(مولانا محمد نیاز صاحب، لاہور)
شیخ الوظائف اپنے بہت سے بیانات میں زندہ اور مُردہ دونوں لوگوں کو ایصالِ ثواب کا فرماتے ہیں، اس پر عبقری سوشل میڈیا کے تاثرات میں بعض دوستوں نے یہ بات کہی ہے کہ ایصالِ ثواب تو صرف مُردوں یعنی دنیا سے جانے والوں کو کیا جا سکتا ہے زندوں کو نہیںـ تو ایسے بھائیوں کی خدمت میں احناف کی معتبر کتاب ’’فتاویٰ شامی‘‘ سے ماخوذ فتویٰ پیش کرتے ہیں:
سوال: کیا زندہ لوگوں کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، زندہ لوگوں کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں۔
وفی البحر: من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز ویصل ثوابہا إلیہم عند أهل السنة والجماعة، کذا فی البدائع، ثم قال: وبہذا علم أنه لا فرق بین أن يكون المجهول له ميتاً أو حياً۔ (شامی اشرفی: 144/3)
(واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم: 179853)
جی ہاں! شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی ایک ایک بات کے پیچھے قرآن و سنت اور اکابرینِ ملت کے حوالہ جات موجود ہیں۔
