ہواؤں میں اڑنے اور سمندر میں رہنے والے اولیاء

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ پڑھ کر کچھ حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ یہ صرف دیومالائی قصے ہیں، جن کا حقیقت سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ یہ بات صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے اکابر و اسلاف سے شناسائی نہ ہو۔ ورنہ اکابرینِ اُمت میں تو علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم جیسی کئی ہستیاں گزری ہیں، جن کے حالات اُس وقت کے لوگوں کیلئے ایک معمہ بنے رہے، مگر ”یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ“ کا عقیدہ رکھنے والے لوگ ہر دور میں یہی کہتے رہے کہ اگرچہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے اللہ کے اس ولی کے ساتھ یقیناً اللہ کا کوئی خاص نظام جڑا ہوا ہے۔ آئیں اسی قسم کا ایک واقعہ پڑھتے ہیں۔ حضرت شیخ محمد شمس الدین حنفی شاذلی رحمۃ اللہ علیہ مصر کے جلیل القدر اولیاء میں سے تھے۔ راہِ طریقت میں ان کا مقام یہ تھا کہ فضاؤں میں اڑنے والے حضرات آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ادب سیکھنے کیلئے حاضر ہوتے، اور پھر واپس ہوا میں اڑنے لگ جاتے۔ لوگ یہ منظر ان کے غائب ہونے تک دیکھتے رہتے۔ سمندروں میں رہنے والے اولیاء سے بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ ملاقات کیلئے تشریف لے جاتے اور کپڑوں سمیت سمندر میں اتر جاتے۔ کافی دیر پانی میں رہنے کے بعد جب باہر نکلتے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے کپڑے گیلے نہ ہوتے۔ دریائے نیل میں رہنے والے اولیائے کرام آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو آتے اور لوگ خود انہیں دیکھا کرتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی ام المحاسن رحمۃ اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ دریائی مخلوق ریشمی چادروں اور پاکیزہ کپڑوں میں آئی اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر اپنے کپڑوں سمیت دریا میں اتر گئی۔ میں نے عرض کی: ابا جان! کیا ان کے کپڑے گیلے نہیں ہوتے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مسکرا کر فرمایا: یہ پانی میں رہنے والے اولیاء ہیں، ان کی رہائش ہی پانی میں ہے اس لیے ان کے کپڑے خشک رہتے ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام بھی کئی مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی محفل میں آکر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دائیں پہلو کی طرف بیٹھ جاتے، جب آپ رحمۃ اللہ علیہ اٹھتے تو وہ بھی تشریف لے جاتے۔ (بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیاء ص 392 مصنف: علامہ محمد یوسف نبہانی رحمۃ اللہ علیہ ناشر: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، اردو بازار لاہور)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کالے جن سے کشتی

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انسانوں سے بھی جنگ کی ہے اور جنات سے بھی۔ سوال کیا گیا کہ آپ نے جنات سے کس طرح لڑائی کی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ایک منزل پر اترے تو میں نے پانی لانے کیلئے اپنا ڈول اور مشکیزہ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانی پر تمہارے پاس ایک شخص آئے گا، جو تمہیں پانی لینے سے منع کرے گا۔ جب میں کنویں پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کالے رنگ کا آدمی ہے اس نے کہا کہ واللہ! آج تم اس میں سے ایک ڈول بھی نہیں بھر سکتے۔ اس نے مجھے پکڑا مگر میں نے اسے پچھاڑ دیا اور ایک پتھر لے کر اس کے چہرہ اور ناک کو توڑ دیا۔ پھر اپنا مشکیزہ بھر کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا قصہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ وہ کون تھا؟ (جسے تم نے پچھاڑا) میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ شیطان ہے تو میں اسے قتل کر دیتا۔ میں نے چاہا کہ اس کی ناک اپنے دانتوں سے کاٹ دوں لیکن اس کی بدبو کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکا۔ آکام المرجان صفحہ نمبر 118 بحوالہ کتاب: شیطان سے حفاظت، صفحہ نمبر 191 مصنف: مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہریؒ، ناشر: زم زم پبلشرز، اردو بازار کراچی علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کے پیدائشی دوست“ کو عقل کے پیمانے میں جانچنے والے لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر کیا ارشاد فرمائیں گے؟ کیا یہ حدیث بھی نعوذ باللہ ”عمران سیریز“ کی قسط ہے؟ کیا اس واقعے کو بھی صحابی رسول ﷺ کا وہم کہا جا سکتا ہے؟

موتی مسجد میں اولیاء کی برکات اور بونے جنات

مولانا صاحب! عبقری میں شاہی قلعہ لاہور کی موتی مسجد میں بونے جنات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ہم بچپن میں وہاں بیٹھ کر پیروں کی تیاری کیا کرتے تھے، بونے جنات ہمیں تو کبھی نظر نہیں آئے؟ اور یہ کیا بات ہوئی کہ صرف اسی مسجد میں دعا کی قبولیت یقینی ہوتی ہے (سائل: حکیم محمد طیب، شاہدرہ) جواب: محترم حکیم صاحب! نظر نہ آنے کی کیا بات ہے؟ وہ تو دوائی کے اندر شفاء بھی نظر نہیں آتی، کوئلے کے اندر آگ موجود ہوتی ہے مگر نظر نہیں آتی۔ یوفون کے 90 فٹ اونچے ٹاور سے ہر وقت نکلتے ہوئے سگنل بھی کبھی نظر نہیں آتے۔ انسان کو چوٹ لگنے سے درد بھی نظر نہیں آتی، اب کیا ان ساری چیزوں کا وجود ہی نہیں ہے؟ ایک بات یاد رکھیں کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے اولیائے کرام کے تبرکات کے قائل ہیں۔ موتی مسجد کی حقیقت بھی صرف اتنی ہی ہے کہ یہ جگہ تاریخ میں بڑے بڑے اولیائے کرام کی عبادت گاہ رہی ہے جہاں آج بھی ان اولیاء کی برکات اور ہر وقت عبادت کرنے والے جنات موجود ہیں۔ اکابر کی زندگی سے ایک مستند حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، جس سے یہ سارا اشکال دور ہو جائے گا۔ حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا مکاشفہ اپنے بزرگوں سے بارہا سننے میں آیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں دارالعلوم کی وسطی درسگاہ ”نودرہ“ سے عرش تک نور کی ایک لمبی شعاع دیکھتا ہوں، جس میں کہیں بھی خلاء نہیں ہے۔ ہمارے بزرگوں کا بلکہ خود میرا اپنا تجربہ ہے کہ مشکل سے مشکل مسئلہ جو بہت مطالعے سے بھی حل نہیں ہوتا، اس درسگاہ میں بیٹھ کر سوچنے سے حل ہو جاتا ہے۔ نودرہ کے سامنے والے صحن میں ایک گز کے فاصلے پر اگر کسی کے جنازے کی نماز پڑھی جائے تو وہ مغفور ہوتا ہے، اس لئے احقر نے اس جگہ تشخیص کے بعد اس پر سیمنٹ کا ایک چوکھٹا (نشان) بنوایا ہے، اس پر جنازہ رکھ کر خواہ وہ عام شہری کا ہو یا متعلقین مدرسہ کا، ان سب کے جنازے کی نماز پڑھی جاتی ہے، جس سے لوگ کثرت سے فیض یاب ہو رہے ہیں. (بحوالہ کتاب: دارالعلوم کی پچاس مثالی شخصیات، صفحہ نمبر 36 مصنف: حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ چوک فوارہ ملتان) اب آپ یہ دیکھیں کہ پورے دارالعلوم دیوبند میں صرف ایک جگہ پر دعائے جنازہ کی فوری قبولیت اور برکت کے خصوصی آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ آج تک کسی نے اس واقعے پر تو اعتراض نہیں کیا۔ موتی مسجد کا کیا قصور ہے جو اس کی برکات کا یقین نہیں آ رہا؟

ہماری زندگی میں جنات کا عمل دخل

بعض لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانوں پر جنات کے اتنے اثرات نہیں ہوتے جتنے وہ سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر عامل حضرات لوگوں کو بلاوجہ ہی وہم ڈال دیتے ہیں۔ عامل حضرات میں بھی علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم زندگی کے ہر شعبے میں جنات کے اثرات ثابت کرتے ہیں۔ یہ اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احادیث مبارکہ پر نظر نہ ہو، جبکہ احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی کے درج ذیل مقامات پر جناتی اور شیطانی اثرات کا خطرہ ہوتا ہے۔ (1) ہر شخص کے دل پر ہر وقت ایک شیطان (جن) موجود رہتا ہے (صحیح مسلم) (2) ایمانیات میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی ایک جن ہی ہے (صحیح مسلم) اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمان ایمان سے پھر جائیں اور مشرکین اپنے شرک پر قائم رہیں (3) ہم جب بیت الخلاء میں جاتے ہیں، تو وہاں بھی جنات موجود ہوتے ہیں (ابوداؤد، ابن ماجہ) (4) سوراخوں میں جنات رہتے ہیں، اس لیے ان میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے (مشکوٰۃ) مولانا عاشق الٰہی بلند شہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر اسی وجہ سے جن سوار ہوگیا کہ اس نے بیت الخلاء کی دعا نہیں پڑھی تھی (5) انسان کی ناک میں رات بھر ایک جن رہتا ہے اسی وجہ سے اٹھنے کے بعد ناک کو جھاڑنے کا حکم فرمایا گیا ہے (بخاری ومسلم) (6) جب ہم وضو کرنے لگتے ہیں تو ایک شیطان ہمارے ساتھ ہوتا ہے اس کا نام "ولہان” ہے (ترمذی و ابن ماجہ) (7) انسان جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کی نماز میں شک ڈالنے کیلئے بھی ایک جن موجود ہوتا ہے (مجمع الفوائد) (8) استحاضہ کا خون جاری ہو جانے کے بارے بھی جن شرارت کرتا ہے (طبرانی) (9) اذان کی آواز سن کر شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے لیکن اذان ختم ہو جانے کے بعد نمازی کے پاس آ کر اس کے دل میں وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے (بخاری ومسلم) (10) جن نمازی کی قرآت میں بھی خلل ڈالتا ہے، اس کا نام "خنزب” ہے (مسلم) (11) جن نمازی کی پیشانی پکڑ کر امام سے پہلے رکوع و سجدہ کرواتا ہے (الترغیب والترہیب) (12) نماز میں ادھر ادھر دیکھنا بھی جن ہی کی وجہ سے ہوتا ہے (بخاری ومسلم) (13) عامۃ المسلمین، مسجد اور جماعت سے کٹ کر رہنا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے (مسند احمد) (14) نماز کے بعد تسبیحات کا بھلا دیا جانا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) (15) جب کوئی شخص سوتا ہے تو جن اس کی گردن پر تین گرہیں لگا دیتا ہے (بخاری ومسلم)

پیرانِ پیر کی قدم قدم پر صحابی جن سے ملاقات

علامہ لاہوتی صاحب کی جس طرح قدم قدم پر جنات اور بالخصوص صحابی جنات سے ملاقات ہوتی ہے اگر یہ بات ٹھیک ہوتی تو پیرانِ پیر کی ضرور ملاقات ہوتی؟ محترم بھائی! "لکل فن رجال” اس کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں ہر فن میں ہر بندہ ہی مہارت رکھتا ہو اور جس بات کو جانتا ہی نہ ہو اس کا بالکل ہی انکار کرنا شروع کر دے تاریخ اور سیر ایک لامتناہی فن ہے جس میں کاملیت کا دعویٰ کون کر سکتا ہے! اگر آپ پیرانِ پیر کی مستند سوانح کا مطالعہ کریں تو آپ کے سامنے ان کی صحابی جنات سے ملاقات کے بہت سے واقعات آ جائیں گے میں ایک مستند حوالہ نقل کر دیتا ہوں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے جب حج کا ارادہ کیا تو آپ کے ساتھ ان کے مریدین بھی چل رہے تھے یہ جب بھی کسی منزل پر اترتے ان کے پاس سفید کپڑے پہنے ایک جوان آ موجود ہوتا مگر نہ تو وہ ان کے پاس کھاتا نہ پیتا تھا اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں کو تاکید کر رکھی تھی کہ وہ اس شخص سے بات چیت نہ کریں چنانچہ جب یہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو ایک گھر میں جا کر قیام کیا لیکن جب یہ لوگ گھر سے نکلتے تھے تو وہ شخص داخل ہوتا تھا اور یہ داخل ہوتے تو وہ نکل جاتا تھا، ایک مرتبہ سب لوگ نکل گئے مگر بیت الخلا میں ایک شخص باقی رہ گیا تھا اسی دوران میں وہ جن داخل ہوا جب کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا تھا، اس نے تھیلی کھولی اور کوئی چیز نکال کر کھانی شروع کر دی تو وہ جوان بیت الخلا سے نکلا اور اس کی نگاہ اس پر جا پڑی تو وہ جن وہاں سے چلا گیا پھر کبھی بھی ان کے پاس نہ آیا تو اس شخص نے حضرت شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس کی اطلاع کی تو آپ نے فرمایا یہ شخص ان جنات میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے قرآن پاک سنا تھا اور جنات میں شرفِ صحابیت حاصل کیا تھا۔ (ارجوزۃ الجان لابن عماد، بحوالہ تاریخ جن و شیاطین، ترجمہ، تشریح و تخریج مولانا امداد اللہ انور سابق معین التحقیق مفتی جمیل احمد تھانوی جامعہ اشرفیہ، صفحہ 307، ناشر: دارالمعارف پیروالا ملتان) صحابی جنات سے ملاقات میں علامہ لاہوتی صاحب منفرد نہیں بلکہ پچاسیوں اولیائے کرام کی زندگی میں یہ ملاقات موجود ہے۔

جنات کو پڑھانے والے بزرگانِ دین

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں میں اپنے کانوں سے سنا ایک واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ شیخ الحدیث مولانا جمشید صاحب رحمۃ اللہ علیہ (رائے ونڈ والے) کے خادم خاص مجھ سے کہنے لگے کہ ایک مرتبہ میں رات کے تین بجے حضرت کی خدمت کیلئے ان کے حجرے میں گیا تو دیکھا کہ آپ بالکل نئے زرق و برق لباس میں ملبوس تھے، میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ (کیونکہ آپ کی عام زندگی میں اس طرح کا لباس نہیں تھا) اسی دوران میں نے دوسرے ساتھی سے پوچھا خیریت تو ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ابھی حضرت جنات کی شادی میں گئے تھے وہاں سے آ رہے ہیں۔ (1) شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالامدظلہ، شیخ الکبیر عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے جنات میں تدریس اور تعلیم کا بھی کام لیا اور ان کیلئے مستقل انھوں نے کئی اجزا پر مشتمل کتاب لکھی "کشف القناع والران عن وجہ اسئلةالجان” (2) شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالامدظلہ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کو جنات سے بہت سی روایات حاصل ہوئی ہیں ان تمام روایات کو آپ نے ایک کتاب میں جمع کر دیا ہے جس کا نام انھوں نے "مسندالجن” رکھا ہے۔ (3) شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمۃ اللہ کے مدرسے، تصنیف گاہ اور کتب خانہ میں بھی بہت سے جنات رہا کرتے تھے جو کہ بعض اوقات شرارت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ انھوں نے کتب خانہ کا دروازہ اندر سے بند کر لیا بہت کوشش کے باوجود نہ کھلا، بالآخر جب شیخ الحدیث خود تشریف لے کر گئے تو فوراً بغیر دھکا دیے دروازہ کھل گیا۔ (بحوالہ کرامات و کمالات اولیاء، مجموعہ ارشادات حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالامدظلہ، جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 47، ناشر: ازہر اکیڈمی لمیٹیڈ، لندن) (4) شیخ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن علی ہذلی یمنی رحمۃ اللہ کی علمی پختگی نہایت ہی باکمال تھی، آپ جناتوں کے استاد مشہور تھے اور دور دراز سے جنات آپ کے پاس حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ (جامع کرامات اولیاء، مصنف: علامہ محمد یوسف نبہانی رحمۃ اللہ صفحہ نمبر 346 ناشر: ضیاء القرآن کراچی) علامہ لاہوتی صاحب کی جنات سے ملاقات کا انکار کرنے سے نشانہ کہاں پڑتا ہے ۔۔۔!

بیداری میں حضور صلى الله عليه وآله وسلم سےحدیث سننے والے محدث

علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بار ہا یہ تذکرہ ملتا ہے کہ انہیں حالت بیداری میں حضور صلى الله عليه وآله وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔ عام لوگوں کی عقل میں یہ بات بھی نہیں سماتی اور وہ فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں کہ ایسا کس طرح ممکن ہے؟ حالانکہ یہ کون سی نئی بات ہے؟ ہمارے اکابر مشائخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ حضور صلى الله عليه وآله وسلم کے ساتھ اکثر ملاقات کیا کرتے تھے۔ مثلاً : علامہ جلال الدین سیوطی ی علیہ کو ایک فریادی نے درخواست کی کہ وہ بادشاہ قیتبائی کے پاس جاکر اس کی سفارش کر دیں ۔ انہوں نے اس کو جواب دیا : میرے بھائی میں 75 مرتبہ حضرت سلطان الانبیاء صلى الله عليه وآله وسلم کی زیارت بابرکت سے مشرف ہو چکا ہوں ۔ سوتے اور جاگتے میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم سے بعض احادیث کی صحت کے بارے میں دریافت کر چکا ہوں ۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر میں سفارشی بن کر آپ کے ساتھ بادشاہ کے پاس گیا تو پھر مجھے زیارت نصیب نہ ہوگی۔ اس لیے میری طرف سے معذرت قبول فرمائیں کیونکہ میں شرف زیارت کو شرف بادشاہی پر ترجیح دیتا ہوں۔ تفصیل کیلئے دیکھیں کتاب : فیض الباری شرح صحیح بخاری، سعادت الدارین صفحه 437، جامع کرامات اولیاء صفحہ نمبر 981 خصائص الکبری فی معجزات خیر الوری، تاریخ الخلفاء ، میزان الکبری صفحہ 44 بحوالہ کتاب : عاشقان رسول صلى الله عليه وآله وسلم کو خواب میں زیارت النبی سلام صفحہ نمبر 94 ، مصنف : مولانا محمد روح اللہ نقشبندی ناشر: مکتبہ عمر کراچی

علامہ لاہوتی کا تھوڑے وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنا

سوال: علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں لاہوتی پرواز کا تذکرہ ملتا ہے کہ ہزاروں میل کا فاصلہ سیکنڈوں اور منٹوں میں طے کر لیتے ہیں۔ جواب: دیکھیں ایک بات ہمیشہ یادرکھیں اولیائے کرام کو کبھی بھی اپنی عقل سے تولنے کی کوشش نہ کریں ، ہم اپنی عام زندگی میں دیکھیں کہ کتنی ساری باتوں پر عقل سے فیصلہ نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی تحقیق پر اعتماد کر لیتے ہیں، مثلاً اگر ہم بیمار ہو جا ئیں تو اپنا علاج اپنی عقل کے مطابق نہیں کرتے ، موبائل اور دوسری اشیاء اگر خراب ہو جا ئیں تو اپنی عقل پر اعتماد نہیں کرتے ، گھر کی بجلی خراب ہو جائے تو عقل پر اعتماد نہیں کرتے تو اس روحانیت کے معاملے میں ہر چیز کو عقل کے پیمانے پر کیوں تولتے ہیں! اس قسم کے واقعات اولیائے کرام کی کرامات کہلاتے ہیں ، اور یہ واقعات بزرگوں سے اس قدر تعداد میں منقول ہیں جو کہ شمار سے باہر ہیں چند ایک واقعات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے خادم محمد بن علی سے فرمایا کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں نماد عصر پڑھیں گے، بشرطیکہ میری زندگی میں یہ واقعہ کسی سے بیان نہ کرنا ۔ خادم نے وعدہ کر لیا۔ فرمایا: آنکھیں بند کرو ۔ پھر خادم کا ہاتھ پکڑ کر کوئی 27 قدم دوڑے۔ پھر فرمایا: آنکھیں کھول دو۔ خادم نے آنکھیں کھول دیں تو مکہ مکرمہ میں باب جنت المعلی کے پاس تھے۔۔ یہاں ہم نے ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا، حضرت فضیل بن عیاض اور سفیان بن مہینہ رحمہ اللہ کی زیارت کی۔ پھر بیت اللہ شریف کا طواف کر کے آب زم زم پیا، نماز عصر کے بعد پھر طواف کیا اور آب زمزم پیا۔ پھر شیخ رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا : چاہو تو میرے ساتھ چلو اور چاہو تو حاجیوں کے آنے تک یہاں ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا کہ آپ کے ساتھ چلوں گا۔ فرمایا : دونوں آنکھیں بند کرو، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کوئی سات قدم چلے ہوں گے کہ فرمایا آنکھیں کھول دو۔ دیکھتا کیا ہوں کہ جہاں سے ہم روانہ ہوئے تھے پھر وہیں ہیں۔ ( البلاغ المبین، حصہ سوم صفحہ 819۔ بحوالہ عاشقین رسول صلیم کو خواب میں زیارت النبی سلام ) اصل میں ہمیشہ اس زندگی سے اعتراض وہی شخص کرے گا جو بزرگوں کی زندگی سے ناآشنا ہوتا ہے۔

کم وقت میں زیادہ عبادت حقیقت کے آئینہ میں

سوال: عبقری میں علامہ لاہوتی پراسراری کہتے ہیں کہ وہ خود اور بعض دوسرے بزرگ تھوڑے وقت میں زیادہ ذکر کر لیتے ہیں، بھلا یہ کس طرح ممکن ہے؟ (سائل : محمد احسان حیدرآباد) جواب: میرے دوست! اس میں حیرانگی والی کون سی بات ہے؟ ہمارے اکابر میں اس قسم کے واقعات اتنے زیادہ منقول ہیں کہ ان کو شمار میں لانا مشکل ہے۔ مثلاً حضرت شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ یہ لکھتے ہیں کہ ہمنے سنا ہے: حافظ زبیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہ راتوں رات نوافل اور تراویح میں 36 پارے پڑھ لیتے تھے۔ میرے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے کیونکہ میرے چچا کاندھلہ میں تراویح سنانے جاتے تو دورکعت میں ایک قرآن ختم کر دیتے۔ حضرت امام شافعی اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہما اللہ کے متعلق ہم نے سنا ہے کہ رات اور دن میں دو قرآن ختم کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اپنے دوستوں سے رمضان المبارک میں 61 قرآن ختم کرنے کیلئے لکھا۔ مولوی انعام صاحب نے واقعی 61 قرآن سنا دیئے ۔ میری دادی جان رحمتہ اللہ علیہا کا معمول تھا کہ روزانہ اپنے معمولات (ذکر اذکار) کے ساتھ چالیس پارے ختم کر لیا کرتی تھیں، حالانکہ یہ اس وقت کی بات ہے جب گھر میں کوئی خادمہ بھی نہیں ہوتی تھی. ( بحوالہ کتاب: ملفوظات شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ صفحه 280 مصنف: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن، ناشر: مکتبہ لدھیانوی، بنوری ٹاؤن کراچی) اسی طرح شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے عصر اور مغرب کے درمیان دس ہزار لوگوں کے مجمع کے سامنے مکمل قرآن مجید پڑھ کے سنایا۔ سید جلیل ابن الكاتب الصوفی رحمۃ اللہ علیہ یہ دن اور رات میں آٹھ قرآن پڑھ لیتے تھے۔ شیخ منصور العباد تابعی رحمۃ اللہ علیہ یہ ایک ختم قرآن ظہر اور عصر کے درمیان کرتے اور ایک ختم قرآن مغرب اور عشاء کے درمیان کرتے ۔ جبکہ رمضان المبارک میں مغرب اور عشاء کے درمیان دو ختم قرآن کرتے۔ شیخ شمس الدین ترکستانی رحمۃ اللہ علیہ روزانہ پانچ ختم قرآن کرتے تھے۔ اسی طرح نوافل کی ایک ایک رکعت میں ختم قرآن کرنے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے ( شذرات الذہب ) ( بحوالہ کتاب: اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص130 تا 140 مصنف: مولانا محمد یوسف ہاشمی ، ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور)

پانی پر چلنا اور فرشتوں کو دیکھنا

علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم المعروف بہ ”جنات کا پیدائشی دوست“ پر کچھ عقل پرست لوگوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ان کے کشف و کرامت والے سب واقعات عمران سیریز کی طرح فرضی داستان پر مبنی ہیں۔ قارئین! اگر کسی کو اتنا شرح صدر حاصل نہیں تو اس میں اولیاء اللہ کا کیا قصور؟ اہل علم حضرات کیلئے تو ایسے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ذیل میں مفتی اعظم سعودیہ حضرت شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ آپ کے سامنے ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: کیا اولیاء اللہ ہستیوں کیلئے پانی پر چلنے جیسی کرامت اور لوح محفوظ کی عبارت پڑھنے یا فرشتوں کو آنکھوں سے دیکھ لینے جیسا کشف ممکن ہے؟ فرمایا: ہاں بالکل! جب اولیائے کرام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر استقامت اختیار کریں تو ان کی حاجت پوری کرنے کیلئے یا دوسروں پر حجت قائم کرنے کیلئے ایسی کرامات کا ظہور ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں حضرت عباد بن بشر اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما کے بھی خرق عادت واقعات ملتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب: فتاویٰ نور علی الدرب جز 2 صفحہ 191 ناشر: ادارہ مجلۃ البحوث الاسلامیہ الریاض)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026