، اکابرین اور مفتیانِ کرام سے اصل حقیقت جانتے ہیں! سوال: محترم جناب مفتیانِ کرام! دفعِ درد کے لیے قرآنی آیات کا دم کیا ہوا دھاگا باندھنا کیسا ہے؟ الجواب حامداً ومصلیاً: دارالافتاء صفحہ اسلامک ریسرچ سینٹر: فتویٰ نمبر: 2045- حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کرامؓ کو یہ کلمات سکھائے تھے: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَاللهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ۔ چنانچہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنی بڑی اولاد کو یہ کلمات سکھا دیے ہیں اور یاد کرا دیے ہیں تاکہ وہ ان کو پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے رہا کریں اور اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہیں، اور جو میرے چھوٹے بچے ہیں وہ یہ کلمات خود سے نہیں پڑھ سکتے ان کے لیے میں نے یہ کلمات کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیے ہیں۔ (ابوداؤد شریف: 2/523) علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاویٰ میں نقل فرمایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دردِ زہ میں مبتلا عورت کے لیے ولادت میں آسانی کے واسطے ایک تعویذ لکھ کر اس کے بازو میں باندھنے کا حکم دیتے تھے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ اس تعویذ کو گھول کر پلانے اور تعویذ کے پانی کو مذکورہ عورت کی رانوں وغیرہ میں چھڑکنے کا حکم دیتے تھے۔ (مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ: 19/63-65 مطبوعہ: الریاسۃ العامہ لشئون الحرمین الشریفین) اس سے معلوم ہوا کہ دفعِ درد کے لیے دھاگا باندھنا جائز ہے بشرطیکہ قرآنی آیات اور اللہ کا کلام ہو۔ لیکن یہ بات ذہن میں ہو کہ شفا اللہ کے حکم سے ہے نہ کہ دھاگے کی وجہ سے۔ قال الشيخ الملا علي القاري رحمه الله تعالى: "إن الرقى يكره منها ما كان بغير اللسان العربي، وبغير أسماء الله تعالى، وصفاته وكلامه في كتبه المنزلة، وإن اعتقد أن الرقية نافعة لا محالة فيتكل عليها وإياها”. (مرقاة المفاتيح: 8/ 358، 359، كتاب الطب والرقى) وقد أجمع العلماء على جواز الرقية عند اجتماع ثلاثة شروط: أن يكون بكلام الله تعالى، أو بأسمائه، وصفاته، وباللسان العربي، أو بما يعرف معناه من غيره، وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى. (فتح الباري: 10/ 220، كتاب الطب، باب الرقى بالقرآن والمعوذات) قالوا: وإنما تكره العوذة إذا كانت لغير لسان العرب ولا يدرى ما هو، ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به. (رد المحتار: 9/ 523) آئیے! صحابہ کرامؓ، اکابرین اور مفتیانِ کرام سے اصل حقیقت جانتے ہیں! امراض سے شفاء کیلئے دھاگہ باندھنا جائز ہے! دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔فتویٰ نمبر: 144012200388 سوال: قرآنی آیت والے تعویذ یا دھاگے باندھنا یا دم کروانا صحیح ہے؟ جواب/فتویٰ: اگر دھاگے پر قرآنی آیات پڑھ کر دم کیا ہو اور یقین اللہ کی ذات پر ہو تو اسے حرام نہیں کہا جائے گا۔ دم شدہ دھاگہ باندھنا شریعت کے خلاف نہیں ہے! دارالافتاء: جامعہ عثمانیہ پشاور۔فتویٰ نمبر: 144164 فتویٰ: روایات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس قسم کا دھاگہ باندھنا شریعت سے متصادم نہیں۔ دارالافتاء اہلسنت اور مجلس تحقیقاتِ شرعیہ کے نگران کا فتویٰ حضرات صوفیاء کرام کے گنڈے جس میں وہ قرآنی آیات یا ماثورہ دعائیں پڑھ کر دم کر کے گرہ لگاتے ہیں بالکل جائز ہیں۔ دم شدہ شفائیہ دھاگے کے عمل کے حوالہ جات درج ذیل ہیں: (1) آسان عمليات و تعويذات جلد 7، صفحہ 288، ناشر: کتب خانہ انور شاہ کراچی۔ (2) آسان عمليات و تعويذات جلد 5، صفحہ 189، ناشر: کتب خانہ انور شاہ کراچی۔
عبقری حفاظتی نورانی کڑا

عبقری تیرا شکریہ !عبقری کا نورانی حفاظتی کڑا!دین اورشریعت کیا کڑا پہننے کی اجازت دیتی ہے؟ عبقری نے لاعلاج سسکتے مریضوں کی صحت یابی کیلئے اکابر ؒ کاآزمودہ نورانی عمل دکھی مخلوق خدا کیلئے عام کردیا۔تانبے کا کڑا جس پر خاص نورانی حروف لکھے ہوئے ہیں جو لاعلاج مرض کو چند ہی دنوں میں جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔اسلام حلال وحرام کے حوالے سے نہایت حساس مذہب ہے لیکن بوجہ مجبوری زندگی بچانے کو واجب قرار دیا اوربعض ممنوعہ چیزوں کوبھی حلال کر دیا۔آئیے پیارے آقا ﷺ کی زندگی سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ مردوں پر سونا حرام ہے لیکن بطور علاج حضور ﷺ نے اپنے ایک صحابیؓ کو سونے کی ناک لگوانے کا حکم فرمایا:حضرت عبدالرحمن بن طرفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا جان حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک کلاب کے روز کاٹ دی گئی۔ تو انہوں نے چاندی کی ناک لگوا لی تو اس سے بدبو آنے لگی۔ چنانچہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سونے کی ناک لگوا لی۔ أبي داؤد، السنن، 4: 92، رقم: 4232، دار الفکر ترمذي، السنن، 4: 240، رقم: 1770، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي وضاحت: کیونکہ سونے سے انفیکشن نہیں ہوتا یہ سائنس میرے کملے والےﷺ کے علم میں تھی۔ ریشم مرد پر حرام لیکن !رسول ﷺ نے اپنے صحابیؓ کوبطور علاج ریشم کی قمیض پہننے کی اجازت دی! حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشمی قمیض پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی تھی کیونکہ ان دونوں حضرات کے جسم پر خارش تھی۔ بخاري، الصحيح، 3: 1069، رقم: 2762 مسلم، الصحيح، 3: 1646، رقم: 2076، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي دارالافتاء : جامعۃ العلوم الاسلا میۃ بنوری ٹائون کراچی کا ایک فتوی پیش خدمت ہے: سوال:افیون حرام ہے یا حلال ؟ کیا آپ دوا کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں؟ جواب:نشہ کی غرض سے افیون کا استعمال حرام اور قابلِ سزا جرم ہے۔ البتہ (بوقتِ ضرورت، بقدرِ ضرورت) دوا میں استعمال جائز ہے، اور ایسی دوا اگر کوئی مستند دین دار ڈاکٹر تجویز کرے تو بطورِ علاج اس کے استعمال کی اجازت ہوگی اور اسی مقصد کے لیے خرید وفروخت کرنا بھی درست ہوگا۔الدر المختار میں ہے:”(ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون)؛ لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئًا من ذلك لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعزر بما دون الحد) كذا في الجوهرة.”(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الأشربة (6/ 458)،ط. سعيد)فتاوی شامی میں ہے:”وبه علم أن المراد الأشربة المائعة، وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميا قتالا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية.”(حاشية ابن عابدين: باب حد الشرب، مطلب في البنج والأفيون والحشيشة (4/ 42)،ط. سعيد)فقط، واللہ اعلمفتوی نمبر : 144211201551 ۔۔ دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔ کڑا تو مفتیانِ کرام و علماء نے بھی استعمال کیا حوالہ نمبر 1: ”فتویٰ تاتارخانیہ“ فتوٰی کی اور دین کی وہ مشہور عالم ایک ضخیم کتاب ہے جس سے اب تک لاکھوں علماء، فقہاء اور مفتیانِ کرام نے استفادہ کیا۔ آئیں! اس کتاب سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ سوال: کیا فرماتے علماء کرام بیج اس مسئلے کے اگر بطور علاج دھات کا کوئی چھلہ یا کڑا پاؤں یا بازو میں پہنا جائے جائز ہے یا حرام؟ وضاحت فرمائیں۔ جواب: احادیث کا حکم حال کے امر کے مطابق ہوتا ہے ہر حدیث درست لیکن موقع اور حال دیکھا جائے جیسے تیمم کا حکم، ادویات میں کوئی نشہ آور دوا کا حکم، ریشم کے پہننے اور سونے کے استعمال، اسی طرح اگر جسم میں با امر مجبوری کوئی تکلیف ہو تو دھاتی کڑا یا چھلہ بطور علاج پہننا کوئی حرج نہیں کیونکہ بطور علاج علماء و فقہاء نے کتنی چیزوں کو جائز قرار دیا۔ لہٰذا یہی حکم کڑے اور چھلے کے لیے ہے۔ علاج اور صحت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ (بحوالہ: شرح ”فتویٰ تاتارخانیہ“ جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 248 مطبع منشی نول کشور لکھنؤ) علی برادران کے مرشد نے بھی کڑا پہنا حوالہ نمبر 2: آخر بیماری کے دوران والد صاحب کو ان کے مرشد نے تانبے کا کڑا پہننے کا فرمایا۔ انہوں نے کڑا بنوایا بازو کے اوپر پہنتے تھے تاکہ نظر نہ آئے۔ واقعی انہیں بہت فائدہ ہوا، فرماتے تھے بھائی شریعت نے آسانیاں اگر بتائی ہیں تو بھی ہمارے لیے، اگر پابندیاں بتائیں ہیں تو بھی ہمارے لیے ہم پابندیوں کو تو بتا دیتے ہیں اور آسانیاں چھپا دیتے ہیں۔ اس کے بعد والد صاحب نے کئی آنے والوں کو اس کڑے کے فوائد بتائے۔ بس نظر نہ آئے اور لوگ انہیں استعمال کرتے اور واقعی انہیں بھی فائدہ ہوتا تھا۔ قارئین یہ تجربہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی گوہر برصغیر کے بڑے علماء اور قائدین کے مرشد مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ جن کے احوال مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ نے بھی بہت تفصیلات سے لکھے ہیں۔ حضرت فرنگی محلیؒ بہت بڑے عالم، مفتی، تحریک خلافت کے روح رواں اور پیر طریقت تھے۔ کیا ان کا تجربہ غلط ہے؟ کیا وہ عالم اور مفتی نہیں تھے؟ بحوالہ کتاب: ”تاثرات و شخصیات“ سوانح مولانا ذوالقادر علی مطبوعہ علی بک ڈپو، رام پور پریس نے چھاپا، خانم بازار ڈھاکہ۔ واضح رہے مولانا ذوالقادر علی، علی برادران کے بڑے بھائی تھے۔ 42 مفتیوں اور 84 علماء کا فتویٰ مفتیِ اعظم پاکستان نے بھی یہ عمل کیا! حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ کے والد نے بھی کڑا پہنا! حوالہ نمبر 5: جب ہمارے حصے تقسیم ہوئے تو میں نے کچھ نہیں لیا، بس والد صاحب کے استعمال شدہ چیزیں لیں، تو ان میں میرے حصے میں تانبے کا ایک کڑا جو بھاری بھی تھا، اس پر کوئی تحریری الفاظ کندہ تھے، پرانا ہونے کی وجہ سے وہ پڑھے نہیں جاتے۔ والد صاحب علالت اور بیماری کی حالت میں یہ
تسبیح خانہ میں بتائے جانے والے ایک اور عمل کی اصلیت سامنے آگئی!

سوال: میں عرصہ دراز سے تسبیح خانہ کے ہفت وار درس میں شریک ہوتا ہوں، میرا تعلق اس مکتبہ فکر سے ہے جو احادیث کے معاملے میں بہت زیادہ جانچ پڑتال کرتے ہیں، ایک مرتبہ میں شیخ الوظائف کے درس میں شریک تھا کہ آپ نے 30 سیکنڈ کے عمل سے اپنی ہر جائز دُعا پوری کروانے کا عمل فرمایا کہ 10 مرتبہ سبحان اللہ، 10 مرتبہ الحمدللہ اور 10 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر دُعا مانگنے سے دعا قبول ہوتی ہے، اس وقت آپ نے کوئی حوالہ بیان نہ کیا تو میں نے توجہ نہ کی کیونکہ میں اس معاملے میں بہت ہی شاکی ذہن رکھتا تھا اگر اکابرِ پر اعتماد کے دوست اس روایت کو جانتے ہوں تو ضرور بیان فرما دیں۔ جزاک اللہ جواب: جو روایت شیخ الوظائف کی بیان کردہ آپ نے پوچھی ہے وہ مسند احمد میں بالکل صحیح سند کے ساتھ کئی احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے کلمات سکھا دیں، جن کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کروں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم 10 مرتبہ سبحان اللہ، 10 مرتبہ الحمدللہ اور 10 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت مانگا کرو، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے تمہارا کام کر دیا، میں نے تمہارا کام کر دیا۔ (مسند احمد: 19 / 240) والحدیث اخرجـہ الترمذی فی سننـہ، وقال: حدیث انس حدیث حسن غریب۔ واخرجہ الحافظ فی "نتائج الاذکار” 5 / 161 من طریق وکیع وعبداللہ بن المبارک، کلاہما عن عکرمۃ بن عمار، وقال: ہذا حدیث صحیح اللہ کریم کے فضل وکرم سے تسبیح خانہ کے ہر عمل کی مستند سند قرآن وسنت اور تعلیماتِ اکابر کے عین مطابق ہے۔
ایسا تعویذ جس سے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہو جائے۔۔۔!

ماہنامہ عبقری اور عبقری فیس بک پر سالہا سال سے تعویذات اور عملیات شائع ہو رہے ہیں کم علم لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ سب قرآن وحدیث میں دکھاؤ کہاں لکھا ہے؟ یاد رکھیں۔۔۔! عملیات کا طریقہ ایک علاج ہے جس طرح ہومیو پیتھک، ایلو پیتھک، ہربل، آکو پنکچر، حجامہ، مساج، ٹیلی پیتھی اور دنیا میں رائج دیگر طریقہ علاج کے بارے میں تو آج تک یہ نہیں کہا گیا کہ کہاں لکھا ہے پہلے ثبوت دکھاؤ بلکہ یہی کہا گیا کہ مشاہدہ اس بات کا شاہد ہے۔ اسی طرح عملیات بھی ایک طریقہ علاج ہے جو کہ صدیوں سے اکابرینِ امت سے منقول ہے اور یہ طریقہ تسبیح خانہ کا خود ساختہ نہیں بلکہ ہر دور میں اس کی ضرورت کو علمائے کرام نے محسوس کیا ہے ذیل میں ایک معتمد دارالافتاء (جو کہ لوگوں کی پریشانیوں کے حل کیلئے عملیات شائع کر رہا ہے) کا چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کا عمل اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے یہ عمل ماہنامہ عبقری میں بھی شائع ہو چکا ہے:
تسبیح خانہ میں شیرینی تقسیم کرنے کا عمل

تسبیح خانہ میں ابھی کچھ عرصہ قبل لاکھوں سے زائد مرتبہ سورہ اخلاص پڑھوائی گئی اور اس کے بعد شیرینی تقسیم کی گئی ایک بات یاد رکھیں کہ یہ عمل کوئی دین کا حصہ سمجھ کر یا لازمی سمجھ کر نہیں کیا گیا۔۔۔! ہمارے اکابرؒ کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ فلاں عمل کرنے کے بعد اتنی مٹھائی تقسیم کی جائے یا کچھ میٹھا بچوں میں کھلایا جائے اس بات کا تعلق مشاہدے اور عملیات کے فن سے ہے۔ ذیل میں ایک معتمد دارالافتاء کا فتویٰ پیش خدمت ہے جس سے اس شیرینی کے تقسیم کی حقیقت آپ سمجھ جائیں گے۔ سوال: ہر سال ماہِ رمضان میں ختمِ تراویح کے موقع پر جو مٹھائی، عطر، یا دیگر چیزیں تقسیم ہوتی ہیں، یہ کہاں سے ثابت ہیں؟ کیا یہ بدعت کے زمرے میں نہیں آئے گا؟ کیوں کہ اس کو ہر سال پابندی سے منایا جاتا ہے، ٹھیک ہے کہ اس کو دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا لیکن عوام اس کو ضروری تو نہیں سمجھ بیٹھے گی؟ صرف اس خیال سے اس کو ترک کرنا کیا صحیح ہے؟ اگر یہ ضروری نہیں تو پھر ہر سال کیوں ہوتا ہے؟ جواب: سنن بیہقی، تاریخ ابن عساکر اور تاریخِ ذہبی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے سورہ بقرہ مکمل یاد کرنے کی خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کی دعوت کی تھی۔ اس واقعہ سے اتنا معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر اس طرح کا کوئی اہتمام کرنا، جب کہ اس کو ضروری اور دین کا حصہ نہ سمجھا جائے، شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہے۔ اس لیے کہ بدعت اس نئے عمل یا عقیدے کو کہا جاتا ہے جس کو ضروری سمجھ کر دین کا حصہ قرار دے دیا گیا ہو، چونکہ یہ عمل کہیں بھی ضروری اور دین کا حصہ سمجھ کر نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے اس عمل پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اگر کہیں پر لوگوں کے اس عمل کو ضروری اور دین کا حصہ سمجھ بیٹھنے کا شبہ ہو تو اس کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس کو ضروری نہ سمجھا جائے اور مسجد یا وقف فنڈ سے اس کا اہتمام نہ ہو تو ختم پر شیرینی وغیرہ تقسیم کی جاسکتی ہے فقط۔ (فتویٰ نمبر: 143508200001 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) دارالعلوم انڈیا کا فتویٰ تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر شیرینی وغیرہ کی تقسیم فی نفسہ مباح ہے، اگر عمومی چندہ کے بغیر ایک دو افراد یا رِیا و نمود کے بغیر، خلوص کے ساتھ اپنی طرف سے تقسیم کر دیں، تو گنجائش ہے، ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کوئی خشک چیز (مٹھائی وغیرہ) تقسیم کر دی جائے۔ (1440/110T/sd=12-Fatwa:1020) اور جتنی بھی شیرینی یا حلوہ تسبیح خانہ میں آیا وہ تمام کا تمام لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا اس میں ایک ایثار اور لوگوں کی خیرخواہی کا بھی سبق تھا۔
شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا فرمان مجذوب پر اعتراض نہ کریں یہ اولیائے کرامؒ کی رہنمائی کا ذریعہ ہے

تسبیح خانہ ہر فرد کا احترام سکھاتا ہے کیونکہ عام طور پر مجاذیب کو ادب کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اسی وجہ سے شیخ الوظائف اپنے بہت سے دروس میں ان مجاذیب کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ یہ خود بھی بڑے اولیائے کرامؒ ہوتے ہیں اور بہت سے اولیاء اللہ کیلئے رہنمائی کا بھی ذریعہ بن جاتے ہیں شیخ الوظائف کے اس فرمان کو ’’اکابر پر اعتماد‘‘ پیج کے ذریعے ’’اکابرین‘‘ کی کتابوں سے پیش کرتے ہیں۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے فرمایا کہ ہمارے مرشد سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحبؒ آغازِ شباب میں ایک مرتبہ جنگل تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حافظ غلام مرتضیٰ صاحب مجذوب بیٹھے ہوئے ہیں اور چاروں طرف سے لوگ ان کو گھیرے کھڑے ہیں۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے مجمع میں سے جھانکا حافظ صاحبؒ نے دیکھ لیا۔ اشارے سے بلایا اور پاس بٹھا لیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ یہ تو کسی کو بھی منہ نہیں لگاتے ان پر اس قدر عنایت کیوں ہوئی؟ پھر حافظ صاحب نے حاجی صاحبؒ سے فرمایا کہ تم پر مسئلہ وحدۃ الوجود خوب منکشف ہوگا۔ حاجی صاحب اس وقت اس قسم کے مسائل سے چونکہ بالکل خالی الذہن تھے پیشنگوئی سے کچھ ایسی دلچسپی نہیں ہوئی۔ لیکن ایک مدت کے بعد جب حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ مثنوی پڑھتے ہوئے اس شعر پر پہنچے۔ جملہ معشوق ست عاشق پردۂ زندہ معشوق ست عاشق مردہ تو مسئلہ وحدت الوجود منکشف ہوا اور حافظ صاحبؒ کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ (سراج الصراط ص 10 نمبر 18 بحوالہ کتاب: قصص الاکابر ص 115، افادات: مولانا اشرف علی تھانویؒ، مرتب: صوفی شہاب الدین صاحبؒ، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان)
ہر شب جمعہ خواب میں مرنے والوں سے ملاقات کے خواہشمند یہ واقعہ ضرور پڑھیں

تسبیح خانہ کے منبر سے کئی مرتبہ اس قسم کے واقعات بیان کیے گئے کہ مرنے کے بعد روحیں بھی گھر پر آتی ہیں بعض لوگ اس کو جھوٹ و افسانہ اور کہانی سمجھتے ہیں یاد رکھیں جب ایک واقعہ تواتر سے منقول ہو اور شریعت کے مخالف بھی نہ ہو تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔! حضرت ابونعیمؒ نے حضرت لیث بن سعدؒ سے روایت ہے کہ فرمایا ایک شامی شخص نے شہادت پائی۔ وہ ہر جمعہ کی رات کو اپنے والد سے خواب میں ملنے آتے۔ ان سے باتیں کرتے اور محبت کا اظہار کرتے۔ وہ ایک جمعہ کی رات کو ملنے نہیں آئے۔ پھر وہ دوسرے جمعہ کو اپنے والد سے ملنے آئے۔ تو والد محترم نے پوچھا بیٹے تم نے مجھے اداس کر دیا۔ اور تمہارا مجھ سے نہ ملنا مجھے بہت شاق گزرا۔ تو اس نے عرض کیا۔ میں پچھلے جمعہ کو مصروف رہا۔ کیونکہ ہم تمام شہداء کو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے استقبال کا حکم ہوا تھا۔ لہذا ہم ان کی پیشوائی کو چلے گئے تھے۔ (بحوالہ: شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور ص 190: تالیف حضرت امام جلال الدین عبدالرحمن السیوطیؒ، ترجمہ مولانا عبدالرشید قاسمی، ناشر: کتب خانہ شانِ اسلام لاہور) تسبیح خانہ میں ذکر کردہ اس قسم کے واقعات اکابرینِ امت سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ان پر اعتراض کرنے سے نشانہ ہمارے ہی اکابرینؒ پر پڑتا ہے۔
آپ کو مرنے کے بعد فرشتے سونگھنے آئیں گے شیخ الوظائف کا سچا انکشاف

میں یونیورسٹی میں باقاعدگی کے ساتھ شیخ الوظائف کے درس سنتا ہوں کیونکہ میرا موضوع تحقیق ہی ہے اس لیے شیخ الوظائف جو باتیں بیان فرماتے ہیں انہیں کتابوں میں تلاش کرتا ہوں ابھی کچھ عرصہ قبل آپ نے فرمایا کہ مرنے کے بعد انسان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور اسکے جسم کے حصوں کو سونگھتے ہیں اور آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں یہ بات امام جلال الدین سیوطیؒ جیسے محقق نے اپنی کتاب میں لکھی ہے آپ فرماتے ہیں: حضرت ابن ابی الدنیاؒ نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اس کا سر سونگھ کر دیکھو، وہ سونگھ کر کہتا ہے کہ اس سے قرآن کریم کی خوشبو آرہی ہے۔ پھر حکم ہوتا ہے اس کے دل کو سونگھو، وہ سونگھ کر کہتا ہے اس کے دل سے روزہ کی خوشبو آرہی حکم ہوتا ہے۔ اس کے پیروں کو سونگھ کر دیکھو تو وہ سونگھ کر کہتا ہے کہ اس کے پیروں سے عبادت کیلئے قیام کی خوشبو آرہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اس شخص نے اپنی حفاظت کی ہے، اب اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے گا۔ (بحوالہ شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور ص 159: تالیف حضرت امام جلال الدین عبدالرحمن السیوطیؒ، ترجمہ مولانا عبدالرشید قاسمی، ناشر: کتب خانہ شانِ اسلام لاہور) تسبیح خانہ کے منبر سے بیان ہونے والی ہر چیز اکابرینؒ کی کتابوں میں بکھری پڑی ہے۔ آئیے۔۔۔! ’’اکابر پر اعتماد‘‘ پیج کے ذریعے اس کو سارے عالم میں پھیلاتے ہیں۔
آپ ﷺ کے روحانی فیوضات اور برکات کے خواہشمند ضرور پڑھیں

تسبیح خانہ میں آپ ﷺ کو ایصالِ ثواب کیوں کیا جاتا ہے۔۔۔ راز سے پردہ ہٹ گیا۔۔۔! آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی تمام خیروں اور بھلائیوں کا خزانہ ہے ہر نیکی کا راستہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے شروع ہوتا ہے تسبیح خانہ میں روزانہ آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لاکھوں مرتبہ ذکر اور درود کا ہدیہ پیش کیا جاتا ہے اس پر شیطان اگر یہ وسوسہ ڈالے کے ایصالِ ثواب تو گناہ گاروں کو کیا جاتا ہے سرکارِ ﷺ کو ہمارے ایصالِ ثواب کیا ضرورت تو اس کا جواب ہم اپنی طرف سے دینے کے بجائے ایک علمی دارالافتاء کی جانب سے دیتے ہیں۔ ایصالِ ثواب کا معنی ہے "ثواب پہنچانا”۔ ایصالِ ثواب زندہ لوگوں کے لیے بھی جائز ہے، اور جو دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں ان کے لیے بھی جائز ہے، ایصالِ ثواب مسلمان گناہ گار شخص کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے اور نیکوکار، متقی شخص کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، ایصالِ ثواب کا مقصد صرف یہی نہیں ہے کہ اس سے مرنے والے کے گناہ معاف ہوں گے یا عذاب میں تخفیف ہو گی، بلکہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، ایصالِ ثواب جہاں عذاب میں تخفیف کے لیے ہوتا ہے وہیں درجات کی بلندی کے لیے بھی ہوتا ہے، اس کا ثواب جس طرح اس شخص کو پہنچتا ہے جس کے لیے ایصالِ ثواب کیا گیا ہے بالکل اسی طرح نیک عمل کر کے ثواب پہنچانے والے کو بھی ملتا ہے، بہت سی احادیثِ مبارکہ یہ مضمون وارد ہے کہ جو نیک عمل یا سورۂ اخلاص وغیرہ پڑھ کر تمام وفات پا جانے والے مسلمان مرد اور عورتوں کو بخش دیتا ہے تو ان سب کے بقدر اس کو بھی اجر ملتا ہے، نیز جس کے لیے ایصالِ ثواب کیا جائے اس تک فرشتے پیغام پہنچاتے ہیں کہ فلاں شخص نے آپ کے لیے یہ تحفہ بھیجا ہے، جس سے وہ خوش ہوتا ہے، یہ ایک محبت، قربت، تعلق کی علامت ہوتی ہے، نیک لوگوں کو ایصالِ ثواب کرنے سے ان کے روحانی فیوضات اور برکات حاصل ہوتی ہیں۔ (بحوالہ: فتویٰ نمبر 144103200060 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) اب آپ ہی بتائیے جس جگہ کروڑوں سے زیادہ اعمال کا ہدیہ سرکارِ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہو اس جگہ سرکارِ ﷺ کے فیوضات اور انوارات کس قدر ہوں گے۔
کیا بزرگانِ دین کو ایصالِ ثواب کرنے سے کینسر ختم ہو سکتا ہے؟

(مولانا فضیل شمسی، فاضل: جامعہ دارالتقویٰ لاہور) ماہنامہ عبقری لاہور میں ایک عمل سورہ اخلاص اور سورہ فاتحہ کا شائع ہوا کہ یہ عمل کر کے بزرگانِ دین کو ایصالِ ثواب کریں اور آپ کی جان لیوا بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔۔۔! میرے ساتھ کے اہل علم اس کو مبالغہ آرائی سمجھ کر ہنسنے لگے شاید وہ یہ بات جانتے نہیں تھے کہ عملیات کی کتابوں میں اس طرح کے سینکڑوں اعمال ہمارے اکابرین سے منقول ہیں۔ ذیل میں اہل علم کے ایک معتمد علمی دارالافتاء کا حوالہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہوں جس سے ان کو ماہنامہ عبقری لاہور میں ذکر کیے جانے والے اس عمل کی حقیقت کا علم ہو جائے گا کہ عبقری وظائف بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے۔