تسبیح خانہ کے منبر سے کئی مرتبہ اس قسم کے واقعات بیان کیے گئے کہ مرنے کے بعد روحیں بھی گھر پر آتی ہیں بعض لوگ اس کو جھوٹ و افسانہ اور کہانی سمجھتے ہیں یاد رکھیں جب ایک واقعہ تواتر سے منقول ہو اور شریعت کے مخالف بھی نہ ہو تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔!
حضرت ابونعیمؒ نے حضرت لیث بن سعدؒ سے روایت ہے کہ فرمایا ایک شامی شخص نے شہادت پائی۔ وہ ہر جمعہ کی رات کو اپنے والد سے خواب میں ملنے آتے۔ ان سے باتیں کرتے اور محبت کا اظہار کرتے۔ وہ ایک جمعہ کی رات کو ملنے نہیں آئے۔ پھر وہ دوسرے جمعہ کو اپنے والد سے ملنے آئے۔ تو والد محترم نے پوچھا بیٹے تم نے مجھے اداس کر دیا۔ اور تمہارا مجھ سے نہ ملنا مجھے بہت شاق گزرا۔ تو اس نے عرض کیا۔ میں پچھلے جمعہ کو مصروف رہا۔ کیونکہ ہم تمام شہداء کو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے استقبال کا حکم ہوا تھا۔ لہذا ہم ان کی پیشوائی کو چلے گئے تھے۔
(بحوالہ: شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور ص 190: تالیف حضرت امام جلال الدین عبدالرحمن السیوطیؒ، ترجمہ مولانا عبدالرشید قاسمی، ناشر: کتب خانہ شانِ اسلام لاہور)
تسبیح خانہ میں ذکر کردہ اس قسم کے واقعات اکابرینِ امت سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ان پر اعتراض کرنے سے نشانہ ہمارے ہی اکابرینؒ پر پڑتا ہے۔
