میں یونیورسٹی میں باقاعدگی کے ساتھ شیخ الوظائف کے درس سنتا ہوں کیونکہ میرا موضوع تحقیق ہی ہے اس لیے شیخ الوظائف جو باتیں بیان فرماتے ہیں انہیں کتابوں میں تلاش کرتا ہوں ابھی کچھ عرصہ قبل آپ نے فرمایا کہ مرنے کے بعد انسان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور اسکے جسم کے حصوں کو سونگھتے ہیں اور آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں یہ بات امام جلال الدین سیوطیؒ جیسے محقق نے اپنی کتاب میں لکھی ہے آپ فرماتے ہیں:
حضرت ابن ابی الدنیاؒ نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اس کا سر سونگھ کر دیکھو، وہ سونگھ کر کہتا ہے کہ اس سے قرآن کریم کی خوشبو آرہی ہے۔ پھر حکم ہوتا ہے اس کے دل کو سونگھو، وہ سونگھ کر کہتا ہے اس کے دل سے روزہ کی خوشبو آرہی حکم ہوتا ہے۔ اس کے پیروں کو سونگھ کر دیکھو تو وہ سونگھ کر کہتا ہے کہ اس کے پیروں سے عبادت کیلئے قیام کی خوشبو آرہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اس شخص نے اپنی حفاظت کی ہے، اب اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے گا۔
(بحوالہ شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور ص 159: تالیف حضرت امام جلال الدین عبدالرحمن السیوطیؒ، ترجمہ مولانا عبدالرشید قاسمی، ناشر: کتب خانہ شانِ اسلام لاہور)
تسبیح خانہ کے منبر سے بیان ہونے والی ہر چیز اکابرینؒ کی کتابوں میں بکھری پڑی ہے۔
آئیے۔۔۔! ’’اکابر پر اعتماد‘‘ پیج کے ذریعے اس کو سارے عالم میں پھیلاتے ہیں۔
