مرحوم رشتہ داروں کی روحوں کیلئے ہدیہ کریں ایسا نہ ہو خالی چلی جائیں

تسبیح خانہ سارے عالم میں خیر خواہی اور بھلائی پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے اور یہ خیر خواہی صرف زندوں کیلئے ہی ضروری نہیں بلکہ دنیا سے جانے والوں کیلئے بھی بے حد ضروری ہے اسی لیے تسبیح خانہ مرحومین کیلئے بھی بھرپور ایصالِ ثواب اور دعا کا اہتمام کرتا ہے اس دعا کیلئے نہ ہی کسی وقت کی قید ہے اور نہ ہی دن وجہہ کی ہر جگہ سے یہ ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔

(1) کتاب نور الصدور ص ۱۶۸ پر بروایت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ شبِ جمعہ کو مؤمنوں کی روحیں اپنے مکانوں کے مقابل کھڑی ہو کر پکارتی ہیں کہ ہم کو کچھ دوا اور ہر روح ہزار مردوں اور عورتوں کو پکارتی ہے، روایت کیا اس حدیث کو شیخ ابن الحسن بن علیؒ نے اپنی کتاب میں۔

(بحوالہ: نور الصدور ص ۱۶۸، تالیف: امام جلال الدین سیوطیؒ، ترجمہ: مولانا محمد عیسیٰ صاحب، اضافہ: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب، اضافہ مولانا محمد حسین صاحب مبارکپوری، ناشر: دارالاشاعت کراچی)۔

(2) خاتمۃ المحدثین شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شرح مشکوٰۃ شریف باب زیارۃ القبور میں فرماتے ہیں کہ ودر بعضے روایات آمده است کہ روح میت مے آید خانہ خود را شب جمعہ پس نظر کند کہ تصدیق میکنند از وے یانہ۔

ترجمہ: اور بعض روایات میں آیا ہے کہ روح شبِ جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے اور انتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں۔

(شرح مشکوٰۃ شریف باب زیارۃ القبور)

(3) خزانۃ الروایات میں ہے: (عن بعض العلماء المحققين ان الارواح يتخلص ليلة الجمعة وتنتشر فجاؤا الى مقابرهم ثم جاؤا فى بيوتهم)

”یعنی خزانۃ الروایات میں ہے کہ بعض محققین علماء سے روایت ہے کہ روحیں شبِ جمعہ چھٹی پاتی اور پھیلتی ہیں۔ پہلے وہ اپنی قبروں پر آتی ہیں پھر اپنے گھروں میں آتی ہیں۔“

(ایتان الارواح ص ۷)

(4) شیخ الاسلام ”کشف الغطاء عمّا لزم للموتى على الأحياء“، فصلِ ہشتم میں فرماتے ہیں:

”غرائب اور خزانہ میں منقول ہے کہ مؤمنین کی روحیں ہر شبِ جمعہ، روزِ عید، روزِ عاشورہ اور شبِ برأت کو اپنے گھر آ کر باہر کھڑی رہتی ہیں اور ہر روح غمناک بلند آواز سے ندا کرتی ہے کہ

اے میرے گھر والو! اے میری اولاد! اے میرے قرابت دارو! صدقہ کر کے ہم پر مہربانی کرو“

(5) دستور القضاۃ مستند صاحبِ مائۃ مسائل میں فتاویٰ امام نسفی سے ہے: ”بے شک مسلمانوں کی روحیں ہر جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن اپنے گھر آتی ہیں اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دردناک آواز سے پکارتی ہیں کہ اے میرے گھر والو! اے میرے بچو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقہ سے مہربانی کرو، ہمیں یاد کرو، بھول نہ جاؤ، ہماری غریبی میں ہم پر ترس کھاؤ۔

(6) نیز خزانۃ الروایات مستند صاحبِ مائۃ مسائل میں ہے: ”حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، جب عید یا جمعہ یا عاشورہ کا دن یا شبِ برأت ہوتی ہے، اموات کی روحیں آ کر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اور کہتی ہیں: ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے؟ ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھائے؟ ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے؟“

آئیے اپنے مرحومین کیلئے بغیر کسی قیدِ زمان اور وقت کے دعا کے ذریعے انھیں خیر اور بھلائی پہنچانے والے بن جائیں کیونکہ سخی تو وہ ہوتا ہے کہ جو خود لوگوں کے در پر جا کر دادرسی کرے نہ کہ انھیں اپنے در پر بلائے۔۔۔

تسبیح خانہ کے پیغامِ خیر خواہی کو سارے عالم میں پھیلانے کی کوشش کریں۔__!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026