مرنے کے بعداللہ کا ہر عاشق زندہ ہوتا ہے

شیخ الوظائف پر فتویٰ لگانے سے پہلے اسے ضرور پڑھ لیں شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے15 اکتوبر 2020ء کے درس میں اور پچھلے کئی دروس میں مرنے کے بعد زندہ ہونے والے کئی اولیائے کرامؒ کے واقعات بیان کئے ہیں۔ آئیے..! ان واقعات کو حقیقت کے آئینہ میں جانتے ہیں ۔ کتاب ’’فضائل اعمال‘‘ کے مصنف شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ذکریا صاحب ؒ نے حضرت ابو علی رود باری ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص عید کے دن بہت خستہ حال‘ پرانے کپڑے پہنے، میرے پاس آیا کہنے لگا۔ یہاں کوئی پاک صاف جگہ ایسی ہے جہاں کوئی غریب فقیر مرجائے۔ میں نے لاپروائی سے لغو سمجھ کر کہہ دیا کہ اندر آجا اور جہاں چاہے پڑ کے مرجا۔ وہ اندر آیا، وضو کیا، چند رکعات نماز پڑھی اور لیٹ کر مرگیا۔ میں نے اسکی تجہیز تکفین کی اور جب دفن کرنے لگا تو مجھے خیال آیا کہ اس کے منہ پر سے کفن ہٹاکر اس کا منہ زمین پر رکھ دوں تاکہ حق تعالیٰ شانہ اس کی غربت پر رحم فرمائے میں نے جب اس کا منہ کھولا تو انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔ میں نے پوچھا میرے سردار کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟ کہنے لگا کہ میں زندہ ہوں اوراللہ تعالیٰ کا ہر عاشق زندہ ہوتا ہے۔ میں کل قیامت میں اپنی وجاہت سے تیری مدد کروں گا۔ علی بن سہل اصبہانیؒ کہا کرتے تھے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں بھی اسی طرح مروں گا جس طرح لوگ مرتے ہیں۔ (کتاب:فضائل صدقات،ص669،مولف:شیح الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب، ناشر:کتب خانہ فیضی لاہور۔ کتاب: الرسالۃ القشیریۃ ،تالیف: امام ابو القاسم عبد الکریم بن ھوازن القشیری،اردو ترجمہ: مولانا محمد عرفان بیگ نوری دیوبندی،ناشر: دار العرفان، سر سید نگر، علی گڑھ، بھارت) (کتاب:مرنے کے بعد زندہ ہونے والوں کے حیرت انگیز واقعات، صفحہ108، جمع و ترتیب: مفتی ثناء اللہ محمود، ناشر: ادارہ الانور۔) (کتاب: روض الریاحین ، ص240:تالیف :امام عبد اللہ بن اسعد یافعی ؒ مولانا جعفر علی نگینوی ؒ ناشر: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی )(شرح الصدور، ص 860) قارئین !شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کابیان کردہ ہر واقعہ تعلمات اکابرؒ کا ترجمان ہے۔

کیا عبقری میں وضو کے بعد ’’تین گھونٹ پانی‘‘ کے پینے کا ذکر بدعت ہے ؟

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے اکثر بیانات میں وضو کے بعد بچے ہوئے پانی تو پینے کی ترغیب دیتے ہیں اور یہ سالہاسال سے آپ کا معمول ہے عبقری کے پیغام سنت کو عام کرنے والی ایک واضح دلیل مفتیان کرام کی زبانی پڑھیے ٔ۔۔۔۔۔! فاعتبرو یا اولی الابصار سوال: احناف کی اکثر کتابوں جیسے درمختار وغیرہ میں یہ لکھا ہے کہ وضوکے بعد تین گھونٹ پانی پینا مستحب ہے جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ براہ کرم، اس مسئلہ کو مدلل بیان کریں۔ جواب: فتوی(م): 1753=1753-11/1432 بدعت کہنے والوں کی دلیل کیا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی پی لینا آداب میں سے ہے، چاہے کھڑے ہوکر پیئے یا بیٹھ کر۔ بخاری شریف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: أنہ بعد ما توضأ قام فشرب فَضْلَ وضوئہ وہو قائم اور درمختار میں ہے: وأن یشرب بعدہ من فضل وضوئہ کماء زمزم مستقبل القبلة قائمًا أو قاعدًا إلخ واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند بنوری ٹائون کا فتویٰ وضو کا بچا ہوا پانی پی لینا آداب میں سے ہے، چنانچہ: ۱- ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو فرمایا اور وضو کے بعد بچا ہوا پانی کھڑے کھڑے پی لیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی فرمایا تھا۔ (سنن ترمذی، رقم الحدیث : ٤٨) ۲- حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا بھانجا بیماری کی وجہ سے بےچین ہے ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی، پھر آپ نے وضو فرمایا، اور میں نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔ (صحیح بخاری ، رقم الحدیث: ۱۹۰) ۳- حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے ، آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا ، آپ نے وضو فرمایا، پھر لوگ آپ کے وضو کا باقی ماندہ پانی پینے لگے اور بدن پر ملنے لگے. (صحیح بخاری ، رقم الحدیث: ۱۸۷) بطورِ نمونہ تین روایات درج کی گئی ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی روایات کتبِ حدیث میں مذکور ہیں، ان احادیث کی رو شنی میں فقہاءِ کرام نے وضو کے بعد بچا ہوا پانی پینا وضو کے آداب میں سےلکھا ہے، چاہے کھڑے ہوکر پیے یا بیٹھ کر ۔ فقط واللہ اعلم محترم قارئین:ایک بات یاد رکھیں شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے تسبیح خانہ میں اعمال اور وظائف بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں ۔

اونچی بلڈنگ اور درختوں پر بیٹھنے والی عجیب مخلوق

محترم قارئین ! حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ عبقری میں جنات کا پیدائشی دوست کے عنوان سے کئی سال پہلے بیتے ہوئے واقعات یوں بیان کرتے ہیں ، جیسے ابھی کل ہی کا واقعہ ہو۔ دراصل اس قوت حافظہ کے پیچھے ان کو اللہ جل شانہ سے ملی ہوئی وہ خاص کرامت ہے، جو پہلے دور میں صرف اکابرین امت کو عطا ہوتی تھی۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ایک دن حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں نے آج تک ایک جن سے زیادہ قوت حافظہ کسی کی نہیں دیکھی۔ حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا : وہ کیسے؟ فرمایا: میرے پاس پنجاب کے شہر شیخو پورہ کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے : ہماری ایک نو جوان بیٹی کو جنات کی تکلیف ہے۔ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کسی درخت پر بیٹھی ہوتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی بلند ترین بلڈنگ کی دیوار پر نظر آتی ہے۔ پھر اسے نیچے اتارنے میں ہم پر قیامت گزر جاتی ہے۔ وہ جن کہتا ہے کہ ہم حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور انہی کے کہنے پر جائیں گے۔ بہر حال میں وہاں پہنچا تولڑکی پر جنات آگئے۔ میں نے پوچھا: بھئی تم کیسے میرے مرید ہو گئے؟ کہنے لگے : حضرت ! ایک مرتبہ آپ نے فلاں قصبے میں تقریر کے دوران مجمع کو کچھ ورد وظیفے بتائے تھے، ہم نے اسی وقت سے آپ کے مرید ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ کونسی تقریر تھی ؟ لہذا اس جن نے لڑکی کی زبانی اڑھائی گھنٹے کی تقریر آیات اور احادیث سمیت حرف بہ حرف سناڈالی۔ اور سنائی بھی میرے ہی مخصوص لہجے میں ۔ حالانکہ یہ تقریر بیس سال پہلے کی تھی۔ یہ سن کر مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا: حضرت! کیا آپ کو بیس سال پرانی تقریر یاد تھی ؟ فرمانے لگے: بھئی میں نے تو خود تقریر کی تھی، مجھے کیوں یاد نہ رہتی ؟ مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہنس کر فرمایا : حضرت ! پھر تو اس جن سے زیادہ آپ کا حافظہ مضبوط ہے، حالانکہ ہم رات کو کہی ہوئی بات دن کو بھول جاتے ہیں ( بحوالہ کتاب: واقعات و کرامات اکا بر صفحہ 378 مؤلف: مولانا ثناء اللہ سعد شجاع آبادی، عمر پبلی کیشنز ، غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور )

سمندر میں ہونے والی محفل نعت سن کر مچھلیاں بھی تڑپ گئیں

محترم قارئین! کچھ لوگ ماہنامہ عبقری کے وظائف پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی بزرگ یا عالم دین نے موقع کی مناسبت سے کسی شخص کو مسئلے کے حل کیلئے کوئی تعویذ دیا تھا یا وظیفہ بتایا تھا، تو یہ صرف انہی تک محدود تھا۔ہم اکابر واسلاف کے ایسے اعمال نہیں اپنا سکتے، کیونکہ ان کی تاثیر انہی کے ساتھ خاص تھی۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ 9 صدیاں پہلے لکھے گئے قصیدے نے کچھ سال پہلے اپنی تاثیر کیسے دکھائی۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی (ایڈیٹر ماہنامہ انوار القرآن کراچی) لکھتے ہیں کہ: حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ بنگلہ دیش کا سفر کیا۔اس سفر میں حضرت مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا اجمل خان رحمہم اللہ اجمعین بھی ساتھ تھے۔ حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"جس کو آقا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جو جو اشعار آتے ہیں، وہ سنائے۔” سب نے مختلف اشعار سنائے۔ جب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی باری آئی تو انہوں نے مولانا عبدالرحمان جامی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ قصیدہ سنایا، جسے انہوں نے کشتی میں سفر کرتے ہوئے پڑھا تھا۔ اور پڑھنے کے دوران ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اچھل اچھل کر کشتی میں آ کر تڑپنا شروع ہو گئیں۔ حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قصیدہ سب کے سامنے سنانا شروع کیا، تو دریا کی مچھلیاں پانی کی سطح پر آ کر کشتی کے اردگرد جھومنا شروع ہو گئیں۔پھر بے خود ہو کر کشتی کے اندر اچھل کر آئیں اور وہاں آ کر تڑپنا شروع ہو گئیں۔” کشتی میں موجود بڑے بڑے علماء پر سناٹا طاری ہو گیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں قصیدہ پڑھتے رہے۔ (بحوالہ: ماہنامہ انوار القرآن، کراچی۔ خاص نمبر: حضرت عبد اللہ درخواستیؒ،بحوالہ کتاب: واقعات و کرامات اکابر صفحہ 384، عمر پبلیکیشنز اردو بازار لاہور)

اب زمانہ بدل گیا ہے اب اللہ جل شانہ کی پناہ مانگنی چاہئے

حضرت رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:ایک رات میں ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ جب نیند کا غلبہ ہوا تو میں نے سونے سے پہلے اپنی اونٹنی کے متعلق دورِ جاہلیت کے مطابق یہ الفاظ کہے:"میں اس وادی کے بڑے جن کی پناہ لیتا ہوں۔” اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہے، جسے وہ میری اونٹنی کے گلے پر پھیرنا چاہتا ہے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو اونٹنی صحیح سلامت کھڑی تھی۔ دوبارہ سو گیا تو پھر وہی خواب دیکھا کہ وہ شخص میری اونٹنی کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ اتنے میں ایک بوڑھے آدمی نے آ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: "اس اونٹنی کے بدلے ان کا خچروں میں سے ایک لے لو، اور اونٹنی کو چھوڑ دو۔” وہ شخص اس بات پر راضی ہوا اور چلا گیا۔ اس بوڑھے آدمی نے مجھے کہا: "اے بے وقوف! جب تم کسی جنگل میں ٹھہرو اور وہاں کے جنات سے خطرہ ہو تو یہ کلمات کہا کرو: أَعُوذُ باللہ رَبِّ مُحَمَّدٍ مِنْ شَرِّ هَذَا الْوَادِي” یعنی:"میں اس وادی کے شر سے ربِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں۔” کیونکہ وہ زمانہ چلا گیا ہے جب انسان جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟”اس نے کہا: "یثرب میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں، جو عربی ہیں۔” لہٰذا میں نے مدینہ منورہ کا راستہ لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا۔اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کرتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سارا واقعہ خود ہی بیان فرما دیا، اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ (بحوالہ: تفسیر مظہری، بحوالہ: ہواتف الجن، بحوالہ: سنہرے قصے صفحہ 192، مصنف: مفتی عاصم عبداللہ صاحب، فاضل: جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن، ناشر: مکتبہ حمادیہ کراچی) محترم قارئین!اس سے ثابت ہوا کہ علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کردہ جنات کے تمام واقعات سو فیصد حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں۔ جو لوگ جنات کے وجود کا انکار کرتے ہیں، درحقیقت وہ قرآن کی بیسیوں آیات اور درجنوں احادیث کے منکر ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں راہِ ہدایت کی طرف واپس پلٹا دے۔ آمین

دارالعلوم میں فیل ہونے پر استاد کا گلا دبا دیا

محترم قارئین! جو لوگ عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے واقعات کو من گھڑت کہانیاں سمجھتے ہیں، انہیں چاہئے کہ ایک مرتبہ اپنے اکابر کی زندگی سے شناسائی حاصل کر لیں، جہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات سے بھی ان کا مکمل رابطہ اور تعلق موجود ہے. حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ: دارالعلوم میں ہمیں فنِ منطق کی کتاب "سلم العلوم” مولانا محمد حسین بہاری رحمۃ اللہ علیہ پڑھایا کرتے تھے۔ان کے درس میں ایک جن طالب علم بھی انسانی شکل میں شریک ہوا کرتا تھا۔ امتحان ہوا تو اتفاق سے وہ جن طالب علم فیل ہو گیا، جس کی وجہ سے حسبِ ضابطہ دارالعلوم کی طرف سے اس کا راشن بند کر دیا گیا اور وہ شدید پریشانی کا شکار ہوا۔ ابھی ایک دو دن ہی گزرے تھے کہ ایک رات نیند کی حالت میں مولانا محمد حسین صاحب بہاری کا اسی جن طالب علم نے گلا دبانا شروع کر دیا، جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ آپ نے فرمایا:"تم کون ہو اور مجھے کیوں تکلیف دے رہے ہو؟”کہنے لگا:"میں وہی طالب علم ہوں جو انسانی شکل میں آپ کے پاس سلم العلوم پڑھتا تھا، اور اب امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سے میرا راشن بند کر دیا گیا ہے۔ آپ فوراً مجھے پاس کروائیں، تاکہ میرا راشن جاری ہو سکے۔” بہرحال، استادِ محترم نے اگلے روز ناظمِ تعلیمات سے بات کر کے اس طالب علم کا پرچہ دوبارہ چیک کیا، اور کچھ نمبروں کا اضافہ کر کے اس کے نمبر بڑھا دیے۔ چنانچہ ان کی سفارش پر اس جن کا راشن دوبارہ جاری کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ایک دن استادِ محترم نے مدرسے میں سب کے سامنے اس بات کا اظہار فرمایا:"وہ طالب علم اب بھی آپ کے درمیان موجود ہے، مگر میں اس کی نشاندہی نہیں کروں گا۔” لہٰذا وقت گزرتا گیا اور کسی کو بھی اس طالب علم کا پتہ نہ چل سکا۔ (بحوالہ کتاب: حبیب السوانح (مفتی حبیب اللہ صاحب)، صفحہ 117، مصنف: مولانا اخلاق احمد، پسند فرمودہ: شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب، ناشر: مکتبہ دارالکتاب، یوسف مارکیٹ، اردو بازار لاہور)

تبلیغی اجتماع میں ایک خیمہ ہمیشہ خالی کیوں رہتا تھا ؟

انٹرویو: مولانا محمد شعیب صاحبخطیب جامع مسجد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ منچن آباد مؤرخہ: 11 جنوری 2019ء بمقام : عبقری تسبیح خانه محترم قارئین !ہر ماہ عبقری میں شائع ہونے والا حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا علمی و تحقیقی کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” پڑھ کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آج کے دور میں کسی انسان کو جنات کیسے نظر آسکتے ہیں؟ اس سلسلے میں مولانا محمد شعیب صاحب کے تاثرات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ میں مدرسۃ العربیہ دار العلوم رائے ونڈ سے فارغ التحصیل ہوں ۔ ہمارے شیخ الحدیث مولانا جمشید صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں جنات کا آنا جانا مشہور ہے۔ حتی کہ میرے چچا جب 1956 ء میں پہلی مرتبہ ان کے ہاں گئے تو دیکھا کہ ان کے درس کے دوران ایک طرف تمام سامعین بیٹھے ہوئے ہیں ، اور دوسری طرف خالی قناتیں لگا کر جگہ مختص کی ہوئی ہے ۔ ہم نے سوچا کہ پتہ نہیں ، اس خالی جگہ میں کسی کو قیام کیوں نہیں کرنے دیتے۔ چنانچہ درس کے بعد تمام حاضرین کو کھانا کھلایا گیا۔ اس وقت وہاں ذبح کی گئی ایک گائے کا گوشت سب حاضرین مجلس میں پورا آگیا۔ کیونکہ اس وقت اتنا زیادہ رش نہیں ہوتا تھا۔ بہر حال چچا نے کھانا کھانے کے بعد وہاں کے لوگوں سے پوچھ ہی لیا کہ سب لوگوں کو ایک ہی طرف کیوں بٹھایا ہوا ہے؟ وہاں کے پرانے ساتھیوں نے بتایا کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا جمشید علی خان صاحب کے پاس کثیر تعداد میں جنات آتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے الگ سے قناتیں لگوا کر فرمایا ہوا ہے کہ بھئی ! اس طرف نہ بیٹھنا، یہاں اللہ تعالیٰ کی کسی اور مخلوق کا قیام ہے۔

راہ چلتے ہوئے مغفرت کی بشارت مل گئی

امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:ایک رات ایک صحابی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو سورۃ الکافرون کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، تو فرمایا:"اس کی مغفرت ہو گئی۔” صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی سواری روک دی، تاکہ دیکھوں کہ تلاوت کرنے والا شخص کون ہے؟چنانچہ جب دائیں بائیں دیکھا تو کوئی بھی نظر نہ آیا۔ (دلائل النبوۃ، بحوالہ کتاب: جنوں کے حالات، صفحہ 148، مصنف: امام جلال الدین سیوطی، ناشر: مکتبہ حنفیہ، گنج بخش روڈ، لاہور) قارئین! اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی زندگی میں جنات کے واقعات صرف "جنات کے پیدائشی دوست” حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ ہی کے ساتھ پیش نہیں آتے، بلکہ یہ سلسلہ چودہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے، اور ہر دور کے صلحائے امت ایسے حقائق بیان فرمایا کرتے تھے۔

تسبیح خانے میں بیان ہونے والی برکتوں کا حدیث میں ثبوت

سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:"میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لایا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان میں اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرما دیں۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا:"ان کو پکڑ لو اور اپنے کسی تھیلے میں ڈال لو۔ جب ضرورت ہو تو تھیلے میں ہاتھ ڈالنا اور بقدرِ ضرورت استعمال کر لینا، اور انہیں کھلی ہوئی مت نکالنا۔” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:"میں نے ان میں سے 60 صاع (کم و بیش ساڑھے 4 من) کھجوریں نکال کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں دے دیں۔ ہم خود بھی اس میں سے کھاتے تھے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔ وہ تھیلی ہمیشہ میرے پاس رہی حتیٰ کہ جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن وہ تھیلی بھی گم ہو گئی۔” (سنن ترمذی: 3839) (بحوالہ کتاب: برکت کیسے حاصل کریں، صفحہ 25، مصنف: شیخ امین عبد اللہ الشقاوی، ناشر: مکتبہ بیت السلام، لاہور، ریاض) محترم قارئین!یہ وہ عظیم الشان برکت تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بدولت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی، کہ وہ تقریباً پچپن برس تک انہی کھجوروں کو کھاتے اور دوسروں کو کھلاتے رہے۔ عبقری اور تسبیح خانے میں جب ایسے اعمال بتائے جاتے ہیں جن کے ذریعے اللہ جل شانہٗ کے غیبی خزانوں سے برکت ملنے کا ذکر ہوتا ہے، تو کچھ لوگ ان باتوں کو عقل کے شکستہ پیمانے میں تولتے ہیں، اور جھٹ سے اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں:"بھلا ایسا کس طرح ممکن ہے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا!” حالانکہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کیا جائے تو ایسا ایک نہیں، ایک سو ایک واقعات مل سکتے ہیں، جن میں آقا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے برکت کے متلاشی بننے اور برکت والی چیزوں کی قدر کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ درج بالا واقعے میں تسبیح خانے کے ذریعے پھیلنے والی ایک عظیم نعمت "برکت والی تھیلی” کا بھی حدیث سے ثبوت پیش کیا گیا ہے، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بھی تھیلیاں ہوا کرتی تھیں، جن میں اللہ جل شانہٗ اپنے غیب کے خزانوں سے برکت نازل فرماتے تھے۔

گجرات کے مکان میں روزانہ دھماکہ کیوں ہوتا تھا؟

مولانا عبدالغنی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ گجرات تشریف لے گئے۔ وہاں ایک شخص نے آکر عرض کی کہ: "میرے گھر میں رات کے ایک مخصوص وقت زوردار دھماکہ ہوتا ہے، کیونکہ میرے گھر میں ایک جن رہتا ہے اور وہ رات کو کسی کمرے کا دروازہ اتنے زور سے بند کرتا ہے کہ بچے ڈر کے اٹھ جاتے ہیں۔ آپ مہربانی فرما کر اس کا کوئی حل کر دیجئے۔” مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"اچھا، ایسا کرنا کہ تقریر کے بعد مجھے اپنے گھر لے چلنا، رات وہیں گزاروں گا۔” لہٰذا جب صبح ہوئی تو پوچھا گیا:"حضرت! رات کیسی گزری؟”فرمایا:"میں تہجد کے نوافل پڑھ کر بیٹھا تو دیکھا کہ میرے پیچھے ایک مولوی صاحب باادب بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا: اچھا، تو تم آگئے؟”اس نے مجھ سے مصافحہ کیا تو میں نے اسی وقت اسے اپنی گرفت میں لے لیا اور پوچھا:"تم کون ہو؟”کہنے لگا:"حضرت! میں چین کا رہنے والا ہوں اور دارالعلوم میں فلاں سن میں آپ کا شاگرد رہا ہوں۔ ایک دن یہاں سے گزرتے ہوئے یہ گھر مجھے پسند آ گیا تو میں یہیں رہنے لگا۔” میں نے کہا:"تم ایک عالم دین ہو کر مخلوقِ خدا کو تنگ کرتے ہو؟”کہنے لگا:"نہیں حضرت! میں تو صرف رات کو آتا ہوں اور صبح سے پہلے احتیاط سے دروازہ بند کر کے چلا جاتا ہوں۔”میں نے کہا:"بھئی! تیرے دروازہ بند کرنے کا انداز بھی تو ایسا ہے نا کہ بے چارے سب گھر والے ڈر جاتے ہیں۔ لہٰذا تو اس گھر کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا جا۔”کہنے لگا:"ٹھیک ہے، آپ مجھے گلے مل لیجئے، پھر میں ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا۔”پس، اس نے مجھ سے معانقہ کیا اور اسی طرح زور دار دھماکے سے دروازہ بند کر کے ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اب وہ کبھی نہیں آئے گا۔ (بحوالہ کتاب: مجالسِ افغانی، صفحہ 153، ناشر: مکتبہ سید شمس الحق افغانی، شاہی بازار، بہاولپور) محترم قارئین!جو لوگ عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی جنات سے ملاقاتوں پر اعتراض کرتے ہیں، وہ اس واقعے کو غور سے پڑھیں اور براہ کرم اپنے گزشتہ عقائد سے توبہ کرتے ہوئے ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025