نظر بد نے اتنی بڑی بزرگ ہستی کی جان لے لی۔۔۔ انوکھا انکشاف!

( مولانا محمد عبد الغفار صاحب کوٹ ادو) اكابر پر اعتماد بیچ پر ابھی دو پوسٹیں نظر بد کی تباہ کاریوں پر ڈالی گئی اللہ پاک ” آپ کی اس کوشش کو قبول کرے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر بیانات بہت ہی زیادہ ضروری تھے ۔ آجکل ہماری اس موضوع سے نظر بالکل ہی ختم ہوگئی ہے اور ہمارے منبروں پر سوائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اور کچھ ملتا ہی نہیں ہے۔ تاریخ کے ایک بہت بڑے بزرگ خواجہ احمد سراج الدین کا انتقال صرف نظر بد ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ مولانامحمد روح اللہ نقشبندی صاحب لکھتے ہیں کہ حاجی محمد اورنگ خان مدظلہ، کے دادا دلاور خان اور دیگر خواتیں گردو نواح ( موسیٰ زئی شریف ) کا قدیم سے اس بات پر اتفاق چلا آ رہا ہے کہ حضرت خواجہ احمد سراج الدین صاحب نوراللہ مرقدہ کسی بد خصلت کی نظر بد کا شکار ہوئے جس کے بعد آپ جانبر نہ ہو سکے۔ جبکہ طبی نقطہ نظر سے بالصراحت یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ آپ کو بخار کے بار بار آنے سے جگر اور انٹریوں کا مرض لاحق ہو گیا تھا ہو سکتا ہے یہ بھی نظر بد کا ہی شاخسانہ اور نتیجہ ہو۔ حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی صاحب کے صاحب الرائے خدام حضرت خواجہ محمد سراج الدین صاحب کی خدمت اقدس میں دست بستہ عرض کر چکے تھے کہ حضور والا ہر بات ہر ایک کو آتے ہی پوری کیفیات کے ساتھ نہ بتایا کیجئے ہمیشہ ہی سے حاسدین شر انگیزی کی تاک میں رہے ہیں لیکن حضرت خواجہ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی روش کو جاری و ساری رکھا جس کے سبب آپکو نظر لگ گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ۔ ( مقتدائے اسلام اور صوفیائے کرام کے آخری لمحات ص 446 مصنف : مولا نا روح اللہ صاحب نقشبندی ، ناشر: دار الاشاعت کراچی) محترم قارئین! آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر بیانات ہمارے معاشرے کی اشد ترین ضرورت تھے۔۔۔!
حضرت لاہوری نے دیا انتقال کے بعد فالج کا یقینی علاج

(مولانا قاضی عبدالرشید صاحب نارووال، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد) شیخ الوظائف دامت برکا تہم اپنے ہفتہ وار دروس میں بار ہا اب اللہ کو ایصال ثواب اور اس کی برکات کا ذکر فرماتے ہیں یہ کوئی من گھڑت کہاوت نہیں بلکہ 1400 سو سال سے اہل اللہ سے منقول ایک مستند حقیقت ہے جس کا انکار دن کے وقت سورج کی روشنی کا انکار ہے۔۔۔ ! فاعتبر و یا اولی لا بصار جناب فضل حق فاروقی ساندہ کل ان لاہور والے اپنی زندگی کا ایک اہم واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مورخہ دس دسمبر 1977 ء بعد از نماز عصر میں اپنی اہلیہ ارشاد بیگم کے ساتھ اپنے گھر کے بالائی کمرے میں بیٹھا تھا، گھریلو معامالات پر بات چیت ہو رہی تھی کہ میری اہلیہ کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی میں کھاوٹ محسوس ہوئی اور انگلیاں اکھٹی ہونا شروع ہوگئیں میں نے ہیٹر چلا یا زیتون کے تیل کی مالش ہاتھ پر کی اور رضائی اڑھا کر لٹا دیا کچھ دیر بعد چہرہ ہٹا کر دیکھا تو میری چیخ نکل گئی چہرہ ٹیڑھا ہو چکا تھا آنکھیں کھینچ گئی تھیں اور شدید قسم کا لقوہ تھا میں نے نبض دیکھی تو وہ بھی معلوم نہیں ہوئی ۔۔! ڈاکٹر حکیم محمد اقبال صاحب کو لایا انہوں نے بتایا کہ جسم کے بائیں حصہ پر فالج کا حملہ ہوا ہے ساتھ شدید قسم کا لقوہ بھی ہے اور جسم کا نصف حصہ بیکار ہو چکا ہے۔ حالت انتہائی تشویس ناک ہے۔ دوائی منہ میں پانی کے ساتھ ڈالتے تو منہ ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے دوائی کا استعمال انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ کئی مرتبہ مریضہ نے بولنے کی کوشش کی لیکن بات سمجھ میں نہیں آئی اس نا گفتہ بہ حالت میں گیارہ دن گزر گئے کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا ۔۔۔ اچانک رات دس بجے کا وقت تھا میری بیوی رضائی میں لپٹی ہوئی تھی کہ مجھے کچھ بڑبڑاہٹ کی آواز محسوس ہوئی جیسے کسی سے بات کر رہی ہو میں نے رضائی بنا کر دریافت کیا کہ کس سے بات کر رہی ہو تو جواب دیا ابھی حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری پیر و مرشد تشریف لائے تھے اور فرماتے تھے کہ تو میری روحانی بیٹی ہے تو روزانہ کلام اللہ پڑھ کر ایصال ثواب کرتی تھی وہ نہیں پہنچ رہا اس لئے پتہ کرنے آیا بہت گھبراؤ مت صحت یاب ہو جاؤ گی جو علاج میں بتاؤں وہ کرو باقی سب چھوڑ دو ۔۔۔! ایک گلاس گائے کے خالص دودھ میں ایک ٹکڑا دار چینی کا ڈال کر جوش دو اور تین ابال آنے دو، اس ابلے ہوئے دودھ میں ایک مرتبہ مرتبہ سورہ یسین پڑھ کر دم کر دو پھر سات عدد لونگ (متر نفل) پیس کرمنہ میں ڈال کر دودھ پی کر لیٹ جاؤ۔ میری بیوی نے سات دن یہ ٹوٹکا استعمال کیا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بالکل چاق چوبند ہے اور مرض کے کوئی اثرات بھی نہیں ہیں ۔ میری اہلیہ نے تحصیل شکر گڑھ میں حضرت اقدس لاہوری سے میری اجازت سے بیعت کی تھی تو آپنے اسے فرمایا تھا کہ تم میری روحانی بیٹی ہو پانچ وقت کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد استغفار اور درود پڑھنا۔ (مقتدائے اسلام اور صوفیائے کرائم کے آخری لمحات ص 446 مصنف : مولانا روح اللہ صاحب نقشبندی ناشر: در الاشاعت کراچی) محترم قارئین ! ہمیشہ یقین اور عشق والے ہی پاتے ہیں بے یقین تو ہمیشہ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں اللہ کریم ہم سب کو اکابر پر اعتماد عطا فرمائے ۔۔۔!
عبقری اے سفیر امن، اے بہار چمن تو سلامت رہے تا قیامت رہے

اکابر پر اعتماد بیج کا بہت بہت شکریہ جو صلہ رحمی اور رواداری پر چھائی ہوئی مٹی کو صاف کر کے روز روشن کی طرح عیاں کر رہا ہے اور ان بجھے ہوئے چراغوں میں اپنے جگر کا خون انڈیل کر سارے عالم میں روشنی پھیلانے کا اور فرقہ پرستی نسل پرستی صوبہ پرستی، مذہب پرستی کی آگ کو بجھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ (دعا گو: مولا نا محمد اسد باغ آزاد کشمیر ناضل جامعہ دار العلوم، کراچی)
پاکستان کے سب سے بڑے شیخ الحدیث کا پیغام دم تعویذ ہو جا ئیں عام

ایک بات ہمیشہ یادرکھیں کہ غرض مند دیوانہ ہوتا ہے اس کو مسائل کے حل کیلئے جو راہ دکھائی جائے وہ اسی پر چل پڑتا ہے اس کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ خیر کی راہ ہے یا شر کی ۔۔۔ !ہمارے اکابر امت کی دکھتی رگ کو سمجھتے تھے اور آج اللہ کے فضل و کرم سے عبقری اور تسبیح خانہ بھی اسی ترتیب کو لے کر چل رہا ہے۔۔۔!دم اور تعویذ کبھی نہ چھوڑنا۔۔۔حافظ الحدیث کی نصیحت حافظ الحدیث مولانا عبد اللہ درخواستی فرماتے ہیں کہ اگر صحیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفالت نہیں کریں گے تو لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بد عقیدہ، گمراہ، شریر، خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان ، عزت اور مال ضائع کریں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں لوگوں کی رہنمائی میں کسی قسم کا تساہل نہ برتنا اور ارشاد فرمایا یا باسط یا حفیظ خود بھی پڑھو اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرو۔ (بحوالہ مرد قلند ر حافظ الحدیث حضرت مولاناعبداللہ درخواستی”، ص 145 مصنف : مولانا عبد القیوم حقانی صاحب، ناشر : القاسم اکیڈمی نوشہرہ ) محترم قارئین! اتنے بڑے شیخ الحدیث تو عملیات کی اہمیت کو سمجھتے تھے کیا آج اللہ معاف کرے ہم ان سے زیادہ علم والے ہو گئے ہیں جو ان کی بات کار دکرتے ہیں کہ عملیات وغیرہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔۔۔!ذراسوچے تو صحیح نشان کہاں پڑتا ہے۔۔۔
شیخ الوظائف ذکر پر زور کیوں دیتے ہیں راز سے پردہ اٹھ گیا۔۔۔!

( مولانا قاری محمد عطاء اللہ ، فاضل جامعہ اشرفیہ ) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اکثر دروس میں ذکر اور خانقاہوں کے نظام پر زور دیا جاتا ہے آج میں اس راز سے اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پردہ اٹھانے جارہا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرب قیامت کا دور ہے آزمائشیں بڑھتی جا رہی ہیں فتنے موتیوں کی ٹوٹی مالا کی طرح بکھر تے جار ہے ہیں اس وقت میں سب سے زیادہ ضرورت خانقاہوں اور ذکر اللہ کی ہے۔۔۔ ! یہ حال کا امر بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب فرماتے ہیں شیخ الحدیث مولا نا محمد ذکریا کے آخری ایام میں آپ کو ذکر سے بہت شغف ہو گیا تھا ، جس طرح حضرت گنگوہی نے تدریس ، تصنیف و تالیف سب مراحل طے کرنے کے بعد ذکر پر بہت زور دینے لگے تھے ، اسی طرح ہمارے شیخ الحدیث کا بھی آخری حال ذکر تھا حضرت چاہتے تھے کہ ذکر کی نئی خانقا ہیں آباد ہو جائیں کیونکہ پچھلی خانقاہیں ختم ہو چکی ہیں ۔۔۔! اس کی وجہ میری ناقص اور جاہلانہ رائے میں یہ ہے کہ آج کل قیامت کا دور ہے ، دجال کا دور ہے اب صرف ذکر جو روح عالم ہے اس کی وجہ سے نجات ہو سکتی ہے اور اب صرف دل والا اسلام ہی چلے گا ، دماغ والا اسلام نہیں چلے گا۔ ( بحوالہ سوانح مفتی ولی حسن ٹونکی۔ مصنف : مولانا محمد حسین صدیقی صاحب، ناشر: زمزم پبلشرز ) حضرت مولانا حافظ بارک اللہ صاحب آخر عمر میں زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے اور ذکر واذکار میں مشغول رہتے ( تذکر ہ محی الدین لکھوی ، ص 84 مصنف : مولانا اسحاق بھٹی ” ، ناشر: محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور ) محترم قارئین ! ہمارے اکا بر وقت کی نزاکتوں کو دیکھ رہے تھے اور آج اللہ کے فضل سے عبقری اس ڈوبتی کشتی کو سہارا ہی نہیں دے رہا بلکہ پارلگانے کی کوشش میں لگا ہے اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔
نظر بد کی تباہ کاریاں تعلیمات اکا بڑ کی روشنی میں

(مولانا جمیل شمسی صاحب ، فاضل جامعہ دار التقوی ، لاہور ) زندگی میں قدم قدم پر پریشانی ، دکھ اور تکلیفوں کی ایک اہم وجہ نظر بد ہے، دعائیں دیں پیخ الوظائف دامت برکاتہم کو جو آج اس مادی دور ) کے اندر بھی ہمیں ہمارے بڑوں سے جوڑے ہوئے ہیں جبکہ آج اپنے اپنوں سے دور ہو چکے ہیں ۔۔۔! (1) علامہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نظر بد کا لگنا اور اثر انداز ہونا برحق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 10 ص 410) (2) علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ نظر بد کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک بری طبیعت کا انسان اپنی حاسدانہ نظر جس شخص پر ڈالے تو اُسے نقصان پہنچے۔ (فتح الباری ج 10 ص 200) (3) علامہ امام ابن شیر فر ماتے ہیں کہ دشمن یا حسد کرنے والے شخص کی نظریں جب اس پر پڑتی ہیں تو ہ بہار ہو جاتا ہے۔ ( النہایہ ج 3 ص 332) (4) علامہ حافظ ابن قیم فرماتےہیں کہ کچھ کم علم لوگوں نے نظر بد کی تاثیر کو باطل قرار دیا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ یہ توہم پرستی ہے۔۔۔! حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے زیادہ جاہل اور ارواح کی صفات اور ان کی تاثیر سے ناواقف ہیں اور ان کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ خبر دار۔۔۔! جنات کی نظر بد سے بھی ہشیار رہیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم سی سی ایم نے میرے گھر کے اندر ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر سیاہ نشانات تھے۔ ارشاد فر ما یا کہ اس پر کچھ پڑھ کردم کرو کیونکہ اسکو نظر لگ گئی ہے۔ (بخاری ، اصبح ، رقم : 5407 مسلم، اصبح، رقم: 2197) حضرت امام القراء نے لکھا ہے کہ یہ سیاہ نشان جنات کی نظر بد کی وجہ سے تھا۔ شیخ وحید عبد السلام بالی حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح انسان کی نظر بد اثر انداز ہوتی ہے اسی طرح جنات کی نظر بد بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جب بھی اپنے کپڑے اتارے یا شیشہ دیکھے یا کوئی بھی کام کرے تو ” بسم اللہ پڑھ لیا کرے تا کہ جنات اور انسانوں کی نظر بد کی تاثیر سے محفوظ رہ سکے۔ ( بحوالہ شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار 139 مکتبہ اسلامیہ اہل حدیث لاہور ) محترم مت رئین ! آج اس پرفتن دور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہمیں جو بے لوث جو سو دادے رہے اللہ پاک ہی انھیں اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے آپ تمام دوست عبقری کیلئے نظر بد سے حفاظت کی ضرور دعا کیا کریں۔۔۔!
شیخ الوظائف کے نظر بد پر بیانات ۔ تعلیمات قرآن وسنت کی روشنی میں

( مولانا فمیل شمسی صاحب، فاضل جامعہ دارالتقوی، لاہور ) اطاہر پر اعتماد شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے بہت سے دروس میں نظر بد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی تعلیمات کا ذکر ہوتا ہے اور ابھی کچھ عرصے سے مستقل نظر بد پر آپ کے بیانات ہورہے ہیں۔ میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں کچھ تفصیل کے ساتھ نظر بد کی حقیقت عرض کرتا ہوں جس سے آپ یہ بات با آسانی سمجھ سکیں گے واقعی شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ہمارے مرض کی تشخیص بالکل صحیح کی ہے۔ نظر بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جو دنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدر اول میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ (1) آپ سلیشیا کی تم نے ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا حقیقت ہے۔ ( بحوالہ بخاری، صحیح، رقم: 5408 مسلم، صحیح رقم : 2187 – أحمد بن حنبل، المسند رقم : 8228 ) (2) آپ سنی لیا کہ ہم نے ارشاد فرمایا: نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے نظر کے علاج کے لیے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم، انصح رقم : 2188 ۔ ابن حبان، اصح رقم : 6107) (3) آپ مٹی کا یہی تم نے تین چیزوں کیلئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی : نظر بد، بچھو وغیرہ کے کاٹے پر، پھوڑے پھنسی کے لئے۔ (مسلم، الصحیح رقم: 2196 أحمد بن حنبل، المسند رقم: 12194 ترندی، اسفن، رقم: 2056) (4) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ان کی ہم نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو۔ (بخاری، اصحیح رقم : 5406 ۔ مسلم ، اصبح ، رقم : 2195) (5) آپ سی ٹی ایم نے فرمایا: نظر بد سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ (ابن ماجہ رقم : 3508 – صحیح الجامع رقم : 938) (6) حضرت اسماء بنت عمیں نے آپ سنی یا پیام سے گزارش کی کہ بنو جعفر کو نظر بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کر سکتی ہیں؟ آپ ملا لیا ہے نے فرمایا کہ ہاں اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہے ( مسند احمد ج 2 ص 438) (7) بے شک نظر بد انسان پر اثر انداز ہوتی ہے حتی کہ اگر وہ ایک اونچی جگہ پر ہو تو نظر بد کی وجہ سے نیچے بھی گر سکتا ہے۔ (صحیح الجامع رقم : 1681) (8) نظر بد انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیتی ہے۔ (اصحیحہ 1249) (9) نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے (صحیح الجامع 4144) (10) آپ سنی بیا اینم نے فرمایا: اللہ کی قضا و تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر بد کی وجہ سے میری امت میں اموات ہوں گی۔ ( صحیح الجامع 1206 ) محترم قارئین ! درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا نظر بد کو اتنی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا کوئی تو ہم پرستی نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے جس پر متر آن حدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں ۔۔۔!
پاک آرمی کی نظر میں اعمال سے بچنے کا یقین

گزشتہ دنوں شیخ الوظائف پاک فوج کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید ناصر صاحب سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے جنرل صاحب شیخ الوظائف کو ایک مسجد میں تلاوت قرآن کرتے ہوئے ملے۔ جنرل جاوید ناصر صاحب نے شیخ الوظائف کو اپنے آزمودہ تجربات و وظائف بتائے، خاص طور پر وہ جو انہوں نے اوجڑی کیمپ اسلام آباد کے سانحہ کے وقت دعائیں پڑھیں اور بغیر کسی خاص سائنسی آلات کے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے سانحہ سے ایسے بچایا کہ پوری دنیا کی جدید سائنس حیران رہ گئی۔ اوجڑی کیمپ کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ سانحہ 1988ء میں پیش آیا’ پاک آرمی کے ایمونیشن ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی جہاں بے شمار بم اور سفید سلفر موجود تھا جس پر پانی ڈالیں تو آگ مزید بھڑک اٹھتی ہم اڑ اڑ کر پھٹ رہے تھے اوجڑی کیمپ سے ایک بم اڑا اور سیدھا خاقان عباسی جو کہ اس وقت وزیر مملکت تھے کی گاڑی کو لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے خاقان عباسی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے والد تھے۔ امریکی اور یورپی ماہرین کی ٹیمیں جمع تھیں مگر آگ نہیں بجھ رہی تھی امریکی ماہرین کی ٹیم نے چھ ماہ کیلئے جڑواں شہر راولپنڈی اسلام آباد ) خالی کرنے کا کہا، اس وقت کے آرمی چیف نے مجھے ( جنرل جاوید ناصر صاحب کو ) بلایا’ میں اس وقت ملٹری انجینئر نگ ونگ کا ڈائریکٹر تھا، میں نے پاک فوج کی دو یونٹوں کو اکٹھا کیا ان کو یہ دعائیں سکھائیں اور تاکید کی کہ ہر فوجی روزانہ روزہ رکھ کر آئے اور یہ دعائیں پڑھتا ر ہے۔ پس تمام فوجی مسلسل ان دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے بم ناکارہ کرتے رہے۔ لہذا پاک فوج کے جوانوں نے 11 دنوں میں ان مسنون دعاؤں اور نفلی روزے کی برکت سے چالیس ہزار 600 بم ہاتھوں سے اٹھا کر ڈی فیوز کیے۔ جبکہ امریکی اور یورپی ماہرین نے گیارہ دنوں میں صرف 30 بم ڈی فیوز کیے۔ امریکی اور یورپی ماہرین آج بھی حیران ہیں کہ پاک فوج نے اتنا بڑا کارنامہ کیسے سرانجام دیا؟ جو بظاہر ناممکن تھا۔ قارئین ! در اصل یہ اعمال کی برکت اعمال سے پلنے ، بنے اور بچنے کا یقین ہے جسے تسبیح خانہ پورے عالم میں پھیلا رہا ہے۔ (قسط نمبر 363) اسی طرح کچھ عرصہ قبل عالمی تبلیغی جماعت مرکز رائے ونڈ پاکستان کے امیر محترم حضرت مولانا نذر الرحمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی دنیا بھر کے تمام تبلیغی مراکز کو خط کے ذریعے یہ ہدایات ارسال فرمائی ہیں کہ موجودہ فتنوں کے دور میں ملک وقوم کی حفاظت کیلئے ان دعاؤں کا ضرور بالضرور اہتمام کریں۔ وہ مسنون دعائیں یہ ہیں : 1 – اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ (ابوداؤد) 2 – اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَا مِنْ رَوْعَاتِنَا ( ترندی و ترغیب)
درود تاج تعلیمات اکابر کی روشنی میں ہر پریشانی کا حل

(تحریر : مولانا ابوعون محمد جبلی صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) ہر شخص کی اپنی فیلڈ ہوتی ہے اور اس میں وہ ماہر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ ہر بندے کو ہر ہرعلم میں مہارت ہو عبقری کا موضوع بذریعہ اعمال لوگوں کو سکھ پہنچانا ہے اور ”عبقری“ کے ہر عمل کے پیچھے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بڑ کی مہرلگی ہوتی ہے۔۔۔! ابھی کچھ دنوں پہلے عبقری رسالے میں درود تاج کاذکر آیا توا کا بڑ کی تعلیمات سے نا آشنا دوستوں کیلئے مناسب معلوم ہوا کہ کچھ کا بڑ کی تعلیمات کی روشنی میں لکھ دیا جائے: حجتہ الاسلام حضرت مولانا قاسم کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (1) مولانا حکم محمد یسین خواجہ صاحب رحمہ اللہ موضع کرم علی والا ملتان نے اپنی کتاب بیاض مدنی ضمیمہ نمس المعارف جو کہ دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں آپ نے درود تاج کی بڑی برکات لکھی ہیں اور اپنے مشائخ کی پوری سند بھی لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ صبح وشام سات سات بار درود تاج کا پڑھنا بلندی درجات کیلئے مجرب ہے، اس طرح بیمار حضرات کیلئے پانی وغیرہ پر دم کر کے پلانا شفاء دیتا ہے۔ بہت لوگوں کو اس کا تجربہ ہے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور وہ زیارت رسول سیلینیم سے مشرف ہوئے ہیں۔ اکابر کے یہاں درودتاج کی سند : نقل از کتاب محاسبة الاعمال ص 6،5 مؤلف : مفسر قرآن پیر طریقت مولانامحمد عبد اللہ صاحب بہلوی رحمہ اللہ کو 29 جمادی الاول 1390ھ بروز پیر 3/8/1970 مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتم دار العلوم نے دورہ حدیث پاک کے وقت طالب علمی کے زمانے میں عطیہ دیا تھا اور ان کو اس درود پاک کی اجازت حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دار العلوم سے با واسطہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب سے ملی۔ (بحوالہ کتاب بیاض مدنی ضمیمه شمس المعارف ص 627 مرتب مولانا حکیم محمد یسین خواجہ صاحب موضع کرم علی والا ملتان، ملتان، ناشر: دار الاشاعت کراچی) حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (2)۔ ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میری والدہ درود تاج بڑے شوق سے پڑھتی تھیں کسی نے ان سے کہا کہ امام اولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تو اس کے قائل نہیں ہیں میری والدہ نے حضرت لاہوری سے عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ ذوق و شوق اور محبت میں پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ دافع البلاء والوباء کو اس معنی میں پڑھا جائے کہ حضور سلیم بلا و و ا کے دور رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں فائل حقیقی اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے حضور سینہ پینم وسیلہ اور واسطہ ہیں ۔ تائید میں پھر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے دلائل الخیرات شریف” کا حوالہ دیا کہ اس میں حضور صلی ایم کے اسماء صفاتی میں کاشف الکرب“ موجود ہے اور تمام اکا بڑا اس کے پڑھنے کی باقاعدہ اجازت دیتے ہیں جب وہاں ہا تاویل جائز ہے تو یہاں بھی با تاویل جائز ہی ہے۔ (ہفت روزہ خدام الدین، امام الاولیاء حضرت لاہوری نمبرص 324 ، اشاعت 1979 ) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (3) – محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں اگر کسی کا ذوق و شوق اس ( درود تاج) کے پڑھنے کا ہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن وہ جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال ہیں ان کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال مجاز ادرست ہے، آپ سی اینم کو وسیلہ و واسطہ مجھ کر تو گنجائش نکل سکتی ہے، اگر حقیقتا ان کے معانی مراد نہ ہوں ، بلکہ مجاز امراد ہوں تو شرک نہ ہوگا۔ ( فتاوی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن ، فتوی نمبر : 143908200078) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دارالافتاء کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (4) – مفتی سیف اللہ جمیل صاحب رئیس دار الافتاء جامعہ بنوریہ اور مفتی نا در جان صاحب نائب رئیس دار الافتاء جامعہ بنورید، درود تاج ، درود ماهی، درود مستجاب ، درود اکبر، درود تنجینا ، درود لکھی ، دعائے گنج العرش ان تمام درودوں(تفصیل کیلئے دیکھیں (فتوی نمبر 19558 ، تاریخ 20/6/2013 دار الافتاء جامعہ عالمیہ بنوریہ سائٹ کراچی) (1) محدث کبیر ، مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فرید ” جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک درود تاج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور توسل سے بلا وغیرہ کو دفع کرتا ہے اس کیلئے ( درود تاج ) پڑھنا جائز ہے۔ (فتاویٰ فریدیہ ج1 ص 347 تخریج و ترتیب مفتی محمد وہاب مدرس دار العلوم صدیقیه زروبی ، ناشر: دار العلوم صدیقیه زروبی صوابی ) (2) شیخ التفسیر حضرت مولانا عبداللہ بہلوی فرماتے ہیں : جو شخص زیارت رسول صلی اینم کا طالب ہو اسے چاہیے کہ 313 مرتبہ درود تاج 21 دن تک بلا ناغہ پڑھے تو زیارت فیض بشارت سے مشرف ہوگا ، ہزاروں لوگوں کو فائدے ہوئے ہیں اور زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ ( کتاب : محاسبة الاعمال في الغد وو الأصال ص5 مصنف: شیخ التفسیر حضرت مولانا عبد اللہ بہلوی) (3) علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب دامت برکاتہم فاضل جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں درود تاج نہایت ہی مقبول و معروف ہے، مالی پریشانیوں کے حل ، مشکلات و بلیات کے تدارک اور قضائے حاجات کیلئے سریع الاثر ہے ( بحوالہ جامع الوظائف ص 264 ، ناشر : ادارۃ القریش لاہور ۔ اس کتاب میں موجود عملیات اور درود تاج کی تصدیق کرنے والے علمائے کرام۔ (۱) مفتی شاہد عبید صاحب نائب مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور۔ (۲) حضرت مولا ناڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب ۔ (۳) حضرت مولاناعدنان کاکا خیل صاحب۔ (۴) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب اشرفی – (۵) استادالحدیث حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم) (4) مولانا خلیل احمد صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو نوکری میں ترقی اور پاکٹ منی میں برکت کیلئے ، ہر بیماری سے نجات کیلئے ، سانپ
میت کو خیر پہنچانے میں جلدی کریں!

( مولانا محمد عمر صاحب بھکر ) شیخ الوظائف دامت بر کاتہم کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مخلوق تکلیف پریشانی ، مصیبت سے بچ جائے اور اسے راحت ، سکون اور عافیت نصیب ہو یہی وجہ ہے کہ آپ اکثر اپنے دروس میں اسی خیر خواہی کو بیان کرتے ہیں کچھ عرصہ قبل آپ نے لوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک میت کو غسل کفن نہ دے دیا جائے تو اس وقت تک میت کو ایصال ثواب کرنا یا اس کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرنا غلط ہے۔۔۔! آپ نے فرمایا ایصال ثواب میں دیر نہیں کرنی چاہیے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اب سب سے زیادہ ضرورت اسے اعمال کی ہے۔ افادہ عام کیلئے اہل علم حضرات کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں: بنوری ٹاؤن کا فتوی: میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآن مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے زبانی تلاوت کی جائے ، اور اگر میت کو کپڑے سے ڈھانکا نہ گیا ہوتو پھر نسل دینے سے پہلے میت کے قریب تلاوت کرنا مکروہ ہے، البتہ تسبیح وغیرہ پڑھی جاسکتی ہے۔ اور میت کو غسل دینے کے بعد خواہ میت کے قریب تلاوت کی جائے یا دور ، بہر صورت جائز ہے، نیز میت جس کمرے میں ہو اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں بیٹھ کر تلاوت کرنا بھی بلا کراہت جائز ہے۔ ( فتاوی شامی 2 /193، کتاب الصلوۃ، باب صلاة الجنازة ، ط ؛ سعید ) فقط واللہ اعلم۔ (فتوی نمبر : 144012201302 علامہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب) علامہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کا فتوی: میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآن مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے محض زبانی تلاوت کی جائے۔ (بحوالہ آپ کے مسائل اور انکا حل ) دار العلوم کا فتویٰ : میت کو نسل دینے سے پہلے اُس کے پاس آہستہ قرآن پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔۔ (فتوی نمبر 146655) محترم قارئین تسبیح خانہ کا پیغام سراسر محبت اور خیر خواہی کا ہے جسے تسبیح خانہ سے جڑا ہر شخص جانتا ہے اور اس کے ہر ہر پیغام کے پیچھے قرآن وسنت اور تعلیمات اکابر کی مہر ثبت ہے۔۔۔!