سیالکوٹ کے پرنسپل کو تبع تابعی بننے کا شرف کیسے ملا؟

محترم قارئین! جو لوگ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم” جنات کا پیدائشی دوست” کے مصنف علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جنات سے ملاقات ہونے کے منکر ہیں ، یا ان کے اس عظیم مقام پر شک کرتے ہیں ، ان کیلئے تحقیقی دنیا کے دروازے ابھی کھلے ہوئے ہیں۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں، اپنی سوچ کو پختہ کریں اور اپنے عقائد کو قرآن وحدیث کے مطابق درست کریں۔ کیونکہ قرآن و حدیث کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ دل و جان سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔ اکابرین اہل سنت میں سے ایک مشہور و معروف ہستی حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رحمة الله عليہ لکھتے ہیں کہ میرے دوست محترم احسان صابری صاحب ( سابق پرنسپل گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سیالکوٹ) کا معمول ہے کہ ہر جمعرات کو اولیائے کرام کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایک شام سیالکوٹ کی عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی رحمة الله عليہ کے مزار پر حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک افغانی طرز کے پٹھان نہایت خوش الحانی سے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں۔ کافی دیر بعد جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: میرا نام عبدالرحمان ہے اور میں کابل کا رہنے والا ہوں۔ میں نے پوچھا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے فرمایا : ساڑھے 9 سو سال ۔ مجھے یقین نہ آیا اور میں نے کہا: کیا آپ تلاوت قرآن کرنے کے بعد بھی جھوٹ بولتے ہیں؟ یہ سنتے ہی وہ جلال میں آگئے اور ان کا سر بڑا ہونا شروع ہو گیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ انسان نہیں ، بلکہ جن ہیں ۔ فرمانے لگے: میرے والد صاحب کا نام عبد اللہ ہے اور وہ ضعیف العمر ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا عہد مبارک دیکھا اور ان کے دست مبارک پر بیعت کر کے صحابیت کا مرتبہ پایا ہوا ہے۔ صحاح ستہ کی احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضور سرور دو عالم صلى الله عليه وسلم کے دست مبارک پر ایک ہزار جنات نے بیعت کی تھی۔ انسانوں میں اس حدیث کے راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور جنات میں اس حدیث کے راوی میرے والد عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان میں سے اب تک 997 جنات وفات پاچکے ہیں۔ جبکہ تین ابھی زندہ ہیں۔ سب سے پہلے میرے والد صاحب ہیں، جو (کابل) افغانستان میں رہتے ہیں۔ دوسرے صحابی جن مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہیں اور تیسرے صحابی جن مصر کے شہر قاہرہ میں مقیم ہیں۔ میں نے اپنے والد صحابی جن رضی اللہ عنہ کی زیارت کی تو مجھے تابعی ہونے کا رتبہ مل گیا اور آپ نے چونکہ مجھ سے ملاقات کی ہے، لہذا آپ کو تبع تابعی ہونے کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ ( بحوالہ کتاب: جن ہی جن، صفحہ 182 مصنف : مفتی محمد فیض احمد اویسی ناشر: سیرانی کتب خانہ، نز سیرانی مسجد، بہاول پور )
اکابر کی بابرکت انگوٹھیاں
قسط نمبر 92اکابر پر اعتماداکابر کی بابرکت انگوٹھیاں بعض اوقات عبقری میں کچھ انگوٹھی اور چھلے وغیرہ پر کچھ عبارت لکھنے کے عمل کا ذکر ہوتا ہے بہت سے دوست اکابر و اسلاف کی زندگی سے نا آشنائی کے سبب سے کہتے ہیں کہ یہ سب بیکار باتیں ہیں ایسے حضرات کیلئے بجائے اپنی طرف سے کچھ کہنے کے اکابر کا ایک فتویٰ لکھا جاتا ہے جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری میں ایک بھی چیز اپنی طرف سے نہیں بلکہ اکا بر کی زندگی کا سو فیصد عکس پیش کیا جاتا ہے۔ (1) آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک انگوٹھی چاندی کی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا۔ (بحوالہ صحیح بخاری ص (873) – (2) حضرت حذیفہ رضى الله عنہ کی انگوٹھی پر الحمد للہ لکھا تھا۔ (3) حضرت مسروق ” کی انگوٹھی پر بسم اللہ لکھی تھی۔ (4) حضرت جعفر رضى الله عنہ کی انگوٹھی پر العزت اللہ لکھا تھا۔ (5) ابراہیم نخعی کی انگوٹھی پر یااللہ لکھا ہوا تھا (فتح الباری ج 10 ص 328 ) (6) حضرت صدیق اکبر رضى الله عنہ کی انگوٹھی پر نعم القادر اللہ لکھا تھا ( شرح طحاوی ص 354) (7) حضرت عبداللہ بن عمر بن رضى الله عنہ اور قاسم بن محمد رحمة الله عليه کی انگوٹھی پر نعم القادر اللہ لکھا تھا۔ (8) امام ابن سیرین فرماتے ہیں انگوٹھیوں پر حسبی اللہ لکھا ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔ ( جمع الوسائل ص 184) (9) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر کفی بالموت واعظا لکھا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر لتصر بن اولتند من لکھا تھا۔ (10) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر الملک اللہ لکھا تھا۔ (11) حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی انگوٹھی پر قل الخير والا فاسكت لکھا تھا۔ (12) امام ابو یوسف کی انگوٹھی پر من عمل برابه فقد ندم لکھا تھا ۔ (13) امام محمد کی انگوٹھی پر من صبر ظفر لکھا تھا۔ (14) حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی انگوٹھی پر من صبر ظفر لکھا تھا اور دوسری پر از گروه اولیاء اشرف علی لکھا تھا۔ ملا علی قاریرحمة الله علیہ نے لکھا ہے کہ انگوٹھی پر اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام کندہ کرانا اور پہننا جائز ہے اس سے معلوم ہوا کہ انگوٹھیوں پر جو تعویذات لکھے ہوتے ہیں ( مقطعات قرآنیہ یا دیگر کلمات و دعائیں ) ان کا پہننا درست ہے اور ان کو ممنوع قرار دینا مطلقاً درست نہیں نہ اس میں کوئی قباحت ہے البتہ بے ادبی سے بچانا لازم ہے ۔ (شمائل کبری ج 2 ص 152 بحوالہ کتاب بکھرے موتی حصہ 5 ص 479 ، مصنف : حضرت مولا نا محمد یونس پالنپوری حفظہ اللہ، ناشر بلسم پبلی کیشنز، لاہور )
ضعیف احادیث کی اہمیت

تحریر مولانامحمد اجمل قادری دامت برکاتہم ، فاضل جامعہ امدادیہ، فیصل آباد) مولانا صاحب ! میں آپ کا پیج ” اکابر پر اعتماد ” کو مسلسل دیکھ رہا ہوں اور دل سے دعائیں دیتا ہوں کہ آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی آپ مخلوق خدا کوا کابررحمة الله علیہ کے دامن سے وابستہ کرنے کی بھر پور محنت کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے آمین۔۔۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں بہت سے لوگ مسائل اور فضائل میں احادیث مبارکہ کو ایک ہی پیمانے سے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک عام سا شخص بھی محدثین کبار کی طرح احادیث پر جرح کرتا نظر آتا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ائمہ محدثین کے ہاں کسی نیک کام کی ترغیب دینے ، گناہ کے کام سے روکنے اور وعظ ونصیحت کے واقعات بیان کرنے کیلئے ضعیف روایات میں اس درجہ کی احتیاط نہیں کی جاتی جس درجے کی حلال و حرام کے معاملے میں کی جاتی ہے۔ (1) شیخ صالح بن عبد العزیز آل شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے دلیل پکڑنا جائز ہے. (بحوالہ محاضرة بعنوان وصایا عامة ) (2) شیخ محمود طہان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضعیف احادیث کو بیان کرنا ان کی اسناد میں نرمی والا پہلو اختیار کرنا اور انکے ضعف کو بیان نہ کرنا محدثین کرام کے ہاں جائز ہے (بحوالہ تیسیر مصطلح الحدیث ج 1 ص 33)۔ (3) مولانا عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں: کہ تمام محدثین فضائل اعمال میں ضعیف حدیث کو معتبر جانتے ہیں ( بحوالہ الاجوبۃ الفاضلۃ ص 37)۔ (4) ملاعلی قاری رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔ دوسری جگہ آپ رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ پکی بات ہے، فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جائے گا( بحوالہ المرقاۃ شرح مشکوۃ : ج2 ص183۔ 94) ۔ (5) علامہ ابن حجر ہیتمی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ محدثین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے. (6) مشہور محقق علامہ جلال الدین فرماتے ہیں : محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل میں احایث ضعیفہ پر عمل کرنا جائز بلکہ مستحب ہے ( بحوالہ قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث ص 75)
بسم اللہ کے تعویذ سے مشکلات کا حل
قسط نمبر 87 بسم اللہ کے تعویذ سے مشکلات کا حلاکابر پر اعتماد کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانہ لاہور میں 625 مرتبہ مکمل بسم اللہ لکھ کر اپنے پاس رکھنے کا عمل کروایا گیا جس سے مخلوق خدا کو بہت نفع ہوا، مگر اس کے متعلق چند لوگوں نے اعتراض کیا کہ صرف لکھ کر پاس رکھنے سے انسان کو اتنی برکات کیسے مل سکتی ہیں؟ یہ تو مبالغہ آرائی ہے۔ میرے محترم دوستو ! جہاں ہم اور دعائیں مانگتے ہیں وہاں ایک یہ دعا بھی مستقل مانگنا شروع کر لیں کہ یا اللہ میں ہمارے اکابر و اسلاف پر اعتماد کرنے والا اور ان کی بے ادبی سے بچنے والا بنادے ۔ آمین ! تمام بزرگان دین، فقہاء ومحد ثین اور اولیاء وصالحین رحمہم اللہ اجمعین سے صرف بسم اللہ ہی نہیں، بلکہ سینکڑوں عملیات، تعویذات اور نقش لکھ کر پاس رکھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ خواجه احمد دیربی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ 625 مرتبہ بسم اللہ لکھ کر پاس رکھنے سے مخلوق میں ہیبت و وقار ملے گا، اور کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ 313 مرتبہ محرم کی پہلی تاریخ کو لکھ کر پاس رکھنے سے کوئی ناگواری پیش نہیں آئے گی (بحوالہ کتاب: مجربات دیر بی مصنف : حضرت خواجہ احمد علی دیر بی ناشر: فرید پبلیشرز ناظم آباد کراچی) زبدة المحدثين علامہ نواب سید صدیق الحسن خان رحمة الله علیہ لکھتے ہیں کہ 625 مرتبہ بسم اللہ لکھ کر اپنے پاس رکھنے سے اللہ اس کو ایک ہیبت عظیم دے گا اور اس کو کوئی ستا نہ سکے گا ( بحوالہ کتاب التعویذات ، الداء والدواء صفحہ 24 ناشر : اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاہور ) شیخ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ 625 مرتبہ لکھ کر اپنے پاس رکھنے سے اللہ تعالی ایک وقار اور عظمت عطا فرماتے ہیں ( بحوالہ کتاب: گنجینه اسرار ناشر: ادارہ اسلامیات لاہور )مفتی اعظم مولانا محمد شفیع صاحب رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ 625 مرتبہ بسم اللہ لکھ کر اپنے پاس رکھنے سے دلوں میں عظمت و عزت حاصل ہوتی ہے اور کوئی اس شخص سے بدسلوکی نہیں کرسکتا۔ 113 مرتبہ بسم اله محرم کی پہلی تاریخ کو لکھ کر پاس رکھنے سے ہر طرح کی آفات اور مصائب سے حفاظت ہوتی ہے یہ عمل تجربہ شدہ ہے۔ 61 مرتبہ بسم اللہ لکھ کر عورت اپنے پاس رکھے تو اس کے بچے محفوظ رہیں گے یہ بھی مجرب ہے ۔ 101 مرتبہ لکھ کر کھیت میں دفن کرنے سے حفاظت اور برکت ہوتی ہے ۔ 500 مرتبہ لکھنے اور اس پر 150 مرتبہ پڑھ کے دم کر کے اپنے پاس رکھنے سے حکام مہربان اور ظالم کے شر سے حفاظت ہوتی ہے۔ 21 مرتبہ لکھ کر دردسر کی جگہ باندھنے سے سر کا درد ختم ہو جاتا ہے ( بحوالہ کتاب : احکام و خواص بسم اللہ ص 13 ناشر : ادارة المعارف کراچی) 100 مرتبہ لکھ کر پاس رکھنے سے لوگوں کے دلوں میں رعب پیدا ہوتا ہے ۔ 110 مرتبہ لکھ کر عورت کی کمر پر باندھنے سے 3 دن میں حمل ٹھہر جاتا ہے (بحوالہ کتاب : وظائف اکابر ، افادات : شیخ الحدیث، استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب جامعہ محمدیہ چوبرجی لاہور ) میرے محترم دوستو! ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے اکابرو اسلاف نے دین کا کوئی بھی شعبہ تشنہ طلب نہیں چھوڑا۔ اس لیے عبقری اکابر و اسلاف رحمہم اللہ ہی کے عقائد و اعمال کا سو فیصد پر چار کر رہا ہے۔
رزق کے غیبی اسباب کیسے بنتے ہیں؟

عبقری میں جا بجا یہ بات پڑھنے کو ملتی ہے کہ وظائف اور عملیات سے ہماری دنیا کی پریشانیاں حل ہوتی ہیں، پٹرول کی کمی پوری ہو جاتی ہے، بجلی کے بل میں کمی واقع ہو جاتی ہے غیب سے رزق کا سامان ہو جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ ۔ اس قسم کے واقعات آج کے دور میں ہماری عقلی سطح سے دور ہیں ۔ در اصل بات یہ ہے کہ یہ عملیات اور وظائف اپنے رب سے بھکاری بن کر مانگنے کا ایک بہانا ہے عطافر مانے والی ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، جو اپنے گناہ گار بندوں کو بھی تسلی دے رہے ہیں کہ مجھ سے نا امید نہ ہونا ۔۔۔ رہی یہ بات کہ عبقری میں اعمال کے ذریعے رزق کے غیبی خزانے ملنا کیسے ممکن ہیں؟ یہ بات دراصل اسلامی لٹریچر سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ کو عبقری میں ذکر کردہ وظائف سے غیبی رزق ملنے کا ثبوت چاہیے تو محدث اعظم ،مفسر کبیر، شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب ترغیب المسلمین دیکھ لیں، جس کا ترجمہ رزق حلال و غیبی معاش اولیاء کے نام سے بآسانی مل جاتا ہے۔ تمام حضرات صرف ایک مرتبہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں ۔ مثلاً یہاں ایک واقعہ نقل کرتا ہوں۔ شیخ ابو عمران واسطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ مکہ مکرمہ سے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی غرض سے نکلا۔ راستہ میں اتنی شدید پیاس لگی کہ میں اپنی زندگی سے نا امید ہو گیا اور کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگا۔ اتنے میں سبز رنگ کے گھوڑے پر سبز رنگ کا لباس پہنے ایک شاہسوار آیا اس کے ہاتھ میں پیالہ تھا، جسے میں نے خوب پیٹ بھر کر پیا مگر وہ پانی کم نہ ہوا۔ پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا : کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا مدینہ منورہ جارہا ہوں تو وہ کہنے لگے : روضہ اقدس صلى الله عليه وسلم اور صاحبین رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ( جنتی فرشتوں کے سردار ) رضوان کا سلام عرض کر دینا۔ ( بحوالہ کتاب : رزق حلال و غیبی معاشی اولیاء صفحه 113 ناشر : اداره تصنیف و ادب برہان پورہ نزد واجتماع گاہ رائے ونڈ) لہذا قارئین عبقری میں رزق کے غیبی اسباب پیدا ہونے کے واقعات کا ذکر من گھڑت نہیں، بلکہ توحید خالص پر اعتماد ہی کا نتیجہ ہے۔
تعویذ کو جائز سمجھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

شیخ الحدیث قاری سیف الله عادل (سابق خطیب جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ ) لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمايا : لا بأس بتعليق التعويذ من القرآن قبل نزول البلاء وبعد نزول البلاء یعنی قرآنی تعویذ لٹکانے میں کوئی حرج نہیں، چاہے آزمائش کے نازل ہونے سے پہلے ہو یا بعد میں (مسند احمد بروایت ابونع) امام حاکم نے مستدرک جلد 4صفحہ 418 میں لکھا ہے کہ جو چیز بلا کے نازل ہونے کے بعد لڑکائی جائے وہ تمیمہ ( ممنوعہ منکے ) لٹکانے کے زمرے میں نہیں آتی ۔ امام ذہبی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا گزر ایک گائے کے قریب سے ہوا، جس کا بچہ پیٹ میں پھنس گیا تھا۔ وہ کہنے لگی : اے کلمۃ اللہ ! میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس مصیبت سے نجات دے۔ آپ نے فرمایا : یا خالق النفس من النفس و يا مخلص النفس من النفس ويا مخرج النفس خلصها حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ دعا مانگنا تھا کہ بچہ اسی وقت باہر آ گیا۔ یہ واقعہ بیان فرما کر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو عورت ولادت کی تنگی میں مبتلاء ہو : فاکتبه لها : اس کیلئے ان کلمات کو لکھ دیا کرو۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گھبراہٹ کیلیے ان کلمات کا حکم فرماتے: اعوذ بکلمات الله التامة من غضبه و عقابه و شر عباده و من همزات الشياطين وان يحضرون حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ان کلمات کا تعویذ لکھ کر بچوں کے گلے میں لڑکاتے تھے (امام حاکم نے اس روایت کو صیح الاسناد کہا ہے ) امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے- يكتب المادة یعنی وہ تعویذ لکھتے تھے۔ اسی طرح امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں جنات سے نجات کیلئے حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کے تعویذ کا بھی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس حدیث کی مختلف سندیں ہیں، جن میں سے بعض میں ضعف ہے جس کی وجہ سے اسے موضوع (من گھڑت) کہا گیا ہے جبکہ باقی تمام سندوں میں کوئی ضعف نہیں۔ بحوالہ کتاب: روحانی علاج کا طریقہ کار مصنف : شیخ الحدیث قاری محمد سیف الله عادل ناشر : مسجد مبارک اہل حدیث آبادی حاکم رائے گوجرانوالہ
بارگاہ الہی میں محبوبیت کے انعامات

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمة الله عليه کے خلیفہ مجاز مولا نا محمد یوسف متالا مدظلہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے اپنے شیخ رحمة اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت! آپ ہمارے یہاں انگلینڈ سے ہوتے ہوئے ہندوستان چلے جائیے گا۔ فرمایا: تمہیں تو پتہ ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں رکھتا۔ فیصلہ وہاں سے ہوتا ہے اس لیے مجھے کہنے کی بجائے حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے عرض کرو۔ چنانچہ میں نے حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے عرض کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو خواب میں حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوئی کہ حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمة الله عليه کے ساتھ انگلینڈ کا سفر فرما رہے ہیں۔ یہ چیزیں ان حضرات کو اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں محبوبیت کے بدلے انعام کے طور پر ملتی ہیں۔ شیخ ابو الحسن شاذلی رحمة الله علیہ فرمایا کرتے تھے : اگر میرے اور سرکار دو عالم صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے درمیان ایک لمحے کا بھی حجاب ہو جائے اور میں آپ صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی زیارت سے محروم رہوں تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہ کروں گا۔ اسی طرح حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة الله علیہ یہ گفتگو فرما رہے تھے کہ میرے اوپر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ میں نے اپنا کوئی کام حضور صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے پوچھے بغیر نہیں کیا۔ اس لیے میں اپنے طلباء کو کہا کرتا ہوں کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے اکابرین کے حالات کیسے گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کس قدر نواز تھا۔ یہی کتا بیں اور احادیث پڑھ کر وہ کسی مقام پر پہنچ جاتے تھے اور ان کے دلوں کو کس قدر صفاء قلب نصیب ہوتا تھا۔ حضرت سائیں تو کل شاہ صاحب انبالوی رحمة الله علیہ بالکل أمی تھے مگر جب ان کے سامنے کاغذ پر قرآنی آیت یا حدیث نبوی صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لکھ کر رکھی جاتی تو وہ بتا دیتے کہ یہ قرآن ہے اور یہ حدیث ہے۔ لوگوں نے اس فرق کا سبب پوچھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کلام سے ایک الگ قسم کا نور نکلتا ہے جبکہ حدیث نبوی صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے الگ قسم کا نور نکلتا دکھائی دیتا ہے اسی نور کے فرق سے میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ قرآن ہے یہ حدیث ہے اور یہ ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں۔ ( بحوالہ کتاب: کرامات و کمالات اولیا صفحہ 176 مجموعه ارشادات : شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف متالا مکتبہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی 1)
عبقری وظائف کی چونکا دینے والی اصلیت
قسط نمبر 78عبقری وظائف کی چونکا دینے والی اصلیت اکابر پر اعتماد محترم قارئین ! شاہ اسماعیل شہید رحمة الله عليه کے مرشد اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة الله عليه کے خلیفہ شہید بالاکوٹ حضرت سید احمد شہید بریلوی عالم اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں، جنہیں دیو بندی، بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث ہر مسلک کے لوگ مانتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی رحمة الله عليه ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ میرے جد امجد حضرت سید احمد شہید بریلوی رحمة الله عليه کو جہاد فی سبیل اللہ کی برکت سے اتنی اونچی نسبت اور مقام حاصل تھا کہ آپ رحمة الله عليه کے مرشد امام المحدثین حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی دینا بھی اپنے مریدوں اور رشتہ داروں کو اصلاح ، دعا اور توجہ کے لئے حضرت سید صاحب رحمة الله عليه کے پاس بھیجتے تھے۔ ( بحوالہ کتاب : تاریخ دعوت و عزیمت ناشر مجلس نشریات اسلام ناظم آباد کراچی ) ذیل میں حضرت سید احمد شہید رحمة الله عليه کے ایسے وظائف درج کیے جا رہے ہیں، جو انہوں نے موقع کی مناسبت سے خاص تعداد مقرر فرما کر اپنے مریدین اور مجاہدین کو عنایت فرمائے ۔ موجودہ دور میں ماہنامہ عبقری میں وظائف شائع ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ من گھڑت اور خلاف شریعت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عبقری کے وظائف خود ساختہ ہیں تو عبقری سے پہلے آنے والے تمام رسائل و کتب میں شائع ہونے والے وظائف کی کیا حیثیت ہے؟ الحمد للہ ہمیں اپنے اکابر پر مکمل اعتماد ہے کہ ان کے وظائف و عملیات خلاف شریعت نہیں تھے اور نہ ہی ان کی کتابوں سے حاصل کر کے عبقری میں شائع ہونے والے وظائف خود ساختہ ہیں۔ اسماء الحسنی کا عمل : ایک بار حضرت شاہ صاحب رحمة الله عليه کے کچھ رشتہ داروں نے رزق کی تنگی کی شکایت کی تو حضرت سید صاحب رحمة الله عليه نے اُن کو برکت والے روپے دیئے اور ان کے ساتھ دو افراد اور تھے اُن کو یہ وظیفہ ارشاد فرمایا: اکتالیس دن تک ہر روز گیارہ ہزار بار یا مغنی اور گیارہ ہزار بار یا باسط پڑھیں، اور اس وظیفہ کے اول اور آخر میں سات سات بار درود شریف اور سورہ فاتحہ پڑھیں ، اکتالیس دن کے بعد یہ عمل بند کر دیں۔ ان حضرات نے یہ عمل کیا تو ماشا اللہ چند دن بعد ان کی تمام تنگی بہت عجیب طریقہ سے دور ہوگئی ( بحوالہ کتاب: وقائع احمدی صفحہ ۹۲۱) بسم اللہ کا عمل : ایک صاحب جن کا نام ” محمد میاں تھا۔ انہوں نے حضرت سید صاحب رحمة الله عليه اور آپ کے رفقاء کی دعوت کی ، اور پھر انہوں نے آپ رحمة الله عليه کی خدمت میں اپنی پریشانی عرض کی کہ ہماری قدیم جاگیریں انگریز حکومت نے ضبط کر لی ہیں ، جبکہ ہمارے اخراجات اپنی پرانی طرز پر جاری ہیں جس کی وجہ سے ہم ہمیشہ قرضدار رہتے ہیں، حضرت ہمیں ایسی دعا بتادیں کہ جس کی برکت سے اللہ تعالی قرض سے نجات بخشے اور ہماری گزر بسر خوبی سے چلے حضرت سید صاحب رحمة الله عليه ان کو یہ مؤثر اور طاقتور وظیفہ ارشاد فرمایا: پانچ سو بار درود شریف پڑھ کر گیارہ سو بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں اور آخر میں پھر پانچ سو بار درود شریف پڑھیں، اللہ تعالیٰ آپ کا مقصد پورا کرے گا۔ قرآنی آیت مبارکہ کا عمل : ایک شخص نے حضرت سید صاحب رحمة الله عليه سے رزق میں وسعت اور برکت کا عمل پوچھا تو آپ رحمة الله عليه نے ارشاد فرمایا: تم گیارہ سو بار یہ آیت پڑھا کرو: ان الله هو الرزاق ذو القوة المعنين – اول آخر درود شریف ( بحوالہ کتاب : وقائع احمدی ص ۵۴۱) الله الصمد کا عمل : ایک شخص نے عرض کی کہ میں روزی سے بہت تنگ حال ہوں: کچھ ایسا عمل ارشاد فرمائیں کہ روزی کشادہ ہو جائے۔ آپ رحمة الله عليه نے ارشاد فرمایا: تم ہر روز گیارہ سومرتبہ اللہ الصمد پڑھا کرو، اول آخر درود شریف جتنی بار ہو سکے ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری روزی میں برکت کرے گا ( بحوالہ کتاب: وقائع احمدی ص 542 ناشر: سید احمد شہیدا اکیڈمی لاہور – بااهتمام: سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ
قیامت کی پیاس سے بچنے کا عمل
قسط نمبر 75قیامت کی پیاس سے بچنے کا عملاکابر پر اعتماد تفسیر جلالین کے مصنف امام جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ نے لکھا ہے: شیخ عبداللہ بن حسین رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ہم طرطوس میں گئے تو پتہ چلا کہ یہاں ایک عورت ہے، جس نے ان جنات کو دیکھا ہوا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں گئے تھے۔ چنانچہ میں اس بوڑھی عورت کے پاس گیا تو وہ سر کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا : تیرا نام کیا ہے؟ کہنے لگی : منوس! میں نے پوچھا: کیا تم نے جنات کو دیکھا ہے؟ کہنے لگی : ہاں میں نے ان میں سے سمحججن کو دیکھا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام بدل کر عبد اللہ رکھا تھا۔ پھر سمحج یعنی صحابی جن عبداللہ نے میرے سامنے ایک حدیث بیان کی کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہار شخص کے پاس سورہ یسین پڑھی جائے تو وہ موت کے وقت سیراب ہو کر مرتا ہے اور اپنی قبر میں بھی سیراب ہوگا اور یوم قیامت بھی سیراب ہوگا ( یعنی ان تینوں مقامات پر اسے پیاس نہیں لگے گی ) بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان اردو ترجمہ : جنوں کے حالات ، صفحہ 160 مصنف: امام جلال الدین سیوطی ناشر: مکتبہ حنفیہ گنج بخش روڈ لاہور قارئین ! علامہ جلال الدین کا اسم گرامی فقہاء و محدثین کی لسٹ میں نہایت معتبر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں عام انسانوں کے ساتھ جنات کی ملاقات کے واقعات اتنے زیادہ بیان کیے ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد ہر شخص پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے جنوں کے واقعات فی الحقیقت درست ہیں ۔ اگر ہم ان واقعات کا انکار یا ان پر کوئی اعتراض کرتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں ہم اپنے اکابر کی زندگی میں سے ایک روشن پہلو کے منکر ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے اکابر کی ترتیب کے مطابق قرآن وسنت کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب ہو ۔ آمین
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ایسے وظائف جن میں تعداد اور وقت کا پابند ہونا لازم ہے
قسط نمبر 73(اکابر پر اعتماد )حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ایسے وظائفجن میں تعداد اور وقت کا پابند ہونا لازم ہےمحتاجی اور غربت کا خاتمہ : روزانہ بعد نماز عشاء اول آخر 11 بار درود شریف اور 11 تسبی” يا معزّ“ پڑھ کر دعا کیا کرے۔ اس کے علاوہ یہ وظیفہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ : روزانہ بعد نماز عشاء اول آخر 7 مرتبہ درود شریف اور درمیان میں چودہ تسبیح اور چودہ دانے یعنی 1414 مرتبہ ”یاوھاب“ پڑھ کر دعا کیا کرئے ان شاء اللہ تعالیٰ برکت ملے گی۔66آسیب لپٹ جانے سے حفاظت: سورہ مومنون کی آخری چار آیات اَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَثا س …وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِینَ تک پڑھ کر مریض کے کان میں دم کرے اور پانی میں پڑھ کر بھی اس کو پلا دے۔ اس کے علاوہ سورۃ الطارق 7 مرتبہ پڑھ کر مریض کے کان میں دم کرنا ، یادائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہنا بھی آسیب کو بھگا دیتا ہے۔اٹکے ہوئے کاموں سے کفایت:ر12 روز تک اس دعا کو روزانہ بارہ ہزار مرتبہ پڑھ کر دعا کیا کرے تو اگر چہ کیسا ہی مشکل کام کیوں نہ ہو پورا ہو جائے گا ! ان شاء الله يَأْبَدِيعُ الْعَجَائِبِ بِالْخَيْرِ يَأْبَدِيعُ خاوند کی ناراضگی یا بے پروائی دُور کرنے کیلئے:بعد نماز عشاء سیاہ مرچ کے 11 دانے لے کر خاوند کے مہربان ہونے کا تصور کرتے ہوئے اوّل آخر درود شریف اور 11 تسبیح – يَا لَطِيفُ يَاوَدُودُ پڑھیں ۔ پڑھنے کے بعد ان مرچوں پر دم کر کے انہیں تیز آگ میں جلا دیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو ان شاء اللہ تعالیٰ خاوند مہربان ہو جائے گا۔ یہ عمل کم از کم 40 روز تک کریں۔ بحوالہ کتاب: اشرف العملیات افادات حکیم الامت مجد والملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 257 مرتب: مولانا محمد زید مظاہری ندوی ، ناشر: مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہورمحترم قارئین ! درج بالا چاروں اعمال میں وظیفہ پڑھتے ہوئے تعداد کی پابندی بھی لازم ہے اور وقت کا تعین بھی خاص ہے۔ جو حضرات اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ ماہنامہ عبقری میں غیر مستند وظائف کی مقررہ تعداد اور متعین اوقات بھی خود ساختہ ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ حضرت حکیم الامت کی تعلیمات پر غور کریں اور دیکھیں کہ موجودہ دور میں ”عبقری“ کیسے بہترین انداز سے مخلوق خدا کو اکابرین امت کے معمولات میں ڈھال رہا ہے۔ آج اس حقیقت کا پتہ چلا کہ جس طرح حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے ان مجرب وظائف کو غیر مستند خود ساختہ اور من گھڑت نہیں کہا جا سکتا اسی طرح عبقری کے وظائف پر بھی یہ غلط اعتراض کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔قسط نمبر 73