چند ہفتوں سے بیماری اور تکلیف سے گزر رہا تھا اللہ کی منشاء کی رضا بہت زیادہ تکلیف کے باوجود بھی مطمئن۔ اسی دوران ہفتہ 20 جون 2020ء کی رات کو سویا۔ اتوار 21 جون کی صبح طبیعت بہت خراب تھی۔ میری گزشتہ چند ہفتوں کی بیماری میں وہ رات بہت مشکل رات تھی۔ میں نے خواب دیکھا: اللہ کمی بیشی معاف فرمائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ؛ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ جس میں میں نے ساتھ محسوس کیا کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین بھی ہیں اور بڑے بڑے اہل بیت، صحابہ، اولیاء اور بڑی ہستیاں ہیں جیسے وہ عیادت اور دعا کے لیے تشریف لائے ہیں۔ بہت سی باتیں ہوئیں وہ باتیں مجھے یاد نہیں جیسے کچھ موضوعات پر گفتگو ہوئی ہے لیکن
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری مونچھوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ تھوڑی سی بڑھا لیں یہ عمل بھی درست ہے یہ بھی شرعاً ٹھیک ہے کہ مونچھیں صاف کرتے ہیں اگر بڑھا لیں تو اس کو تراش لیا کریں تو یہ عمل بھی بہت اچھا ہے میں نے ان کی بات سنی اور کچھ نہیں بولا۔ میرے دل میں ان کی عظمت تھی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ مونچھیں صاف نہیں کریں گے حلق نہیں ہوگا تقصیر ہوگی یعنی کچھ بڑھی ہوں گی تو اس کو تراشیں گے تو ہماری صف میں شامل ہو جائیں گے۔ ہنستے مسکراتے ہوئے یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ جیسے میرے ساتھ ان کی بہت محبت ہے پیار ہے میں نے ان سے عرض کیا: جی بالکل ٹھیک ہے اور بہت شفقت فرمائی۔ ہاں! ایک میں نے ان دونوں حضرات کے ہاتھوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ) پر بوسہ بھی دیا۔ بس بوسہ میں نے ان دونوں حضرات کے ہاتھوں پر دیا مصافحہ بھی صرف ان دونوں حضرات سے کیا۔ باقی جتنے بھی بڑے حضرات تھے ان سب سے صرف سلام ہوا۔ ان کی منشاء یہ تھی کہ میں جو مونچھیں صاف کرواتا ہوں اسے حلق کہتے ہیں یعنی جو بالکل صاف ہوں ایسی مونچھیں نہ ہوں بلکہ آپ کی مونچھیں کچھ بڑی ہوں ان کی منشاء یہ تھی۔ اور انہوں نے اس موجودہ عمل کو بھی اچھا قرار دیا مونچھیں بالکل صاف کروانے کے عمل کو وہ کہتے وہ بھی شرعاً ٹھیک ہے۔ اور بہت دیر تک ان کے ساتھ باتیں ہوتی رہیں۔ ایک دم میری آنکھ کھلی بہت خوشبو تھی۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی مونچھیں بالکل صاف نہیں کروں گا کچھ بڑی رکھوں گا۔
