عبقری جہاں امت کو بدعات اور غیر اللہ سے نکال کر اعمال سے پلنے، بننے اور بچنے کا یقین دے رہا ہے وہاں اس بات کا بھی خاص خیال رکھتا ہے کہ امت کو جو پیغام دکھایا اور بتایا جاتا ہے وہ قرآن و سنت، سلف صالحین اور اولیاء کرام کی ترتیب پر ہو۔ ایسا کوئی عمل، پیغام یا چیز نہ دکھائی جائے جو شریعت سے ٹکراتی ہو۔ اسی حوالے سے آپ کے لیے یہ حوالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں کہ عبقری کارٹون میں دکھائے گئے جنات کی شکلیں بھی خود ساختہ نہیں، آئیے ان کے مستند ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔
جنات کی شکلیں احادیث کی روشنی میں
قاضی ابو یعلیٰ الفراء کہتے ہیں کہ جنات کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں اور جسم انسانوں سے ملتے جلتے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ وہ لطیف ہوں اور یہ بھی درست ہے کہ وہ کثیف ہوں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو تین قسم پر پیدا کیا ہے:
- ایک قسم سانپ، بچھو اور زمین کے کیڑے مکوڑے ہیں،
- ایک قسم فضاء میں ہوا کی طرح ہیں،
- اور ایک قسم وہ ہے جس سے حساب و عذاب ہوتا ہے۔
حوالہ: (جنوں کے حالات، امام جلال الدین السیوطی، مترجم: مولانا حضور بخش چشتی، مکتبہ حنفیہ لاہور، ص، 62)
جنات کی شکلیں احادیث کی روشنی میں
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنات کی تین قسمیں ہیں:
- ایک قسم وہ ہے جن کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں،
- ایک قسم سانپ اور کتے ہیں،
- اور ایک قسم وہ ہے جو ادھر ادھر جگہ بدلتے رہتے ہیں۔
جنات مختلف صورتیں بدلتے رہتے ہیں اور انسان، جانور، سانپ، بچھو، اونٹ، بیل، گھوڑے، خچر، گدھے اور پرندے وغیرہ کی شکلوں میں اپنے آپ کو بدلتے رہتے ہیں۔
حوالہ: (جنوں کے حالات، امام جلال الدین السیوطی، مترجم: مولانا حضور بخش چشتیؒ، مکتبہ حنفیہ لاہور، ص 60، 62)
کربلا میں زعفر جن کی آمد اور حلیہ
امام حسین سلام اللہ ورضوانہ علیہ نے چاہا کہ حملہ کریں تو اچانک زبردست گرد و غبار چھا گیا اور ایک شخص دوسرے شخص کو نہیں دیکھ پاتا تھا۔ اسی اثناء میں ایک مہیب صورت اور عجیب شکل کا شخص عجیب و غریب سواری پر حاضر ہوا۔ اس کا سر اور ہاتھ گھوڑے کے سر اور ہاتھوں کی طرح تھے اور پاؤں شیر سے مشابہ تھے۔ اس نے کہا! اے ابنِ رسول اللہ ﷺ میں جنوں کا سردار اور سیدِ آخر الزمان ﷺ کا غلام اور شاہِ مردان سلام اللہ ورضوانہ علیہ کا نوکر ہوں میرا نام زعفر زاہد ہے۔
حوالہ: (روضۃ الشہداء، ترجمہ، حضرت علامہ صائم چشتیؒ، ناشر: چشتی کتب خانہ، فیصل آباد، پاکستان، صفحہ 345)
جن کے ساتھ انٹرویو!
1۔ چہرہ، آنکھیں اور سر: جسم کے تناسب سے سر کا سائز انسانوں کے مقابلے میں کچھ بڑا ہوتا ہے۔ آنکھیں لمبی ہوتی ہیں مگر انسانوں کی طرح چوری یا تنگ نہیں ہوتیں۔ یہ ہرن کی آنکھوں کی طرح بڑی اور کشادہ ہوتی ہیں۔ کچھ کی آنکھیں سیدھی لمبی اور کچھ کی ترچھی ہوتی ہیں (جو مشرقی ایشیائی لوگوں سے مشابہ لگتی ہیں)۔
آنکھوں کا رنگ اور پتلیاں: آنکھیں ہمیشہ سرخ نہیں ہوتیں بلکہ انسانوں کی طرح مختلف رنگوں کی ہو سکتی ہیں۔ البتہ آنکھوں کی سیاہی (پتلی) مکمل گول نہیں ہوتی بلکہ بیضوی (oval) ہوتی ہے۔ ان کی آنکھوں سے سرخ مائل لطیف شعاعیں نکلتی ہیں۔
ناک: چہرے کے بیچ میں انسانوں جیسی ہی ہوتی ہے مگر کچھ زیادہ لمبی ہوتی ہے۔
دانت: کچھ جنات کے دانت نوکیلے اور خوبصورت ابھرے ہوئے ہوتے ہیں۔
کان: گھوڑے کے کانوں کی طرح نوک دار ہوتے ہیں، اور بعض کے کان بلی کے کانوں جیسے لیکن حجم میں بڑے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی شکلیں بلی، گھوڑے یا شیر سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔
بال اور داڑھی: مسلمان جن نبی ﷺ کی سنت کے مطابق داڑھی رکھتے ہیں۔ ان کے سر کے بال بہت گھنے اور نہایت لمبے ہوتے ہیں (خاص طور پر عورتوں کے)، جبکہ مردوں میں گنج پن زیادہ ہوتا ہے۔
سینگ: ہر جن کے سر پر دو سینگ ہوتے ہیں جو جسم کے تناسب سے چھوٹے یا مناسب سائز کے ہوتے ہیں (کچھ کے سینگ انسانی قدم کے برابر بڑے بھی ہوتے ہیں)۔
ہاتھ اور پاؤں، ہاتھ اور انگلیاں: ہاتھ انسانوں جیسے ہی ہوتے ہیں مگر انگلیاں اور بازو زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔
ناخن: انگلیاں لمبی ہونے کی وجہ سے ناخن بھی جسم کے تناسب سے کافی لمبے ہوتے ہیں۔
پاؤں: قدم اور انگلیوں کی ساخت کے لحاظ سے پاؤں بالکل چپٹے (flat) ہوتے ہیں۔
حوالہ: (کتاب: حوار صحفی مع جن مسلم، مصنف: محمد عیسیٰ داود، مکتبہ: دارالبشیر، قاہرہ)
حضور ﷺ کی جن سے ملاقات اور جن کا حلیہ
حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں: پھر ہمارے سامنے ایک ایسا بوڑھا شخص (جن) نمودار ہوا جس کے جسم پر بہت زیادہ بال تھے، اس کا چہرہ گھنے اور موٹے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا، اس کی آنکھیں لمبائی میں پھٹی ہوئی تھیں، اس کا منہ اس کے سینے میں تھا جس میں لمبے دانت باہر کو نکلے ہوئے تھے، اور اس کے ہاتھوں میں ناخنوں کی جگہ درندوں جیسے پنجے تھے۔ جب ہم نے اسے دیکھا تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ہم (خوف سے) نبی کریم ﷺ کے قریب ہو گئے۔
حوالہ: (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، مکتبہ: دارالفکر للطباعۃ والنشر والتوزیع، بیروت، لبنان، جلد 42 صفحہ 338)
بلی جیسے ہاتھ، پرندے جیسے بازو
وہبؒ کہتے ہیں: میں ہر سال موسمِ حج میں اس جن سے ملتا تھا، وہ مجھ سے سوال کرتا اور میں اسے جواب دیتا۔ ایک سال میں نے اسے طواف کے دوران دیکھا۔ جب ہم نے طواف مکمل کیا تو مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھ گئے۔ میں نے اس سے کہا: "اپنا ہاتھ مجھے دو۔” اس نے ہاتھ بڑھایا، تو وہ بلی کے پنجے کی طرح تھا اور اس پر بال تھے۔ پھر میں نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے تک بڑھایا تو وہاں پر پروں کی جڑ محسوس ہوئی۔
حوالہ: (کتاب آکام المرجان فی احکام الجان، بدر الدین محمد بن عبد اللہ الشبلیؒ، ناشر: مکتبۃ القرآن، مصر، قاہرہ، ص، 128)
بونے جنات
عتبیؒ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن زبیرؓ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا قد دو بالشت تھا اور وہ ان کے کجاوے پر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: "تو کیا ہے؟” اس نے کہا: "ازب”۔ انہوں نے پوچھا: "ازب کیا ہے؟” اس نے کہا: "جنات میں سے ایک آدمی”۔ پس حضرت ابن زبیرؓ نے اسے کوڑے کی لکڑی سے اس کے سر پر مارا یہاں تک کہ وہ بھاگ گیا۔
حوالہ: (کتاب آکام المرجان فی احکام الجان، بدر الدین محمد بن عبد اللہ الشبلیؒ، ناشر: مکتبۃ القرآن، مصر، قاہرہ، ص، 42)
خنزیر جیسے بالوں والا شیطان
واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہؓ نے فتحِ تُستر کے موقع پر جب "لا حول ولا قوۃ الا باللہ” پڑھا، تو ایک مجوسی عالم نے بتایا کہ اس نے یہ کلمات پہلی بار آسمان پر سنے تھے۔ اس مجوسی کی غیر موجودگی میں ایک شیطان نے اس کا روپ دھار کر اس کے گھر پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اسے اپنے ساتھ آسمان کی خبریں چرانے کے لیے پیٹھ پر بٹھا کر اوپر لے گیا۔ اس شیطان کا حلیہ یہ تھا کہ وہ انسان کا ہو بہو روپ دھار سکتا تھا اور اس کے سر کے بال سور کی ایال (سخت اور کھڑے بالوں) کی طرح تھے۔ جب آسمان کے قریب فرشتوں کی یہ آواز گونجی تو وہ شیطان خوفزدہ ہو کر نیچے جنگلوں میں جا گرا، اور بعد میں مجوسی جب بھی یہ کلمات پڑھتا، وہ شیطان کھڑکی سے بھاگ جاتا۔
حوالہ: (کتاب آکام المرجان فی احکام الجان، بدر الدین محمد بن عبد اللہ الشبلیؒ، ناشر: مکتبۃ القرآن، مصر، قاہرہ، ص، 116)
بلی کی شکل کا جن اور حضرت علی سلام اللہ ورضوانہ علیہ کی شہادت کا انوکھا واقعہ
واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ کے ایک سپاہی نے غصے میں اپنے بیٹے کو گھر کے برآمدے میں نکال کر دروازہ بند کر لیا۔ رات کے وقت اس لڑکے نے دیکھا کہ ایک کالا بلی نما جانور (جس کا نام سوید تھا) گھر کے ایک سوراخ سے نکل کر دروازے پر آیا، جہاں باہر سے کسی نے اُسے پکارا اور عراق سے حضرت علی سلام اللہ ورضوانہ علیہ کی شہادت کی خبر دی۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر لڑکے نے فوراً اپنے باپ کو جگا کر سارا واقعہ سنایا۔ باپ نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اسی وقت حضرت امیر معاویہؓ کے پاس پہنچ کر انہیں اس غیبی خبر سے باخبر کیا، اور بعد میں تصدیق ہوئی کہ حضرت علی سلام اللہ ورضوانہ علیہ کی شہادت واقعی اسی رات اور اسی وقت ہوئی تھی۔
حوالہ: (کتاب آکام المرجان فی احکام الجان، بدر الدین محمد بن عبد اللہ الشبلیؒ، ناشر: مکتبۃ القرآن، مصر، قاہرہ، ص، 201)
