تسبیح خانہ میں کیا جانے والا عمل عذابِ قبر سے حفاظت اور فرشتوں کی رفاقت کا ذریعہ

الحمدللہ! اللہ کے فضل و کرم سے ہر جمعرات تسبیح خانہ لاہور میں لاکھوں سے زیادہ مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھی جا رہی ہے یہ سورۃ دینی، دنیاوی، معاشی تمام ہی پریشانیوں کا حل ہے آپ بھی اس قبولیت والے عمل میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو تسبیح خانہ چلیے۔۔۔! حضرت خواجہ احمد دیربیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیماری میں اس سورۃ کی کثرت سے تلاوت کرے گا اگر وہ اسی مرض میں مر گیا تو ایسا شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا، فرشتے قیامت کے دن اس کو چاروں طرف سے اس کو گھیر لیں گے اور اپنے بازوؤں پر بٹھا کر پل صراط سے گزار کر جنت میں داخل کریں گے۔ (مجرباتِ دیربی) یہ عمل بارہا تسبیح خانہ کا آزمودہ عمل ہے تو آئیے دیر کیسی اس بابرکت عمل میں شریک ہو کر اپنی زندگی کو آسان بنائیں۔

قبولیت کیلئے تسبیح خانہ کا ایک خاص عمل اس عمل سے جھولیاں بھر جاتی ہیں۔۔۔!

بزرگانِ دین کے معمولات میں سے ہے کہ جب بھی کسی قسم کی مشکل ہو جو کہ حل ہوتی نظر نہ آتی ہو تو 40,000 مرتبہ انفرادی یا اجتماعی ایک ہی نشست میں بیٹھ کر سورۃ الاخلاص کا ورد کریں اور اس کے بعد نہایت توجہ و دھیان کے ساتھ دعا کریں، بڑی سے بڑی مشکل اللہ کے فضل و کرم سے حل ہو جاتی ہے۔ شیخ ابن عطاؒ نے کہا ہے کہ خدا کے قول ’’قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‘‘ سے توحید معلوم ہوتی اور ’’اَللّٰهُ الصَّمَدُ‘‘ سے معرفت معلوم ہوئی اور ’’لَمْ يَلِدْ‘‘ سے ایمان معلوم ہوا اور ’’وَلَمْ يُوْلَدْ‘‘ سے اسلام معلوم ہوا اور ’’وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ‘‘ سے یقین کا پتہ چلا۔ یہ عمل بارہا تسبیح خانہ کا آزمودہ عمل ہے تو آئیے دیر کیسی اس بابرکت عمل میں شریک ہو کر اپنی زندگی کو خوشحال بنائیں۔ یہ عمل ہر جمعرات تسبیح خانہ لاہور میں اجتماعی کرایا جا رہا ہے جس میں لاکھوں سے زیادہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی جاتی ہے۔

تسبیح خانہ میں ہزاروں قرآن ختم کرنے کا ثواب پائیں۔۔۔!

ہر سال تسبیح خانہ لاہور میں گیارہ جمعرات لاکھوں مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کا عمل کرایا جاتا ہے جس کی برکتیں، بے بہا ہیں آپ بھی اس عمل میں شریک ہوکر اپنی دعائیں قبول کرواسکتے ہیں۔ تسبیح خانہ میں کیے جانے والے عمل پر برکات کی پہلی دلیل سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو‘‘، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اس سے بہت عاجز اور بہت ضعیف ہیں، آپ نے فرمایا: ’’سنو! اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تین حصے کئے ہیں » قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ « مکمل سورہ اخلاص، تیسرا حصہ ہے۔ — [صحیح مسلم: 811] ایسی ہی روایتیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بہت بڑی جماعت سے مروی ہیں۔ یہی وہ طاقتورترین اعمال ہیں جن کی وجہ سے تسبیح خانہ برکتوں کا گہوارہ ہے۔۔۔!

وجہ جان لیں! شیخ الوظائف شاہ اسماعیل شہیدؒ کے مزار پر کیوں گئے؟

حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ (مہتمم دارالعلوم انڈیا، خلیفہ مجاز حکیم الامتؒ) فرماتے ہیں کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ علماءِ اکابرؒ، اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین کی قبروں اور مزارات پر جانے سے روکتے ہیں اور قبروں پر فاتحہ دعا کو منع کرتے ہیں حالانکہ یہ کذب محض اور بالکل جھوٹ ہے اور افتراء باندھا جاتا ہے۔ علماء کا مسلک یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور اہلِ اللہ کی قبروں پر جانا انتہائی برکت کا ذریعہ ہے، فیض کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ ہمارے اکابرؒ کے مفتیِ اعظم (دارالعلوم انڈیا) حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحبؒ تھے ہر سال حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مزار پر عرس کے موقع پر حاضر ہوا کرتے تھے۔ یہ دارالعلوم کے مفتیِ اعظم تھے۔ (کتاب: خطباتِ حکیم الاسلام، ج 7، ص 5، ترتیب: مولانا نعیم احمد مدرسہ جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر: مکتبہ امدادیہ، ملتان) اہل اللہ کے مزارات پر حاضری تمام سلاسل کے بزرگوں کا طریقہ اور اہلِ علم کا شیوہ ہے اسی وجہ سے شیخ الوظائف دامت برکاتہم بھی مزارات پر حاضری دیا کرتے ہیں۔

غربت سے بچنا چاہتے ہیں تو شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کی یہ بات ضرور پڑھ لیں۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا موضوع ہی یہ ہے کہ انسانیت کس طرح خوشحال ہو جائے اور بدحالی سے بچ جائے۔ اس لیے آپ اکثر اپنے دروس میں خوشحالی کے راز بیان فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ "کبھی صحابہ کرامؓ اور اولیائے کرامؒ کی شانِ اعلیٰ مقام میں گستاخی و بے ادبی نہ کرنا یہ گستاخی اور بے ادبی زندگی میں فقر اور مسکینی لے آتی ہے دراصل اس بات کے پیچھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت ہے” "اکابر پر اعتماد” کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت موقوفاً ان الفاظ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: يَا غُلَامُ اِيَّاكَ وَسَبَّ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاِنَّ سَبَّهُمْ مَفْقَرَةٌ الخ "کہ اے برخوردار: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہنے سے اجتناب کرو کیونکہ ان کو برا کہنا فقر و مسکینی کا باعث ہے۔” اگر آپ تمام حضرات فاقہ اور تنگدستی سے بچنا چاہتے ہیں تو شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی اس بات کو ہمیشہ اپنے پلو سے باندھ لیں۔

شیخ الوظائف کے بالاکوٹ مزار حاضری پر اعتراض سے پہلے یہ بات پڑھنا نہ بھولیں۔۔۔!

بہت سے کم علم لوگوں کو تشویش ہے کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم بالاکوٹ مزار پر کیوں جا رہے ہیں تو ایسے بھائیوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ اگر ’’مزارات سے فیض اور ہمارے اکابرؒ ‘‘ کتاب کا مطالعہ کریں تو کبھی بھی اعتراض نہ کریں یہ فیض تو ہمارے تمام ہی اکابرین کا طریقہ رہا ہے: استاذ العلماء حضرت حکیم العصر (شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، ساتویں امیر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت) نے ف1رمایا کہ جب شیخ الہندؒ دارالعلوم کے رئیس المدرسین تھے تو اس وقت ایک طالب علم پنجاب سے داخلہ لینے کے لیے آیا اور کہا کہ حضرت میں نے یہاں پر پڑھنا ہے لیکن میری دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ کھانا مدرسہ سے لوں گا۔ دوسری یہ کہ امتحان نہیں دوں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ ممکن نہیں ہے لیکن وہ بضد کہ میں نے پڑھنا بھی ہے اور امتحان بھی نہیں دینا تو حضرت نے فی الوقت اس کو ٹالنے کے لیے کہہ دیا اچھا کل یا پرسوں آنا، میں سوچوں گا تو اگلے دن پانچ روپے کا ایک منی آرڈر آیا (اس وقت مدرس کی تنخواہ پانچ روپے ہوتی تھی) اور منی آرڈر کے کوپن پر لکھا ہوا تھا کہ یہ رقم ایسے طالب علم کو دے دیں جو قانوناً دارالعلوم سے مالی امداد نہ لے سکتا ہو اور یہ رقم ہر ماہ آئے گی۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا اگلے دن وہ آیا تو میں نے اس کو کہہ دیا کہ لو بھائی تیرا تو اللہ نے انتظام کر دیا، وہ طالب علم پڑھ کر چلا گیا کافی عرصہ بعد ملنے کے لیے آیا تو کہا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں تو حضرت نے کہا کہ نہیں تو پھر کہا حضرت میں وہی طالب علم ہوں (یعنی اوپر ذکر کردہ واقعہ سنایا) تو حضرت بہت خوش ہوئے اور اس سے حال احوال پوچھا تو کہنے لگا کہ حضرت کیا بتاؤں یہاں سے جانے کے بعد میں ایسی بستی میں امام مسجد ہو گیا ایک مرتبہ وہاں پر ایک پیر جبّے قبّے والا آیا اس نے علماء دیوبند کے خلاف بڑی زوردار تقریر کی اور ثابت کیا کہ یہ کافر و مشرک اور گستاخ ہیں، تو پورا گاؤں مشتعل ہو کر لاٹھیاں لے کر میرے مکان پر آ گیا کہ تو کافر ہے اور تو نے ہماری نمازیں خراب کی ہیں یا اس کے اعتراضات کا جواب دے دیا یا ہم تجھ کو بہت ماریں گے تو اس وقت پیر نے تقریر کی اور علماء پر اعتراضات کیے۔ بیداری میں نبی، ولی، پیر، استاد، بزرگ کی زیارت: جب وہ تقریر کر رہا تھا تو اس وقت میرے پہلو میں ایک بوڑھا آ کر بیٹھ گیا، جب پیر نے تقریر ختم کی تو اس بوڑھے نے مجھے کہا کہ اٹھ بیٹھے تقریر کر میں مجبوراً اٹھ کر کھڑا ہو گیا، (مرتا کیا نہ کرتا) بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میں نے بسم اللہ اور کچھ خطبہ پڑھا پھر مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا کہا لیکن میری تقریر کے کچھ ہی دیر بعد وہ پیر ہاتھ جوڑے کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم سب سے غلطی ہوئی اور ہم آپ کو غلط سمجھتے رہے تو حضرت شیخ الہندؒ نے پوچھا کہ اس بوڑھے کا حلیہ کیا تھا تو اس نے حلیہ بتایا جب آپ نے حلیہ سنا تو فرمایا کہ اوہ یہ تو ہمارے استاد حضرت نانوتویؒ تھے اس واقعہ کے بعد حضرت حکیم العصر مدظلہ (شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، ساتویں امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) نے فرمایا کہ بیداری میں نبی، ولی، پیر، استاد، بزرگ کی زیارت ہو سکتی ہے۔ اس کا انکار کرنے کی ضرورت نہیں۔ (کتاب: مجالس حکیم العصر، صفحہ 235، اہتمام: مولانا مفتی ظفر اقبال، ناشر: مکتبہ شیخ لدھیانوی، لودھراں)

تسبیح خانہ میں بزرگانِ دین کو ایصالِ ثواب کیوں کیا جاتا ہے؟ وجہ جان لیں۔۔۔!

’’تسبیح خانہ کا معمول ہے کہ روزانہ عصر کی نماز کے بعد ختمِ خواجگان کا عمل کیا جاتا ہے جمعرات والے دن مغرب کی نماز کے بعد بھی یہی عمل کیا جاتا ہے اس کا بنیادی مقصد بزرگانِ دین کی ارواحِ طیبات کو ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے آج اکابرؒ پر اعتماد کے دوستوں کو اس کی وجہ بھی عرض کی جاتی ہے۔‘‘ ایصالِ ثواب ارواح سے فیض ملنے کا ذریعہ مصنف ’’فضائلِ اعمال‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے ارشاد فرمایا: اکابرؒ کے لیے ایصالِ ثواب ضرور کیا کرو، اس سے ان کی ارواح متوجہ ہوتی ہیں اور ان کے فیوض و برکات ملتے ہیں۔ حاجی عبدالرحمن صاحب نو مسلم میرے تایا ابا کے زمانے میں اسلام لائے تھے ان کی بہت سی خصوصیات ہیں (جو سوانح محمد الیاسؒ میں مذکور ہیں)۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص بات عطا فرمائی تھی کہ ان کے ذریعہ بہت سے آدمی اسلام لائے۔ ایک مرتبہ دلی میں ایک تانگہ والے کے پاس گئے اس نے کہا کہ میری گاڑی میں جگہ نہیں ہے۔ بہر حال بہت جھگڑے کے بعد تانگہ والے نے بٹھایا۔ اللہ کی شان دلی سے نظام الدین پہنچے کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ انہوں نے میرے چچا جانؒ کے انتقال پر ایک معمول یہ بنایا تھا کہ سورہ یٰسین پڑھ کر اور دو رکعت نفل پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا کرتے تھے۔ ایک روز خواب میں دیکھا کہ چچا جانؒ نے فرمایا کہ میرے اکابرؒ کو چھوڑ دیتے ہو مجھے اس سے شرم آتی ہے کہ مجھے آپ ثواب پہنچاؤ اور دوسرے مشائخ کو نہ پہنچاؤ، ان کو بھی بخشا کرو۔۔۔! بہر حال اکابرؒ کے لیے ایصالِ ثواب کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کے سامنے سرخروئی ہو سکے۔ (کتاب: ملفوظات شیخ الحدیثؒ، ص 281، ترتیب: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی مدظلہ، ناشر: مکتبہ لدھیانوی)

شیخ الوظائف کا فرمان اگر آپ کا عقیقہ نہیں ہوا تو فوراً کرلیں۔۔!

(مولانا محمد نیاز صاحب، فاضل: جامعہ مظاہر العلوم) شیخ الوظائف دامت برکاتہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ بلاؤں، مصیبتوں، اور آفتوں سے محفوظ رہیں اور ان کا ایک طریقہ عقیقہ بھی ہے۔ بہت سے لوگ جن کا عقیقہ نہیں ہوا وہ آپ دامت برکاتہم سے یہ پوچھتے تھے کہ اب جوانی یا بڑھاپے میں ہم عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں تو ایسے لوگوں کیلئے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم حضرات کے علمی جوابات پیشِ خدمت ہیں: دارالعلوم کا فتویٰ عقیقے کا سب سے اچھا وقت پیدائش سے ساتویں دن ہے، پھر چودہویں، پھر اکیسویں، اگر ان دنوں میں بھی نہ کر سکے تو عمر بھر میں کسی بھی دن عقیقہ کیا جاسکتا ہے؛ البتہ بہتر ہے جب بھی عقیقہ کیا جائے پیدائش سے ساتویں دن کا لحاظ کیا جائے۔ ”عن ابن عباسؓ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقّ عن الحسن والحسین کبشاً کبشاً“ (ابوداؤد، رقم: 2841) ثم إن الترمذی أجاز بہا إلی یوم أحد وعشرین قلت بل یجوز إلی أن یموت لما رأیت فی بعض الروایات أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم عق عن نفسہ بنفسہ (فیض الباری: 4 / 337 کتاب العقیقہ ، ط: اشرفی) (واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند) دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی) کا فتویٰ ساتویں دن ”عقیقہ“ کرنا بہتر ہے اگر ساتویں دن نہ ہو سکے تو زندگی میں جب چاہیں کر سکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی، البتہ ساتویں دن کا لحاظ رکھا جائے تو بہتر ہے، اس کے یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا، اس دن سے ایک دن قبل ساتواں دن بنے گا۔ مثلاً بچہ جمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتواں دن ہے۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں: والظاہر أن التقیید بذلک استحباب، وإلا فلو ذبح عنہ فی الرابع أو الثامن أو العاشر أو ما بعدہ أجزأت۔ ”معلوم یہ ہوتا ہے کہ ساتویں دن کی قید استحباب کے طور پر ہے، ورنہ اگر کوئی شخص بچے کی طرف سے چوتھے، آٹھویں، دسویں یا بعد والے کسی دن عقیقہ کر دے تو وہ کفایت کر جائے گا۔“ (تحفۃ الودود لابن القیم: ص 50) جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ جب بھی عقیقہ کرے، بہتر یہ ہے پیدائش کے دن کے حساب سے ساتویں دن کرے، اگر بچپن میں عقیقہ نہ ہوا تو بڑی عمر میں اپنا عقیقہ خود بھی کیا جاسکتا ہے، عقیقہ ادا ہو جائے گا۔ عن محمد [ابن سیرینؒ] قال: ”لو أعلم أنه لم یعق عنی لعققت عن نفسی۔“ (12 / 319، حدیث: 24718، کتاب العقیقہ ، ط: المجلس العلمی افریقا) (دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کا فتویٰ (دارالافتاء، جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی) عقیقہ ساتویں دن، چودہویں یا پھر اکیسویں دن کریں اگر ان دنوں میں نہ کر سکے تو عمر بھر میں کسی بھی دن عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔

شیخ الوظائف کا فرمان کہ جمعہ کے دن والدین کی قبر پر جایا کرو

(قاری محمود الرحمن، سرگودھوی، فاضل: جامعہ صدیقیہ) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کوشش یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن و سنت سے جڑ جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دکھوں کو بانٹنے والے بن جائیں چاہے وہ زندہ ہوں یا دنیا سے جانے والے یعنی مردہ اسی لیے آپ کم از کم جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبروں پر جانے کا فرماتے ہیں۔ آئیے! اس فرمان کی حقیقت علمی فتاویٰ جات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ سوال: جس شخص نے جمعہ کو اپنے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اس کی بخشش کر دی جاتی ہے، اور اس کا نام نیکوکاروں میں لکھ دیا جاتا ہے؟ براہِ کرم مہربانی کر کے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں۔ کیا اس پر ایمان رکھنا کیسا ہے؟ جواب نمبر: 56927: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جی ہاں (شیخ ابوبکر احمد بن حسین بن علیؓ جو کہ امام بیہقی سے مشہور ہیں) کی سنن بیہقی میں اس طرح کے مضمون کی حدیث آئی ہے، اس پر ایمان رکھنا اور اس پر عمل کرنا درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص جمعہ کے روز اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اور اس کے پاس سورہ یٰسین پڑھے بخش دیا جائے۔ (الکامل لابن عدی، 6 / 260) تابعی بزرگ حضرت محمد بن نعمان سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی ہر جمعہ میں زیارت کیا کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی اور وہ بھلائی کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔ (شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتہما، 6 / 201، حدیث 7901) حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن والدین کی قبور کی زیارت کیا کرے، اگر وہاں حاضری میسر نہ ہو (دوسرے ملک میں ہونے کی وجہ سے) تو ہر جمعہ کو ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا کرے۔ علماء فرماتے ہیں کہ والدین کی وفات کے بعد تین کام کرو: ایک یہ کہ ہر جمعہ کو ان کی قبروں کی زیارت کرو، ان کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب کرو۔ دوسرے یہ کہ ان کے قرض ادا کرو، ان کے وعدے پورے کرو۔ تیسرے یہ کہ والد کے دوستوں اور والدہ کی سہیلیوں کو اپنا باپ و ماں سمجھو اور ان کی خدمت کرو۔ (مرآۃ المناجیح، قبروں کی زیارت، 2 / 526) اب بتائیے شیخ الوظائف دامت برکاتہم ساری دنیا کو کن راہوں پر لگا رہے ہیں۔۔۔!

تعویذ لکھا رکھا اور گھریلو الجھنیں غائب

ایک جرمن انگریز کا تجربہ! حیرت کا سمندر جوزیا جرمنی کے کیتھولک عیسائی گھرانہ میں پیدا ہوئیں۔ یہ 3 بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ ان کا چھوٹے سے قصبے آری ٹو سے تعلق ہے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر ایک اسکول میں پڑھاتی رہیں۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر کوثر صاحبہ کی فیملی کے ساتھ رہتے ہوئے مسلمان ہو گئیں اور نام مریم رکھا گیا۔ بتاتی ہیں گھر چھوٹا ہو گیا، مجھے الگ گھر لینا پڑا، یہ گھر بہت خستہ حال تھا۔ اس بڑے گھر میں تین فیملیاں رہتی تھیں۔ اس کی حالت ایسی تھی کہ اس کے مالک نے ہمارا یہ مکان چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اسے گرا دیا تھا۔ اس گھر میں بہت چوہے تھے۔ میں رات کو نماز پڑھتی تو چوہے تنگ کرتے، میں نے یہ بات پاپا (قبولِ اسلام کے بعد جس فیملی کے ہمراہ رہتی ان کے والد کو پاپا بلاتی) کو بتائی، پاپا نے کہا میں کیا کر سکتا ہوں جس کیلئے نماز پڑھتی ہو اس سے مسئلہ بیان کرو۔ پھر پاپا نے واقعہ سنایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں دریائے نیل میں پانی نہیں آ رہا تھا۔ لوگ جاہلانہ رسم ادا کرنے جا رہے تھے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روک دیا۔ مسئلہ کے حل کیلئے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی تو انہوں نے ایک خط لکھ کر دیا اور کہا کہ اسے دریائے نیل میں ڈال دو۔ چند مسلمان بھی مضطرب تھے اور غیر مسلم بھی حیران تھے کہ بھلا دریا کیا خط پڑھے گا۔ خشک دریا میں خط ڈال دیا گیا۔ خط کا مفہوم یہ تھا:۔ بحوالہ کتاب: روشنی کا سفر، جلد اول۔ ترتیب و تبویب: محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی مبلغ عالمی مجلس ختم نبوت پاکستان ناشر: قاضی احسان احمد اکیڈمی، شجاع آباد ضلع ملتان۔ اگر دریاۓ نیل اللہ کے حکم سے چلتے ہو تو میں اللہ کا خلیفہ تمہیں چلنے کا کہتا ہوں، وہ دن اور آج کا دن دریاۓ نیل میں پانی چل رہا ہے جہاز رانی ہو رہی ہے۔ اسی طرح خط لکھنے کا واقعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آیا۔ جب مسلمان مجاہدین کی ایک جماعت ایتھوپیا پہنچی تو وہاں بہت زیادہ سانپ بچھو اور دوسرے کیڑے مکوڑے تھے۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، آپ رضی اللہ عنہ نے جگہ کا نقشہ منگوایا اور پھر 2 خط روانہ کر دیئے۔ ایک خط مسلمانوں کے نام تھا کہ آپ اس علاقہ میں موجود ٹیلے پر جمع ہو جائیں اور آواز دیں: ’’اے حشرات الارض! اے حشرات الارض! جمع ہو جاؤ اور پھر دوسرا خط ان کو پڑھ کر سنا دیں۔ انہوں نے ٹیلے پر چڑھ کر جب صدا لگائی تو حشرات الارض جمع ہو گئے جس میں سانپ، بچھو دیگر کیڑے مکوڑے سب شامل تھے۔ پھر انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خط سنایا گیا جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا: ’’اے حشرات الارض یہ اللہ کے بندے ہیں اللہ کے کام سے یہاں آئے ہیں انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ‘‘۔ خط سن کر سب حشرات الارض وہاں سے چلے گئے اور مسلمان وہاں آرام سے رہے۔ اس وقت سے آج تک ایتھوپیا کے اس علاقہ میں کہیں حشرات الارض نہیں پائے جاتے۔ چوہوں کے نام خط: مریم باجی کہنے لگیں: میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ میں چوہوں کو خط لکھوں گی لیکن پھر خیال آیا کہاں میں کہاں وہ عظیم المرتبت لوگ۔ میرے خط لکھنے کے ارادے کا کچھ لوگوں کا پتہ چل گیا۔ مسلمان خوفزدہ ہو گئے کیونکہ غیر مسلموں نے مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا کہ اب یہ پاگل ہو گئی ہے۔ بھلا چوہے بھی انسانوں کے خط پڑھیں گے، پاپا نے حوصلہ دیا سچ ہے اہلِ ایمان حق کی بات کرتے ہیں۔ انہیں پاگل، دیوانہ، مجنوں کہا جاتا ہے۔ خیر میں نے چوہوں کے بل کے قریب خط رکھ دیا۔ جس میں تحریر تھا مفہوم: ’’اے چوہو میں اللہ کی بندی ہوں اللہ کی عبادت میں تمہاری وجہ سے ڈسٹرب ہوتی ہوں‘‘۔ پھر چوہے وہاں سے چلے گئے اور کبھی ڈسٹرب نہ کیا مسلمان غیر مسلم سب حیران تھے۔ چوہے کسی انسان کا خط پڑھ کر اس کے مطابق عمل کریں۔ (تحریر: شمس القمر نقشبندی، روزنامہ ’’خبریں‘‘ سکھر یکم دسمبر 2006ء) بحوالہ کتاب: روشنی کا سفر، جلد اول۔ ترتیب و تبویب: محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی مبلغ عالمی مجلس ختم نبوت پاکستان ناشر: قاضی احسان احمد اکیڈمی، شجاع آباد ضلع ملتان۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026