آپ کے کھانے میں شریک جنات

آج کی دکھیاری اور پریشان امت کو جنات کس کس طرح ستار ہے ہیں ایسے لوگوں کی بپتا کو جب ماہنامہ عبقری نے شائع کیا تو بہت سے لوگوں نے اسے نفسیایاتی الجھنیں کہہ کر پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔۔ آئیے اپنی بنیادوں میں اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ہر کام کے وقت یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے، لہذا جب کھانا کھاتے وقت کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھالےاور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ ( صحیح مسلم) شیاطین اور فرشتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً اکثر اوقات میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم انکو نہیں دیکھ سکتے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس بارے میں جو کچھ بتایا ہے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے بتلایا ہے اور وہ بالکل حق ہے اور آپ صلى الله عليه وسلم کو کبھی کبھی ان کا اسطرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا جس طرح ہم اس دنیا کی مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی حدیثوں کو جن میں مثلاً کھانے کی وقت شیاطین کے ساتھ ہونے اور کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو اس میں جنات کے شریک ہو جانے ، یا گرے ہوئے لقمہ کا شیطان کا حصہ ہو جانے کا ذکر ہے، تو ان حدیثوں کو مجاز پر پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ۔ ( بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے ) ( بحوالہ کتاب بکھرے موتی حصہ 5ص479، مصنف: حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری حفظہ اللہ ، ناشر بلسم پبلی کیشنز، لاہور مکتبہ ) پیٹ سے جن کا نکلنا: ایک عورت آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میرے بیٹے کو جنوں عارض ہو جاتا ہے اور یہ ہم کو بہت تنگ کرتا ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔اس لڑکے نے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔ (مسند دارمی، ج 1 ص 24 بحوالہ کتاب قوم جنات اور امیر اہلسنت ، پیش کش مجلس مدینہ العلمیہ ، ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی، مکتبہ بریلوی)
اُڑن کھٹولے کے شہسوار

ماہنامہ عبقری میں سلسلہ وار کالمہ جنات کا پیدائشی دوست کے متعلق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مضمون صرف جھوٹ اور فریب ہے، بھلا ایک آدمی کسی کو نظر آئے بغیر پل بھر میں میلوں لمبا سفر کیسے کر سکتا ہے؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی اس موضوع پر کیا تحقیق ہے؟ علامہ یوسف بن اسماعیل میہانی رحمۃ اللہ علیہ یہ لکھتے ہیں : ایک دن شیخ کمال الدین بن یونس کے مدرسے میں کچھ لوگ شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ کی غیبت کرنے لگے اور شیخ کمال الدین بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اچانک شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ ان کے سامنے نمودار ہوئے اور شیخ کمال الدین کو اپنے ساتھ شہر کے دروازے پر لے آئے۔ پھر ان کے سامنے ایک باغ آیا، شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں کپڑے تبدیل کیے اور نماز میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں شیخ کمال الدین کی آنکھ لگ گئی اور جب صبح اٹھ کر دیکھا تو اپنے آپ کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں پاپا۔ قریب سے قافلہ گزرا تو پوچھنے لگے: بھائی میں اپنے شہر موصل میں جانا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: اے مسافر ! کیا بات کرتے ہو؟ تم موصل سے 6 ماہ کی مسافت پر مغرب (افریقہ ) میں موجود ہو۔ یہ کہ کر قافلہ رواں ہو گیا۔ جب رات ہوئی تو شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ اس طرح نمودار ہوئے اور نماز پڑھنے کے بعد صبح کمال الدین کا کان مروڑ کر کہنے لگے: آئندہ میری غیبت نہ کرنا۔ مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم دیا گیا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ اور اس راز کو افشاءکرنے سے بھی بچنا۔ پھر اسی لمحے انہیں واپس موصل میں پہنچا دیا۔ شیخ احمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ یہ بیان کرتے ہیں ک میں ایک دفعہ حج کے دوران شیخ ارسلان دمشقی رحمۃ اللہ علیہ سے عرفات میں ملا اور میں نے انہیں مشعر الحرام میں بھی دیکھا، پھر وہ کہیں روپوش ہو گئے۔ جب میں حج سے فارغ ہو کر واپس دمشق پہنچا تو دیکھا کہ شیخ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ پر سفر حج کے کوئی آثار نہیں تھے۔ میں نے ان کے متعلق اہل دمشق سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم : شیخ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ تو کسی دن بھی یہاں سے غائب نہیں ہوئے۔ صرف 9 ذی الحجہ کو کچھ وقت کیلئے اور قربانی کے دن تھوڑی دیر نظر نہیں آئے باقی تو ہر وقت وہ یہیں پر تھے. ( بحوالہ کتاب: جامع کرامات الاولیاء صفحہ 155،77 تلخیص بنام جمال الاولیاء: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ناشر : ادارہ اسلامیات لاہور) محترم قارئین! اس موضوع کے متعلق اگر آپ کے پاس مزید حوالہ جات ہوں تو ہمیں ضرور بھیجیں تا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کیلئے محنت اور دعا کی جاسکئے جو لوگ عبقری میں بیان کیے گئے حقائق کو ٹوپی ڈرامہ اور من گھڑت کہہ کر مخلوق خدا کے دل میں شک وشبہ پیدا کرتے ہیں۔
اسلاف کی ارواح سے ملاقاتیں

مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں: قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمة الله علیہ جب کبھی لاہور تشریف لاتے تو مال روڈ پر حیات برادرز کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے۔ میاں فضل کریم بن حاجی حیات محمد کا بیان ہے کہ جس مکان پر آپ رحمة الله علیہ ٹھہرا کرتے تھے اس کے قریب ہی ایک خانقاہ تھی، جو اجڑی ہوئی تھی ۔ ایک دن آپ رحمة الله عليہ نے مجھ سے پوچھا : کیا یہاں کوئی قبر ہے ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رحمة الله عليہ نے فرمایا : آج رات خواب میں ہمیں وہ بزرگ ملے اور کہا کہ قاضی جی! آپ اتنی بار یہاں تشریف لائے مگر ہمیں ایک بار بھی نہیں ملے۔ پھر فرمایا : وہ بہت نیک اور صالح آدمی تھے فلاں جگہ کے رہنے والے تھے ادھر سے گزر رہے تھے کہ انتقال ہو گیا۔ میاں فضل کریم کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب میں نے اس کی تحقیق کی تو وہ باتیں ویسی ہی ثابت ہوئیں، جو قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے بیان فرمائی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کا نام اور پتہ بھی قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے بالکل صحیح بتادیا. ( بحوالہ کتاب: تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمة الله عليہ صفحه ۴۵۸ ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور ) صوفی حبیب الرحمن رحمة الله عليہ کا بیان ہے کہ ۱۹۱۰ء میں جب حضرت ضیاء معصوم صاحب رحمة الله عليہ (مرشد امیر حبیب اللہ خان بادشاہ کابل ) پٹیالہ میں تشریف لائے تو انہوں نے سر ہند جانے کے لیے قاضی صاحب رحمة الله عليہ کو اپنے ساتھ لے لیا۔حضرت ضیاء معصوم رحمة الله عليہ جب حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليہ کے مزار پر مراقبہ کے لیے بیٹھے تو قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے سوچا کہ شاید ان بزرگوں نے آپس میں کوئی راز کی بات کہنی ہو لہذا ان سے الگ ہو جانا چاہیے۔ ابھی آپ اپنے جی میں یہ خیال لے کر اٹھے ہی تھے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليہ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر فرمایا :سلیمان خیال لے کر بیٹھے رہو۔ ہم کوئی راز میں نہیں رکھنا چاہتے ۔ صوفی صاحب کا بیان ہے کہ قاضی صاحب نے بعض دوستوں سے اس بات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مراقبے یا مکاشفے کا نہیں، بلکہ بیداری کا ہے. (بحوالہ کتاب: سوانح عمری ص 90 ، مصنف : صوفی احمد الدین حنیف، ناشر: محمدی اکیڈیمی ناشران و تاجران کتب محلہ توحید گنج منڈی بہاؤالدین ) جو لوگ ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز سلسلہ وار کالم ” جنات کے پیدائشی دوست کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ انوکھی باتیں صرف خود ساختہ کہانیاں ہیں انہیں ایک مرتبہ اپنے اکابر و اسلاف کی سوانح حیات پر نظر ڈالنی چاہئے اور اعتراض کرنے کی بجائے اعتراف کرنا چاہئے کہ اسلاف بزرگان دین میں ایسی کئی شخصیات ہر دور میں موجود رہی ہیں، جن پر کائنات کالا ہوتی اور ملکوتی نظام کھلا ہوا تھا۔
حضرت مولانا فضل علی قریشی رحمة الله علیہ کا بے مثال کشف

جو لوگ علامہ لاہوتی صاحب کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست میں کشف القبور کے ذریعے روحوں سے ملاقات کو دیو مالائی اور ماورائی کہانی کہہ کر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شاید ان کو پتہ نہیں کہ وہ اکابر کی کتنی روشن اور واضح زندگی سے پہلو تہی برت رہے ہیں، حتی کہ ایسی بے جا تنقید اور اعتراض کے ذریعے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی ترتیب زندگی کو داغدار بنا رہے ہیں۔ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے کشف القبور کے واقعات کی تائید میں ایک روشن واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا عبد المالک صاحب صدیقی احمد پوری رحمة الله علیہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ قدوة السالكين، شيخ المشائخ حضرت خواجہ فضل علی قریشی نقشبندی رحمة الله علیہ ہندوستان کے سفر میں دارالعلوم کے قبرستان تشریف لے گئے اور مولانا محمد قاسم ، مفتی عزیز الرحمن اور شیخ الہند رحمہم اللہ کے مزارات کے قریب اپنی جماعت کے ہمراہ مراقبہ کیا۔ مراقبے میں خلاف عادت کافی دیر تاخیر ہوئی ۔ فراغت کے بعد مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا : کچھ احوال عرض کروں؟ میں نے عرض کیا : جی حضرت یہ جماعت علماء کی ہے بینا جماعت ہے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ میں نے آج مراقبے میں دیکھا کہ ایک سرسبز میدان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ عبد العزیز دہلوی ، شاہ رفیع الدین دہلوی مفتی عزیز الرحمن ، شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب ، حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری و غیر هم محد ثین رحمہم اللہ نے حضور صلى الله عليه وسلم سے مصافحہ کیا اور مجھے ( مولانا فضل علی قریشی رحمة الله عليه) کو بھی مصافحہ کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ تمام حضرات محی السنت ہیں ۔ جب شیخ الاسلام رحمة الله عليه کو یہ بات پتا چلی تو بہت مسرور ہوئے کہ ہمیں شیخ وقت رحمة الله علیہ کی زبانی دنیا کے عالم میں پتا چل گیا کہ ہمارے تمام اکابر و اسلاف بارگاہ رسالت صلى الله عليه وسلم میں مقبول تھے۔ بحوالہ کتاب : مقامات فضلیہ ص 70 ، مصنف : حضرت مولانا سید زوار حسین شاه رحمة الله عليہ ناشر: زوارا کیڈمی پبلی کیشنز کراچی
سلسلہ نقشبندیہ کے ساتھ جنات کا تعلق

علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ حضرت تاج الدین بن زکریا سلطان نقشبندی رحمة الله عليه دوران سفر ایک شہر میں پہنچے اپنے ساتھیوں سمیت مراقبہ کیا، اسی دوران محفل میں ایک نا واقف شخص آگیا، قریب آکر اس نے حضرت رحمة الله عليه کا ہاتھ چوما اور کہا: میں یہاں رہنے والے جنات میں سے ایک جن ہوں، میں نے آپ کا طریقہ دیکھا تو مجھے پسند آیا لہذا میں بھی اس سلسلے کا حصول چاہتا ہوں ۔ آپ رحمة الله عليه نے اسے سلسلہ نقشبندیہ کے اشغال کی تلقین فرمائی ۔ اس کے بعد وہ آپ کے پاس اکثر آتا رہتا وہ صرف آپرحمة الله عليه کو نظر آتا کوئی اور اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے آپ رحمة الله عليه سے عرض کیا کہ جب کبھی مجھے بلانا چاہیں تو میرا نام کاغذ پر لکھ کر اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیں، میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا ۔ اسی طرح آپ رحمة الله عليه نے جب کشمیر کا سفر اختیار فرمایا تو وہاں بھی ایک جن آپ رحمة الله عليه کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ رحمة الله عليه سے درس طریقت لیا۔ بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیا صفحہ 35 جمال الاولیاء تلخیص : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ترجمہ مفتی جمیل احمد تھانوی ، ناشر: ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم ” جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے واقعات سو فیصد حق ہیں۔ اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی، جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا ، مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔
حضرت حسن بصری رحمة الله عليه کے بند کمرے میں جنات کا درس

حضرت عبد الله رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز فجر کیلئے میں حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ کی مسجد میں گیا تو اندر سے دروازہ بند تھا اور آپ رحمة الله عليه دعا میں مشغول تھے۔ کچھ لوگوں کے آمین کہنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں ۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ شاید آپ رحمة الله علیہ کے مریدین ہوں گے اس لیے باہر ہی ٹھہر گیا کچھ دیر بعد جب دروازہ کھلا اور میں نے اندر جاکر دیکھا تو حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ وہاں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے صورت حال دریافت کی تو فرمایا : میرے یہاں جنات آتے ہیں اور میں ان کے سامنے وعظ کہہ کے دعا کراتا ہوں، جس پر وہ سب آمین کہتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب : تذکرۃ الاولیاء صفحہ 30 مصنف : شیخ فرید الدین عطار رحمة الله علیہ ناشر: الحمد پبلی کیشنز پرانی انار کلی لاہور ) محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا کالم ” جنات کا پیدائشی دوست اکابر و اسلاف کی ترتیب کے عین مطابق شریعت کے اس پہلو کو بیان کر رہا ہے، جس کا وجود بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ کی زندگی میں واضح تھا، مگر فتنوں بھرے دور میں جب کامل روحانی پیشواؤں کی قلت ہوئی تو طلسماتی اور جناتی دنیا کا یہ باب بھی بند ہو گیا۔ الحمد للہ یہ سعادت بھی عبقری کے حصے میں آئی کہ مخلوق خدا کو جہاں تسبیح ذکر اور اعمال کی طرف واپس لوٹانے کی خدمت انجام دی وہاں اکابر و اسلاف جیسے درست عقائد بھی دیے کہ ہماری کائنات میں انسانوں کے علاوہ جنات بھی موجود ہیں، جو ہمارے ساتھ اسی زمین پر رہتے اور دوسری مخلوقات کی طرح ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں.
گھر پر جنات کے وار سے بچنے کا راز

مولانا حاجی احمد علی صاحب پنجگوری ( سابق مدرس جامعہ اسلامیہ عربیہ احرار الاسلام لیاری کراچی ) نے اپنی کتاب ” خزینۃ الاسرار” میں اپنے شاگرد اور مؤکل جنات سے حاصل کیے ہوئے 400 سے زائد عملیات تعویذات اور وظائف لکھے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ مجھے مولانا عبد الرحمان جن نے کہا: روحانی عامل کو چاہئے کہ رات کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ سورۃ الناس پڑھ کر گھر کے چاروں کونوں میں پھونک مار دیا کرے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کسی شخص کے جادو جنات کا علاج کرتے ہوئے وہ خبیث جنات واپس پلٹ کر اس عامل پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔ (بحوالہ کتاب : خزينة الاسرار، صفحہ 490 ناشر: کتب خانہ مجید یہ بیرون بوہر گیٹ ملتان ) قارئین ! درج بالا عمل کی طرح علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بھی ماہنامہ عبقری کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک ایسے بے شمار اعمال پہنچا رہے ہیں، جو انہیں نیک جنات کے ذریعے سے معلوم ہوئے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ مولانا احمد علی صاحب پنجگوری نے انہی سے ملتے جلتے اعمال آج سے 27 سال پہلے اپنی کتاب میں بتا دیے تھے اور علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم موجودہ دور میں بتارہے ہیں۔ ایسے واقعات کو نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی خلاف شریعت ہونے کا بہتان لگایا جا سکتا ہے کیونکہ جنات سے بات چیت کے واقعات ہمارے اکابر کی زندگی میں اتنی کثرت سے موجود ہیں کہ کم از کم ایک عقلمند انسان یہ تو کہ سکتا ہے کہ مجھے ابھی تک ان واقعات کی خبر نہیں تھی، مگر ان کا انکار نہیں کر سکتا۔
جنات سے گفتگو کرنے والے صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين

محدث زمانہ مفسر یگانہ حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی روی علیہ فرماتے ہیں: امام ابن ابی الدنیار نے اپنی کتاب ” مكائد الشیطان میں اور علامہ ابوالشیخ ایشیعلیہ نے "کتاب العظمیہ میں حضرت ابو اسحاق ریلی علیہ سے روایت کی ہے کہ ایک رات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں گئے تو وہاں شور سنا۔ انہوں نے آواز دے کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ وہاں سے ایک جن کی آواز آئی کہ ہم پر قحط پڑ گیا ہے اس لیے میں نے چاہا کہ آپ کے باغ میں سے کچھ پھل لے لوں، لہذا آپ خوشی خوشی ہمیں کچھ ہدیہ عنایت کر دیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے لے جاؤ مگر کیا تم مجھے وہ چیز نہیں بتاؤ گئے جس کے ذریعے ہم تم سے پناہ میں رہیں؟ اس جن نے کہا: وہ چیز تو آیت الکرسی اسی طرح امام ابن ابی الدنیا علی مکاند الشیطان میں حضرت ولید بن مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی ایک درخت کے پاس گیا تو اس نے وہاں کچھ حرکت سنی۔ اس نے آواز دی تو کوئی جواب نہ ملا۔ پھر اس نے آیتہ الکرسی پڑھی تو اس کے پاس ایک جن اتر آیا۔ اس آدمی نے پوچھا: ہمارا ایک آدمی بہار ہے ہم اس کا علاج کس چیز سے کریں؟ جن نے کہا: اسی چیز سے جس کے ذریعے تم نے مجھے درخت سے نیچے اتارا ہے یعنی آیتہ الکرسی کے دم سے اس کا علاج کرو۔ (بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 240 ناشر: مکتبہ برکات المدینہ جامع مسجد بہار کراچی) محترم قارئین ! جنات سے ملاقات اور گفتگو کرنا ان سے وظائف پوچھنا یا ان سے احادیث کی روایات لینا تو ہمارے تمام اکابر سے تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں انہی اکابرین امت کے سچے خادم اور تعلیمات اکابر کے مخلص داعی ومبلغ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بھی مخلوق خدا کو جنات کے شر سے بچنے کے وظائف قوم جنات ہی سے پوچھ پوچھ کر ماہنامہ عبقری کے ذریعے بتا رہے ہیں ۔ جو اس چیز کا واضح ثبوت ہیں کہ ہر دور میں ایسے اولیائے کرام موجود رہیں گے، جن پر اللہ تعالیٰ کا ئنات کا ماورائی نظام کھول دیتا ہے۔ انسانوں کی طرح جنات بھی ایسے اولیائے کرام سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔
حضرت تھانوی رحمة الله عليه کی زبانی جنات سے ملاقات کا ثبوت

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ شیخ ابو الفضل بن جو ہری مصر میں علم اور ولایت کا دروازہ تھے۔ امام یافعی رحمة الله عليه اپنی کتاب ” روض الریاحین میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن شیخ ابوبکر رحمة الله عليه نے شیخ ابو الفضل جو ہری رحمة الله عليه کے متعلق سنا تو ان کی زیارت کیلئے مصر پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا تو قیمتی لباس پہنے ایک حسین و جمیل شیخ جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ کیا اللہ والے ایسے ہوتے ہیں؟ لہذا میں انہیں اسی حال میں چھوڑ کر واپس چل پڑا ۔ اتنے میں مصر کی گلی سے ایک عورت واویلا کرتی ہوئی میرے سامنے آئی اور کہنے لگی : حضور! میں نے بڑی مشکل اور حفاظت سے اپنی بیٹی کو پال کر جوان کیا اور پھر ایک نیک اور با صلاحیت جو ان کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ آج رات اس کی رخصتی ہوئی تھی، مگر اس پر جن کا عارضہ ہو گیا ہے اور اس کی عقل ماری گئی ہے۔ میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تو ایک خوبصورت لڑکی تکلیف کی وجہ سے دائیں بائیں گھور رہی تھی۔ میں نے اس کے سامنے مختلف قراتوں میں قرآن پاک کی دس آیات پڑھیں تو اس کے اندر سے جن بولنے لگا جس کی باتیں دوسرے گھر والوں نے بھی سنیں۔ وہ کہنے لگا: اے شیخ مجھے خبرنہیں کہ ہم 70 جنات ہیں اور سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ تو نے تو شیخ ابوالفضل جو ہری رحمة الله عليه کو ظاہری وضع قطع سے حقیر سمجھا ہے، مگر ہم ان کا اکرام کرتے ہیں۔ آج ہم سب مصر میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے آئے تو یہاں سے گزرتے ہوئے اس لڑکی نے ہم پر نجاست پھینک دی۔ میرے باقی دوست تو بچ گئے مگر میرا جسم نا پاک ہو گیا اور میں اس شیخ کامل رحمة الله عليه کے پیچھے نماز پڑھنے سے محروم رہ گیا۔ لہذا میں نے اسی غصے کی وجہ سے اس کے دماغ پر قبضہ کر لیا ہے۔ شیخ ابو بکر رحمة الله عليه نے کہا: تو پھر میں تجھے انہی شیخ ابوالفضل رحمة الله عليه کی حرمت کی قسم دیتا ہوں کہ اس بے چاری لڑکی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ جن نے کہا: ٹھیک ہے میں ان کی خاطر تیری بات مانتا ہوں ۔ لہٰذا اس لڑکی کو آرام آگیا اور اس نے شیخ ابوبکر سے حیا کرتے ہوئے چہرے پر پردہ ڈال لیا۔ لڑکی کی ماں نے انہیں بہت دعائیں دیں اور وہ شیخ ابوالفضل جوہری رحمة الله عليه کے متعلق اپنی بدگمانی پر شرمندہ ہوتے ہوئے واپس ان کی محفل میں پہنچے۔ شیخ ابو الفضل رحمة الله عليه نے انہیں دیکھا تو دور سے فرمایا: ہم شیخ ابوبکر رحمة الله عليه کو خوش آمدید کہتے ہیں، جنہوں نے ہمارے متعلق جنات کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق کی۔ اس کے بعد شیخ ابوبکر رحمة الله عليه نے توبہ کی اور بہت عرصہ ان کی صحبت میں گزارا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اللہ تعالی سے اس بات کی توفیق مانگی ہے کہ آئندہ میں نیک لوگوں کی کرامتوں کا انکار نہ کر سکوں۔ بحوالہ کتاب: جمال الاولیاء صفحہ 659 مصنف : علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمة الله عليه تلخیص : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه ترجمه مولانا جمیل احمد تھانوی رحمة الله عليه ناشر: ادارہ اسلامیات انار کلی بازار لاہور
خوبصورت آواز سن کر شاہ جنات کی بیٹی فدا ہو گئی

قلعہ میہاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اہل حدیث بزرگ قدوۃ السالکین مولانا غلام رسول رحمة الله عليه ایک مرتبہ اہل سیالکوٹ کے گاؤں ستراہ سندھواں میں تشریف لے گئے تو پتہ چلا کہ وہاں کے نمبر دار کا اکلوتا بیٹا فالج میں مبتلاء ہے۔ وہ خوبصورت جوان اور خوش آواز تھا۔ نمبردار نے اس کا علاج بہت جگہوں سے کرایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ سب طبیبوں نے اسے لا علاج قرار دے دیا۔ نمبردار اپنے بیٹے کو لے کر مولانا غلام رسول دینیہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ مولانا رحمة الله عليه نے مریض سے فرمایا : السلام علیکم ! تمہارا نام کیا ہے؟ جواب میں اس نے جو نام بتایا اسے سن کر نمبر دار کہنے لگا کہ یہ میرے بیٹے کا نام تو نہیں ہے۔ مولانا رحمة الله عليه یہ سمجھ گئے کہ اسے جن کا مسئلہ ہے۔ لہذا انہوں نے جن سے بات چیت شروع کر دی اور پوچھا کہ اس جو ان کو کیوں پکڑا ہوا ہے؟ وہ جن بولا کہ ایک رات سحری کے وقت ہمارا گزران کے کھیتوں سے ہوا تو ہم وہاں ٹھہر گئے۔ یہ نوجوان اس وقت بیلوں کی مدد سے کنویں کا پانی نکال رہا تھا۔ اسی دوران اس نے نہایت خوش الحانی سے چند اشعار گنگنائے تو ہمارے بادشاہ کی بیٹی اس پر عاشق ہو گئی ۔ شاہ جنات کو غیرت آئی اور اس نے مجھے حکم دے دیا کہ اس جوان پر مسلط ہو جاؤ اور اس کا جسم سکھا سکھا کر اسے موت کے منہ میں دھکیل دو۔ اس لیے میں اپنے بادشاہ کی طرف سے مامور ہوں ۔ مولانا غلام رسول نے پوچھا: اس وقت تمہارا بادشاہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: کشمیر میں۔ مولانا رحمة الله عليه غلام نے فوراً کچھ پڑھا تو شاہ جنات بھی حاضر ہو گیا اور مولانا غلام رسول رحمة الله عليه سے باتیں کرنے لگا۔ بالآخر اس جوان کو چھوڑنے پر راضی ہوا اور اپنے جن کو لے کر واپس چلا گیا۔ بحوالہ کتاب تذکره مولانا غلام رسول رحمة الله عليه قلعوی صفحه 286 مصنف مولانا محمد اسحاق بھٹی ناشر: مکتبہ سلفیہ شیش محل روڈ لاہور) محترم قارئین ! جب تک کسی چیز کے نقصانات کا پتہ نہ ہو تب تک احتیاط اور بچاؤ کی تدبیر نہیں کی جاتی ۔ ماں اپنے بچے کو کہتی ہے خبر دار! زمین پر گری ہوئی ٹافی مت کھانا کیونکہ اب اس پر جراثیم لگ چکے ہیں۔ اسی طرح جب تک ہمیں جنات کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوں گی تب تک ہم اپنا بچاؤ نہیں کرسکیں گئے اور انجانے میں جنات کے ان دیکھے جراثیم ہمارے ساتھ لگ کر ہمیں بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاء کرتے رہیں گئے جیسا کہ درج بالا واقعے میں بتایا گیا ہے کہ اس خوبصورت نوجوان کے فالج کی اصل وجہ جنات کا حملہ تھا۔