ماہنامہ عبقری میں ذکر کردہ درود شریف کیا من گھڑت ہے؟

کچھ عرصہ قبل ماہنامہ عبقری جو کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی سرپرستی میں شائع ہونے والا ہر دلعزیز رسالہ ہے اس میں ایک درود پاک شائع کیا گیا ’’ اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اجْزِ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ھُوَ اَھْلُہٗ ‘‘ اس درود پاک کی علمی اور سندی حیثیت جانتے ہیں۔ اس درود شریف کو امام ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ نے اپنی تصنیف "الدر المنضود فی الصلاۃ والسلام علی صاحب المقام المحمود” میں اور امام سخاوی رحمۃ اللہ نے اپنی تصنیف "القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع” میں نقل کرتے ہوئے بعض اہل علم کے قول کے مطابق اسے افضل ترین درود قرار دیا ہے۔ جب کہ امام سیوطی رحمۃ اللہ نے "الحاوی للفتاوی” میں بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً مذکورہ درود مع فضیلت نقل کیا ہے، تاہم مذکورہ تینوں محدثین نے مذکورہ درود شریف کی روایتی حیثیت سے تعرض نہیں کیا ہے، بلکہ سکوت اختیار کیا ہے، لہٰذا مذکورہ درود شریف کو بے اصل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، امام سیوطی رحمۃ اللہ نے چوں کہ مرفوعاً نقل کیا ہے، لہٰذا اسے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرار دینا درست ہوگا۔ نیز جمہور محدثین وفقہاء کرام کے نزدیک ضعیف حدیث کو فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب، قصص اور مغازی وغیرہ میں نقل بھی کیا جاسکتا ہے اور اس پر عمل بھی جائز ہوتا ہے، بشرطیکہ موضوع (من گھڑت) نہ ہو، ایسا ہی امام عبدالرحمان بن مہدی اور امام احمد رحمہم اللہ سے منقول ہے، امام بیہقی رحمۃ اللہ نے امام عبدالرحمان بن مہدی رحمۃ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کے سلسلہ میں کچھ نقل کرتے ہیں، تو ہم سندِ حدیث کی چھان بین میں خوب سختی کرتے ہیں، اور راویوں پر خوب جرح و نقد کرتے ہیں، اور جب ہم فضائلِ اعمال، ثواب و عقاب کے حوالے سے روایت کرتے ہیں تو اسنادِ حدیث میں نرمی کرتے ہیں، اور راویوں کے بارے میں تسامح سے کام لیتے ہیں۔ امام نووی رحمۃ اللہ نے فضائلِ اعمال کے حوالے سے ضعیف حدیث پر عمل کے جواز پر محدثین و دیگر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے۔ (محترم قارئین دیکھا آپ نے عبقری کا ہر عمل قرآن سنت اور تعلیماتِ اکابر کا علمبردار ہے)

شیخ الوظائف اچھے نام رکھنے کا کیوں فرماتے ہیں؟ وجہ جان لیں!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اکثر اپنے دروس میں یہ بات فرماتے ہیں کہ اپنے بچوں کا نام کچھ سوچ سمجھ کر منتخب کیا کریں کیوں کہ ناموں کے زندگی پر اثرات ہوتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی سنت ہے کہ آپ برے ناموں کو تبدیل کر دیا کرتے تھے: عن عائشۃ: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُغَیِّرُ الِاسْمَ الْقَبِیْحَ۔ (ترمذی: 111/2، ابواب الآداب، ماجاء فی تغییر الاسماء) اچھے ناموں کے اچھے اثرات اور برے ناموں کے برے اثرات کا مرتب ہونا احادیث و آثار سے ثابت ہے: حضرت عبدالحمید ابن جبیرؒ کہتے کہ (ایک دن) میں حضرت سعید بن المسیبؒ کی خدمت میں حاضر تھا کہ انہوں نے مجھے سے یہ حدیث بیان کی کہ میرے دادا جن کا نام ’’حزن‘‘ تھا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرا نام ’’حزن‘‘ (جس کے معنی ہیں سخت اور دشوار گزار زمین) آنحضرت ﷺ نے فرمایا: (حزن کوئی اچھا نام نہیں ہے) بلکہ میں تمہارا نام سہل (اس کے معنی ہیں ملائم اور ہموار زمین، جہاں آدمی کو آرام ملے) رکھتا ہوں۔ میرے دادا نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے اب میں اس کو بدل نہیں سکتا۔ حضرت سعیدؒ نے فرمایا: اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ سختی رہی۔ (ابوداؤد: 277/2، مصنف عبدالرزاق: 11/421، السنن الکبریٰ: 9/516، بخاری: 2/912) (تحفۃ الالمعی 6 / 584) میں ہے کہ ’’جیسا نام ہوگا ویسا مسمیٰ ہوگا، عاقل نام ہوگا اور اس کو بار بار اس نام سے پکارا جائے گا تو اس میں عقل مندی پیدا ہوگی اور اگر بدھو نام رکھا جائے گا اور اس کو بار بار اس نام سے پکارا جائے گا، تو وہ ناسمجھ بن جائے گا۔‘‘ محترم قارئین تسبیح خانہ صرف اور صرف اسی سودے کا خریدار ہے جو بارگاہِ نبوت ﷺ سے باراستہ اکابرینِ امت اور اہلِ اللہ ہم تک پہنچے۔

کیا شیخ الوظائف کا مزارات پر جانا بدعت ہے؟

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اسی چیز کا پرچار کرتے ہیں جو کہ قرآن وسنت اور تعلیماتِ اکابر میں موجود ہیں: آئیے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے مزارات پر جانے کی حقیقت اہلِ علم سے جانتے ہیں۔ حضرت حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ (شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا، ساتویں امیر تحفظِ ختمِ نبوت) جب انڈیا کے سفر (جو 1427ھ میں ہوا) سے واپس تشریف لائے تو فرمانے لگے جب ہم بزرگوں (خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ وغیرہ) کے مزاروں پر فاتحہ پڑھ کر واپس آکر بیٹھے تو سارے وفد کے علماء متفکر تھے کہ یہ ہم نے کونسی غلطی کر لی وہاں تو شرک ہو رہا تھا قبروں کی پوجا ہو رہی تھی ہم وہاں کیوں گئے تو مجھے وہاں ان کو ایک گھنٹہ سمجھانا پڑا جس کا خلاصہ یہ ہے میں نے کہا کہ کیا حضور ﷺ کعبہ کا طواف اور مسجدِ حرام میں کعبہ کے پاس عبادت نہیں کرتے تھے؟ حالانکہ وہاں 360 بت تھے وہاں صبح شام شرک ہوتا تھا۔ اس کے باوجود حضور ﷺ نے اپنی عبادت نہیں چھوڑی مگر بتوں کو چھیڑا تک نہیں۔ پھر عمرۃ القضاء کرنے گئے تو بت موجود تھے انہیں کچھ نہیں کہا صرف عمرہ کر کے واپس آگئے۔ لیکن جب فتح مکہ کا موقع تھا تو اس وقت تک بیت اللہ میں داخل ہونا گوارا نہ کیا جب تک تمام بتوں کو ختم نہ کر دیا پہلے بتوں سے بیت اللہ و مسجدِ حرام کو پاک کیا پھر وہاں عبادت کی، طواف کیا۔ کیوں؟ وجہ فرق یہ ہے پہلے حضور ﷺ کو قدرت و طاقت حاصل نہ تھی کہ بتوں کو گراتے اس وقت اپنا کام کرتے رہے مگر ان کو چھیڑا تک نہیں۔ جب فتح مکہ والے سال فاتحانہ انداز میں گئے تو سب سے پہلے کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اسی طرح ہمیں ابھی قدرت نہیں ہم مزاروں پر جائیں گے شرک کی وجہ سے جانا نہیں چھوڑیں گے اپنا کام کر کے واپس آجائیں گے ان کو نہیں چھیڑیں گے ہاں جب قدرت ہو گی تو سب سے پہلے ان مزاروں کو شرک سے پاک کریں گے پھر فاتحہ پڑھیں گے۔ (ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان، ص 58، بیاض: شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ، ناشر: عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ملتان) (عبقری کا ہر عمل قرآن سنت اور تعلیماتِ اکابر کا علمبردار ہے)

برکت اور لعنت: کیا واقعی 7 نسلوں میں منتقل ہوتی ہے؟

محترم قارئین! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اپنے دروس و بیانات میں ارشاد فرمایا کرتے ہیں کہ "دعائیں بھی تعاقب کرتی ہیں اور بددعائیں بھی تعاقب کرتی ہیں”۔ اللہ والو! برکت کے متلاشی بنو، کیونکہ اکثر والدین کی چھوڑی ہوئی جائیداد نسلوں کے کام نہیں آتی، لیکن برکت ہمیشہ کام آتی رہتی ہے۔ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کے ان ارشادات کے پیچھے دراصل وہ حدیثِ قدسی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اَنَا اللہُ، اِذَا رَضِیْتُ بَارَکْتُ، وَلَیْسَ لِبَرَکَتِیْ مُنْتَہٰی، وَاِذَا غَضِبْتُ لَعَنْتُ، وَلَعْنَتِیْ تَدْرِکُ السَّابِعَ مِنَ الْوَلَدِ (ترجمہ) میں اللہ ہوں، جب کسی سے راضی ہو جاؤں تو برکت دیتا ہوں اور میری برکتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ اور جب میں خفا ہوتا ہوں تو لعنت بھیجتا ہوں اور میری لعنت اس شخص کی ساتویں اولاد تک پہنچتی ہے۔ (مسند احمد، کتاب الزہد) قارئین! گزشتہ دنوں ایک خاندان نے آکر حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کی تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں۔ تسبیح خانے کے دروس کی روشنی میں دیکھا جائے تو شاید ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ چلا آرہا ہے اور بڑوں کے کسی گناہ یا انہیں کسی سے ملنے والی بددعا کی وجہ سے ہمارے ہاں نسل در نسل تنگدستی منتقل ہو رہی ہے۔ ہم نے اپنے والد صاحب کو ہمیشہ تنگدستی میں دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی اپنے والد کو ساری عمر پریشانیوں اور تنگدستی میں دیکھا۔ حتیٰ کہ وفات سے چند دن پہلے انہوں نے اپنے بچوں کو پاس بٹھا کر روتے ہوئے کہا: اے غریب باپ کے غریب بچو! مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں جا رہا۔ اسی طرح ہمارے والد کے دادا بھی زمینداری کرتے تھے مگر ساری زندگی انتہائی غربت میں گزری۔ پھر ان کے والد پر بھی اتنی غربت تھی کہ سارا دن کھرپی کے ساتھ گھاس اکھاڑتے اور شام کو وہی گھاس گھوڑوں کی منڈی میں آنے، دو آنے کا فروخت کرتے۔ مسلسل کھرپی پکڑنے سے ان کا ہاتھ کھرپی کی مٹھی کی طرح ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ یعنی پچھلی پانچ پشتوں سے ہمارے یہاں تنگدستی و غربت نے ڈیرے جما رکھے تھے۔ مگر آج سے دس سال پہلے ہمارے خاندان کا ایک فرد تسبیح خانے میں آنا شروع ہوا تو یہاں ہونے والے اعمال اور آپ دامت برکاتہم العالیہ کی دعاؤں کی برکت سے اللہ پاک نے ہمارے دن پھیر دیے۔ اب پتہ چلا ہے کہ خوشحالی کا تعلق محنت سے نہیں، بلکہ اللہ پاک کی رضامندی سے ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تسبیح خانے کے پیغام "اعمال سے پلنے، اعمال سے بننے اور اعمال سے بچنے” کا سو فیصد یقین عطا فرمائے۔ آمین!

جو مسئلہ حل نہ ہوتا ہو حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ سے سفارش کروا لیں

محترم قارئین! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے درس میں ارشاد فرمایا تھا کہ جس شخص نے اپنی کوئی ناممکن دعا قبول کروانی ہو تو وہ روزانہ چند نوافل پڑھ کر حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایصالِ ثواب کرتے ہوئے دعا کرے کہ وہ اپنے والد محترم حضور خاتم النبیین ﷺ کے سامنے میری سفارش کریں اور آپ ﷺ اللہ پاک کی بارگاہ میں میرے لیے دعا مانگ کر میرا مسئلہ حل کروا دیں۔ ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ مشاہدات کبھی دلیل کے محتاج نہیں ہوتے، بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ عمل شریعت کے خلاف نہ ہو۔ ایک دنیا دار بیوروکریٹ نے اس عمل سے اپنی حاجت کیسے پوری کروائی؟ آئیے دیکھتے ہیں: گزشتہ صدی کے نامور ادیب جناب قدرت اللہ شہاب مرحوم لکھتے ہیں: ایک بار میں کسی دور دراز علاقے میں گیا ہوا تھا۔ جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو وہاں کے مولانا صاحب نے دورانِ خطبہ ایک ایسی بات سنائی جو سیدھی میرے دل میں اتر گئی۔ وہ بتا رہے تھے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب اپنے صحابہ کرامؓ کی کوئی درخواست یا فرمائش منظور نہ فرماتے تھے تو بڑے بڑے برگزیدہ صحابہ کرامؓ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی منت کرتے کہ وہ ان کی درخواست حضور ﷺ سے منظور کروا دیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے دل میں بیٹی کا اتنا پیار اور احترام تھا کہ ان کی سفارش کی ہوئی ہر بات خوش دلی سے منظور فرما لیتے تھے۔ اب بھی جس کو کوئی حاجت ہو، وہ دو نفل پڑھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کرے اور کہے کہ اپنے والد محترم ﷺ سے میرے لیے دعا کی سفارش کر دیں، تو اس شخص کی مطلوبہ حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ جمعہ کی نماز کے بعد میں نے اسی مسجد میں بیٹھ کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیت سے نوافل پڑھے۔ پھر میں نے پوری یکسوئی سے گڑگڑا کر دعا مانگی: یا اللہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح مبارک کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد محترم ﷺ کے حضور پیش کر کے منظور کروا دیں۔ اس بات کا میں نے اپنے گھر میں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ چھ سات ہفتے گزر گئے اور میں اس واقعہ کو بھول گیا۔ پھر اچانک میری جرمن بھابھی کا ایک عجیب خط موصول ہوا۔ جو مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور نہایت اعلیٰ درجہ کی پابند صوم و صلوٰۃ خاتون تھیں۔ خط میں لکھا تھا: رات میں نے خوش قسمتی سے سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے میرے ساتھ نہایت شفقت سے باتیں کیں اور فرمایا کہ اپنے دیور ’’قدرت اللہ شہاب‘‘ کو بتا دو کہ میں نے اس کی درخواست اپنے محترم والد گرامی ﷺ کی خدمت میں پیش کر دی تھی اور انہوں نے اسے ازراہِ نوازش منظور فرما لیا ہے۔ یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش و حواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہوگئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔ یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا۔ کیسے عظیم باپ ﷺ! اور کیسی عظیم بیٹی رضی اللہ عنہا! (بحوالہ کتاب: شہاب نامہ، صفحہ 765)

تسبیح خانہ میں درس شبِ جمعہ میں کیوں ہوتا ہے؟ راز سے پردہ ہٹ گیا۔۔۔!

بہت سے کم علم، اور نا آشنا حضرات کو یہ غلط فہمی تھی کہ تسبیح خانہ سے شبِ جمعہ کے جو فضائل بیان کیے جاتے ہیں ان میں بہت زیادہ مبالغہ ہوتا ہے ایسے دوستوں کو اکابر کی زندگی کے کچھ حوالہ جات عرض کیے جاتے ہیں! رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے: ’’اے علیؓ! جب شبِ جمعہ ہو تو رات کے آخری تہائی حصے میں ہمت کر کے اٹھ جا، کیوں کہ یہ مقبول گھڑی ہے اور اس میں دعا قبول کی جاتی ہے‘‘۔ (مستدرک علی الصحیحین، حدیث نمبر 1190) جمعہ کی رات قبولیتِ دعا کی رات ہے لہٰذا دعا کا خوب اہتمام کریں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا ’’سوف استغفر لکم ربی‘‘ یعنی عنقریب میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے مغفرت کی دعا کروں گا‘‘ ترمذی کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ شبِ جمعہ کا انتظار ہے وہ آجائے تو دعا کروں گا کیونکہ وہ قبولیت کی رات ہے۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ فرماتے ہیں کہ سورہ طہ شبِ جمعہ میں 3 مرتبہ پڑھنے سے ایسا معلوم ہوگا کہ خداوندِ تعالیٰ خود کلام فرما رہے ہیں۔ (کتاب سوانح شانِ بابا فرید گنج شکرؒ) حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جمعرات کی عصر کے بعد دعا اور استغفار و تسبیح میں مشغول رہو یہ گھڑی اس بابرکت وقت کے برابر ہے جو وقت جمعہ کے دن نا معلوم ہے، بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص فضل ہے جو اس شخص کو ملتا ہے جو شبِ جمعہ کی رات اور دن میں اس کو طلب کرے سفید کپڑے پہنے اور خوشبو تیار رکھے۔ پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ شیخ ابوعبداللہ بن بطہ اور شیخ ابوالحسن جزری اور ابوحفص عمر برکتی کہتے ہیں کہ شبِ جمعہ افضل ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ جمعہ کی رات دن کے تابع ہے اور جو بھی جمعہ کے دن کی فضیلتیں ہیں وہ ساری کی ساری اس رات کو بھی حاصل ہونگی، اور جمعہ کے دن کی فضیلت شبِ قدر کے دن سے بہت زیادہ ہے اس لیے جمعہ کی رات بھی بزرگی میں شبِ قدر سے بڑھ کر ہے۔ دوسری دلیل: جنت میں جمعہ کی رات ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ جمعہ کے دن اپنی زیارت سے اپنے بندوں کو مشرف یاب کرے گا۔ تیسری دلیل: دنیا میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہ جمعہ کی رات تو آنکھوں کے سامنے دکھائی دیتی ہے اور شبِ قدر کا یہ حال نہیں معلوم۔ اور یہ جو کہا گیا ہے کہ شبِ قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں جمعہ کی رات شامل نہیں ہے۔ اور بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ جس رات میں قرآن شریف نازل ہوا اس رات کے علاوہ شبِ جمعہ تمام راتوں سے بہتر ہے۔ (غنیۃ الطالبین ص 362) یہ بات تو واضح ہے کہ شبِ جمعہ کی رات نہایت بزرگی و کمالات کی حامل ہے اور ان ہی فضائل کو حاصل کرنے کیلئے تسبیح خانہ لاہور میں شبِ جمعہ کو ذکر، درس کیلئے اجتماع کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور اس میں شریک ہونے والوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔۔۔!

لا علاج بیماریوں کیلئے تیر بہدف شفائی تحفہ

جن لوگوں پر مشکل جتنی تیزی سے آتی ہے ایسے ہی تیزی سے بھاگے گی (انشاء اللہ تعالیٰ)! شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے دنیا کے 200 سے زائد ممالک بمع جزیروں میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کو ایک بھولا ہوا پیغام یاد کروایا جو کہ حضور ﷺ کے وسیلے سے صحابہ کرامؓ، اہل بیت عظام، علمائے کرام اور بزرگانِ دین سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا تھا وہ پیغام تھا اعمال سے پلنے، اعمال سے بننے اور اعمال سے بچنے کا یقین۔۔۔! آج اس ضرورت کو تمام محقق اہل علم تسلیم کر رہے ہیں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب دامت برکاتہم وظائف اور عملیات کو انسانیت کی فلاح کیلئے کس قدر اہم سمجھتے ہیں، پڑھیے۔۔۔! اور شیخ الوظائف کی سوچ کو داد دیجئے جو اس پیغام کے ذریعے دکھی انسانیت کی دادرسی کر رہے ہیں۔ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ سورہ تغابن کے عجیب و غریب احوال ہیں، یہ سورہ لا علاج بیماریوں کیلئے تیر بہدف ہے اور اس شخص کا علاج ہے جو کہ آپ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہو پریشان کرتا ہو، ایسے شخص سے اپنے حق میں فیصلہ کروانے میں یہ سورہ نہایت ہی اکسیر ہے، ماحول کو سازگار بنانے کیلئے، گھر کے ماحول میں خوش رنگی پیدا کرنے کیلئے یہ سورہ تیر بہدف اور نسخہ کیمیا ہے، تریاقِ عظیم ہے بلیات اور آفات کو دور کرنے، دعاؤں کو قبول کروانے، اور مرادیں پانے کیلئے یہ سورہ تریاق مجرب ہے۔ ذاتی مشاہدہ: اس سورہ کی تلاوت کے بعد میرے لیے فضا سازگار ہو جاتی ہے، تمام رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں، ہمت بڑھ جاتی ہے، بیماریاں پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ پڑھنے کا طریقہ: بزرگانِ دین سے اس سورہ کے پڑھنے کا وظیفہ اس طرح منقول ہے کہ پہلے اس کو 41 مرتبہ ایک نشست میں پڑھ لیا جائے اور اس کے بعد روزانہ ایک مرتبہ پڑھنے کی عادت ڈالی جائے، یہ عمل فجر سے پہلے کرنا ’’یاقوت‘‘ اور ’’مرجان‘‘ ہے، فجر کے وقت کرنا ’’سونا‘‘ ہے، فجر کے بعد کرنا ’’چاندی‘‘ ہے، اس کے علاوہ یہ دن میں کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ یاد رہے: 41 مرتبہ پڑھنے والا سورہ تغابن کا یہ عمل کئی سال پہلے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ عبقری اور تسبیح خانہ کے ذریعے مخلوقِ خدا کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں یعنی بات وہی ہے کہ حضرت صاحب وظیفہ بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔۔۔! اگر یہی وظیفہ شیخ الوظائف بتائیں تو بدعت دیگر علماء بتائیں تو کمال ہے۔۔۔۔! یہ عجیب فلسفہ ہے جسے دنیا کا کوئی فلسفی ساری زندگی حل نہ کر سکے۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ اولیاء ابدالوں کے مستند دلائل

(1) ’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی پہلی دلیل: سیدنا علیؓ نے فرمایا: فتنہ ہوگا، اس میں لوگ اس طرح تپیں گے جس طرح سونا بھٹی میں تپتا ہے لہٰذا اہل شام کو برا نہ کہو کیونکہ ان میں ابدال ہیں۔ (مستدرک حاکم)۔ علامہ زبیر علی زئی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (توضیح الاحکام ج 1 ص 87) ’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی دوسری دلیل: (2) حدیث میں آیا ہے کہ اس امت میں 30 ابدال ہیں۔ (مسند احمد) ’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی تیسری دلیل: سنن ابوداؤد میں امام مہدی کے بارے میں حدیث ہے جس میں الفاظ یہ ہیں کہ جس وقت لوگ یہ دیکھیں گے تو ان (امام مہدی) کے پاس شام کے ابدال اور عراق کی ٹولیاں آئیں گے اور پھر وہ ان کی بیعت کریں گے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب المہدی حدیث نمبر 4286) (4) ’’عبقری‘‘ میں ذکر کردہ ابدالوں کے واقعات کی چوتھی دلیل: مسند احمد کی ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ابدال شام میں ہونگے۔ اگر آپ عبقری میں ذکر کردہ ابدالوں کے مزید حالات کی علمی آگاہی چاہتے ہیں تو علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ کی کتاب الحاوی للفتاویٰ ج 2 ص 224، الجامع الصغیر اور علامہ شمس الدین سخاویؒ کی کتاب المقاصد کا مطالعہ کرنے سے آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ’’ماہنامہ عبقری‘‘ اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں کرتا بلکہ ہر بات کے پیچھے اکابر کی دلیل ہے ضرورت اپنے مطالعہ کو بڑھانے کی ہے۔۔۔!

شیخ المشائخ حضرت مولانا حسین علی صاحب واں بھچراںؒ کا یہ عمل کر کے غیبی روزی حاصل کریں

(مولانا قاری عنایت الرحمن مدظلہ، مانسہرہ) ہمارے استاد محترم مولانا محمد یوسف صاحب مدظلہ (کراچی) نے بتایا کہ انہیں مناظرِ اسلام مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے ذریعے شیخ المشائخ حضرت مولانا حسین علی صاحب واں بھچراںؒ کا ایک ایسا عمل ملا ہوا ہے، جسے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ کرنے سے اللہ پاک پورے ہفتے کی روزی کا انتظام اپنے غیب کے خزانے سے کر دیتا ہے۔ شیخ المشائخ حضرت مولانا حسین علی صاحبؒ کا چونکہ بہت بڑا مدرسہ تھا، اس لیے اس کے انتظام و انصرام کیلئے وہ اللہ پاک سے اسی عمل کے ذریعے رزق حاصل کیا کرتے تھے اور اپنے شاگرد علماء کو بھی یہی عمل سکھایا کرتے تھے۔ ہمارے استاد صاحب فرمانے لگے کہ یہ عمل کرتے ہوئے کبھی دل میں لالچ مت لانا، بلکہ ہفتے میں صرف ایک مرتبہ ہی عمل کرنا۔ توکل اور یقین والے شخص کو اس کے ذریعے ایسی روزی ملتی ہے، جس کے ذریعے اللہ پاک اس کی چھوٹی بڑی تمام ضروریات پوری کر دیتا ہے۔ وہ عمل یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر آیت الکرسی درج ذیل طریقے سے پڑھیں: اب آپ کے دونوں ہاتھ بالکل بند ہو گئے۔ اسی طرح بند رکھتے ہوئے اول و آخر ایک مرتبہ درود ابراہیمی کے ساتھ 3 یا 7 مرتبہ سورہ فاتحہ اس انداز سے پڑھیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی آخری ’’میم‘‘ کو الحمد للہ رب العالمین کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہے۔ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیمِ مِالْحمد للہ۔۔۔ جب تین یا سات مرتبہ پڑھ چکیں تو اس کے بعد پھر ایک مرتبہ سورہ فاتحہ مع تسمیہ اس انداز سے پڑھیں الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم (یہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیاں کھول دیں) مالک یوم الدین (یہ پڑھ کر چھوٹی انگلی کے ساتھ والی رنگ فنگر کھول دیں) ایاک نعبد وایاک نستعین (یہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی درمیانی انگلیاں کھول دیں) اھدنا الصراط المستقیم (یہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی شہادت والی انگلیاں کھول دیں) صراط الذین انعمت علیھم، غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ آمین (یہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کھول دیں) اب کھلے ہوئے ہاتھوں پر پھونک ماریں اور اپنے چہرے پر مل لیں۔ ان شاء اللہ ایک ہفتے کی غیبی حلال اور بابرکت روزی کا انتظام ہو جائے گا۔ (بحوالہ: مولانا قاری عنایت الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے یہ عمل 10 محرم الحرام 2020ء کو عبقری تسبیح خانہ میں بتایا) یاد رہے: اعمال سے پلنے کا یقین، عبقری تسبیح خانہ کا ایسا پیغام ہے جو صدیوں پہلے تمام اکابر سے چلا آرہا ہے۔ اگر انہی اکابر کے آزمودہ وظائف و عملیات حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ بتا دیں تو ان پر خود ساختہ اور من گھڑت وظائف کا فتویٰ لگا دینا چہ معنی دارد؟

رات کی سنتیں۔۔۔ ہر آفت سے حفاظت کا ذریعہ

عبقری کا پیغام: سنتیں ہو جائیں عام "اکابر پر اعتماد” کے دوستوں کیلئے جو پوسٹیں شائع کی جاتی ہیں ان میں سے ہر پوسٹ قرآن و سنت اور اکابرین کے حوالہ جات سے مزین ہوتی ہے انشاء اللہ ان پوسٹوں کو پھیلانے والے کو اللہ کریم کی طرف سے دنیا و آخرت کی ڈھیروں بھلائیاں حاصل ہوں گی۔ تسبیح خانہ کے چند مسنون اعمال پیشِ خدمت ہیں: (1) رات سورہ واقعہ پڑھ لینے سے کبھی فاقہ و تنگدستی نہ آئے گی۔ (شعب الایمان) اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ٥ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ٥ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ٥ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ٥ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ٥ فائدہ: رات کے وقت ان آیات کو ایک مرتبہ پڑھنے والے کو رات بھر نماز کا ثواب ملتا ہے۔ (مشکوٰۃ)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026