فرشتوں میں ہل چل مچادینے والی دعا۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی بھر پور کوشش و کڑھن یہی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ قرآن وسنت کے اعمال سے جڑ جائیں ۔ اسی لیے آپ اپنے اکثر دروس میں قرآن وسنت کی دعاؤں کی اہمیت اور افادیت پر بیان فرماتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل آپ نے دود عاؤں کی اہمیت پر بیان کیا ، آئیے دیکھتے ہیں احادیث مبارکہ میں ان دعاؤں کے پڑھنے پر ہمیں کیا ملنے والا ہے۔۔۔! (قسط نمبر 412) (1) دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں ۔ اللَّهُمَّ غُفِرُ لِي وَارْحَمُنِي وَاهْدِنِي وَاجُبُرُنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِی فائدہ : یہ کلمات دنیا اور آخرت کی بھلائی کو جمع کر دیں گے۔ (2) رکوع سے اٹھنے کی تسبیح پڑھنے کے بعد کہیں حَمْداً كَثِيراً طَيِّبَاً مُبَارَكَا فِيْهِ۔ فائدہ: (۱) آپ صلى الله عليه وسلم نے قسم کھا کر فر مایا جو شخص ان کلمات کو رکوع سے اٹھنے کے بعد کہے تو تیرہ فرشتے اللہ کے دربار میں اس کا ثواب پیش کرنے کیلئے جھپٹ پڑتے ہیں (حیاۃ الصحابہ ) ۔ (۲) آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور عرش تک پہنچنے کیلئے کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوتی (ابن ماجہ ) ۔ (۳) جس کی قومہ کی تسبیح فرشتوں کے ساتھ مل جاتی ہے تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ آئیے دیر کیسی سنتوں کے اس پیغام کو اخلاص کی نیت کے ساتھ سارے عالم میں پھیلانے کی نیت کر لیجئے اور صدقہ جاریہ کی نیت سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شیئر کریں۔۔!

اذان کے سچے کرشمات ۔۔۔!

جن سے آپ کی دین و دنیا دونوں بن جائیں تسبیح خانہ میں عرصہ دراز سے ضدی قسم کے جادو جنات اور بلاؤں سے نجات کیلئے دونوں کانوں میں اذان کا وظیفہ بیان کیا جاتا ہے اور اللہ کریم کے نام کی برکت ہے ہزاروں سے زیادہ لوگ اس وظیفے سے فیضیاب ہوئے اور ان کی زندگی کے دکھ سکھ میں تبدیل ہو گئے ۔ آج میں کا بر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے قرآن وسنت میں موجود اذان کے فضائل عرض کرتا ہوں جس سے ہمارے دلوں میں موجود ایمانی حرارت میں اضافہ ہوگا۔ (1) پابندی سے ایک سال اذان دینے پر جنت واجب ، 5 سال تک اگلے پچھلے گناہ معاف ، 7 سال تک جہنم سے آزادی کا پروانہ ، 12 سال تک جنت واجب، ہر دن اذان پر 60 نیکیاں اور اقامت پر 30 نیکیاں لکھی جاتی ہیں (عمدۃ القاری ، ابن ماجہ ) ۔ (2) قیامت میں اونچی گردن مئوذن کی ہوگی ۔ ان کو قبروں میں کیڑے نہیں لگیں گے ۔ کلام کی اجازت سب سے پہلے مئوذن کو دی جائے گی (شمائل کبری) ۔ (3) اذان کے ختم تک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ مئوذن کے سر پر رہتا ہے ، اور ختم تک اس کی مغفرت ہو جاتی ہے (عمدۃ القاری )۔ (4) جنات، انسان ، پتھر ، درخت اس کے گواہ ہوں گے (ابن عبدالرزاق)۔(5) جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ہر خشک و تر چیز اس کیلئے گواہی دیتی ہے ( ابوداؤد ) ۔(6) مئوذن اور تلبیہ پڑھنے والے قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھائے جائیں گے ( مجمع ) – (7) آپ صلى الله عليه وسلم نے مئوذن کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی ہے (سنن کبری)۔ (8) آدم علیہ السلام کی تنہائی کی وحشت کو دور کرنے کیلئے سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام نے اذان دی ( کشف الغمہ ) (قسط نمبر 411) اگر عبقری میں ذکر کیے جانے والے وظائف کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ اس پیج کو لائک اور شیئر کریں۔۔۔!

ایک سنت کا احترام اور دنیا و آخرت کی کامیابی

یہ بات تمام ہی مسلمان جانتے ہیں کہ ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی حضور پاک صلى الله عليه وسلم کے پاکیزہ طریقے میں ہے لیکن آج کے ماڈرن ماحول نے ہماری اس سوچ کو بہت سے مسلمانوں کے دلوں سے بھلا دیا ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں حکمت و بصیرت کے ساتھ حضور صلى الله عليه وسلم کی پاکیزہ سنتوں سے جوڑ دیا جائے۔ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی بھر پور کوشش یہی ہے ، آپ جس خوبصورت انداز میں سنت کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں وہ ہر دل کو اپیل کرتی ہے ، اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو ضرور کم از کم 11 بیانات ضرور سنیں ۔۔۔۔! تسبیح خانہ میں اکثر مسواک کی سنت پر دنیاو آخرت کے کمالات بیان کیے جاتے ہیں احادیث کے حوالے سے چند فوائد بیان کیے جاتے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ کس حکمت سے لوگوں کو سنت سے جوڑ رہا ہے ۔ (1) آپ صلى الله عليه وسلم ہر نماز سے پہلے مسواک کا اہتمام فرماتے (مسلم) (2) آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا میں تم لوگوں کو مسواک کرنے کے بارے میں بہت تاکید کر چکا ہوں (بخاری)۔ (3) مسواک منہ کو صاف کر نیوالی اور خدا کو راضی کرنے والی ہے (نسائی)۔ (4) آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا میں اپنی امت کیلئے شاق نہ سمجھتا تو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا (ابوداؤد)۔ (5) مسواک کے ساتھ نماز 75 گنازیادہ ثواب رکھتی ہے (اتحاف)۔(6) مسواک کے ساتھ دورکعت نماز بغیر مسواک کے ستر رکعت سے افضل ہے ( ترغیب)۔(7) فرشتے اس کے گرد چکر لگاتے ہیں ( کنز العمال)۔ (8) فرشتے اس کے منہ کے ساتھ منہ لگاتے ہیں ( کنز العمال)۔ (9) مسواک ہر بیماری کی دوا ہے سوائے موت کے (کنز العمال) ۔ (10) مسواک نصف ایمان ہے (اتحاف السادہ)۔ ہے ناں اکابر پر اعتماد کا کمال

آئیں تسبیح خانہ میں دعامانگنے کا سلیقہ سیکھیں ۔۔

اس کے بعد انشاء اللہ ہر دعا قبول ہے۔ تسبیح خانہ لاہور کے بانی کی بھر پور کوشش یہی ہے کہ تسبیح خانہ کسی شخصیت کے گرد نہ ہو بلکہ ہر بندہ اپنے رب سے دوستی کرنے والا ہو اور اس کے سامنے روکر، گڑ گڑا کر محتاج و بھکاری بن کر سوال کرنے والا ہو۔ اکابرین کی تعلیمات میں سے چند آداب ا کا بر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں پیش ہیں جو کہ تسبیح خانہ میں آنے والے ہر طالب کو سکھائے جاتے ہیں : (۱) اخلاص سے دعا مانگیں (حاکم) (2) کھانے پینے ، پہننے اور کمانے میں حرام سے بچیں (ترمذی)۔ (3) دعامانگنے سے پہلے نماز ( حاجت پڑھیں یا نیک کام کریں (ترمندی ) ۔ ( 4 ) باوضو قبلہ رخ ہوکر دعا مانگیں ( بخاری ) ۔ (5 ) دوزانو بیٹھ کر دعا مانگیں ( ترندی ) ۔ (6) دعامانگنے سے پہلے اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں (صحاح ستہ ) ۔ (7) دعا کے اول و آخر میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر درود و سلام بھیجیں (حاکم)۔(8) دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگیں (ابوداؤد)۔(9) دعا مانگنے میں عاجزی اور انکساری اختیار کریں (سورۃ اعراف)۔ (10) گڑ گڑا کر دعا مانگیں ( ابن ابی شیبہ ) ۔ (11) اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی اور اعلیٰ صفات کا واسطہ دے کر دعا مانگیں (سورۃ اعراف) ۔ (12) جامع دعا مانگنے کا اہتمام کریں (ابوداؤد ) ۔ (13 ) اپنی ذات سے شروع کریں اور پھر اپنے ماں باپ اور تمام مومن بھائیوں کیلئے دعا کریں (مسلم)۔ (14) کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کریں (مسلم)۔ (15) دل کی گہرائی اور اللہ تعالیٰ پر اچھے گمان کے ساتھ دعامانگیں ۔ (16) ایک ہی مقصد کیلئے بار بار دعا مانگیں ( بخاری و مسلم )۔ (17) اپنی تمام حاجتیں چھوٹی ہوں یا بڑی کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں اللہ سے مانگیں (مشکوۃ)۔ (18) چھوٹے ، بڑے، معذور افراد کے ساتھ مل کر اجتماعی دعا کریں۔(19) دعا سے فارغ ہو کر دونوں ہاتھ منہ پر پھیر لیں (ابوداؤد)۔ (20) دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہ کریں مثلاً یوں نہ کہیں کہ دعا پوری ہونے میں ہی نہیں آتی یا میں نے دعائی تھی قبول ہی نہیں ہوئی (بخاری)۔ (21) پیٹھ پیچھے دعا کرنا۔ فائدہ اس کیلئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جو آمین کہتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تمہیں بھی ایسی ہی بھلائی دے (مسلم)۔ ہے ناں اکابر پر اعتماد کا کمال

تو ہو کسی بھی حال میں مولا سے لو لگائے جا

اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ کی بھر پور کوشش یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ براہ راست ہو جائے ، ہر پریشانی مصیبت ، دکھ ، تکلیف میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا اگر چہ وہ کسی بھی حال میں ہو۔ پل بھر کیلئے بھی اپنے رب سے دو ر نہ ہو ۔ ۔ ۔! یہی انبیائے کرام اور صلحائے عظام کی محنت کا نچوڑ ہے۔ اللہ کریم ہمیں بھی تسبیح خانہ کے اس پیغام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تسبیح خانہ کی اس ترتیب کو سمجھنے کیلئے گنبد خضری کی چھاؤں میں چلتے ہیں۔ کیونکہ شاعر کہتا ہے: الم کی دھوپ میں جلسے ہوئے غمگیں انسانو! سکون دل ملے گا گنبد خضری کی چھاؤں میں (1) دعا مومن کا ہتھیار ہے ( حاکم ) ۔ (2) دین کا ستون ہے۔ (3) آسمان اور زمین کا نور ہے۔ (4) اللہ تعالی کے ہاں دعاسے زیادہ اور کسی چیز کی اہمیت نہیں۔ (5) جو شخص یہ چاہے کہ للہ تعالیٰ اسکی دعا سختیوں اور مصیبتوں کے وقت قبول فرما ئیں اس کو چاہئے کہ وہ فراخی اور خوش حالی میں بھی کثرت سے دعا مانگا کرے۔ (6) دعا کے فوراًبعد یا تو وہی چیز مل جاتی ہے یا اسے دنیاو آخرت میں ذخیرہ بنادیا جاتا ہے۔ (7) جو شخص اللہ تعالیٰ سے کوئی سوال نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ (8) دعا کرنے والا نا گہانی آفات سے محفوظ رہے گا۔ (9) دعا کے سوا کوئی چیز قضا ( تقدیر کے فیصلہ ) کور د نہیں کر سکتی ( ترمذی)۔ (10) جس شخص کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کے لئے رحمت کے، جنت کے اور قبولیت کے دروازے کھول دیئے گئے۔ (11) دعا عبادت کا مغز ہے (ترمذی)۔ دعانصف عبادت ہے (مطالب عالیہ ) ۔ (12) دعا رحمت کی کنجی ہے( کنز العمال ) ۔ دعا بلا ؤں کو دور کرنے والی ہے ( کنز العمال) ۔ (13) اللہ رب العزت حیادار اور کریم ہیں انہیں خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے (ابن ماجہ ) ۔ در اصل تسبیح خانہ ہمیں یہ بات سمجھانا چاہتا ہے“ تو ہو کسی بھی حال میں مولا سے لو لگائے جا قدرت ذوالجلال میں کیا نہیں گڑ گڑائے جا

رحمت کو زحمت بنالیا ۔۔۔!اور پریشانیوں میں گرتے چلے گئے!

اختلاف تھا ۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ اور رہے گا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپس تو ۔ میں اختلاف تو رکھیں عناد ختم کر دیں۔۔۔! اور امن لکھیں ۔۔۔ امن بولیں۔۔۔ پھیلائیں یہی قرآن وحدیث کا پیغام ہے جسے آج عبقری سارے عالم میں پھیلانے کا عزم رکھتا ہے آئیے باہم نفرتون کی دھکتی آگ کو بجھا کر آپس میں محبتیں بانٹنے والے بن جائیں ۔۔۔! اسی محبتوں کے پیغام کو مفتی اعظم ہند ، استاد الحدیث، فقیہ الامت مفتی محمود الحسن صاحب کچھ انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد رحمہم اللہ ) کے مذاہب حق ہیں ، ان میں حق و باطل کا اختلاف نہیں ، بلکہ خطاء وصواب کا اختلاف ہے، جو حضرات جس امام کے مذہب کو اختیار کرینگے وہ اس کے بارے میں کہیں گے مذهبنا صواب يحتمل الخطاء ہمارا مذہب درست ہے، احتمال خطاء کے ساتھ اور دوسرے مذاہب کے بارے میں کہیں گے ،مذھب غیر ناخطا يحتمل للصواب ہمارے علاوہ کا مذہب خطا ہے ، احتمال صواب کے ساتھ (کذا فی الدر المختار ج 1 ص 33) اس واسطے کہ اصول و اعتقادات میں چاروں امام متفق ہیں اختلاف صرف فروع عملیہ اجتہادیہ میں ہے و کہ موافق حدیث اختلاف امتی رحمۃ رحمت ہے چنانچہ بعض جگہ کے لوگ حنفیت کو اختیار کئے ہوئے ہیں ، وہاں اور ائمہ کے مذہب پر عمل دشوار ہے اور بعض جگہ شافعیت کو اختیار کیسے ہوئے ہیں وہاں دوسرے مذہب پر عمل مشکل ہے معلوم ہوا کہ یہ اختیار بری چیز و تفسیق نہ ہونی چاہیے ۔۔۔! ( ملفوظات فقیہ الامت مفتی محمودالحسن صاحب ج 1 ص 385 ، ترتیب: مفتی محمد فاروق ، ناشر: دارالهدی کراچی) عبقری ہر دم تجھے سلام امن ہی ہے تیرا پیغام

عبقری والے ہر جگہ قطمیر“ لکھنے کا کیوں فرماتے ہیں۔۔۔؟

( محمد صہیب رومی ، لاہور) بہت عرصے تسبیح خانہ میں اور ماہنامہ عبقری میں لفظ ” قطمیر“ کے فوائد بیان کیے جار ہے جو کہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں بیان کرتے ہیں کہ لفظ ” قطمیر“ لکھنے کا یہ عمل عبقری کا خود ساختہ نہیں اگر آپ کو اس بات کا یقین نہیں آتا تو اس فیصلہ کو مفتی اعظم ہند استاد الحدیث مفتی محمود الحسن گنگوہی کی عدالت میں لیے چلتے ہیں اگر وہاں سے تصدیق ہو جائے تو آپ مان لیجئے گا کہ عبقری کے وظائف خود ساختہ یا من گھڑت نہیں ۔۔۔! سوال: خط پر القطمیر لکھتے ہیں اس کی کیا اصل ہے؟ جواب: یہ ایک تفاؤل ہے حفاظت کیلئے کہ خط محفوظ طریقے سے پہنچ جائے ( مکتوب الیہ کے پاس) پھر فرمایا کہ قطمیر اصحاب کہف کے کتے کا نام تھا جیسے کتا غار پر بٹھا ہوا تھا، کہ کوئی اندر نہ آسکے ، اسی طریقہ پر قطمیر“ لکھ دیا کہ کوئی غیرآدمی اس خط کو نہ دیکھ سکے نہ پڑھ سکے لہذا اس میں کیا اشکال ہے۔ محترم قارئین ! عبقری کے ہر عمل کے پیچھے سو فیصد اکابر کا اعتماد شامل ہے یقین نہ آئے تو ا کا بڑ کی زندگی پڑھ کر دیکھ لیجئے۔۔۔!

شادی سے پہلے مسجد کی صفائی کرنا کیوں ضروری ہے؟

محترم قارئین ! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ سالہا سال سے یہ عمل بتا رہے ہیں کہ : جن حضرات کی شادی نہ ہوتی ہو وہ مسجد کی صفائی کریں جھاڑو دیں اور جو خواتین مسجد میں نہیں جاسکتیں ان کے بھائی یا والد مسجد کی صفائی کریں ۔ اللہ پاک غیب کے خزانے سے ان کی شادی کے لیے بہترین رشتہ عنایت فرمائے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ عمل کیا حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہمالعالیہ کا خود ساختہ عمل ہے یا یہ صدہوں سے چلا آ رہا ہے۔ حضرت خواجہ عبدالماجد صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ : جو شخص مسجد میں جھاڑو لگاتا ہے۔ اس کو صاف رکھتا ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالی اسے ایک خوبصورت اور خادمہ بیوی عطا فرمائے گا۔ علماء نے اس بات کو با قاعدہ کتابوں میں لکھا ہے ، اس طرف ہماری توجہ ہی نہیں ہے ۔ آج ہم اتنی بے احتیاطی کرتے ہیں کہ مسجد کا احترام بھی ملحوظ نہیں رہتا ( بحوالہ کتاب : خطبات صدیقی، جلد نمبر 3،صفحہ نمبر : ۱۳۰ ، ناشر : خدام خانقاه مالکیہ نقشبندیہ، خانیوال)

ساہیوال کا ایسا سکول جہاں پیشاب کرنے والے کو جنات سزا دیتے تھے

حضرت امیر شریعت، بطل حریت، خطیب اسلام مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ضلع ساہیوال کے ایک مڈل سکول میں جنات کا بسیرا تھا، جو وہاں کے طلباء اور اساتذہ کو سکول کے کسی بھی حصے میں پیشاب نہیں کرنے دیتے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے بڑے بڑے عامل بلوائے مگر سب کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مرتبہ حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے کسی مرید کے ذریعے معلوم ہوا تو فرمانے لگے : خدمت خلق کی خاطر میں وہاں جاؤں گا اور امید ہے کہ وہاں سے جنات کو نکال کر ہی آؤں گا۔ چنانچہ ایک دن حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ علیہ مقامی سکول تشریف لے گئے اور وہاں کے بچوں کو کہا کہ سکول کے ایک ایک کونے میں پیشاب کرو۔ بچے یہ سن کر ڈر گئے، کیونکہ انہیں پہلے بھی کئی مرتبہ جنات سے سزائیں مل چکی تھیں، لیکن شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمانے لگے: آپ گھبرائیں نہیں، میرے کہنے پر عمل کریں۔ اگر جنات نے کوئی نقصان پہنچانا ہوا تو سب سے پہلے مجھے پہنچا ئیں گئے کیونکہ میرے کہنے پر آپ نے ایسا کیا ہے۔ لہذا ابھی صرف پانچ بچوں نے ہی پیشاب کیا تھا کہ جنات کا سردار معافیاں مانگتے ہوئے حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور کہنے لگا: حضرت! کیوں ہمیں بچوں سے ذلیل کرواتے ہیں؟ فرمایا: اگر تمہیں اپنی بے عزتی کا اتنا ہی احساس ہے تو یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔ ان معصوم بچوں کو تم نے ہراساں کیا ہوا ہے۔ جنات نے درخواست کی کہ ہمیں کچھ دنوں تک مہلت دی جائے تاکہ ہم اپنا کوئی نیا ٹھکانہ تلاش کرسکیں۔ فرمایا: نہیں ! تمہیں ابھی یہ جگہ چھوڑنی ہوگی۔ جنات نے پہلے سات دن کی مہلت مانگی، پھر ایک گھنٹے بعد نکل جانے پر راضی ہو گئے۔ بالآخر ایک گھنٹے بعد سارا سکول جناتی حملوں سے محفوظ ہو گیا۔ بعد میں اساتذہ نے بتایا کہ ہم جب یہاں باتھ روم بنانے لگتے تھے تو راتوں رات جنات انہیں بھی ملیا میٹ کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیتے تھے۔ سکول میں باتھ روم نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو دور دراز کے کھیتوں میں جانا پڑتا تھا۔ حضرت شاہ صاحب نے انہیں یقین دلایا کہ ان شاء اللہ آئندہ ایسانہیں ہوگا، اگر کبھی کوئی مسئلہ محسوس ہو تو مجھے اطلاع کر دیجئے گا۔ (بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 165 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور )

دس محرم کو ملنے والی مغفرت کا پروانہ

محترم قارئین ! ہمارے تمام اکابر و اسلاف کی ترتیب زندگی میں شامل اعمال و وظائف کوئی موجودہ دور کی نئی ایجاد نہیں، بلکہ ان تمام علماء و مشائخ نے یہ وظائف قرآن وسنت پر سو فیصد عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہی پڑھے تھے۔ جیسا کہ محدث کبیر امام شوکانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : اگر اللہ پاک جل شانہ اپنے کسی نیک بندے کو اس بات کا الہام کرے کہ فلاں قرآنی سورت یا فلاں آیت یا فلاں وظیفے کی یہ تاثیر اور برکت ہے تو واقعی ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ اس کی دلیل میں ہمیں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد سنن ابن ماجہ سنن نسائی اور سنن ترمذی جیسی معتبر کتب احادیث سے ایک صحیح حدیث ملتی ہے جس کے راوی حضرت ابوسعید خدری ” ہیں ( بحوالہ کتاب الداء والدواء صفحہ 33 ناشر : مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور ) کچھ عرصہ پہلے عبقری میگزین میں دس محرم الحرام کے دن مغفرت پانے کا ایک چھوٹا ساعمل شائع ہوا تھا، آیئے دیکھتے ہیں کہ اس عمل کے پیچھے کن بزرگوں کی دلیل موجود ہے؟ حضرت خواجہ شیخ غوث محمد گوالیاری رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور زمانہ کتاب ”جواہر خمسہ میں حضرت مولانا مرزا محمد نقشبندی دہلوی ایشیا یہ فرماتے ہیں کہ جو شخص عاشورہ کے دن 70 مرتبہ یہ کلمات پڑھے گا، حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرما دے گا: حسبى اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ بحوالہ کتاب: جواہر خمسہ صفحہ 71 ناشر: مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور حضرت ابوانیس صوفی محمد برکت علی لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دس محرم کے دن کسی بھی وقت باوضو ہو کر درج بالا د عا 70 مرتبہ پڑھنا بخشش کیلئے بہت افضل عمل ہے ( بحوالہ کتاب : گلہائے چہل رنگ، صفحہ 408 ناشر : الامین پرنٹرز سرور مارکیٹ اردو بازار لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025