عبقری کے وظیفے کس حدیث سے ثابت ہیں؟

قرب قیامت کے اس فتنوں بھرے دور میں کچھ لوگ اپنے اکابر واسلاف ( صحابہ و تابعین ، فقهاء ومحدثین ، اولیاء و صالحین ) کی ترتیب سے اتنا دور ہو چکے ہیں، کہ ان کے سامنے جونہی کوئی فائدہ مند بات آتی ہے، فوراً کہتے ہیں : ہم ایسی من گھڑت باتوں کو نہیں مانتے اور خاص طور پہ ماہنامہ عبقری میں آنے والے وظائف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ کس حدیث سے ثابت ہیں؟ حالانکہ عبقری کے جتنے بھی وظائف ہیں ، سب کے پیچھے قرآن وسنت اور اکابرین امت کی دلیل موجود ہے۔ اگر ہمارا اپنادینی مطالعہ ختم ہو چکا ہے اور اگر ہم خود شریعت سے نا آشنا ہو چکے ہیں تو اس میں عبقری کا کیا قصور ! رہی بات ہر وظیفے کے فوائد پر حدیث کے ثبوت کی ، تو ایک بات ذہن نشین رکھیے کہ قرآن وسنت سے ماخوذ یا ماثورہ دعا ئیں اور وظائف جب کسی شخص کے تجربے میں آتے ہیں اور زبان پر اس وظیفے کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ پاک اس وظیفے اور اس دعا کے بے شمار فائدے عطا کرتا ہے۔ پھر انہی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے بندہ اپنے دوستوں رشتہ داروں سے کہتا ہے کہ بھئی : میرا مسئلہ تو فلاں وظیفے کی برکت سے حل ہو گیا، تم بھی اسے ضرور آزماؤ اور اس کے فائدے پاؤ۔ جیسا کہ ماہنامہ القاسم میں استاذ العلماء مولانا مفتی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں کہ : جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ اس کا مال بڑھ جائے ، اسے چاہئے کہ وہ یہ والا درود شریف پڑھا کرے (اللهم صل علیٰ محمد عبدك ورسولك وصل على المومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات) جو شخص صبح شام سات مرتبہ یہ درود شریف پڑھے گا ، تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو باعزت رکھے گا ( اللهم صل على سيد العالمين حبيبك محمد و آله صلوة انت لها اهل وبارك وسلم كذالك ) بحوالہ: ماہنامہ القاسم دسمبر 2018ء صفحہ 16 ناشر : جامعہ قاسمیہ دارالافتاء ڈیرہ غازی خان محترم قارئین ! ماہنامہ القاسم میں شائع شدہ درود شریف کے ان کمالات کو دیکھ کر کوئی شخص کہے : بھلا کس حدیث سے ثابت ہیں تو اسے کہا جائے گا: بھئی جا کر اپنی عقل کا علاج کرواؤ جو علمائے دین یا اولیاء اللہ مجھے وظائف بتارہے ہیں، وہ قرآن وحدیث کے معاملے میں تم سے زیادہ محتاط ہیں اور دین کو تم سے زیادہ سمجھتے ہیں، اسی لیے اللہ پاک نے انہیں اپناذ کر عام کرنے کیلئے چنا ہوا ہے اور تم لوگوں کو وظائف اور اذکار سے الٹا دور کرنے کی محنت میں لگے ہوئے ہو ۔ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم بھی اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور مخلوق خدا کو خدا تعالیٰ سے دور کرنے کی بجائے اسی کے ذکر پر لگا نا شروع کردو؟

دو انمول خزانہ کے بارے میں غلط فہمی کا ازالہ

(مولا نا طبیل شمسی صاحب، جامعہ دارالقومی لاہور ) ایک ایسی غلط فہمی کا ازالہ جو بڑی ہستی کی طرف منسوب کی گئی اور جس کی کوئی حقیقت نہیں۔۔۔! دو انمول خزانہ سب سے پہلے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو ان کے مرشد قطب الاقطاب حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ ہجویریؒ نے 1984 میں عطا فرمایا اور اس وقت سے آپ نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا سب سے پہلی مرتبہ اس کی باقاعدہ اشاعت احمد پور شرقیہ منیر چوک میں واقع سلیمی بک ڈپو سے ہوئی اور وہ بھی اس طرح کہ اس ادارے کے مالک کے ساتھ شیخ الوظائف کے قریبی روابط تھے اسی وجہ سے اس ادارے کے مالک نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ میں اس وظیفہ کو چھاپنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں 10000 کی تعداد میں پہلی اشاعت عمل میں لائی گئی اس کے بعد اگلا ایڈیشن مزید اضافہ کے ساتھ شائع کیا گیا۔ اللہ کریم کی عطا کہ اس وظیفہ کو ایسی مقبولیت حاصل ہوئی کہ جو بہت ہی کم اعمال کو نصیب ہوتی ہے اس وظیفہ کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے اپنے نام سے اس کو شائع کرنا شروع کر دیا اور بہت سے اداروں نے کمائی حاصل کرنے کیلئے اسے دیگر بزرگان کی طرف منسوب کر کے شائع کیا۔۔۔! یہی ستم ظریفی عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی صاحب رحمۃ اللہ کے ساتھ بھی ہوئی کہ ان کی کتاب "مومن کی زندگی کا ہر لمحہ ربیع الاول ہے” میں دو انمول خزانہ کو حضرت عارف باللہ کے انتقال کے بعد منسوب کر کے شائع کیا گیا یہ ایک بہت بڑی جسارت تھی جس پر کراچی کے بہت سے اہل علم اور واقف کار سنجیدہ فکر دانش حضرات نالاں تھے۔ حضرت عارفیؒ کے صاحبزادے ڈاکٹر حسن صاحب کی لاہور میں شیخ الوظائف سے ملاقات ہوئی تو اس ملاقات میں انہوں نے اس وظیفہ کی حضرت عارفیؒ کی طرف نسبت کا واضح انکار کیا اور فرمایا کہ ہمارے والد ماجد سے اس قسم کا کوئی وظیفہ انمول خزانہ منقول نہیں، نہ آپ نے اس قسم کا وظیفہ خود پڑھا ہے اور نہ ہی مریدین کو دیا ہے۔۔۔! اسی طرح عارفی جیولرز کے مالک محترم ممتاز عارفی صاحب جو کہ ڈاکٹر عبدالحئی عارفی نور اللہ مرقدہ کے خاص صحبت یافتہ ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت عارفیؒ کے معمولات میں ایسا کوئی عمل میری نگاہ سے نہیں گزرا۔ عقلی دلیل: اگر دیکھا جائے انمول خزانہ کی نسبت کسی اور کی طرف عقلی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے کیونکہ جو انداز بیان عبقری اور شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا ہے وہی کا وہی انداز بیان واقعات اور مشاہدات کی شکل میں انمول خزانہ کا بھی ہے اور دوسری چیز اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ مشاہدات میں حکیم صاحب لکھا ہوا ہے ڈاکٹر صاحب نہیں لکھا تو پتا چلتا ہے کہ یہ مشاہدات حضرت حکیم طارق صاحب کو لکھے گئے ہیں حضرت ڈاکٹر عارفی صاحب کو نہیں لکھے گئے۔۔۔! احادیث مبارکہ میں متفرق طور پر اس کے حوالہ جات موجود ہیں لیکن باقاعدہ طور پر اس باکمال وظیفہ کی سب سے پہلی اشاعت کی سعادت شیخ الوظائف کو حاصل ہوئی اور آج دنیا بھر میں سینکڑوں ادارے لاکھوں کی تعداد میں اس انمول خزانہ کو چھاپ کر دنیا بھر کی مشکلات ٹلوانے اور آسانیاں پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اللہ پاک انمول خزانہ کے نام سے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، یوم محشر کے دن ترازوں میں تلنے اور شافع محشر ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنائے۔ آمین (اسی قسم کا ایک وضاحت نامہ عبقری کے آفیشل پیج پر 2015/12/12 کو بھی ڈالا گیا تھا اور اس ماہ کے عبقری رسالہ میں بھی شائع ہوا تھا)

آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو۔۔۔!

(مولانا محمد عمران، جامعہ اشرفیہ ) (1) آپ صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: لوگوں میں آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو، اُن کو خوش خبری دو اور اُن میں نفرت نہ پھیلاؤ۔ (بخاری، رقم 69)۔ (2) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو لوگ بھڑک کر اُس کی طرف اٹھے تاکہ اُسے ماریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور جہاں اُس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے نہیں ۔ ( بخاری، رقم 6128) (3) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ملی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسان کو اختیار فرمایا، جبکہ اس میں گناہ نہ ہو۔ ( صحیح بخاری، 1287/3، رقم : 3387) (4) حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کسی صحابی کو گورنر، مفتی ، قاضی یا سپہ سالار بنا کر دوسرے علاقوں کی طرف روانہ کرتے تو فرماتے : آسانی پیدا کر و مشکل میں نہ پھنسا ؤ۔ خوش رکھو اور متنفر نہ کرو۔ ( صحیح بخاری، 38/1، رقم / 69) دور حاضر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت بر کاتہم دنیا کی 500 با اثر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں جدید مسائل میں قابلیت کے حوالے سے دنیا بھر میں آپ کا ایک نمایاں نام ہے ۔ آپ کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ يَشرُ وا وَلَا تُعَيّرُ وا وَبَيَّرُ وا وَلَا تُنظرُوا کے مفاہیم کو سمجھتے ہیں ….! فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَتِيرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَثِيرِينَ کے تقاضوں سے پوری طرح واقف ہیں ۔۔۔۔! يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسر جیسی نص پر پوری طرح عامل ہیں۔۔۔! یہی وجہ ہے ڈیجکل تصویر کے ذریعے آج پوری دنیا آپ کی علمی تحقیق سے استفادہ کر رہی ، اسلامی بینکاری کے ذریعے امت کو معاشی استحکام کی طرف رہبری مل رہی ہے، ابھی حال ہی میں آپ یورپ کے غیر معتدلہ شہر کے دورے پر تشریف لے گئے اپنی جائے قیام پر پہنچ کر مغرب اور ساتھ ہی عشاء کی نماز اکھٹی با جماعت پونے نو بجے ادا کی جب کہ ابھی سورج غروب ہوا ہی تھا، حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ان دنوں میں یہاں شفق احمد بھی غروب نہیں ہوتی اس لیے میرا معمول ہے کہ ان ایام میں سفر کی حالت میں مغرب اور عشاء کے درمیان جمع حقیقی کر لیتا ہوں اور پھر نصف اللیل کا انتظار کر کے فجر پڑھ کر آرام کرتا ہوں ( بحوالہ ماہنامہ البلاغ نومبر 2019 بمطابق ، ربیع الاول ۱۴۴۱ھ )

نظر بد نے اتنی بڑی بزرگ ہستی کی جان لے لی۔۔۔ انوکھا انکشاف!

( مولانا محمد عبد الغفار صاحب کوٹ ادو) اكابر پر اعتماد بیچ پر ابھی دو پوسٹیں نظر بد کی تباہ کاریوں پر ڈالی گئی اللہ پاک ” آپ کی اس کوشش کو قبول کرے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر بیانات بہت ہی زیادہ ضروری تھے ۔ آجکل ہماری اس موضوع سے نظر بالکل ہی ختم ہوگئی ہے اور ہمارے منبروں پر سوائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اور کچھ ملتا ہی نہیں ہے۔ تاریخ کے ایک بہت بڑے بزرگ خواجہ احمد سراج الدین کا انتقال صرف نظر بد ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ مولانامحمد روح اللہ نقشبندی صاحب لکھتے ہیں کہ حاجی محمد اورنگ خان مدظلہ، کے دادا دلاور خان اور دیگر خواتیں گردو نواح ( موسیٰ زئی شریف ) کا قدیم سے اس بات پر اتفاق چلا آ رہا ہے کہ حضرت خواجہ احمد سراج الدین صاحب نوراللہ مرقدہ کسی بد خصلت کی نظر بد کا شکار ہوئے جس کے بعد آپ جانبر نہ ہو سکے۔ جبکہ طبی نقطہ نظر سے بالصراحت یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ آپ کو بخار کے بار بار آنے سے جگر اور انٹریوں کا مرض لاحق ہو گیا تھا ہو سکتا ہے یہ بھی نظر بد کا ہی شاخسانہ اور نتیجہ ہو۔ حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی صاحب کے صاحب الرائے خدام حضرت خواجہ محمد سراج الدین صاحب کی خدمت اقدس میں دست بستہ عرض کر چکے تھے کہ حضور والا ہر بات ہر ایک کو آتے ہی پوری کیفیات کے ساتھ نہ بتایا کیجئے ہمیشہ ہی سے حاسدین شر انگیزی کی تاک میں رہے ہیں لیکن حضرت خواجہ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی روش کو جاری و ساری رکھا جس کے سبب آپکو نظر لگ گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ۔ ( مقتدائے اسلام اور صوفیائے کرام کے آخری لمحات ص 446 مصنف : مولا نا روح اللہ صاحب نقشبندی ، ناشر: دار الاشاعت کراچی) محترم قارئین! آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر بیانات ہمارے معاشرے کی اشد ترین ضرورت تھے۔۔۔!

حضرت لاہوری نے دیا انتقال کے بعد فالج کا یقینی علاج

(مولانا قاضی عبدالرشید صاحب نارووال، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد) شیخ الوظائف دامت برکا تہم اپنے ہفتہ وار دروس میں بار ہا اب اللہ کو ایصال ثواب اور اس کی برکات کا ذکر فرماتے ہیں یہ کوئی من گھڑت کہاوت نہیں بلکہ 1400 سو سال سے اہل اللہ سے منقول ایک مستند حقیقت ہے جس کا انکار دن کے وقت سورج کی روشنی کا انکار ہے۔۔۔ ! فاعتبر و یا اولی لا بصار جناب فضل حق فاروقی ساندہ کل ان لاہور والے اپنی زندگی کا ایک اہم واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مورخہ دس دسمبر 1977 ء بعد از نماز عصر میں اپنی اہلیہ ارشاد بیگم کے ساتھ اپنے گھر کے بالائی کمرے میں بیٹھا تھا، گھریلو معامالات پر بات چیت ہو رہی تھی کہ میری اہلیہ کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی میں کھاوٹ محسوس ہوئی اور انگلیاں اکھٹی ہونا شروع ہوگئیں میں نے ہیٹر چلا یا زیتون کے تیل کی مالش ہاتھ پر کی اور رضائی اڑھا کر لٹا دیا کچھ دیر بعد چہرہ ہٹا کر دیکھا تو میری چیخ نکل گئی چہرہ ٹیڑھا ہو چکا تھا آنکھیں کھینچ گئی تھیں اور شدید قسم کا لقوہ تھا میں نے نبض دیکھی تو وہ بھی معلوم نہیں ہوئی ۔۔! ڈاکٹر حکیم محمد اقبال صاحب کو لایا انہوں نے بتایا کہ جسم کے بائیں حصہ پر فالج کا حملہ ہوا ہے ساتھ شدید قسم کا لقوہ بھی ہے اور جسم کا نصف حصہ بیکار ہو چکا ہے۔ حالت انتہائی تشویس ناک ہے۔ دوائی منہ میں پانی کے ساتھ ڈالتے تو منہ ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے دوائی کا استعمال انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ کئی مرتبہ مریضہ نے بولنے کی کوشش کی لیکن بات سمجھ میں نہیں آئی اس نا گفتہ بہ حالت میں گیارہ دن گزر گئے کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا ۔۔۔ اچانک رات دس بجے کا وقت تھا میری بیوی رضائی میں لپٹی ہوئی تھی کہ مجھے کچھ بڑبڑاہٹ کی آواز محسوس ہوئی جیسے کسی سے بات کر رہی ہو میں نے رضائی بنا کر دریافت کیا کہ کس سے بات کر رہی ہو تو جواب دیا ابھی حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری پیر و مرشد تشریف لائے تھے اور فرماتے تھے کہ تو میری روحانی بیٹی ہے تو روزانہ کلام اللہ پڑھ کر ایصال ثواب کرتی تھی وہ نہیں پہنچ رہا اس لئے پتہ کرنے آیا بہت گھبراؤ مت صحت یاب ہو جاؤ گی جو علاج میں بتاؤں وہ کرو باقی سب چھوڑ دو ۔۔۔! ایک گلاس گائے کے خالص دودھ میں ایک ٹکڑا دار چینی کا ڈال کر جوش دو اور تین ابال آنے دو، اس ابلے ہوئے دودھ میں ایک مرتبہ مرتبہ سورہ یسین پڑھ کر دم کر دو پھر سات عدد لونگ (متر نفل) پیس کرمنہ میں ڈال کر دودھ پی کر لیٹ جاؤ۔ میری بیوی نے سات دن یہ ٹوٹکا استعمال کیا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بالکل چاق چوبند ہے اور مرض کے کوئی اثرات بھی نہیں ہیں ۔ میری اہلیہ نے تحصیل شکر گڑھ میں حضرت اقدس لاہوری سے میری اجازت سے بیعت کی تھی تو آپنے اسے فرمایا تھا کہ تم میری روحانی بیٹی ہو پانچ وقت کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد استغفار اور درود پڑھنا۔ (مقتدائے اسلام اور صوفیائے کرائم کے آخری لمحات ص 446 مصنف : مولانا روح اللہ صاحب نقشبندی ناشر: در الاشاعت کراچی) محترم قارئین ! ہمیشہ یقین اور عشق والے ہی پاتے ہیں بے یقین تو ہمیشہ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں اللہ کریم ہم سب کو اکابر پر اعتماد عطا فرمائے ۔۔۔!

عبقری اے سفیر امن، اے بہار چمن تو سلامت رہے تا قیامت رہے

اکابر پر اعتماد بیج کا بہت بہت شکریہ جو صلہ رحمی اور رواداری پر چھائی ہوئی مٹی کو صاف کر کے روز روشن کی طرح عیاں کر رہا ہے اور ان بجھے ہوئے چراغوں میں اپنے جگر کا خون انڈیل کر سارے عالم میں روشنی پھیلانے کا اور فرقہ پرستی نسل پرستی صوبہ پرستی، مذہب پرستی کی آگ کو بجھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ (دعا گو: مولا نا محمد اسد باغ آزاد کشمیر ناضل جامعہ دار العلوم، کراچی)

پاکستان کے سب سے بڑے شیخ الحدیث کا پیغام دم تعویذ ہو جا ئیں عام

ایک بات ہمیشہ یادرکھیں کہ غرض مند دیوانہ ہوتا ہے اس کو مسائل کے حل کیلئے جو راہ دکھائی جائے وہ اسی پر چل پڑتا ہے اس کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ خیر کی راہ ہے یا شر کی ۔۔۔ !ہمارے اکابر امت کی دکھتی رگ کو سمجھتے تھے اور آج اللہ کے فضل و کرم سے عبقری اور تسبیح خانہ بھی اسی ترتیب کو لے کر چل رہا ہے۔۔۔!دم اور تعویذ کبھی نہ چھوڑنا۔۔۔حافظ الحدیث کی نصیحت حافظ الحدیث مولانا عبد اللہ درخواستی فرماتے ہیں کہ اگر صحیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفالت نہیں کریں گے تو لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بد عقیدہ، گمراہ، شریر، خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان ، عزت اور مال ضائع کریں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں لوگوں کی رہنمائی میں کسی قسم کا تساہل نہ برتنا اور ارشاد فرمایا یا باسط یا حفیظ خود بھی پڑھو اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرو۔ (بحوالہ مرد قلند ر حافظ الحدیث حضرت مولاناعبداللہ درخواستی”، ص 145 مصنف : مولانا عبد القیوم حقانی صاحب، ناشر : القاسم اکیڈمی نوشہرہ ) محترم قارئین! اتنے بڑے شیخ الحدیث تو عملیات کی اہمیت کو سمجھتے تھے کیا آج اللہ معاف کرے ہم ان سے زیادہ علم والے ہو گئے ہیں جو ان کی بات کار دکرتے ہیں کہ عملیات وغیرہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔۔۔!ذراسوچے تو صحیح نشان کہاں پڑتا ہے۔۔۔

شیخ الوظائف ذکر پر زور کیوں دیتے ہیں راز سے پردہ اٹھ گیا۔۔۔!

( مولانا قاری محمد عطاء اللہ ، فاضل جامعہ اشرفیہ ) شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اکثر دروس میں ذکر اور خانقاہوں کے نظام پر زور دیا جاتا ہے آج میں اس راز سے اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پردہ اٹھانے جارہا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرب قیامت کا دور ہے آزمائشیں بڑھتی جا رہی ہیں فتنے موتیوں کی ٹوٹی مالا کی طرح بکھر تے جار ہے ہیں اس وقت میں سب سے زیادہ ضرورت خانقاہوں اور ذکر اللہ کی ہے۔۔۔ ! یہ حال کا امر بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب فرماتے ہیں شیخ الحدیث مولا نا محمد ذکریا کے آخری ایام میں آپ کو ذکر سے بہت شغف ہو گیا تھا ، جس طرح حضرت گنگوہی نے تدریس ، تصنیف و تالیف سب مراحل طے کرنے کے بعد ذکر پر بہت زور دینے لگے تھے ، اسی طرح ہمارے شیخ الحدیث کا بھی آخری حال ذکر تھا حضرت چاہتے تھے کہ ذکر کی نئی خانقا ہیں آباد ہو جائیں کیونکہ پچھلی خانقاہیں ختم ہو چکی ہیں ۔۔۔! اس کی وجہ میری ناقص اور جاہلانہ رائے میں یہ ہے کہ آج کل قیامت کا دور ہے ، دجال کا دور ہے اب صرف ذکر جو روح عالم ہے اس کی وجہ سے نجات ہو سکتی ہے اور اب صرف دل والا اسلام ہی چلے گا ، دماغ والا اسلام نہیں چلے گا۔ ( بحوالہ سوانح مفتی ولی حسن ٹونکی۔ مصنف : مولانا محمد حسین صدیقی صاحب، ناشر: زمزم پبلشرز ) حضرت مولانا حافظ بارک اللہ صاحب آخر عمر میں زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے اور ذکر واذکار میں مشغول رہتے ( تذکر ہ محی الدین لکھوی ، ص 84 مصنف : مولانا اسحاق بھٹی ” ، ناشر: محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور ) محترم قارئین ! ہمارے اکا بر وقت کی نزاکتوں کو دیکھ رہے تھے اور آج اللہ کے فضل سے عبقری اس ڈوبتی کشتی کو سہارا ہی نہیں دے رہا بلکہ پارلگانے کی کوشش میں لگا ہے اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

نظر بد کی تباہ کاریاں تعلیمات اکا بڑ کی روشنی میں

(مولانا جمیل شمسی صاحب ، فاضل جامعہ دار التقوی ، لاہور ) زندگی میں قدم قدم پر پریشانی ، دکھ اور تکلیفوں کی ایک اہم وجہ نظر بد ہے، دعائیں دیں پیخ الوظائف دامت برکاتہم کو جو آج اس مادی دور ) کے اندر بھی ہمیں ہمارے بڑوں سے جوڑے ہوئے ہیں جبکہ آج اپنے اپنوں سے دور ہو چکے ہیں ۔۔۔! (1) علامہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نظر بد کا لگنا اور اثر انداز ہونا برحق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 10 ص 410) (2) علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ نظر بد کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک بری طبیعت کا انسان اپنی حاسدانہ نظر جس شخص پر ڈالے تو اُسے نقصان پہنچے۔ (فتح الباری ج 10 ص 200) (3) علامہ امام ابن شیر فر ماتے ہیں کہ دشمن یا حسد کرنے والے شخص کی نظریں جب اس پر پڑتی ہیں تو ہ بہار ہو جاتا ہے۔ ( النہایہ ج 3 ص 332) (4) علامہ حافظ ابن قیم فرماتےہیں کہ کچھ کم علم لوگوں نے نظر بد کی تاثیر کو باطل قرار دیا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ یہ توہم پرستی ہے۔۔۔! حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے زیادہ جاہل اور ارواح کی صفات اور ان کی تاثیر سے ناواقف ہیں اور ان کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ خبر دار۔۔۔! جنات کی نظر بد سے بھی ہشیار رہیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم سی سی ایم نے میرے گھر کے اندر ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر سیاہ نشانات تھے۔ ارشاد فر ما یا کہ اس پر کچھ پڑھ کردم کرو کیونکہ اسکو نظر لگ گئی ہے۔ (بخاری ، اصبح ، رقم : 5407 مسلم، اصبح، رقم: 2197) حضرت امام القراء نے لکھا ہے کہ یہ سیاہ نشان جنات کی نظر بد کی وجہ سے تھا۔ شیخ وحید عبد السلام بالی حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح انسان کی نظر بد اثر انداز ہوتی ہے اسی طرح جنات کی نظر بد بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جب بھی اپنے کپڑے اتارے یا شیشہ دیکھے یا کوئی بھی کام کرے تو ” بسم اللہ پڑھ لیا کرے تا کہ جنات اور انسانوں کی نظر بد کی تاثیر سے محفوظ رہ سکے۔ ( بحوالہ شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار 139 مکتبہ اسلامیہ اہل حدیث لاہور ) محترم مت رئین ! آج اس پرفتن دور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہمیں جو بے لوث جو سو دادے رہے اللہ پاک ہی انھیں اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے آپ تمام دوست عبقری کیلئے نظر بد سے حفاظت کی ضرور دعا کیا کریں۔۔۔!

شیخ الوظائف کے نظر بد پر بیانات ۔ تعلیمات قرآن وسنت کی روشنی میں

( مولانا فمیل شمسی صاحب، فاضل جامعہ دارالتقوی، لاہور ) اطاہر پر اعتماد شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے بہت سے دروس میں نظر بد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی تعلیمات کا ذکر ہوتا ہے اور ابھی کچھ عرصے سے مستقل نظر بد پر آپ کے بیانات ہورہے ہیں۔ میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں کچھ تفصیل کے ساتھ نظر بد کی حقیقت عرض کرتا ہوں جس سے آپ یہ بات با آسانی سمجھ سکیں گے واقعی شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ہمارے مرض کی تشخیص بالکل صحیح کی ہے۔ نظر بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جو دنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدر اول میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ (1) آپ سلیشیا کی تم نے ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا حقیقت ہے۔ ( بحوالہ بخاری، صحیح، رقم: 5408 مسلم، صحیح رقم : 2187 – أحمد بن حنبل، المسند رقم : 8228 ) (2) آپ سنی لیا کہ ہم نے ارشاد فرمایا: نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے نظر کے علاج کے لیے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم، انصح رقم : 2188 ۔ ابن حبان، اصح رقم : 6107) (3) آپ مٹی کا یہی تم نے تین چیزوں کیلئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی : نظر بد، بچھو وغیرہ کے کاٹے پر، پھوڑے پھنسی کے لئے۔ (مسلم، الصحیح رقم: 2196 أحمد بن حنبل، المسند رقم: 12194 ترندی، اسفن، رقم: 2056) (4) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ان کی ہم نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو۔ (بخاری، اصحیح رقم : 5406 ۔ مسلم ، اصبح ، رقم : 2195) (5) آپ سی ٹی ایم نے فرمایا: نظر بد سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ (ابن ماجہ رقم : 3508 – صحیح الجامع رقم : 938) (6) حضرت اسماء بنت عمیں نے آپ سنی یا پیام سے گزارش کی کہ بنو جعفر کو نظر بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کر سکتی ہیں؟ آپ ملا لیا ہے نے فرمایا کہ ہاں اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہے ( مسند احمد ج 2 ص 438) (7) بے شک نظر بد انسان پر اثر انداز ہوتی ہے حتی کہ اگر وہ ایک اونچی جگہ پر ہو تو نظر بد کی وجہ سے نیچے بھی گر سکتا ہے۔ (صحیح الجامع رقم : 1681) (8) نظر بد انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیتی ہے۔ (اصحیحہ 1249) (9) نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے (صحیح الجامع 4144) (10) آپ سنی بیا اینم نے فرمایا: اللہ کی قضا و تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر بد کی وجہ سے میری امت میں اموات ہوں گی۔ ( صحیح الجامع 1206 ) محترم قارئین ! درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا نظر بد کو اتنی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا کوئی تو ہم پرستی نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے جس پر متر آن حدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں ۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025